غزل برائے اصلاح(5)

انیس جان نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 11, 2018

  1. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    78
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    اٹھنا مت بالیں سے میرے یار آج
    مرنے والا ہے ترا بیمار آج

    ذبح کرتے کرتے ہائے پھر گئے
    (ذبح کرتے کرتے وہ کیوں پھر گئے )
    کیا ہوا اے طالعِ بیدار آج

    وہ اگر بوسہ بھی دے تو میں نہ لوں
    توڑنا ہے حسن کا پندار آج

    جائے جو سر جاتا ہے اس میں مرا
    کرنا ہی ہے پیار کا اظہار آج

    واں پہ جانا اے انیس اچّھا نہیں
    بزم میں ہیں ہر طرف اغیار آج
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 12, 2018
  2. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    78
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
  3. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    345
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    اسلام علیکم ۔ باقی باتیں تو اساتذہ دیکھیں گے۔ مقطع میں ایک غلطی کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ اغیار غیر کی جمع ہے ۔ اس لئے (بزم میں ہیں ہر طرف اغیار آج )
     
    • متفق متفق × 2
  4. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    78
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
  5. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,781
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    یوں تو غزل درست ہے مگر اشعار کی بندش کچھ سست معلوم ہوتی ہے۔ کوشش کریں کہ الفاظ میں الِف کا اسقاط کم سے کم ہو۔
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    31,645
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    درست ہے غزل
    بوسہ بازی کا شوق کچھ زیادہ ہی نہیں کیا؟
     
  7. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    78
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    بس کیا کریں استاد صاحب داغ مرحوم کا کلام پڑھ پڑھ کر
    اوپر سے طبیعت بھی داغ جیسی واقع ہوئی ہے تو اسی طرح کے مضامین خیال میں آتے ہیں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر