جون ایلیا غزل - ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے -جون ایلیا

ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
کس نے عذابِ جاں سہا ، کون عذابِ جاں میں ہے

لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم
میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے

آدم و ذاتِ کبریا کرب میں ہیں جدا جدا
کیاکہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے

شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دلِ شامِ دردمند
صحن میں ہے ملال سا حزن ساسماں میں ہے

خودبھی بے اماں ہوں میں، تجھ میں بھی بے اماں ہوں میں
کون سہے گا اس کا غم وہ جو میری اماں میں ہے

کیسا حساب کیا حساب حالتِ حال ہے عذاب
زخم نفس نفس میں ہے زہر زماں زماں میں ہے

اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں
اک عجیب کشمکش حلقہ بے دلاں میں ہے

بود و نبود کا حساب میں نہیں جانتا مگر
سارے وجود کی "نہیں" میرے عدم کی " ہاں" میں ہے

جون ایلیا​
 

محمد وارث

لائبریرین
واہ واہ واہ کیا لاجواب غزل ہے، جون ایلیا کی روح کی صحیح صحیح آئینہ دار، بہت خوب۔ شکریہ محترم پوسٹ کرنے کیلیے!
 

خوشی

محفلین
اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں
اک عجیب کشمکش حلقہ بے دلاں میں ہے


واہ بہت خوبسورت کلام ہے ، شکریہ اس شئیرنگ کا
 
Top