غزل:بھنور، برہم ہوائیں، گم کنارا، کیا بنے گا- اختر عثمان

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 26, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,109
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    بھنور، برہم ہوائیں، گم کنارا، کیا بنے گا
    دریدہ بادباں اپنا سہارا کیا بنے گا

    بڑوں پر منکشف تھی سہل انگاری ہماری
    ہمیں اجداد کہتے تھے ، تمہارا کیا بنے گا

    ابھی سے خال و خد روشن ہوئے جاتے ہیں اس کے
    کبھی جو چاک پر آیا تو گارا کیا بنے گا

    حِرائے ذہن میں اُترا ہے جبریلِ تخیل
    بتاتا ہے کہ آئندہ نظارہ کیا بنے گا

    نئے سالار سے زنداں میں بچے پوچھتے ہیں
    ہمارے شہر کے فاتح، ہمارا کیا بنے گا

    ہوا کے شر سے دامن ہی بچائے تو بچائے
    دریدہ بادباں اپنا سہارا کیا بنے گا

    یہ آب و تاب مجھ میں ازل ہی سے تھی اخترؔ
    مرے تیور بتاتے تھے ستارہ کیا بنے گا
    اختر عثمان
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,853
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ایک مصرع دو شعروں میں استعمال ہوا ہے؟
     

اس صفحے کی تشہیر