غزل برائے اصلاح

الف عین
خلیل الرحمان رحمانی شاہ
فلسفی اور دیگر اساتذہ
---------------
افاعیل-- مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن
-----------------
یہی ہے تہذیبِ نو کی دنیا ، حیا سے دامن چھڑا لیا ہے
کبھی خدا سے دعا نہ مانگی ، دعا سے دامن چھڑا لیا ہے
-----------------
خدا بھلایا، نبی بھلایا ، سبھی نے اپنا دھرم بھلایا
نہیں ضرورت کسی کی اِن کو ،خدا سے دامن چھڑا لیا ہے
--------------------
یہی تو تہذیبِ نو ہے ان کی ،بنی ہے دنیا قمار خانہ
یہ چار سکّوں پہ بِک رہے ہیں ،وفا سے دامن چھڑا لیا ہے
-------------------
یہ ہاتھ خالی ہیں چُوریوں سے ،ہیں سر بھی خالی رِدا سے ان کے
حسین چہرے دکھا رہے ہیں ،ردا سے دامن چھڑا لیا ہے
----------------------
وکیل اکثر بھی بِک رہے ہیں ،یہاں پہ انصاف بِک رہا ہے
سبھی کو ہم نے خرید کر ہی ، سزا سے دامن چھڑا لیا ہے
-----------------------
مجھے تو نفرت نہیں کسی سے ، مجھے محبّت ملی ہے ارشد
ملی ہے ہم کو وفا سبھی سے ، جفا سے دامن چھڑا لیا ہے
-------------------------
 

فلسفی

محفلین
محترم ارشد بھائی اس نکمے، عاجز کو علیحدہ سے ٹیگ کرتے، اساتذہ کے ساتھ نام لکھ کر مجھے شرمندہ کردیا آپ نے۔

آپ نے پوچھا ہے تو کچھ گزراشات لکھ دیتا ہوں۔ پہلی بات کہ آپ اپنی غزل لکھ کر دو تین دن خود پڑھتے رہا کریں اور ہر مرتبہ ایک نقاد کی نظر سے اسے دیکھا کریں۔

دوسری بات کہ سر الف عین جن اغلاط کی اصلاح پہلے کر چکے ہیں ان کو حتی الامکان دہرانے سے پرہیز کریں۔

تیسری اہم بات یہ کہ تھوڑی بہت پختگی آنے تک طویل بحروں کے بجائے چھوٹی یا کسی مانوس بحر پر طبع آزمائی کریں۔ مثلا میں نے خود ابتدا میں بہت سی غزلیں فقط بحر متدارک یعنی فاعلن والی بحر میں کہی تھیں۔ اس کی وجہ نصرت فتح علی کا گایا ہوا گانا تھا جو کبھی سن رکھا تھا ۔۔۔ "آفریں آفریں ۔۔۔" تو میں بھی اسی دھن میں الفاظ کو جوڑنے کی کوشش کرتا تھا۔ اسی طرح آپ دیکھیے کہ آپ کے لیے مانوس بحر کون سی ہے۔

ابھی بچوں کو سکول چھوڑ کر دفتر کے لیے تیار ہونا ہے اس لیے اشعار پر رائے پھر سہی۔ امید ہے آپ میری گزارشات کو مثبت انداز میں لیں گے۔
 
مشوروں کا بہت بہت شکریہ ۔ آپ نے صحیح کہا کہ مجھے لکھ کر بار بار غور کرنا چاہئے ۔ میں جو لکھتا ہوں فوری طور پر پوسٹ کر دیتا ہوں۔ اللہ آپ کے بچوں کو صحت و تندرستی سے نوازے ۔ بچوں کو پیار دیجئے ۔ شکریہ
 

الف عین

لائبریرین
یہی ہے تہذیبِ نو کی دنیا ، حیا سے دامن چھڑا لیا ہے
کبھی خدا سے دعا نہ مانگی ، دعا سے دامن چھڑا لیا ہے
----------------- دعا نہ مانگی کا صیغہ ظاہر کرتا ہے کہ ماضی کا ذکر ہے جب کہ آپ کا مطلب یوں ہے کہ 'کوئی دعا مانگنے کی ضرورت نہیں سمجھتا' دعا کا لفظ دونوں ٹکڑوں میں دہرایا جانا بھی اچھا نہیں

خدا بھلایا، نبی بھلایا ، سبھی نے اپنا دھرم بھلایا
نہیں ضرورت کسی کی اِن کو ،خدا سے دامن چھڑا لیا ہے
-------------------- دونوں مصرعوں میں خدا کا استعمال!
پہلے مصرع کو بدل دیں، جیسے
نماز، پوجا سے دور ہیں سب، بھلا دیا سب نے اپنا مذہب

یہی تو تہذیبِ نو ہے ان کی ،بنی ہے دنیا قمار خانہ
یہ چار سکّوں پہ بِک رہے ہیں ،وفا سے دامن چھڑا لیا ہے
------------------- درست

یہ ہاتھ خالی ہیں چُوریوں سے ،ہیں سر بھی خالی رِدا سے ان کے
حسین چہرے دکھا رہے ہیں ،ردا سے دامن چھڑا لیا ہے
---------------------- یہاں ردا کا دہرایا جانا اچھا نہیں
چوڑیاں بھی کیا حیا کی علامت ہیں؟

وکیل اکثر بھی بِک رہے ہیں ،یہاں پہ انصاف بِک رہا ہے
سبھی کو ہم نے خرید کر ہی ، سزا سے دامن چھڑا لیا ہے
----------------------- وکیل اکثر بھی ' پسند نہیں آیا
وکیل و منصف بھی بک رہے ہیں فروخت انصاف ہو رہا ہے
خرید کر ہم نے بے گناہی سزا.....
مگر یہ شعر تو مکمل میرا ہو گیا!

مجھے تو نفرت نہیں کسی سے ، مجھے محبّت ملی ہے ارشد
ملی ہے ہم کو وفا سبھی سے ، جفا سے دامن چھڑا لیا ہے
-------------- مزا نہیں آیا بھرتی کے الفاظ بھی ہیں تو، سبھی۔ مقطع پھر سے کہیں
 
Top