نصیر ترابی غزل : اے مری زندگی اے مری ہم نوا ، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا - نصیر ترابی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 27, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,125
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    اے مری زندگی اے مری ہم نوا ، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا
    کچھ نہ اپنی خبر کچھ نہ تیرا پتا، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    جتنے چہرے چراغوں کے تھے بجھ گئے اب وہ جلسے گئے وہ قرینے گئے
    اب کدھر جی لگے شامِ یاراں بتا، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    درد میں درد کی سی چمک ہی نہیں وہ زمیں ہی نہیں وہ فلک ہی نہیں
    بے ستارہ ہے شب اے شبِ آشنا، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    دیکھنا دور تک خاک اُڑنے لگی کس خرابے کو یہ راہ مُڑنے لگی
    مجھ کو آواز دے وادئ جانفزا ، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    خَم بہ خَم راستے ، درمیاں مرحلے ، اک طرف بے دلی ، اک طرف حوصلے
    ڈھونڈتا ہوں تجھے عمرِ برگشتہ پا، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    سبز شاخوں سے گل یونہی چُننا کبھی گُل سے گلزار کے خواب بُننا کبھی
    فرصتِ ابتدا حسرتِ انتہا ، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    کیا وہی صبح کے رنگ تصویر ہیں کیا وہی شام کے سائے زنجیر ہیں
    کچھ تو معلوم ہو مجھ کو بادِ صبا ، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    اے مری شمعِ جاں صورتِ مہرباں اب یہ شہر گماں ہے دُھواں ہی دُھواں
    تُو یقیں ہے مرا تُو کہیں ہے تُو آ، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    چھب دکھائی نہ دے دُھن سنائی نہ دے کوئی گردشِ سراغِ رسائی نہ دے
    چشمِ رنگ کی دھنک رقصِ دل کی صدا ، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا

    غم وہ بادل کے یکجا ٹہرتا نہیں ، دل وہ دریا کے یک سُو گزرتا نہیں
    شاد و آباد رہنے کی رسمِ دعا ، تُو کہاں رہ گئی میں کہاں آ گیا
    نصیر ترابی
    1980ء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر