غزل برائے اصلاح

انیس جان نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 19, 2019

  1. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    408
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    جب عشق کو، فنا کا ملقّب سمجھ لیا
    پھر موت کو بھی ہم نے مجرّب سمجھ لیا

    ٹپکے جو چار قطرے، ندامت کے، آنکھ سے
    گوہر سمجھ لیا انہیں کوکب سمجھ لیا

    محشر کی سختیاں جو کی واعظ نے کل بیاں
    اس کو بھی ہم نے ہجر کی اک شب سمجھ لیا

    تاریخ جن کی ظلم و تشدد سے ہے بھری
    ان وحشیوں کو ہم نے مہذّب سمجھ لیا

    میں محو گفتگو تھا سنو اپنے آپ سے
    "دنیا نے تجھ کو میرا مخاطب سمجھ لیا"

    لہری جو زلف ، گال پر اس ماہتاب کی
    افعی سمجھ لیا کبھی عقرب سمجھ لیا

    تو نے جو بزمِ غیر میں مجھ کو کہا"انیس!!!
    میں نے ، جو مدّعا تھا ترا،سب سمجھ لیا

    الف عین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,870
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مجھے ایک شعر میں ہی غلطی نظر آئی
    محشر کی سختیاں جو کی واعظ نے کل بیاں
    اس کو بھی ہم نے ہجر کی اک شب سمجھ لیا
    ... مثال کچھ عجیب سی لگی
    جمع سختیاں واحد شب؟
    سختیاں کے ساتھ جمع کا صیغہ 'کیں' ہونا چاہیے
    'جو کی' کے و اور ی کا اسقاط اچھا نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. سید احسان

    سید احسان محفلین

    مراسلے:
    44
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ماشا اللہ خوب غزل ہوئی ۔۔ الف عین سر کی رائے بہت خوب صورت ہے
     

اس صفحے کی تشہیر