غزل: تھک گیا تھا سفر میں لمحوں كے

یاسر شاہ

محفلین
علوی بھائی جزاک اللہ خیر کہ آپ نے طویل خط میری تشفی کرنے کو لکھا۔
میں کوشش کرتا ہوں کہ جن شعرا کی مثالیں فراہم کروں ، ادبی دنیا میں ان کی نمایاں حیثیت ہو . بہزاد لکھنوی اور مجاز سے تو آپ واقف ہونگے . مظفر وارثی بھی کسی تعریف کے محتاج نہیں . محسن احسان شاید نسبتاً کم معروف ہیں، لیکن موصوف کوئی معمولی شاعر نہیں . ان کے مقام کا اندازہ ان کا تعارف اورکلام پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے .
علوی بھائی چلیں ایک پرانا سبق دہرا لینے میں حرج نہیں ،کچھ شعرا ہیں جن کا شعر زبان و بیان کے اعتبار سے سند مانا جاتا ہے انھیں استاد کہا جاتا ہے چنانچہ ادبی دنیا میں نمایاں حیثیت ،سب کی واقفیت وغیرہ بعد کی چیزیں ہیں تبھی تو حیرت ہوتی ہےکہ فیض کو بھی ان اساتذہ میں شامل نہیں کیاجاتا وجہ یہ ہے کہ انھوں نےاپنی نظموں میں اردو زبان ومحاورے کو انگریزی کی تقلید میں خاصا بگاڑ دیا ہے۔
ماشاء اللہ جانتے تو آپ بھی ہیں کہ استاد کون کون ہیں تبھی فورا میر اور جگر کی مثالیں پیش کیں،
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے (میر )
روح کو بھی مزہ محبّت کا
دل کی ہم سایگی سے ملتا ہے (جگر )
اگر جان جیسی غیر مادّی چیز سے دھواں نکل سکتا ہے اور روح جیسی غیر مادّی چیز کو محبّت کا مزہ مل سکتا ہے تو ان میں درد کے پائے جانے میں کیا حیرت ہے ؟
دیکھیے آپ کو تو معلوم ہے کہ زبان میں قیاس کارگر نہیں ،اور جان جلانا ،سوختہ جان وغیرہ زبان ہے۔لیکن اساتذہ کے ہاں سے یہ درد روح ،درد جا ں، اور جان و روح کی تراکیب آپ کو شاید ہی ملیں۔
 
دیکھیے آپ کو تو معلوم ہے کہ زبان میں قیاس کارگر نہیں ،اور جان جلانا ،سوختہ جان وغیرہ زبان ہے۔لیکن اساتذہ کے ہاں سے یہ درد روح ،درد جا ں، اور جان و روح کی تراکیب آپ کو شاید ہی ملیں۔
اس قدر جمود پر اصرار کیوں یاسر بھائی؟ جان و روح کی ترکیب کیا حرج ہے؟ مترادفات کا عطفی تراکیب میں استعمال تو عام سی بات ہے؟
روح یقینا لطیف وجود ہے ۔۔۔ لیکن روح کا بیمار ہونا تو معروف ہے ۔۔۔ سو دردِ روح کی ترکیب پر صرف اس لیے اعتراض کرنا مناسب نہیں لگتا کہ اساتذہ کے یہاں یہ ترکیب نہیں ملتی۔
 

یاسر شاہ

محفلین
عزیزم و دلفریبم احسن اس میں جمود کی کیا بات ہے ۔میرے ذوق کو یہ تراکیب کھٹکیں سو کہہ دیا بغیر تحقیق کیے کہ جتنا اساتذہ کے کلام اور مذاق کو میں نے سمجھا ہے وہ ایسی تراکیب استعمال نہیں کرتے تھے اور اساتذہ کے ہزاروں بلکہ لاکھوں اشعار میں کسی ترکیب کا نہ پایا جانا کوئی معمولی بات نہیں ۔جہاں تک نئی تراکیب و الفاظ کے استعمال کی بات ہے تو جدید شعرا میں جون ایلیا نے کئی جدید الفاظ ومرکبات سے شاعری کو روشناس کرایا جو ذوق کو بہت بھلے معلوم ہوتے ہیں ،وجہ شاید یہ رہی ہو کہ اپنی اردو ،عربی اور عبرانی زبانوں پہ عبور سے ان کو ایسا مذاق حاصل تھا کہ جس سے وہ اردو زبان کی نفسیات خوب سمجھتے تھے۔
شاعری کیلیے صحیح و سلیم ذوق رکھنا پہلی شرط ہے،ایسا ذوق ہو تو کیا ہی بات ہے جیسے کبھی سنار کا ترازو ہوا کرتا تھا،سانس لینے پر بھی ہل جاتا تھانہ کہ سبزی فروش کا ترازو کہ ایک آدھ ٹماٹر ڈال لینے سے بھی فرق نہیں پڑتا۔اسی عالی ذوق کا اثر تھا کہ غالب جیل خانے کا قصہ سناتے تھے کہ روز کوڑے پڑتے تھے ،پوچھنے والےنے پوچھا مگر آپ کو تو کوڑوں کی سزا نہیں دی گئی تھی،کہا صاحب ایک شاگرد آتا تھا اصلاح کے لیے غزلیں دے جاتا تھا۔
مترادفات کا عطفی تراکیب میں استعمال تو عام سی بات ہے؟
مرحبا۔عام سی بات ہے کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ دس مثالیں اساتذہ کی اسناد کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں ۔چلیں کم کر دیتے ہیں ،پانچ ہی امثلہ پیش کر دیں ایسی اساتذہ کے اشعار سے ،ان شاء اللہ پہلی ملاقات پہ مبلغ سو روپے عند الطلب انعام آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔اب غائب نہیں ہو جائیے گا۔
 
آخری تدوین:
مرحبا۔عام سی بات ہے کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ دس مثالیں اساتذہ کی اسناد کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں ۔چلیں کم کر دیتے ہیں ،پانچ ہی امثلہ پیش کر دیں ایسی اساتذہ کے اشعار سے ،ان شاء اللہ پہلی ملاقات پہ مبلغ سو روپے عند الطلب انعام آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔اب غائب نہیں ہو جائیے گا۔
میں مثال دے بھی دوں تو آپ کہہ دیں گے کہ ریختہ سے کاپی پیسٹ کر دیا :)
ویسے بھی ڈالر آج 330 کا ہوگیا ... اب ڈیڑھ ڈالر کے پیچھے ہم خود کس مشقت میں نہیں ڈالنے والے :)
 
مذاق سے ہٹ کر،کیا قید و بند، ایثار و قربانی،جور و جفا، ظلم و ستم ، عشق و الفت وغیرہ ... ایسی تراکیب کا استعمال اہل زبان کے یہاں عام نہیں؟ اب آپ کہیں گے کہ اساتذہ کے کلام میں سے ایسی مثالیں ڈھونڈ کر لاؤ ... جو تلاش کرنے پر شاید مل بھی جائیں ... مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ اساتذہ کے یہاں عام مستعمل نہ بھی ہوں تو ان کو قابل اعتراض یا معیوب کیونکر ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ آپ نے کہا کہ زبان میں قیاس کارگر نہیں ... چلیں یوں ہی سہی، تو کیا اجتہاد بھی مطلقا ناجائز ہے ؟ اگر ایسا ہے تو زبان کا ارتقا ہی کیونکر ہو سکے گا؟ اسی لیے میں نے آپ سے سوال کیا تھا کہ آپ کو اس قدر جمود پر اصرار کیوں ہے؟ درست کہ آپ کے ذوق کو ایک چیز بھلی نہیں لگی، آپ نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ... مگر جب آپ کے ہی مطالبے معتبر حوالے مہیا کیے گئے تو آپ نے ان کی بھد اڑا دی ...
جو چیز اہل زبان کی عمومی روش کے خلاف نہ ہو اس پر اصولا اعتراض بنتا ہی نہیں.
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
مذاق سے ہٹ کر،کیا قید و بند، ایثار و قربانی،جور و جفا، ظلم و ستم ، عشق و الفت وغیرہ ... ایسی تراکیب کا استعمال اہل زبان کے یہاں عام نہیں؟ اب آپ کہیں گے کہ اساتذہ کے کلام میں سے ایسی مثالیں ڈھونڈ کر لاؤ ... جو تلاش کرنے پر شاید مل بھی جائیں ... مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ اساتذہ کے یہاں عام مستعمل نہ بھی ہوں تو ان کو قابل اعتراض یا معیوب کیونکر ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

پیارے احسن بات یہ ہے کہ حرف عطف عموماً دو یکساں یا ہم معنی الفاظ کے درمیان نہیں لایا جاتا چنانچہ ایسے مرکبات میں بظاہر مترادف اور یکساں نظر آنے والے الفاظ میں بھی کچھ نہ کچھ مغائرت ہوتی ہے،اردو میں ہی دیکھ لیجیے جب آپ دو لفظوں کے درمیان: اور: لاتے ہیں تو مدعا و مذکوردو مختلف الفاظ ہوتے ہیں ۔جیسے
∆میرے لیے دودھ اور جلیبی لاؤ ۔
∆میرے لیے دودھ اور ملک(milk) لاؤ ۔
ظاہر ہے دوسرا جملہ ناقص ہے۔اور شعر میں تو معاملہ اور نازک اس لیے ہوتا ہے کہ آپ کو کم جگہ میں بہت کچھ کہنا ہوتا ہے کہ شعر کا کینوس اوزان کی وجہ سے چھوٹا ہوتا ہے ۔ایسے میں مترادفات کو کھینچ تان کر مرکب عطف بنا نا اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر کے پاس کہنے کے لیےکچھ نہیں وہ محض جگہ گھیر رہا ہے یا خانہ پری چاہ رہا ہے۔

آپ نے کہا کہ زبان میں قیاس کارگر نہیں ... چلیں یوں ہی سہی، تو کیا اجتہاد بھی مطلقا ناجائز ہے ؟ اگر ایسا ہے تو زبان کا ارتقا ہی کیونکر ہو سکے گا؟
دیکھیں اس پہ بات ہو چکی، جون ایلیا کی مثال بھی دی ،یعنی اجتہاد کے لیے بھی اہلیت پیدا کرنی ہوگی ،زبان میں جدت لانے کے لیے زبان کے مسلمات تو معلوم ہوں یہ نہ ہو کہ اوزان سمجھ میں نہیں آرہے اور کہا جارہا ہے کہ میں اوزان کا قائل نہیں بلکہ نثری نظم کا قائل ہوں۔
مگر جب آپ کے ہی مطالبے معتبر حوالے مہیا کیے گئے تو آپ نے ان کی بھد اڑا دی
نہیں یہاں آپ سے چوک ہو گئی، میں علوی صاحب کا دل سے احترام کرتا ہوں ،ایسی مثبت سوچ رکھنے والا شاعر شاذ ہی نظر آتا ہے۔ غزل پہ بے لاگ لکھنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے بس ایک مصرع پہ اپنی کھٹک کا اظہار کیا اسے بھد اڑانا تو نہیں کہا جائے گا۔دلائل کا مطالبہ بھی میں نے ان سے نہیں کیا تھا بھائی۔
 
آخری تدوین:
علوی بھائی جزاک اللہ خیر کہ آپ نے طویل خط میری تشفی کرنے کو لکھا۔

علوی بھائی چلیں ایک پرانا سبق دہرا لینے میں حرج نہیں ،کچھ شعرا ہیں جن کا شعر زبان و بیان کے اعتبار سے سند مانا جاتا ہے انھیں استاد کہا جاتا ہے چنانچہ ادبی دنیا میں نمایاں حیثیت ،سب کی واقفیت وغیرہ بعد کی چیزیں ہیں تبھی تو حیرت ہوتی ہےکہ فیض کو بھی ان اساتذہ میں شامل نہیں کیاجاتا وجہ یہ ہے کہ انھوں نےاپنی نظموں میں اردو زبان ومحاورے کو انگریزی کی تقلید میں خاصا بگاڑ دیا ہے۔
ماشاء اللہ جانتے تو آپ بھی ہیں کہ استاد کون کون ہیں تبھی فورا میر اور جگر کی مثالیں پیش کیں،

دیکھیے آپ کو تو معلوم ہے کہ زبان میں قیاس کارگر نہیں ،اور جان جلانا ،سوختہ جان وغیرہ زبان ہے۔لیکن اساتذہ کے ہاں سے یہ درد روح ،درد جا ں، اور جان و روح کی تراکیب آپ کو شاید ہی ملیں۔
یاسر بھائی ، میں عموماً روایت پسند ہوں ، اور اجتہاد میں بھی روایت کا پاس رکھتا ہوں . یہاں بھی میں نے جو تراکیب استعمال کی ہیں ، وہ میری ایجاد نہیں ہیں ، بلکہ معروف شعرا کے یہاں ان کی مثالیں موجود ہیں . آپ نے حال ہی میں ایک ترکیب ’نقد نگاری‘ استعمال کی تھی . میرے دریافت کرنے پر آپ نے اس کی کوئی مثال نہیں دی . مثال شاید ہوگی بھی نہیں . لیکن اس سے خاص فرق نہیں پڑتا . آپ کے پاس اس ترکیب کا جواز تھا ، لہذا اس پر مزید سوالات فضول تھے . تو بھائی ، جو آزادی آپ خود استعمال کر رہے ہیں ، وہ اوروں کو بھی عطا کریں .:) مذاق بر طرف،اگر ہر ترکیب اور اصطلاح کی قبولیت کی شرط اس کی ہو بہو مثال میر ، داغ اور غالب کے یہاں ہونا طے پائے تو پھر زبان اور فن میں نیا کچھ نہیں آئیگا . میری ناچیز رائے میں رہنمائی کے لئے ہمیں کلاسیکی شاعری کے علاوہ دیگر معروف شعرا کے کلام کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے . حتیٰ کہ اگر کوئی بالکل نئی اور اچھوتی ترکیب سلیقے سے برتی جائے تو اسے قبول کرنے میں بھی تکلّف نہیں ہونا چاہیے . خیر، جیسا آپ نے فرمایا ، یہ معاملہ در اصل ذوق کا ہے . کسی کو اگر کچھ پسند نہیں آتا تو بس نہیں آتا .
 
دل و جاں کے درد کی بات پر متفق ہوں عرفان علوی سے، لیکن لمحوں میں نظر کے.. پر یاسر شاہ سے متفق ہوں۔ ویسے بہت اچھے اشعار نکالے ہیں مشکل زمین میں
محترم اعجاز صاحب، ایک مدّت کے بعد آپ کی شاباشی کا شرف حاصل ہوا ، اور بےحد خوشی ہوئی . بہت بہت شکریہ!
 

یاسر شاہ

محفلین
یاسر بھائی ، میں عموماً روایت پسند ہوں ، اور اجتہاد میں بھی روایت کا پاس رکھتا ہوں . یہاں بھی میں نے جو تراکیب استعمال کی ہیں ، وہ میری ایجاد نہیں ہیں ، بلکہ معروف شعرا کے یہاں ان کی مثالیں موجود ہیں . آپ نے حال ہی میں ایک ترکیب ’نقد نگاری‘ استعمال کی تھی . میرے دریافت کرنے پر آپ نے اس کی کوئی مثال نہیں دی . مثال شاید ہوگی بھی نہیں . لیکن اس سے خاص فرق نہیں پڑتا . آپ کے پاس اس ترکیب کا جواز تھا ، لہذا اس پر مزید سوالات فضول تھے . تو بھائی ، جو آزادی آپ خود استعمال کر رہے ہیں ، وہ اوروں کو بھی عطا کریں .:) مذاق بر طرف،اگر ہر ترکیب اور اصطلاح کی قبولیت کی شرط اس کی ہو بہو مثال میر ، داغ اور غالب کے یہاں ہونا طے پائے تو پھر زبان اور فن میں نیا کچھ نہیں آئیگا . میری ناچیز رائے میں رہنمائی کے لئے ہمیں کلاسیکی شاعری کے علاوہ دیگر معروف شعرا کے کلام کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے . حتیٰ کہ اگر کوئی بالکل نئی اور اچھوتی ترکیب سلیقے سے برتی جائے تو اسے قبول کرنے میں بھی تکلّف نہیں ہونا چاہیے . خیر، جیسا آپ نے فرمایا ، یہ معاملہ در اصل ذوق کا ہے . کسی کو اگر کچھ پسند نہیں آتا تو بس نہیں آتا .
علوی بھائی -مباحثے کی ابتدا دلائل کی پیشکش سے ہوتی ہے وگرنہ ذوق کا اظہار جس طرح شاعری ہے ویسے ہی تنقید بھی -جزاک الله خیر خاصی تشفی ہو گئی اب آپ کے خط سے-
 
پیارے احسن بات یہ ہے کہ حرف عطف عموماً دو یکساں یا ہم معنی الفاظ کے درمیان نہیں لایا جاتا چنانچہ ایسے مرکبات میں بظاہر مترادف اور یکساں نظر آنے والے الفاظ میں بھی کچھ نہ کچھ مغائرت ہوتی ہے
یاسر بھائی ... جتنی مغائرت ظلم اور ستم یا جور اور جفا میں ہے، جان و روح یا دل و روح میں بھی کم از کم اتنے درجے کی تو موجود ہی ہے ... چلیں آپ نے کم از کم "بظاہر مترادفات" پر مبنی عطفی تراکیب کا وجود تو تسلیم کیا، پہلے تو آپ نے مطلقا ہی ان کے وجود کا انکار کر دیا تھا ... ظلم و ستم یا جور و جفا کے لیے ریختہ کو کیا کھنگالیں، 99.99 فیصد امکان ہے کہ میر و غالب نے ان تراکیب کو استعمال کیا ہوگا. ظلم اور ستم یا جور اور جفا کی لطیف مغائرت کی تحقیق پھر کسی موقع کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں.
باقی دودھ اور ملک کی مثال پر اب کیا کہوں ... واٹر واٹر ہوگیا ہوں بس :)
 
Top