ابن انشا غزل : اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی ، خوش طلعتی و گُل پیرہنی - ابنِ انشا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 22, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی ، خوش طلعتی و گُل پیرہنی
    مرے دل کی تو پیاس کبھی نہ بُجھی، مرے جی کی بات کبھی نہ بنی

    ابھی کل ہی بات ہے جانِ جہاں ، یہاں خیل کے خیل تھے شور کناں
    اب نعرۂ عشق نہ ضربِ فغاں ، گئے کون نگر وہ وفا کے دھنی

    کوئی اور بھی موردِ لطف ہوا ؟ ملی اہلِ ہوس کو ہوس کی سزا؟
    ترے شہر میں تھے ہمیں اہلِ وفا ، ملی ایک ہمیں کو جلا وطنی

    یہ تو سچ ہے ہم تجھے پا نہ سکے ، تری یاد بھی جی سے بُھلا نہ سکے
    ترا داغ ہے دل میں چراغ صفت ، ترے نام کی زیبِ گلو کفنی

    تم سختیِ راہ کا غم نہ کرو ، ہر دور کی راہ میں ہم سفرو
    جہاں دشتِ خزاں وہیں وادیِ گل ، جہاں دھوپ کڑی وہاں چھاؤں کھنی

    اس عشق کے درد کی کون دوا ، مگر ایک وظیفہ ہے ایک دعا
    پڑھو میرؔ اور کبیرؔ کی بیت کبت ، سنو شعرِ نظیرِؔ فقیر و عنی
    ابنِ انشا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر