غزل برائے اصلاح

الف عین
یاسر شاہ
عظیم
سر اصلاح فرما دیجیے
سو بسم اللہ یار پرانے لوٹ آئے۔
پھر اپنے موسم وہ سہانے لوٹ آئے۔
پت جھڑ کے آثار نہیں گلشن میں۔
شاید پھر وہ پھول اگانے لوٹ آئے۔
کیوں برسوں کے بعد خیال آج اُن کے۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
ٹوٹا جن سے عہدِوفا ماضی میں۔
آنکھوں میں نئے خواب سجانے لوٹ آئے۔
وہ دلکش رنگوں سے سجا کر دامن۔
مجھکو اب چاہت سے منانے لوٹ آئے۔
پھولوں کی بارش سے کروں استقبال۔
میرا اجڑا گھر جو بسانے لوٹ آئے۔
سورج پچھم ڈوب گیا لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دکھانے لوٹ آئے۔
 

عظیم

محفلین
سو بسم اللہ یار پرانے لوٹ آئے۔
پھر اپنے موسم وہ سہانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔محاورہ 'ست بسم اللہ' کا ہے اور وہ بھی میرا خیال ہے کہ پنجابی میں۔ اس کے علاوہ لفظ اللہ مفعول کے وزن پر بہتر ہوتا ہے

پت جھڑ کے آثار نہیں گلشن میں۔
شاید پھر وہ پھول اگانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔پہلے مصرع میں شاید 'ہیں' ٹائپ ہونے سے رہ گیا ہے
'اگانے' عجیب لگ رہا ہے سیدھا سیدھا 'کھلانے' کیوں استعمال نہیں کرتے؟

کیوں برسوں کے بعد خیال آج اُن کے۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔'خیالات' وزن میں آئے گا، خیال درست بھی نہیں رہے گا کہ آپ کی ردیف میں جمع کے الفاظ ہیں
شعر اچھا ہے

ٹوٹا جن سے عہدِوفا ماضی میں۔
آنکھوں میں نئے خواب سجانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔'عہدِ وفا' کی جگہ 'عہد وفا کا' کر لیں۔ بحر میں نہیں آتا پہلا مصرع
دوسرے مصرع میں 'نئے' گڑبڑ پیدا کر رہا ہے۔ میرے خیال میں 'فعو' کے وزن پر ہونا چاہیے یہ لفط۔ اس کی جگہ 'پھر' استعمال کر سکتے ہیں

وہ دلکش رنگوں سے سجا کر دامن۔
مجھکو اب چاہت سے منانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔اس شعر کو دوبارہ کہنے کی کوشش کریں۔ پہلا مصرع وزن میں نہیں اور دوسرے میں 'اب' کی جگہ کوئی اور لفظ لائیں، اس لفظ کی معنویت سمجھ میں نہیں آ رہی کہ کیوں استعمال کیا گیا ہے!

پھولوں کی بارش سے کروں استقبال۔
میرا اجڑا گھر جو بسانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔پہلا مصرع بحر سے خارج۔ شاید 'کروں' کے بعد 'کیوں' ٹائپ ہونا رہ گیا ہے یا ہونا چاہیے تھا، میرے خیال میں 'کروں' کے بعد 'گا' لائیں اور دوسرے مصرع میں 'جو' کی جگہ 'کو' استعمال کریں اور 'اجڑا' کی جگہ 'اجڑے'

سورج پچھم ڈوب گیا لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دکھانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔اس کے پہلے مصرع میں بھی وزن کا مسئلہ ہے اور 'پچھم' عجیب لگ رہا ہے۔ دوبارہ کہنے کی ضرورت ہے
 
سو بسم اللہ یار پرانے لوٹ آئے۔
پھر اپنے موسم وہ سہانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔محاورہ 'ست بسم اللہ' کا ہے اور وہ بھی میرا خیال ہے کہ پنجابی میں۔ اس کے علاوہ لفظ اللہ مفعول کے وزن پر بہتر ہوتا ہے

پت جھڑ کے آثار نہیں گلشن میں۔
شاید پھر وہ پھول اگانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔پہلے مصرع میں شاید 'ہیں' ٹائپ ہونے سے رہ گیا ہے
'اگانے' عجیب لگ رہا ہے سیدھا سیدھا 'کھلانے' کیوں استعمال نہیں کرتے؟

کیوں برسوں کے بعد خیال آج اُن کے۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔'خیالات' وزن میں آئے گا، خیال درست بھی نہیں رہے گا کہ آپ کی ردیف میں جمع کے الفاظ ہیں
شعر اچھا ہے

ٹوٹا جن سے عہدِوفا ماضی میں۔
آنکھوں میں نئے خواب سجانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔'عہدِ وفا' کی جگہ 'عہد وفا کا' کر لیں۔ بحر میں نہیں آتا پہلا مصرع
دوسرے مصرع میں 'نئے' گڑبڑ پیدا کر رہا ہے۔ میرے خیال میں 'فعو' کے وزن پر ہونا چاہیے یہ لفط۔ اس کی جگہ 'پھر' استعمال کر سکتے ہیں

وہ دلکش رنگوں سے سجا کر دامن۔
مجھکو اب چاہت سے منانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔اس شعر کو دوبارہ کہنے کی کوشش کریں۔ پہلا مصرع وزن میں نہیں اور دوسرے میں 'اب' کی جگہ کوئی اور لفظ لائیں، اس لفظ کی معنویت سمجھ میں نہیں آ رہی کہ کیوں استعمال کیا گیا ہے!

پھولوں کی بارش سے کروں استقبال۔
میرا اجڑا گھر جو بسانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔پہلا مصرع بحر سے خارج۔ شاید 'کروں' کے بعد 'کیوں' ٹائپ ہونا رہ گیا ہے یا ہونا چاہیے تھا، میرے خیال میں 'کروں' کے بعد 'گا' لائیں اور دوسرے مصرع میں 'جو' کی جگہ 'کو' استعمال کریں اور 'اجڑا' کی جگہ 'اجڑے'

سورج پچھم ڈوب گیا لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دکھانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔اس کے پہلے مصرع میں بھی وزن کا مسئلہ ہے اور 'پچھم' عجیب لگ رہا ہے۔ دوبارہ کہنے کی ضرورت ہے
جانے کیسے یار پرانے لوٹ آئے۔
پھر اپنے موسم وہ سہانے لوٹ آئے۔
پت جھڑ کے آثار نہیں ہیں گلشن میں۔
شاید پھر وہ پھول کھلانے لوٹ آئے۔
کیوں برسوں کے بعد خیالات اُن کےبھی۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
ٹوٹا جن سے عہد وفا کا ماضی میں۔
آنکھوں میں پھر خواب سجانے لوٹ آئے۔
کتنےدلکش رنگ سجا کر دامن میں۔
اپنے روٹھے یار منانے لوٹ آئے۔
پھولوں کی بارش سے کروں گا استقبال۔
میرےاجڑے گھر کو بسانے لوٹ آئے۔
سورج کب کا ڈوب گیا لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دکھانے لوٹ آئے۔
 

عظیم

محفلین
جانے کیسے یار پرانے لوٹ آئے۔
پھر اپنے موسم وہ سہانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔'کیسے' دوسرے معنوں یعنی نیگٹو بھی استعمال ہوتا ہے، مثلاً یار تم کیسے دوست ہو وغیرہ
اس کی جگہ کوئی اور لفظ اگر لا سکیں۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے
جانے کہاں سے یار پرانے لوٹ آئے
اس کے علاوہ دوسرے مصرع میں 'وہ' اضافی لگ رہا ہے اس کا بھی کچھ حل سوچیں

پت جھڑ کے آثار نہیں ہیں گلشن میں۔
شاید پھر وہ پھول کھلانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔پت جھڑ پر نظر نہیں پڑی تھی شاید یا میں نے توجہ نہیں دی ۔ لیکن پھول کھلانے کے ساتھ پت جھڑ کچھ جچ نہیں رہا، کچھ اور ترکیب اگر لا سکتے ہیں تو . . .

کیوں برسوں کے بعد خیالات اُن کےبھی۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔پہلے مصرعے کو ویسا ہی رہنے دیتے، تبدیل کیوں کر دیا؟ صرف خیالات لانا تھا

ٹوٹا جن سے عہد وفا کا ماضی میں۔
آنکھوں میں پھر خواب سجانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔یہ تو درست ہو گیا ہے

کتنےدلکش رنگ سجا کر دامن میں۔
اپنے روٹھے یار منانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔کون؟ دوسرا مصرع واضح نہیں ہے

پھولوں کی بارش سے کروں گا استقبال۔
میرےاجڑے گھر کو بسانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔اس شعر کو بھی میں نے بعد میں دیکھا تھا تو دوسرا مصرع غیر واضح لگا تھا، اسی انتظار میں تھا کہ آپ کا کوئی جواب آئے تو یہ بات کہوں
میرے مشورے کے بعد بھی یہ کمی رہتی ہے کہ کون لوٹ آئے؟ آپ کے اصل شعر میں 'جو' سے پھر بھی یہ معنی پیدا ہو رہے تھے کہ جو کوئی بھی میرا اجڑا گھر بسانے لوٹ آئے اس کا پھولوں کی بارش سے استقبال کروں گا۔ لیکن موجودہ صورت میں دوسرا مصرع واضح نہیں لگتا

سورج کب کا ڈوب گیا لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دکھانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔'ڈوب گیا ہے' کر لیں۔ اور 'دکھانے' کیا پنجابی نہیں ہو جائے گا؟ کچھ اور سوچیں اس کا بھی
 
جانے کیسے یار پرانے لوٹ آئے۔
پھر اپنے موسم وہ سہانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔'کیسے' دوسرے معنوں یعنی نیگٹو بھی استعمال ہوتا ہے، مثلاً یار تم کیسے دوست ہو وغیرہ
اس کی جگہ کوئی اور لفظ اگر لا سکیں۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے
جانے کہاں سے یار پرانے لوٹ آئے
اس کے علاوہ دوسرے مصرع میں 'وہ' اضافی لگ رہا ہے اس کا بھی کچھ حل سوچیں

پت جھڑ کے آثار نہیں ہیں گلشن میں۔
شاید پھر وہ پھول کھلانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔پت جھڑ پر نظر نہیں پڑی تھی شاید یا میں نے توجہ نہیں دی ۔ لیکن پھول کھلانے کے ساتھ پت جھڑ کچھ جچ نہیں رہا، کچھ اور ترکیب اگر لا سکتے ہیں تو . . .

کیوں برسوں کے بعد خیالات اُن کےبھی۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔پہلے مصرعے کو ویسا ہی رہنے دیتے، تبدیل کیوں کر دیا؟ صرف خیالات لانا تھا

ٹوٹا جن سے عہد وفا کا ماضی میں۔
آنکھوں میں پھر خواب سجانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔یہ تو درست ہو گیا ہے

کتنےدلکش رنگ سجا کر دامن میں۔
اپنے روٹھے یار منانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔کون؟ دوسرا مصرع واضح نہیں ہے

پھولوں کی بارش سے کروں گا استقبال۔
میرےاجڑے گھر کو بسانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔اس شعر کو بھی میں نے بعد میں دیکھا تھا تو دوسرا مصرع غیر واضح لگا تھا، اسی انتظار میں تھا کہ آپ کا کوئی جواب آئے تو یہ بات کہوں
میرے مشورے کے بعد بھی یہ کمی رہتی ہے کہ کون لوٹ آئے؟ آپ کے اصل شعر میں 'جو' سے پھر بھی یہ معنی پیدا ہو رہے تھے کہ جو کوئی بھی میرا اجڑا گھر بسانے لوٹ آئے اس کا پھولوں کی بارش سے استقبال کروں گا۔ لیکن موجودہ صورت میں دوسرا مصرع واضح نہیں لگتا

سورج کب کا ڈوب گیا لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دکھانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔'ڈوب گیا ہے' کر لیں۔ اور 'دکھانے' کیا پنجابی نہیں ہو جائے گا؟ کچھ اور سوچیں اس کا بھی
جانے کہاں سے یار پرانے لوٹ آئے
پھر موسم پہلے سے سہانے لوٹ آئے۔
پژمردہ آثار نہیں ہیں گلشن کے۔
شاید پھر وہ پھول کھلانے لوٹ آئے۔
کیوں برسوں کے بعد خیالات آج اُن کے۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔
ٹوٹا جن سے عہد وفا کا ماضی میں۔
آنکھوں میں پھر خواب سجانے لوٹ آئے۔
کتنےدلکش رنگ سجا کر دامن میں۔
وہ پھر روٹھے یار منانے لوٹ آئے۔
سورج کب کا ڈوب گیاہے لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دُکھانے لوٹ آئے۔
سر اس شعر کو میں چینج کر لوں گا استقبال بھی میرے خیال تے بحر میں اچھا نہیں لگ رہا
اور آخری شعر میں دکھانے ہندی کا لفظ ہے سر
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
جانے کہاں سے یار پرانے لوٹ آئے
پھر موسم پہلے سے سہانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔بہتر ہو گیا ہے

پژمردہ آثار نہیں ہیں گلشن کے۔
شاید پھر وہ پھول کھلانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔پہلے جیسا رنگ نہیں ہے گلشن کا۔ کیا رہے گا؟

کیوں برسوں کے بعد خیالات آج اُن کے۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔

ٹوٹا جن سے عہد وفا کا ماضی میں۔
آنکھوں میں پھر خواب سجانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دونوں اشعار درست ہو گئے ہیں

کتنےدلکش رنگ سجا کر دامن میں۔
وہ پھر روٹھے یار منانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔یہ بھی ٹھیک

سورج کب کا ڈوب گیاہے لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دُکھانے لوٹ آئے۔
سر اس شعر کو میں چینج کر لوں گا استقبال بھی میرے خیال تے بحر میں اچھا نہیں لگ رہا
اور آخری شعر میں دکھانے ہندی کا لفظ ہے سر
۔۔۔۔۔۔۔دکھانے پڑھنے میں بھی عجیب لگتا ہے اور زخم دکھانا تو بہت ہی عجیب بات ہو جائے گی
کوئی اور لفظ سوچیں اس قافیے کے ساتھ کافی الفاظ آپ کو مل جائیں گے
استقبال بھی میرا خیال ہے کہ بحر میں ہی رہے گا، عروض کے بارے میں اتنی معلومات نہیں ہے لیکن اس بحر میں مجھے لگتا ہے کہ اس چیز کی اجازت ہو گی کہ آخری رکن کو 'فعل' کر لیا جائے
 
جانے کہاں سے یار پرانے لوٹ آئے
پھر موسم پہلے سے سہانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔بہتر ہو گیا ہے

پژمردہ آثار نہیں ہیں گلشن کے۔
شاید پھر وہ پھول کھلانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔پہلے جیسا رنگ نہیں ہے گلشن کا۔ کیا رہے گا؟

کیوں برسوں کے بعد خیالات آج اُن کے۔
تنہائی میں آگ لگانے لوٹ آئے۔

ٹوٹا جن سے عہد وفا کا ماضی میں۔
آنکھوں میں پھر خواب سجانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دونوں اشعار درست ہو گئے ہیں

کتنےدلکش رنگ سجا کر دامن میں۔
وہ پھر روٹھے یار منانے لوٹ آئے۔
۔۔۔۔۔۔یہ بھی ٹھیک

سورج کب کا ڈوب گیاہے لوٹ آؤ ۔
تارے پھر سے زخم دُکھانے لوٹ آئے۔
سر اس شعر کو میں چینج کر لوں گا استقبال بھی میرے خیال تے بحر میں اچھا نہیں لگ رہا
اور آخری شعر میں دکھانے ہندی کا لفظ ہے سر
۔۔۔۔۔۔۔دکھانے پڑھنے میں بھی عجیب لگتا ہے اور زخم دکھانا تو بہت ہی عجیب بات ہو جائے گی
کوئی اور لفظ سوچیں اس قافیے کے ساتھ کافی الفاظ آپ کو مل جائیں گے
استقبال بھی میرا خیال ہے کہ بحر میں ہی رہے گا، عروض کے بارے میں اتنی معلومات نہیں ہے لیکن اس بحر میں مجھے لگتا ہے کہ اس چیز کی اجازت ہو گی کہ آخری رکن کو 'فعل' کر لیا جائے
شکریہ سر کوشش کرتا ہوں
 

الف عین

لائبریرین
استقبال والا مصرع عروض کے لحاظ سے درست ہے
پہلے جیسا رنگ نہیں... والا مصرع عظیم نے بہت اچھا مشورہ دیا ہے
اب بس دُکھانے کی جگہ کچھ اور قافیہ لانے کی ضرورت ہے
 
Top