غزل برائے اصلاح

فلسفی

محفلین
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذراش۔

مشکل نہیں تھی زندگی کچھ اضطراب تھا
وہ بھی خود اپنی سوچ کا پیدا کیا ہوا

اک شب مجھے وہ چھوڑ کے تنہا چلا گیا
تاریکیوں سے آج بھی ڈرتا ہے دل مرا

بھوسا ہے نا دماغ میں ان کے بھرا ہوا
سادہ سی بات کو بھی جو کہتے ہیں فلسفہ

چہرے سے دل کی تیرگی آتی نہیں نظر
رنگت کسی کے دیکھ کےہوتے ہو کیوں فدا

صورت ہے سامنے مگر اوجھل ہے اس کا جسم
پیکر عجیب ایک تصور میں بس گیا

رو رو کے گڑگڑا کے جو رگڑی ہیں ایڑیاں
بچوں نے مانگنے کا طریقہ سکھا دیا

پھر چشمِ التفات کو ترسے کا عمر بھر
انسان ایک بار جو دل سے اتر گیا

لڑنا تھا جس کو موت سے میرے لیے، وہی
پڑھ کر گیا ہے قبر سے چپ چاپ فاتحہ

اس کے لیے بھی درد ہی مانگا تو ہے مگر
دل میں ہے آرزو کہ یہ پوری نہ ہو دعا​
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
یہ آزاد غزل نہیں، محض غیر مردف ہے
بھوسا ہے نا دماغ میں ان کے بھرا ہوا
اس مصرع میں روانی مخدوش ہے

رو رو کے گڑگڑا کے جو رگڑی ہیں ایڑیاں
.... رو رو دو بار ہے تو گڑگڑا بھی دو بار ہونا تھا!

پڑھ کر گیا ہے قبر سے چپ چاپ فاتحہ
... چپ چاپ فاتحہ کون سی فاتحہ کو کہتے ہیں؟
باقی درست ہیں اشعار
 

فلسفی

محفلین
شکریہ سر
بھوسا ہے نا دماغ میں ان کے بھرا ہوا
اس مصرع میں روانی مخدوش ہے
کیا یہ ایسے درست ہو گا
بھوسا بھرا ہوا ہے کیا ان کے دماغ میں
سادہ سی بات کو بھی جو کہتے ہیں فلسفہ
رو رو کے گڑگڑا کے جو رگڑی ہیں ایڑیاں
.... رو رو دو بار ہے تو گڑگڑا بھی دو بار ہونا تھا!
سر گڑگڑانے میں تو ویسے ہی تکرار ہے۔ ویسے ایک متبادل یہ ہوسکتا ہے۔
روتے ہیں گڑگڑا کے رگڑتے ہیں ایڑیاں
دوسرے مصرعے میں سلیقہ زیادہ مناسب لگے گا؟
بچوں نے مانگنے کا سلیقہ سکھا دیا
پڑھ کر گیا ہے قبر سے چپ چاپ فاتحہ
... چپ چاپ فاتحہ کون سی فاتحہ کو کہتے ہیں؟
سر قبر پر فاتحہ عام طور پر اونچی آواز سے نہیں پڑھی جاتی اس لیے یوں کہا تھا۔ کیا یہ متبادل ٹھیک ہو گا
پڑھ کر گیا ہے قبر سے جلدی میں فاتحہ
 

الف عین

لائبریرین
بھوسا بھرا ہوا ہے کچھ ان کے دماغ میں
سے بات واضح نہیں ہوتی؟

سلیقہ بہتر ہو گا روتے ہیں 'گڑگڑا کے' کے ساتھ

اصل میں چپ چاپ فاتحہ سے کافی دور ہونا تھا
چپ چاپ پڑھ کے فاتحہ.... یا کچھ اس قسم کا مصرع بہتر ہو گا
 

فلسفی

محفلین
بھوسا بھرا ہوا ہے کچھ ان کے دماغ میں
سے بات واضح نہیں ہوتی؟
سر میں نے سوالیہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ معذرت سوالیہ نشان نہیں لگایا۔ اب بتائیے کون سا مناسب ہے۔

بھوسا بھرا ہوا ہے کیا ان کے دماغ میں؟

سلیقہ بہتر ہو گا روتے ہیں 'گڑگڑا کے' کے ساتھ
ٹھیک ہے سر
اصل میں چپ چاپ فاتحہ سے کافی دور ہونا تھا
چپ چاپ پڑھ کے فاتحہ.... یا کچھ اس قسم کا مصرع بہتر ہو گا
سر یہ متبادل ٹھیک ہے
لڑنا تھا جس کو موت سے میرے لیے، وہی
چپ چاپ قبر سے ہے گیا پڑھ کے فاتحہ
 

الف عین

لائبریرین
سوالیہ اور 'کیا' کے ساتھ 'یا' کا گرنا ناگوار گزر رہا ہے اس لیے 'کچھ' کا مشورہ دیا تھا
فاتحہ والا شعر بہتر ہے لیکن مکمل اطمینان بخش نہیں
 

فلسفی

محفلین
سوالیہ اور 'کیا' کے ساتھ 'یا' کا گرنا ناگوار گزر رہا ہے اس لیے 'کچھ' کا مشورہ دیا تھا
سر یہ متبادل ٹھیک ہے

بھوسا بھرا ہے کیا فقط ان کے دماغ میں؟
فاتحہ والا شعر بہتر ہے لیکن مکمل اطمینان بخش نہیں
سر کچھ تبدیلی کے ساتھ ان میں سے کوئی مناسب ہے

لڑنا تھا جس کو موت سے میرے لیے کبھی
اب تک نہ آیا قبر پہ پڑھنے کو فاتحہ
یا
لڑنا تھا جس کو موت سے میرے لیے، وہی
پڑھنے نہ آیا قبر پر اک بار فاتحہ
 

الف عین

لائبریرین
بھوسا تو اچھا لگنے لگا ہے!
دونوں متبادل درست ہیں، کوئی سا بھی رکھ لو اور دوسرے پر فاتحہ پڑھ لو
 

فلسفی

محفلین
بھوسا تو اچھا لگنے لگا ہے!
دونوں متبادل درست ہیں، کوئی سا بھی رکھ لو اور دوسرے پر فاتحہ پڑھ لو
شکریہ سر۔ اصلاح کے بعد مکمل غزل حاضر ہے

مشکل نہیں تھی زندگی کچھ اضطراب تھا
وہ بھی خود اپنی سوچ کا پیدا کیا ہوا

اک شب مجھے وہ چھوڑ کے تنہا چلا گیا
تاریکیوں سے آج بھی ڈرتا ہے دل مرا

بھوسا بھرا ہے کیا فقط ان کے دماغ میں؟
سادہ سی بات کو بھی جو کہتے ہیں فلسفہ

چہرے سے دل کی تیرگی آتی نہیں نظر
رنگت کسی کے دیکھ کےہوتے ہو کیوں فدا

صورت ہے سامنے مگر اوجھل ہے اس کا جسم
پیکر عجیب ایک تصور میں بس گیا

روتے ہیں گڑگڑا کے رگڑتے ہیں ایڑیاں
بچوں نے مانگنے کا سلیقہ سکھا دیا

پھر جشمِ التفات کو ترسے کا عمر بھر
انسان ایک بار جو دل سے اتر گیا

لڑنا تھا جس کو موت سے میرے لیے، وہی
پڑھنے نہ آیا قبر پر اک بار فاتحہ

اس کے لیے بھی درد ہی مانگا تو ہے مگر
دل میں ہے آرزو کہ یہ پوری نہ ہو دعا​
 
Top