جون ایلیا غزل :اب تو اک خواب ہوا اذنِ بیاں کا موسم - جون ایلیا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 14, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,049
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    اب تو اک خواب ہوا اذنِ بیاں کا موسم
    جانے کب جائے گا، یہ شورِ اذاں کاموسم

    حاکمِ وقت ہوا، حاکمِ فطرت شاید
    ان دنوں شہر میں، نافذ ہے خزاں کا موسم

    حکمِ قاضی ہے کہ ماضی میں رکھا جائے ہمیں
    موسمِ رفتہ رہے عمر رواں کا موسم

    نمِ بادہ کا نہیں نام و نشاں اور یہاں
    ہے شرر بار فقیہوں کی زباں کا موسم

    کعبۂ دل پہ ہے پیرانِ حرم کی یلغار
    ہائے اے پیر مغاں! تیری اماں کا موسم

    بند ہیں دید کے در، وا نہیں امید کے دَر
    ہے یہ دل شہر میں، خوابوں کے زیاں کا موسم

    اک نہیں ہے کہ ترے لب سے سنی جاتی ہے
    جانے کب آئے گا ظالم تری ہاں کا موسم

    وا نہ کر بند قبا، یاں کی ہوا میں اپنے
    بتِ سرمست! مسلمان ہے یاں کا موسم

    رنگ سرشار نہ ہوجائے فضا تو کہنا
    آئے تو مستی خونیں نفساں کا موسم
    جون ایلیا
     
  2. مزمل

    مزمل محفلین

    مراسلے:
    11
    کمال ہے
     

اس صفحے کی تشہیر