غزل : بغرض اصلاح

افتخاررحمانی فاخر نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 13, 2018

  1. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    250
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    ایک ٹوٹی پھوٹی بے آبرو سی غزل
    افتخاررحمانی فاخرؔ
    شام آئی ،ڈھلی ، بجھ گئے چراغ دل
    آخرش شب ہوئی ، بجھ گئے چراغ دل
    منتظر ہم رہے ، وہ نہ آسکے مگر
    آرزو رہ گئی ، بجھ گئے چراغ دل
    دل مرا طالب ِ دلربا جو تھا مگر
    اس کی آمد نہ تھی ، بجھ گئے چراغ دل
    دل بجھا آرزو محو ِ غم بھی ہوگئی
    رہ گئی بے بسی ، بجھ گئے چراغ دل
    گر،یہ ہے میری تقدیر، پھر کروں کیا؟
    ہر طرف خامشی، بجھ گئے چراغ دل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    22,068
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
  3. اسامہ جمشید

    اسامہ جمشید محفلین

    مراسلے:
    260
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بہت داد افتخار رحمانی فاخر صاحب ۔ ۔ ۔ اللہ آسانیاں کرے آپ کے لئے ۔ ۔ لکھتے رہیں پڑھتے رہیں ۔ ۔ آپ شاعر ہیں آپ کو شعور بھی ہے ۔ ۔ ما شاء اللہ ۔ ۔ شعری بناوٹ خود ہی آ جائے گی ۔ ۔ چند فنی اور ثانوی چیزوں کو اپنے لطیف اور قدرتی احساسات پر حاوی نا ہونے دینا ۔ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,269
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نئی بحر نکالی ہے
    فاعلن فاعلن فاعلن مفاعلن
    میرے خیال میں
    لیکن میرا مشورہ ہے کہ فاعلن مفاعلن دو بار میں کر لیں اسے
    اور ایک ٹکڑے میں بات مکمل ہو اس کا خیال رکھیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  5. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    250
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    تابش صاحب کے مشورہ کے بعدنئی بحر کا ’’چکر ‘‘ چھوڑ دیا ۔ البتہ فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن بحر متدارک میں وہی غزل پیش ہے ،البتہ استاد محترم قبلہ الف عین صاحب دام ظلہ کے حکم و ایماء کے مطابق اب ’’فاعلن مفاعلن‘‘ کی بحر میں اسی غزل کو پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔

    ” شام آئی ، ڈھلی ، بجھ گئی شمع لو
    آخرش شب ہوئی بجھ گئی شمع لو
    منتظر ہم رہے وہ نہ آئے مگر
    آرزو رہ گئی ، بجھ گئی شمع لو
    دل مرا طالب دلربا تھا مگر
    اس کی آمد نہ تھی ، بجھ گئی شمع لو
    دل بجھا آرزو محو ِ غم ہوگئی
    رہ گئی بے بسی بجھ گئی شمع لو
    وہ رہے اس قدر بے گماں اور گم
    ’آہ ‘ اک، رہ گئی ، بجھ گئی شمع لو
    ایک حرف تمنا نہاں دل میں تھا
    جستجو رہ گئی ، بجھ گئی شمع لو “
     
  6. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    250
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    آمین ثم آمین
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,269
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شمع لو بھی اچھا نہیں لگتا، بجائے شمع کی لو کے۔ یہ ہندی کا 'سماس' اردو میں نہیں چلتا۔
    باقی اشعار درست ہیں
    ایک 'دلربا' عامیانہ لفظ کی جگہ کوئی دوسرا لفظ لاؤ تو بہتر ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  8. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    250
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    یہ غزل ہندی کی ایک بجھتی ہوئی شمع كي تصویر سے’’مستعار‘‘ہے۔ آپ نے درست کہا۔ خیر ! آپ کے ایماء پر دوسری بحر میں(فاعلن مفاعلن) میں پیش کرنے کی جرأت کرتا ہوں۔لفظ ’’دلربا‘‘ کے استعمال کے وقت مجھے کھٹکا ہوا تھا کہ آپ نکیر فرمائیں گے ؛ لیکن کیا کرتا ؟ بحر کی پابندی بھی لازمی تھی اوراپنی بات بھی کہنی تھی اور اس وقت اس کا مترادف سوجھ نہیں رہا تھا۔
     

اس صفحے کی تشہیر