غزل برائے اصلاح

اشرف علی

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم سید عاطف علی صاحب
محترم یاسر شاہ صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح کی درخواست ہے _

غزل

پہلے تو خارِ ہجر نے قیمت وصول کی
تب جا کے پیش وصل نے کی سیج پھول کی

کیسے وہ اپنے آپ میں لائے بھَلا سُدھار
جس کو کبھی لگا ہی نہیں اس نے بھول کی

ہر حال میں مجھے اسے اپنا بنانا ہے
ہر شرط اس کی اس لیے میں نے قبول کی

ویسے تو کر رہے تھے سبھی بے اُصولیاں
ہاں لیکن ان کے لب پہ تھیں باتیں اُصول کی

محفل میں ان کے آتے ہی ہونے لگی ہیں بات
خوشبو ، بہار ، رنگ ، صبا اور پھول کی

سجدہ کیا ، دعا بھی کی میں نے بہت مگر
خواہش نہ پوری ہو سکی اس کے حصول کی

اشرف ! عمل سے واسطہ کچھ ہے بھی یا فقط
برباد زندگی یوں ہی تو نے فضول کی
 
جا کے پیش وصل نے کی سیج پھول کی
خیال اچھا ہے، مگر محاورہ غالبا پھولوں کی سیج ہے، پھول کی سیج مجھے ٹھیک نہیں لگا.



ہر حال میں مجھے اسے اپنا بنانا ہے
ہر شرط اس کی اس لیے میں نے قبول کی
پہلے مصرعے میں ماضی کا صیغہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، اپنا بنانا تھا

ویسے تو کر رہے تھے سبھی بے اُصولیاں
ہاں لیکن ان کے لب پہ تھیں باتیں اُصول کی
ہاں بھرتی کا لگتا ہے،
لیکن لبوں پہ ان کے تھیں باتیں اصول کی


محفل میں ان کے آتے ہی ہونے لگی ہیں بات
خوشبو ، بہار ، رنگ ، صبا اور پھول کی
پہلا مصرع پھر دیکھیں، بات کے بجائے باتیں کا محل ہے، مگر اس ترتیب اس سے وزن خراب ہوتا ہے.


اشرف ! عمل سے واسطہ کچھ ہے بھی یا فقط
برباد زندگی یوں ہی تو نے فضول کی
برباد تو نے زندگی یونہی فضول کی!
 

اشرف علی

محفلین
بہت بہت شکریہ سر

مگر محاورہ غالبا پھولوں کی سیج ہے
جی سر !

پھول کی سیج مجھے ٹھیک نہیں لگا
اب دیکھیں سر !

پہلے تو خارِ ہجر نے قیمت وصول کی
تب جا کے پیش وصل نے کی پتّی پھول کی

پہلے مصرعے میں ماضی کا صیغہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، اپنا بنانا تھا
جی سر ! بہت شکریہ
ہر حال میں مجھے اسے اپنا بنانا تھا
ہر شرط اس کی اس لیے میں نے قبول کی

ہاں بھرتی کا لگتا ہے،
او !

لیکن لبوں پہ ان کے تھیں باتیں اصول کی
بہت بہت شکریہ سر

ویسے تو کر رہے تھے سبھی بے اُصولیاں
لیکن لبوں پہ ان کے تھیں باتیں اُصول کی
پہلا مصرع پھر دیکھیں، بات کے بجائے باتیں کا محل ہے، مگر اس ترتیب اس سے وزن خراب ہوتا ہے.
ہاں ! بہت شکریہ سر
اب دیکھیں ...

محفل میں تم جو آئے تو باتیں تو ہونی تھیں
خوشبو ، بہار ، رنگ ، صبا اور پھول کی

برباد تو نے زندگی یونہی فضول کی!
مجھے لگا "زندگی" کی "ی" نہیں گرا سکتے اس لیے الفاظ کی ترتیب بدلنی پڑی ... بہت بہت شکریہ سر

اشرف ! عمل سے واسطہ کچھ ہے بھی یا فقط
برباد تو نے زندگی یونہی فضول کی

جزاک اللّٰہ خیراً
اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے ، شاد و آباد رکھے ، آمین ۔
 

الف عین

لائبریرین
مطلع میں پھولوں کی سیج ہی درست فٹ بیتھتی ہے، لیکن قافیہ نے غلط کر دیا ہے، اس کا کچھ اور سوچنا پڑے گا۔
اور مقطع کا بھی کچھ سوچو
 

اشرف علی

محفلین
مطلع میں پھولوں کی سیج ہی درست فٹ بیتھتی ہے، لیکن قافیہ نے غلط کر دیا ہے، اس کا کچھ اور سوچنا پڑے گا۔
جی سر ! پتّی والا نہیں چلے گا ؟
پہلے تو خارِ ہجر نے قیمت وصول کی
تب جا کے پیش وصل نے کی پتّی پھول کی
یا
اک عرصہ وصلِ یار کی قیمت وصول کی
تب ساعتوں نے ہجر کی ، نعمت نزول کی
یا
عشق و وفا کی راہیں ہیں ، راہیں ببول کی
جس نے بھی پھول سمجھا انہیں اس نے بھول کی

محفل میں تم جو آئے تو باتیں تو ہونی تھیں
خوشبو ، بہار ، رنگ ، صبا اور پھول کی
یہ شعر اب ٹھیک ہو گیا سر ؟
اور محفل کی جگہ کیا گلشن لانا ٹھیک ہوگا ؟
گلشن میں تم جو آئے تو باتیں تو ہونی تھیں
یا
گلشن میں دیکھ کر تمہیں ، باتیں کرے گا کون

جزاک اللّٰہ خیراً
 
آخری تدوین:

اشرف علی

محفلین
اور مقطع کا بھی کچھ سوچو
سر !
محفل میں یوں تو سب کی غزل اچھی تھی مگر
یا
ویسے تو سب کی غزلیں بہت اچھی تھیں مگر
اشرف کی طرح داد کسی نے وصول کی ؟

نئے اشعار :
میں نے تمام عمر یہی ایک بھول کی
یعنی اسے بھلانے کی کوشش فضول کی

ہم عاشقِ رسولؐ ہیں ، یہ بات اگر ہے سچ
پھر زندگی میں کیوں نہیں سنت رسولؐ کی

گلچیں کے بچے بھوک سے مرنے لگے ہیں اب
"قیمت بڑھی ہے ان دنوں کاغذ کے پھول کی"
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
تیسرے مطلع میں بھی' راہیں ہیں راہیں' ناگوار لگتا ہے
راہیں وفا کی ہوتی ہیں راہیں ببول کی
بہتر ہے، اگرچہ ببول کی راہ بھی کچھ دور از کار ترکیب ہے
اس سے تو نئے اشعار کا پہلا مطلع بننے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے
نعتیہ شعر تھیک ہے
لیکن گلچیں کے بچے کی ے کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا ہے
 

اشرف علی

محفلین
تیسرے مطلع میں بھی' راہیں ہیں راہیں' ناگوار لگتا ہے
راہیں وفا کی ہوتی ہیں راہیں ببول کی
بہتر ہے، اگرچہ ببول کی راہ بھی کچھ دور از کار ترکیب ہے
ٹھیک ہے سر
بہت بہت شکریہ

اس سے تو نئے اشعار کا پہلا مطلع بننے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے
مطلب سمجھا نہیں
کیا نیا مطلع کو مطلع بنانا ٹھیک ہے ؟

الحمد للّٰہ
جزاک اللّٰہ خیراً

لیکن گلچیں کے بچے کی ے کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا ہے
او !

اور مقطع کیسا ہے سر ؟

یہ شعر اب ٹھیک ہو گیا سر ؟
اور محفل کی جگہ کیا گلشن لانا ٹھیک ہوگا ؟
گلشن میں تم جو آئے تو باتیں تو ہونی تھیں
اور یہ ؟
 

الف عین

لائبریرین
مقطع بھی خوب ہے ماشاء اللہ
محفل کی جگہ گلشن یقیناً بہتر ہے
ٹھیک ہے سر
بہت بہت شکریہ


مطلب سمجھا نہیں
کیا نیا مطلع کو مطلع بنانا ٹھیک ہے ؟


الحمد للّٰہ
جزاک اللّٰہ خیراً


او !

اور مقطع کیسا ہے سر ؟


اور یہ ؟
 

اشرف علی

محفلین
مقطع بھی خوب ہے ماشاء اللہ
الحمد للّٰہ الحمد للّٰہ
جزاک اللّٰہ خیراً

محفل کی جگہ گلشن یقیناً بہتر ہے
ٹھیک ہے سر
بہت بہت شکریہ

غزل ( نظر ثانی کی درخواست ہے )

ہم نے تمام عمر یہی ایک بھول کی
یعنی اسے بھلانے کی کوشش فضول کی

ہم عاشقِ رسولؐ ہیں ، یہ بات اگر ہے سچ
پھر زندگی میں کیوں نہیں سنت رسولؐ کی

کیسے وہ اپنے آپ میں لائے بھَلا سُدھار
جس کو کبھی لگا ہی نہیں اس نے بھول کی

ہر حال میں مجھے اسے اپنا بنانا تھا
ہر شرط اس کی اس لیے میں نے قبول کی

ویسے تو کر رہے تھے سبھی بے اُصولیاں
لیکن لبوں پہ ان کے تھیں باتیں اُصول کی

گلشن میں تم جو آئے تو باتیں تو ہونی تھیں
خوشبو ، بہار ، رنگ ، صبا اور پھول کی

سجدے کیے ، دعا بھی کی میں نے بہت مگر
صورت نظر نہ آ سکی اس کے حصول کی

ویسے تو سب کی غزلیں بہت اچھی تھیں مگر
اشرف کی طرح داد بھی کس نے وصول کی
 

الف عین

لائبریرین
ہر حال میں بنانا تھا اپنا مجھے اسے
بہتر مصرع ہو گا۔ صرف ایک اسقاط' بنانا' کے ساتھ
ویسے تو سب کی غزلیں بہت خوب تھیں مگر
بھی کر دیا جائے
باقی غزل اچھی ہو گئی ہے
 

اشرف علی

محفلین
ہر حال میں بنانا تھا اپنا مجھے اسے
بہتر مصرع ہو گا۔ صرف ایک اسقاط' بنانا' کے ساتھ
ٹھیک ہے سر
بہت بہت شکریہ

ویسے تو سب کی غزلیں بہت خوب تھیں مگر
بھی کر دیا جائے
اوکے سر
جزاک اللّٰہ خیراً

باقی غزل اچھی ہو گئی ہے
اللّٰہ کا شکر ہے
آپ اساتذۂ کرام کا بھی تہہِ دل سے شکر گزار ہوں
اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کو شاد و آباد رکھے ، آمین ۔
 

اشرف علی

محفلین
غزل ( اصلاح کے بعد )

ہم نے تمام عمر یہی ایک بھول کی
یعنی اسے بھلانے کی کوشش فضول کی

ہم عاشقِ رسولؐ ہیں ، یہ بات اگر ہے سچ
پھر زندگی میں کیوں نہیں سنت رسولؐ کی

کیسے وہ اپنے آپ میں لائے بھَلا سُدھار
جس کو کبھی لگا ہی نہیں اس نے بھول کی

ہر حال میں بنانا تھا اپنا مجھے اسے
ہر شرط اس کی اس لیے میں نے قبول کی

ویسے تو کر رہے تھے سبھی بے اُصولیاں
لیکن لبوں پہ ان کے تھیں باتیں اُصول کی

گلشن میں تم جو آئے تو باتیں تو ہونی تھیں
خوشبو ، بہار ، رنگ ، صبا اور پھول کی

سجدے کیے ، دعا بھی کی میں نے بہت مگر
صورت نظر نہ آ سکی اس کے حصول کی

ویسے تو سب کی غزلیں بہت خوب تھیں مگر
اشرف کی طرح داد بھی کس نے وصول کی
 
Top