عورت

ذوالقرنین

لائبریرین
بالکل جی!
چلو بھاگتے ہیں یہاں سے۔ ایسا نہ ہو کہ نیلم اپیا ہمیں اس جرم کی پاداش میں (دھاگے کی درگت بنانے کی) عنوان بالا پر پی ایچ ڈی مقالہ نہ لکھوا دے۔:p
 
عورت کی جس قدر تعریف مرد نے لکھی ہے، اسکا موازنہ اگر عورتوں کی جانب سے مرد کے بارے میں لکھے گئے لٹریچر (یا مواد سے:D ) سے کیا جائے تو کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا۔۔۔ثابت ہوا کہ مرد زیادہ کھلے دل کے مالک، زیادہ Optimistic approach کے حامل اور زیادہ Positive minded ہیں۔۔۔:shock:
 
کوئی باکمال رکن جواباً مرد لکھے یہاں پر :ROFLMAO:
یہ دھاگہ اک سنجیدہ روپ دھارنے والا ہے میرے بھائی :p
جی بھائی باکمال ہو کر حاضر ہوگیا ہوں دھاگے کو مزید سنجیدہ بنانے کے واسطے۔
 

نایاب

لائبریرین
لیکن اللہ نے حوا کی بیٹی کو وہ رتبہ دیا ہے کہ اگر اللہ پاک کو زمیں پر کسی روپ میں آنا پڑے تو وہ یقیناً کسی مرد کی بجائے ماں کا روپ ہوگا ۔

شناخت پریڈ ، از ؛ ڈاکٹر یونس بٹ

ادیب و شاعر جب اپنی ”اوقات“ سے آگے نکلتے ہیں تو ان کے قلم سے ایسے ہی کفریہ کلمات نکلتے ہیں۔ یہ جملہ توہین الٰہی کے زمرے میں آتا ہے۔
سُوۡرَةُ الإخلاص: بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَ۔ٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (١) ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ (٢) لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ (٣) وَلَمۡ يَكُن لَّهُ ۥ ڪُفُوًا أَحَدٌ (٤)
And there is none co-equal or comparable unto Him
And there is none like unto Him

میرے محترم بھائی آپ جس " کلمے " پر توہین الہی کا فتوی صادر فرماتے کلام الہی کو دلیل بنا رہے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ
" میں اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں " حدیث قدسی کو نگاہ میں رکھتے ۔
گویا رب کائنات نے بھی اپنی محبت کو عیاں کیا تو پیکر شفقت " ماں " کی ممتا کو بے لوث محبت کی چھاؤں میں سجا کر کائنات کے پھیلے سندر آنچل پر ثبت کر دیا ہے ۔ اور یہ یونس بٹ صاحب کا لکھا یہ جملہ صرف لفظ" ماں " کی صفات پر دال ہے ۔
 
حوا کی بیٹی اس دنیا میں سب سے بڑا اور حسین انعام ہے ، اسلئے ہر کوئی چاہتا ہے کہ یہ انعام اس کومل جائے ۔
اگر انعام کا کوئی دعویدار نہ ہو تو انعام کچرا ہوتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ مرد دنیا میں سب سے زیادہ عورت سے متاثر ہوا ۔ اس سے زیادہ اسے کوئی جنگ بھی متاثر نہ کرسکی ۔۔
سفید جھوٹ۔ کبھی سنا ہے کہ کسی نے عورت کے لیے خودکش حملہ کیا ہو؟؟؟
ویسے حوا کی بیٹی نے مرد کو بڑے بڑے مسائل سے بچایا ہے ۔
وہ اس کو چھوٹے چھوٹے مسائل میں اتنا مصروف رکھتی ہے کہ اس کے پاس وقت ہی نہیں رہتا کہ وہ بڑے بڑے مسئلوں کے بارے سوچ کر پریشان ہو ۔
وہ خود ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے بڑا مسئلہ کوئی ہے تو بتائیے۔
مختلف علاقوں میں لوگ حوا کی بیٹی کے بارے مختلف رائے رکھتے ہیں ۔ افریقی کہتے ہیں کہ دس عورتوں میں ایک روح ہوتی ہے ۔
غیرمتفق۔ دس روحیں ایک عورت میں ہوتی ہیں۔ جبھی اس کو سمجھنا ناممکن ہے۔
انگلستان میں کہاوت ہے کہ عورت تیرا نام کمزوری ہے ، جبکہ ایرانی ، عورت کا دوسرا نام بیوفائی بتاتے ہیں ۔
اس حقیقت کو کہاوت ماننے والے بےوقوف ہیں۔
حوا کی بیٹی غزل کا شعر ہے اور مرد نثر پارہ ۔
نثر پارہ ویسا ہی رہتا ہے جیسا ہوتا ہے ، مگر شعر کا مطلب ویسا ہوجاتا ہے ، جیسا پڑھنے والا چاہے ۔
بقول فاتح بھائی، شاعری گھڑی جاتی ہے۔ یقیناََ نثر بھی گھڑی جاتی ہوگی۔ اب گھڑی گھڑائی باتوں کا حقیقت سے کیا واسطہ؟؟؟
حوا کی بیٹی ہر کسی پہ اعتبار کر لیتی ہے ، اسلئے ناقابل اعتبار ہے ۔
ٹوٹل بکواس۔ اللہ معاف فرمائے بٹ صاحب کے اس جھوٹ کو۔ حقیقت یہ ہے کہ عورتیں پچاس سال بعد بھی اپنے شوہر پر اعتبار نہیں کرتیں۔
کہتے ہیں کہ جذبات مرد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور عورت جذبات کے ہاتھ میں ۔

یوں کہنا صحیح ہوتا کہ جذبات انسان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور انسان جذبات کے ہاتھ میں ۔
مرد و عورت کی کوئی لوجک نہیں اس میں۔
عورت اکثر جذباتی ہوکر زندگی کے فیصلے کرلیتی ہے اور پھر ساری عمر انھیں عقل سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے ۔
پہلی بات جو درست ہے۔
حسن ظن سے زیادہ حسن زن سے کام لیتی ہے ۔
کہہ سکتے ہیں۔
اس کو وہی پسند ہے جو کہ اللہ پاک کو پسند ہے اور اللہ پاک کو اپنی تعریف سننا پسند ہے ۔
یوں بھی مرد کا عورت کی تعریف کرنا دراصل اپنی ہی پیدائش کا حق بجانب قرار دینا ہے ، ورنہ اس نے دل سے اسے آج تک بیوی ، باندی اور بیوہ کے سوا مقام نہیں دیا ، لیکن اللہ نے حوا کی بیٹی کو وہ رتبہ دیا ہے کہ اگر اللہ پاک کو زمیں پر کسی روپ میں آنا پڑے تو وہ یقیناً کسی مرد کی بجائے ماں کا روپ ہوگا ۔
یہ آخری دونوں باتیں مجھے مناسب نہیں لگیں۔ اس لیے ان پر نو تبصرہ۔۔۔۔
سجدے کے حکم کے متعلق تو سنا ہوگا۔ اس حساب سے یہ بات بالکل غلط سمت نظر آتی ہے۔۔
 

یوسف-2

محفلین
و ہم
میرے محترم بھائی آپ جس " کلمے " پر توہین الہی کا فتوی صادر فرماتے کلام الہی کو دلیل بنا رہے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ
" میں اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں " حدیث قدسی کو نگاہ میں رکھتے ۔
گویا رب کائنات نے بھی اپنی محبت کو عیاں کیا تو پیکر شفقت " ماں " کی ممتا کو بے لوث محبت کی چھاؤں میں سجا کر کائنات کے پھیلے سندر آنچل پر ثبت کر دیا ہے ۔ اور یہ یونس بٹ صاحب کا لکھا یہ جملہ صرف لفظ" ماں " کی صفات پر دال ہے ۔
مجھے پتہ تھا کہ آپ یا کوئی اور اس حدیث کا حوالہ ضرور دیں گے :)
  1. میں اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں
  2. اگر اللہ پاک کو زمیں پر کسی روپ میں آنا پڑے تو وہ یقیناً کسی مرد کی بجائے ماں کا روپ ہوگا
اگر آپ کو ان دونوں فقروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تو آپ کی ”سمجھ دانی“ :grin: کے لئے دعا ئے خیر ہی کی جاسکتی ہے :) اصل میں اردو فارسی اور انگریزی لٹریچر میں ہم جس”خدا اور God “ کو مختلف حوالوں سے پڑھتے آئے ہیں اُس ”خدا اور گوڈ“ کے بارے میں تو یہ کہنا درست ہے کہ وہ کسی بھی روپ میں دنیا میں آسکتا ہے۔ اِس ”خدا اور گوڈ“ کی تو باقاعدہ ”اپنی فیملی“ بھی ہے۔ اور بدقسمتی سے برصغیرو ایران کے مسلمان عوام کی اکثریت (جن کے آبا و اجداد بہت سے ”خداؤں“ اور ”خدا کے بہت سے روپ یا اقسام“ کے قائل تھے، ان کے کلاسک لٹریچر میں یہ آج بھی ”موجود“ ہے) ”اللہ“ کو انہی ”خدا اور گوڈ“ کا عربی ترجمہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ مسلمانوں کا اللہ (سورۃ اخلاص کی صفت والا) اردو فارسی کے خدا اور انگریزی کے گوڈ سے بہت بلند و بالا ہے۔ اللہ کے کسی ”انسانی یا غیر انسانی روپ“ میں آنے کی بات کرنا ہی اللہ کی توہین ہے، خواہ وہ تمثیلاً ہی کیوں نہ کی جائے۔
آپ کو ”یونس بٹ کی توہین“ پر اعتراض ہے کہ میں نے اُن پر اور ان کے اس جملہ پر ”تنقید“ کیوں کی کہ وہ تو اتنا بڑا ادیب ہے۔ اور مجھے یونس بٹ پر اعتراض ہے کہ اس نے جانے انجانے میں اللہ جیسی سب سے بڑی ہستی کو اُسی ایک بہترین مخلوق کے روپ میں آنے کی بات کیوں کی۔ آپ چاہیں تو اپنا ”اعتراض“ برقرار رکھیں (اور اگر اللہ توفیق دے تو اس اعتراض سے ”رجوع“ کر لیں)۔ مجھے آپ کے ”اعتراض“ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن کیا آپ مجھے خود میرے اپنے محبوب ترین ادیبوں میں سے ایک (یونس بٹ) پر ”اعتراض“ کا حق نہیں دیں گے؟؟؟؟ :)
 

یوسف-2

محفلین
نہ جی نہ۔ یہ پیشکش رد کی جاتی ہے۔ مجھے معلوم ایسے مباحثوں کا انجام ہمیشہ مثبت ہوتا ہے :laugh:
آپ کے اس طنزیہ فقرے سے مجھے سر سید احمد خان کے مضمون ”بحث و تکرار“ کی یاد آگئی۔:) اس میں ”دوطریقے“ سے بحث کا ”نمونہ“ پیش کیا گیا ہے۔ اب یہ ”ہم“ پر منحصر ہے ہم ”کس طریقے“ پر عمل کرتے ہیں :)
اصحاب علم میں ”اختلاف رائے“ کوئی بری بات نہیں۔ دنیا کے ہر شعبہ علم میں ”اختلاف رائے“ پایا جاتا ہے اور اسی اختلاف رائے سے نئے علمی انکشافات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اسلام میں بھی ایسے ہی علمی اختلاف رائے کو ”رحمت“ قرار دیا گیا ہے (مفہوم حدیث)۔ لیکن بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ ”اختلاف رائے“ اور ”مخالفت“ کے فرق سے ہی ”نا آشنا“ ہیں۔ بلکہ بعض احباب تو ہر ”اختلاف رائے“ کو ”ذاتی مخالفت“ کے درجہ تک لے جانے ہی پر ”ایمان“ رکھتے ہیں۔ :(
 
و ہم
مجھے پتہ تھا کہ آپ یا کوئی اور اس حدیث کا حوالہ ضرور دیں گے :)
  1. میں اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں
  2. اگر اللہ پاک کو زمیں پر کسی روپ میں آنا پڑے تو وہ یقیناً کسی مرد کی بجائے ماں کا روپ ہوگا
اگر آپ کو ان دونوں فقروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تو آپ کی ”سمجھ دانی“ :grin: کے لئے دعا ئے خیر ہی کی جاسکتی ہے :) اصل میں اردو فارسی اور انگریزی لٹریچر میں ہم جس”خدا اور God “ کو مختلف حوالوں سے پڑھتے آئے ہیں اُس ”خدا اور گوڈ“ کے بارے میں تو یہ کہنا درست ہے کہ وہ کسی بھی روپ میں دنیا میں آسکتا ہے۔ اِس ”خدا اور گوڈ“ کی تو باقاعدہ ”اپنی فیملی“ بھی ہے۔ اور بدقسمتی سے برصغیرو ایران کے مسلمان عوام کی اکثریت (جن کے آبا و اجداد بہت سے ”خداؤں“ اور ”خدا کے بہت سے روپ یا اقسام“ کے قائل تھے، ان کے کلاسک لٹریچر میں یہ آج بھی ”موجود“ ہے) ”اللہ“ کو انہی ”خدا اور گوڈ“ کا عربی ترجمہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ مسلمانوں کا اللہ (سورۃ اخلاص کی صفت والا) اردو فارسی کے خدا اور انگریزی کے گوڈ سے بہت بلند و بالا ہے۔ اللہ کے کسی ”انسانی یا غیر انسانی روپ“ میں آنے کی بات کرنا ہی اللہ کی توہین ہے، خواہ وہ تمثیلاً ہی کیوں نہ کی جائے۔

آپ کو ”یونس بٹ کی توہین“ پر اعتراض ہے کہ میں نے اُن پر اور ان کے اس جملہ پر ”تنقید“ کیوں کی کہ وہ تو اتنا بڑا ادیب ہے۔ اور مجھے یونس بٹ پر اعتراض ہے کہ اس نے جانے انجانے میں اللہ جیسی سب سے بڑی ہستی کو اُسی ایک بہترین مخلوق کے روپ میں آنے کی بات کیوں کی۔ آپ چاہیں تو اپنا ”اعتراض“ برقرار رکھیں (اور اگر اللہ توفیق دے تو اس اعتراض سے ”رجوع“ کر لیں)۔ مجھے آپ کے ”اعتراض“ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن کیا آپ مجھے خود میرے اپنے محبوب ترین ادیبوں میں سے ایک (یونس بٹ) پر ”اعتراض“ کا حق نہیں دیں گے؟؟؟؟ :)
نہیں نہیں خدا کا بالکل درست تصور تو وہی ہے جسے حضرتِ ملّا کی بارگاہِ اقدس سے سندِ قبولیت ملے۔۔یعنی وہی اوپر کی سمت میں لاکھوں کروڑوں میل دور کسی نامعلوم مقام پر،دور دراز بالکل الگ تھلگ گویا کسی جگہ پر کوئی قید ہو۔۔۔۔ جسے کائنات کی خبر کچھ سینسرز کے ذریعے ملتی ہے اور جو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس کائنات کو کنٹرول کر رہا ہے ۔۔۔واہ سبحان اللہ کیا کہنے اس بلند و بالا تصور کے۔اور یہ خودساختہ معیار بھی آپ ہی سے سنا ہے کہ جسکی رو سےبات بات پر انسان اللہ کی توہین کا مرتکب ہونے لگے۔ حالانکہ قرآن کی آیات اور احادیثِ مبارکہ کچھ اور اندازِ بیان اختیار کرتی ہیں۔۔۔
 
Top