محسن نقوی غزل - بجز ہوا ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرے! - محسن نقوی

غزل - بجز ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرے! - محسن نقوی

بجز ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرے!
میں اجنبی ہوں، کروں کس سے تذکرے تیرے؟

یہ کیسا قرب کا موسم ہے اے نگارِ چمن!
ہوامیں رنگ نہ خوشبو میں ذائقے تیرے

میں ٹھیک سے تیری چاہت تجھے جتا نہ سکا
کہ میری راہ میں حائل تھے مسئلے تیرے

کہاں سے لاؤں میں ترا عکس آنکھوں میں
یہ لوگ دیکھنے آتے ہیں آئینے تیرے

گلوں کو زخم، ستاروں کو اپنے اشک کہوں
سناؤں خود کو ترے بعد تبصرے تیرے

یہ درد کم تو نہیں ہےکہ تو ہمیں نہ ملا
یہ اور بات کہ ہم بھی نہ ہو سکے تیرے

جدائیوں کا تصور رلا گیا تجھ کو!
چراغ شام سے پہلے ہی بجھ گئےے تیرے

ہزار نیند جلاؤں ترے بغیر مگر
میں خواب میں بھی نہ دیکھوں وہ رتجگے تیرے

ہوائے موسمِ گل کی ہیں لوریاں ، جیسے
بکھر گئے ہوں فضاؤں میں قہقہے تیرے

کسے خبر کہ ہمیں اب بھی یاد ہیں محسن
وہ کروٹیں شبِ غم کی وہ حوصلے تیرے

محسن نقوی​
 
Top