عید کے موضوع پر اشعار

عرفان سرور

محفلین
ہم مناتے ہیں خونچکاں یہ عید
قاتلوں کے ہے درمیاں یہ عید
کیسی لاشیں ہیں آج سڑکوں پر
ملک و ملت کی لاج سڑکوں پر
سر کٹی لاش بند بوری میں
ادھ جلی لاش بند بوری میں
گولیوں کے نشان جسموں پر
چھلنیوں کا گمان جسموں پر
کس کا بیٹا پڑا ہے بوری میں؟
کس کا بھائی مرا ہے بوری میں؟
ہر طرف آج بھتہ خوری ہے
قتل و غارت ہے سینہ زوری ہے
دہشتِ دشمناں مبارک باد
وحشتِ دوستاں مبارک باد

از ڈاکٹر سید سلمان رضوی
 

عرفان سرور

محفلین
عید آئی ہے، بابا کفن بھیج دو
میرا، منی کا
بھیا کا، امی کا
اور پیاری دادی کا، بابا کفن بھیج دو
اب کے کمبل بچھونے نہیں چاہیئے
اپنی منی کو گڑیا نہیں چاہئیے
کوئی خوابوں کی پڑیا نہیں چاہیئے
کوئی پتلون، شرٹ اور گاڑی بھی نہیں
دادی ماں کے لیئے ساڑھی بھی نہیں

عید آئی ہے، بابا کفن بھیج دو
میرا بستہ نہ جانے کہاں کھو گیا
میرے کپڑے نہ جانے کہاں دفن ہیں
ساری چڑیاں نہ جانے کہاں اڑ گئیں
جانے سب آشیانے کہاں دفن ہیں
دادی ماں کے ہاتھوں میں تسبیح تھی
جانے اب اس کے دانے کہاں دفن ہیں
جو میرے پیارے بھیا کی آنکھوں میں تھے
خوشیوں کے خزانے کہاں دفن ہیں
خیر ۔۔۔ اب ڈھونڈوں کیا
کفن بھیج دو
عید آئی ہے، بابا کفن بھیج دو
 
Top