غالب کے ایک شعر کی تشریح میں مدد درکار ہے

سید ذیشان

محفلین
اب بات چل نکلی ہے تو ایک سوال ہے کہ وصی شاہ کو عام عوام تو بہت پسند کرتی ہے، مگر مجھے تو نہیں اچھا لگتا، اور اس کے علاوہ جتنے بھی لوگوں سے ملا ہوں جو شاعری کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، وہ بھی وصی سے خائف ہی نظر آتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
لوگ تو پنجابی سٹیج ڈراموں کو بھی پسند کرتے ہیں۔ :) لوگوں کی پسند تو اچھی شاعری کا پیمانہ نہیں ہے۔ اور ن م راشد کو بوجوہ اکثر لوگ پہچانتے بھی نہیں جبکہ کچھ لوگوں کے خیال میں وہ فیض سے بڑے شاعر تھے۔
 
محترم شاکر القادری صاحب!
کیا استاد ابراہیم ذوق اور غالب ہمعصر تھے؟؟؟؟؟کیونکہ میں نے سنا ہے کہ حکیم مومن خان مومن بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
محترم شاکر القادری صاحب!
کیا استاد ابراہیم ذوق اور غالب ہمعصر تھے؟؟؟؟؟کیونکہ میں نے سنا ہے کہ حکیم مومن خان مومن بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے۔
روحانی بابا! میں استاد ابراہیم ذوق کے ابتدائی نوعیت کے احوال کو وکیپیڈیا سے یہاں نقل کر رہا ہوں
دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہوگیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہوگئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔
کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا
کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے
ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم ، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل
تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی
 
شاکر بھائی اور محمود غزنوی صاحب دونوں اساتذہ کا بہت شکریہ۔
یہاں ایک بات تو طے ہے کہ عام حضرات کا معیارِ ذوق اور اساتذہ کی کسوٹئ معیار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
وصی شاہ کی بھی یہی کہانی ہے
 
جی. شروع میں غالب کو سمجھنا ایک معرکہ فتح کرنے کے برابر تھا لیکن ایک دو غزلیں جب تشریح پڑھ کر سمجھیں تو نوے فیصد شاعری سمجھ آنے لگی. اس لئے اب ضرورت نہیں پڑتی
 

سید ذیشان

محفلین
جی. شروع میں غالب کو سمجھنا ایک معرکہ فتح کرنے کے برابر تھا لیکن ایک دو غزلیں جب تشریح پڑھ کر سمجھیں تو نوے فیصد شاعری سمجھ آنے لگی. اس لئے اب ضرورت نہیں پڑتی
یہ تو واقعی بہت بڑا معرکہ سر کیا ہے کہ ایک دو غزلوں کی تشریح پڑھ کر نوے فیصد شاعری سمجھ آگئی۔ :applause:
 
یہ تو واقعی بہت بڑا معرکہ سر کیا ہے کہ ایک دو غزلوں کی تشریح پڑھ کر نوے فیصد شاعری سمجھ آگئی۔ :applause:

جب پہلی بار دیوان غالب ہاتھ لگی تو اس میں ایک غزل
کسی کہ دے کہ دل کوئی نواسنج فغاں کیو ہو.

اس وقت کچھ سمجھ نہ آیا .
پھر شرح دیکھی اسی سائیٹ پے. تو سمجھ آنا شروع ہو گیا.
دو یا تین غزلیں اسی طرح اور پڑہیں.
پھر اقبال
فیض پے نظر کرنا شروع کردی.
اب کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آتی. الا یہ کے کوئی انوکھا ہی شعر ہو.
 
جب پہلی بار دیوان غالب ہاتھ لگی تو اس میں ایک غزل
کسی کہ دے کہ دل کوئی نواسنج فغاں کیو ہو.

اس وقت کچھ سمجھ نہ آیا .
پھر شرح دیکھی اسی سائیٹ پے. تو سمجھ آنا شروع ہو گیا.
دو یا تین غزلیں اسی طرح اور پڑہیں.
پھر اقبال
فیض پے نظر کرنا شروع کردی.
اب کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آتی. الا یہ کے کوئی انوکھا ہی شعر ہو.
حضور غالب کے اس شعر کی تشریح درکار ہے مہربانی فرمائیے
دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ
دیکھے کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
 
حضور غالب کے اس شعر کی تشریح درکار ہے مہربانی فرمائیے
دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ
دیکھے کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

آپ تو شرمندہ کر رہے ہیں حضرت۔
خیر میں جو سمجھا ہوں وہ یہ کے:
ہر موج کے جال پے ایک نہنگ کا منہ کھلا ہے۔
گہر ہونے تک کسی قطرے کو ان سب مشکلات سے بچ نکلنا پڑتا ہے ۔
مختصر یوں ہوا کہ کسی چیز کو اپنے کامل یا اونچے درجے پر پہنچنے کے لئے بہت مشکلات کا سامنا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ تو ہوئی تشریح۔
لیکن اس میں جو بات کہی گئی ہے اس سے میں اتفاق نہیں رکھتا۔ :)
 

نایاب

لائبریرین
ہر آنے والے پل میں حالات و واقعات ایسے ہی انسان کو اپنا شکار بناتے ہیں جیسے کہ مگرمچھ ہر ابھرتی موج پر اپنا منہ پھاڑے شکار کی تلاش میں مستعد ہوتے ہیں ۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کیسے ان حالات و واقعات کے جال سے اپنا آپ بچاتے خود کو کیسے موتی کی طرح صاف و چمکدار بناتا ہے ۔
بارش کی بوندیں گرتی ہیں ۔ اور سطع سمندر پر سیپ اپنے منہ کھولے انتطار میں ہوتے ہیں کہ کب کوئی بوند ان کی آغوش میں آئے ۔ اور جب کوئی بوند کسی ذرے کو ہمراہ لیئے ان کے منہ سے گزر بطن تک پہنچتی ہے ۔ تو اس بوند میں موجود اس ذرے پر موتی بننے تک جو بیتتی ہے وہ ذرہ ہی جانتا ہے ۔
اپنا وجود کھوتا ہے اور سیپ جیسے چاہتا ہے ویسے اس پر اپنے مائع کا لیپ کرتا ہے ۔ اور ذرہ اپنا وجود کھوتے " مٹاتا ہے اپنی ہستی کو اور گوہر بن زمانے کے سامنے آتا ہے "
مندرج بالا شعر بہت پہلودار ہے ۔ اس کی روحانی تشریح بھی اپنے آپ میں اک سبق ہے ۔
 
Top