غزل برائے اصلاح

انیس جان نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 17, 2019 7:13 صبح

  1. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    جب تلک تن میں جان باقی ہے
    درد و غم امتحان باقی ہے

    میری جاں تیری نیشِ مژگاں کا
    دل پہ اب تک نشان باقی ہے

    سب گئے لیک خانہِ دل میں
    اب بھی اک میہمان باقی ہے

    تیر اک اور مار بِسمِل کو
    دم ابھی مہربان! باقی ہے

    غم نہ کر اے انیس اردو کے
    اب بھی کچھ قدر دان باقی ہے
    الف عین
    محمد خلیل الرحمٰن
    یاسر شاہ
     
  2. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    5,979
    موڈ:
    Cool
    جب تلک تن میں جان باقی ہے
    درد و غم امتحان باقی ہے
    پہلے مصرع میں 'تن' کی جگہ کوئی اور لفظ استعمال کریں
    اس کے علاوہ دوسرا مصرع بیان کے اعتبار سے نامکمل ہے۔

    میری جاں تیری نیشِ مژگاں کا
    دل پہ اب تک نشان باقی ہے
    نیش کا مطلب مجھے معلوم نہیں اور اس وقت کوئی لغت بھی دسترس میں نہیں، لیکن تکینکی اعتبار سے یہ شعر درست ہے

    سب گئے لیک خانہِ دل میں
    اب بھی اک میہمان باقی ہے
    'لیک' مجھے لگتا ہے کہ آج کل کی اردو میں پسند نہیں کیا جاتا۔ کسی طرح مگر وغیرہ لے آئیں۔ اسی طرح 'خا ن اے دل' بھی تقطیع ہونا شاید درست نہ ہو۔

    تیر اک اور مار بِسمِل کو
    دم ابھی مہربان! باقی ہے
    درست ہے

    غم نہ کر اے انیس اردو کے
    اب بھی کچھ قدر دان باقی ہے
    'باقی ہے' کی بجائے 'باقی ہیں' ہونا چاہیے تھا نا !
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,592
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جب تلک تن میں جان باقی ہے
    درد و غم امتحان باقی ہے
    .. تن میں جان چل سکتا ہے میرے خیال میں
    لیکن دوسرا مصرع واو عطف نکال کر بھی پہلے سے مربوط نہیں لگتا۔ )تکنیکی طور پر درد، عم، امتحان باقی ہے درست مصرع ہے

    میری جاں تیری نیشِ مژگاں کا
    دل پہ اب تک نشان باقی ہے
    ... نیش بمعنی ڈنک، جسے پاکستان میں نہ جانے کیوں 'ڈنگ' لکھا جاتا ہے۔( یہ بات اس لیے لکھ رہا ہوں کہ جو ڈنگ سے واقف ہوں.، وہ سمجھ جائیں ) شعر درست ہے

    سب گئے لیک خانہِ دل میں
    اب بھی اک میہمان باقی ہے
    ... لیک کی بات عظیم کہہ چکے ہیں۔ روانی بھی متاثر ہے
    خانہء دل سے سب گئے لیکن
    زیادہ رواں نہیں؟

    تیر اک اور مار بِسمِل کو
    دم ابھی مہربان! باقی ہے
    .. درست
    غم نہ کر اے انیس اردو کے
    اب بھی کچھ قدر دان باقی ہے
    عظیم سے متفق
     
  4. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    مطلع الف عین

    جب تلک تن میں جان باقی ہے
    درد اور امتحان باقی ہے
     
  5. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    لگے ہاتھوں استاد صاحب کچھ اور سوال بھی کردوں کہ کیا
    بحر مجتث"مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن" میں رکن "فعلاتن" کو "فاعلاتن" سے بدلا جاسکتا ہے؟

    (2) کسی بھی بحر کے ضرب یا عروض میں ایک ساکن کا اضافہ کرنے کی اجازت تو ہے
    لیکن کیا کسی حشو میں بھی ساکن کا اضافہ کرسکتے ہیں
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 19, 2019 3:37 شام
  6. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    لگے ہاتھوں استاد صاحب کچھ اور سوال بھی کردوں کہ کیا
    بحر مجتث"مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن" میں رکن "فعلاتن" کو "فاعلاتن" سے بدلا جاسکتا ہے؟
    (2) کسی بھی بحر کے ضرب یا عروض میں ایک ساکن کا اضافہ کرنے کی اجازت تو ہے
    لیکن کیا کسی حشو میں بھی ساکن کا اضافہ کرسکتے ہیں
    محمد وارث
    عظیم
    یاسر شاہ
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,592
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں تو عروض سے کما حقہٗ واقف نہیں اس لیے دوسرے سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
    پہلے سوال کا جواب۔۔۔ نہیں، عملی طور پر فاعلاتن کو صرف یہ پہلا رکن ہو تو فعلاتن میں بدلا جا سکتا ہے۔ مثلاً فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن کو پہلا رکن بدل کر فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن کیا جا سکتا ہے
    باقی درست جواب کے لیے واقعی اساتذہ کا انتظار کریں محمد وارث
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,364
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    پہلے سوال کا اعجاز صاحب نے دے دیا کہ مذکورہ بحر میں فعلاتن کو فاعلاتن سے بدلا نہیں جاتا۔
    دوسرے کا یہ کہ عام طور پر حشو میں تسبیغ کی اجازت نہیں ہوتی لیکن وہ بحریں جو مقطع ہیں یعنی وہ بحریں جن کے دو پورے پورے ٹکڑے ہوتے ہیں ان کے حشو بھی ضرب یا عرض کے حکم میں آ کر تسبیغ قبول کر لیتے ہیں جیسے 'مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن' اس میں آخری مفاعلن تو مفاعلان بن سکتا ہے لیکن پہلا مفاعلن بھی جو کہ حشو ہے وہ بھی مفاعلان بن سکتا ہے کیونکہ یہ مقطع بحر ہے، جیسے غالب:
    ع ۔ جس کو ہو دین و دل عزیز، اُس کی گلی میں جائے کیوں
    اس میں پہلا ٹکڑا ' مفتعلن مفاعلان 'کے وزن پر ہے اور دوسرا مفتعلن مفاعلن کے وزن پر۔ اسی بحر میں میر کی ایک غزل میں بھی ایسی مثالیں مل جائیں گی۔ "ملنے لگے ہو دیر دیر۔۔۔۔الخ
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر