عورت کی آزادی

محمد ڈیفینڈر نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 16, 2015

  1. محمد ڈیفینڈر

    محمد ڈیفینڈر محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    [​IMG]
    تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لئے ہیں۔درود ہو سلام ہو ہمارے پیارے پیغمبر محمد ﷺ پر جن کواللہ رب العزت نے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ۔

    ‘عورت کی آزادی’ ایک بہت ہی مشکل موضوع ہے کیونکہ اس موضوع کو میڈیا نے اتنا متنازع بنا دیاہے کہ کچھ مغرب زدہ لوگ یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ اسلام عورت کی آزادی کے خلاف ہے ۔

    میں خاصہ وقت کسی نہ کسی پیشہ ورانہ تعلیم سے وابستہ رہا ہوں اور اسکے بعد بھی میرا یہ معمول رہا ہے کہ کسی نہ کسی تعلیمی ادارے میں بطور طالب علم داخل رہتا ہوں ۔آج تک میں نے جو مشاہدہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر دو میں سے ایک عورت نوکری کرنے کو زندگی کے لئے اعلٰی معیار تصوّر کرتی ہے اور جس کے پاس نوکری نہیں ہے وہ اسکو حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔تو ان حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے اس موضوع کا انتخاب کیا تاکہ لوگوں کے سامنے واضح کر سکوں کہ آخر جس کو لوگ آزادی سمجھتے ہیں وہ ہے کیا؟ کیا وہ واقعی آزادی ہے؟

    مضمون کو شروع کرنے سے پہلے میں اپنے اساتذہ کرام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھ حقیرکو اس قابل سمجھا کے اپنے علمی مجلہ میں میرا یہ مضمون شامل کیا اور یہی نہیں میرے اس مضمون کو تیار کرنے میں میری بھر پور مدد کی جس سے مجھے مزید لکھنے کا حوصلہ ملا۔

    آج کی عورت کی نام نہاد آزادی کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ آخر یہ آزادی کہا ں سے آئی میں نے اس آزادی کے تصور کا تعقب شروع کردیا۔ہمارے یہاں پر اس کو لوگ مغرب کا رواج کہتے ہیں تو میں نے سب سے پہلے مغرب میں رہنے والوں کے مذہب کا جائزہ لیا۔ میں تقابلِ ادیان کا بھی طالب علم ہوں۔ مجھے یہ دیکھ کربڑی حیرانی ہوئئ کہ عیسائیت اس نام نہاد آزادی کے تصور سے عاری ہے۔یہ جان کر میری جستجو میں اور اِضافہ ہو گیا اور یہ سوال اور اہم ہو گیا کہ پھر آخر آزادی کا یہ تصور کہاں سے آیا؟ ایک طویل جدوجہد کے بعد مجھے اس آزادی کے بانیوں کا سراغ مل گیا اور اسکی وجہ بھی، اور آج یہ دلچسپ داستان میں آپ لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

    جب ۱۷۶۰ء میں برطانیہ میں پہلا صنعتی انقلاب شروع ہوا اور وہ اپنےعروج پر پہنچا تو انہیں ایک بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا وہ تھی کام کرنے والے لوگوں کی کمی۔اب ان کے پاس مشینیں بھی بےحساب تھی اور وسائل بھی مگر انکو چلانے اور ان وسائل کو بروئےکار لانے کے لئے لوگ موجود نہ تھے۔وہ پہلے ہی اپنے تمام لوگوں کو استعمال کر چکے تھے۔ یہ انقلاب پوری دنیا میں پھیل رہا تھا اور انکے پاس اتنے ٹھیکے تھے کے انکو پورا کرنا انکے لئے نا ممکن ہو گیا تھا۔اپنی پیدا وار کی طلب کو پورا کرنے کے لئے انھوں نے ایک فیصلہ کیا کہ یہ جوعورتیں گھروں میں بیٹھی ہیں انکو باہر لایا جائے اور ان سے کام کروایا جائے ۔

    مگر عورتوں کو انکے گھروں سے باہر لانا آسان کام تو نہ تھا کونکہ یہ لوگ دنیا کا نظام بدلنے چلے تھے اور تقریباً تمام مذاہب بھی اس بات سے سخت اختلاف رکھتے تھے۔تو انکے لئے یہ ممکن نہ تھا کے وہ براہ راست یہ بات لوگوں کو کہیں کہ وہ اپنی عورتوں کو کام کروانے کے لئے گھروں سے باہر نکالیں ۔بلکہ یہ بات تو انکو انکے اس عمل پر اور مضبوط بھی کر دیتی اور وہ کبھی اپنی عورتوں کو گھروں سے نکلنے نہ دیتے۔تو انہوں نے ایک تدبیر اختیار کی کہ ہم عورتوں کو انکی اپنی زبان میں سمجھائیں گے ؛ عورت کی جذباتی فطرت سے فائدہ اٹھائیں گے اور انکے حقوق کے نام پر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کریں گے۔اور پھر ایسا ہی ہوا۔

    سب سے پہلے انھوں نے ایک عورت کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ عورتوں کی آزادی پر ایک کتاب لکھے۔ اس عورت کا نام "میری وول اسٹون کرافٹ" تھا۔ اس نے ۱۷۹۲ء میں جو کتاب لکھی اس کا نام "عورتوں کے حقوق کی حمایت"

    A VINDICATION OF THE RIGHTS OF WOMANتھا۔ اس کتاب میں اس خاتون نےعورت کے گھر پر بیٹھنے کو انکے لئے قید کا نام دیا اور یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ عورت اور مرد بالکل برابر ہیں۔ عورت کو مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرنے کی آزادی ہو؛ وہ اپنے پیسے خود کما سکے؛ اور بہت کچھ ۔خلاصۂ کلام یہ کہ یہ خاتون مجوزہ فرقہ "تحریک نسواں " کی بانی ہیں۔

    اسکی اس کتاب کو عالمی سطح پربڑی پزیرائی حاصل ہوئی اور اس سے معاشرہ بہت متاثر ہوا۔ عورتوں نے گھروں سے باہر نکلنا شروع کر دیا۔ اس کتاب کا بہت پر چار کیا گیا جس کے نتیجے میں عورتوں کی بہت بڑی تعداد عورتوں کے حقوق کے نام پر گھروں سےنوکرانی بن کر باہر نکلنے لگیں۔جس سے صنعت کاروں نے بہت فائدہ اٹھا یا اور اپنے اس خلاء کو پُر کیا جو لوگوں کی کمی کی وجہ سے پیدا ہو گیا تھا۔کیونکہ عورتوں نے کبھی نوکری نہیں کی ہوئی تھی لہٰذا اُنکو کم تنخواہوں پرنوکریوں پر رکھا گیا جو انکو بہت زیادہ لگتی تھی اور ان سے بے حساب کام لیا گیا۔

    ایک اہم بات تو یہ ہے کہ جس عورت نے یہ کتاب لکھی اسکے اپنے شوہر "ولیم گوڈون" نے ٹھیک ۶ سال بعد اپنی بیوی کی زندگی پر کتاب لکھی جس میں اس نے اپنی بیوی کی بربادی کی داستان رقم کی تھی جس میں اسنے اپنی بیوی کی ناجائز اولاد ، بار بار مختلف مردوں کے ساتھ تعلقات ،معاشرے میں اسکی وجہ سے پھیلنے والی خرابیاں اور ایسی زندگی سے عاجز آکر کئی بار خودکشی کی کوشش کا ذکر کیا۔ اسکا یہ کہنا تھا کہ یہ کتاب میری بیوی خود منظر عام پر لانا چاہتی تھی مگر اسکو اتنی مہلت نہ مل سکی اور وہ چل بسی لہٰذا میں نے اس کی خواہش کی تکمیل میں یہ کتاب شائع کروائی اور اس کتاب کا نام"عورتوں کے حقوق کی حمایت لکھنے والی کی سوانح حیات"Memoirs Of The Author Of Vindication Of The Rights Of Woman رکھا۔ اسکے ٹائٹل پیج پر اسکے شوہر نے اپنا نام نہیں لکھا کیونکہ یہ اسکی بیوی کی خود کی لکھی ہوئی کتاب تھی۔مگر سب سے افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اسکی پہلی کتاب سے اثر لیا ان لوگوں نے اسکی بربادی کی داستان سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور اسی کی ڈگر پر چل کر بربادی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہ تو تھا اس نام نہاد آزادی کا پس منظر۔اب ہم چلتے ہیں اسلام میں عورت کی آزادی کے تصور کی طرف۔

    اسلام میں عورت کی آزادی کا تصور:

    اسلام میں عورت کی آزادی کے تصور کی طرف جانے سے پہلے میں اپنے قارئین سے ایک سوال کرنا چاہوں گا۔ٖفرض کریں کہ ایک شہزادی ہے اور اسکے بہت سے نوکر ہیں جو اسکی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے دنیا کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ،موسم کا بدلاؤ، دنیا کی تلخ وسخت باتیں اور بہت کچھ برداشت کرتے ہیں تاکہ اپنی شہزادی کی خواہشات کو پورا کر سکیں اور اسکو دنیا کی تلخی کا اندازہ بھی نہ ہو۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ شہزادی اس بات کو پسند کرے گی کہ اسکو کوئی شہزادی سے آٹھا کر نوکرانی بنا دے؟؟؟ کوئی بھی با شعور انسان یہی کہے گا کہ وہ ہرگز پسند نہیں کرے گی کہ اسے نوکرانی بنا دیا جائے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری آج کی عورت شہزادی کے بجائے نوکرانی بننا پسند کرتی ہے۔

    اللہ رب العزّت نے عورت کو شہزادی بنایا اور مردوں کو انکا رکھوالا بنایا جو اپنی ماں ،بیٹی ،بہن اور بیوی کی زبان سے نکلی ہوئی ہر خواہش کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔انکے لئے دنیا کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں کوئی گڈھے کھودتا ہے تو کوئی گدھا گاڑی چلاتا ہے۔صبح سویرے اٹھ کے بسوں میں دھکے کھاتا ہے تاکہ جو شہزادی اسکے گھر میں بیٹھی ہے اسکی ضروریا ت کو پورا کر سکے۔

    کتنا بڑا المیہ ہے! کہ آج کی عورت چاہتی ہے کہ نوکر بن کر کام کرنے لگے اور جو مشکلات مرد اٹھاتا ہے وہ وہ اٹھانے لگے اس سے عورت کسی اور کا نہیں اپنا نقصان کرتی ہے۔اللہ رب العزّت نے مرد کو جسمانی طور پر عورت سے طاقتور بنا یا ہے جس کی وجہ سے وہ ان تمام مشکلات کو بخوبی برداشت کرلیتا ہےکیونکہ اسکو بنایا اسی لئے گیا ہے۔مگر جب عورت مردوں کی دوڑ میں شامل ہو جاتی ہے تو وہ بہت سے مسائل کا شکار ہوتی ہے جس میں اعصابی کمزوری اور ڈِپریشن سرِ فہرست ہیں۔مگر اس سے بھی بڑا نقصان جو عورت کو اٹھانا پڑتا ہے وہ یہ کہ وہ اپنا وقار کھو دیتی ہے۔پھر عورت کی عزت مردوں کے آگے ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اب وہ بھی انکی طرح ایک نوکرانی ہے۔اسکی مثال میں ایسے دینا چاہوں گا جو عورتیں دفتر وغیرہ میں کام کرتی ہیں انکے سامنے انکے ساتھی مرد وہ سب باتیں کر جاتے ہیں جو باتیں وہ کبھی اپنے گھروں میں کرنا پسند نہیں کریں گے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عورت کا مقام عزت ہے اور گھر میں موجود انکی مائیں ،بہنیں،بیٹیاں اور بیویاں انکی شہزادیوں کے درجے پر فائز ہیں۔ کسی قسم کی غیر اخلاقی بات انکے سامنے کرنا انکی شان کے خلاف ہے۔

    اللہ رب العزّت نے عورتوں کو جسمانی طور پر نازک بنایا ہے۔اور ہر نازک اور قیمتی چیز کا کوئی نہ کوئی رکھوالا ضرور ہوتا ہے جو اسکو کسی بھی قسم کے ضرر پہنچنے سے بچاتا ہے۔یہی رکھوالا عورت کے لیے اسکا شوہر،بھائی ،باپ یا بیٹا ہے۔جو ہر پریشانی کو اپنی خواتین تک پہنچنے سے روکتا ہے۔

    اللہ عزوجل نے عورت کی تمام ذمہ داریوں کو مرد کے حصے میں دے دیں ہیں۔انکی ہر ضرورت کو پورا کرنا مرد کے ذمہ ہے۔بار بار اسلام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عوتوں سے حسن سلوک سے پیش آیا جائے۔ اگر وہ بیوی ہے تو اس کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے تک کو نیکیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اگر وہ بیٹی ہے تو جو چیز گھر میں لائی جائے تو اسے بھی اتنا ہی ملے گا جتنا لڑکوں کو ملتا ہے۔اگر وہ ماں ہے تو اسکے ساتھ حسن سلوک اور فرما برداری کا حکم دیا گیا ہے۔

    یہ مختصر سا تعارف تھا اسلام میں عورت کی آزادی کے تصور کا۔۔۔

    اب میں موجودہ دور کی کچھ مثالوں سے آپ کو اسلامی تصور کی وسعت کا اندازہ کروانا چاہتا ہوں۔ہم سب واقف ہیں انگلینڈ کی ملکہ ایلزابتھ سے۔میں اس کی زندگی کے کچھ واقعات کو یہاں ذکر کرنا چاہوں گا۔میرے لئے اسکی زندگی کوئی معنٰی نہیں رکھتی مگر اسلامی آزادی کا تصور کتنا وسیع ہے اسکو بیان کرنے کے لیے اسکا ذکر کر رہا ہوں۔

    ایلزابتھ کو کسی اسکول میں پڑھنے کی اجازت نہیں تھی جبھی اسکی تمام تر اسکولنگ اسکے گھر پر ہوئی۔کوئی بھی غیر متعلقہ شخص اس سے مصافحہ اور بات نہیں کر سکتا اور نہ اس کے ساتھ وقت گزار سکتا ہے۔یہ اکیلی گھر سے باہر نہیں جاسکتی۔ جب بھی باہر جائے گی تو اسکے ساتھ اسکے گھر کا کوئی میمبر یا کوئی رکھوالہ لازماً موجود ہوگا۔بازاروں میں گھومنا اس کا کام نہیں ہے۔یہ سب کام اس کے نوکر کرتے ہیں۔یہ اپنی زندگی اپنے گھر والوں کو وقت دینے میں گزارتی ہیں۔اس نے اپنے بچوں کی پرورش خود کی ہے اور اس کو اس بات پر فخر ہے۔نوکری کرنے کا تصور بھی اس کے پاس سے نہیں گزرا۔

    اب میں اسکی زندگی سے اسلامی آزادی کا تصور بیان کرتا ہوں۔ اسلام میں بھی یہ جائر نہیں کہ کوئی مرد کسی غیر محرم عورت سے مصافحہ کرے یا اسکے ساتھ وقت گزارے بلکہ اسلام میں تو غیر محرم عورت کی طرف نظر اٹھانا بھی حرام ہے۔ اسلام میں عورت کے گھر سے اکیلے باہر نکلنے پر پابندی ہے جب تک کہ اسکے ساتھ اسکا کوئی رکھوالا(محرم) نہ ہو۔ اسلام میں عورت صرف اپنے محرم کو ہی اپنا قیمتی وقت دے سکتی ہے۔اسلام میں عورت پر صرف دو ذمہ داریاں ہیں: ایک اپنےشوہر کی تابع داری اور دوسری اپنے بچوں کی پرورش۔ اسلام میں بھی مسلمان عورت اس بات کا تصور نہیں کر سکتی کہ وہ نوکری کرے گی اور کسی غیر کے حکم کی غلام بنے گی۔ اب میرا ایک سوال ہے ان لوگوں سے جو نوکری کرنے کو اور اِس طرح کی آزادی کو آزادی مانتے ہیں کہ کیا ملکہ ایلزابتھ کوئی غلام ہے؟؟ جب یہی باتیں اسلام کہے تو یہ تنگ نظری کہلائے؛ اور جب یہی اصول کوئی اور اپنائے تو وہ ملکہ کی شان کہلائے۔

    اسلام تو ہر عورت کو ملکہ بناتا ہے۔انکو انکی صحیح جگہ پر پہنچاتا ہے مگر یہ ہم ہیں جو عزت کو پسند نہیں کرتے جیساکہ قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ۔

    ﴿مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۡ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ۭوَاَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا 79؀﴾(النساء:۷۹)

    ‘‘تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے ۔ ہم نے تجھے تمام لوگوں کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے’’۔

    ہم جانتے ہیں کہ ہر سال امریکہ میں تقریباًستر ہزار (۷۰۰۰۰)لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہورہے ہیں جس میں سے ۷۳فیصد خواتین ہوتی ہیں اور جو کام وہ خواتین سب سے پہلے کرتی ہیں وہ ہے حجاب و نقاب کی مکمل پاندی اور زیادہ سے زیادہ گھروں میں ٹھہرنا۔اسی طرح کی ایک بہن کو میں بھی جانتا ہوں جو نو مسلم ہے اور وہ ایک سفید فام عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔سفید فام عیسائی خاندان کا یہ امتیاز ہے کہ وہ گوروں کے علاوہ سب کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور انکا یہ خیال ہے کہ دنیا پر صرف گوروں کا حق ہے۔ میں نے ان سے کچھ سوالات کئے جن کے جوابات انہوں نے کچھ یوں دئیے:

    میں نے اُن سے پوچھا کہ آخر کیا چیز تھی جس نے آپ کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا؟ اس خاتون نے جواب دیا ۔

    "میں تنگ آچکی تھی اِس معاشرے سے جہاں عورت کی کوئی عزت ہی نہیں تھی۔ مرد عورت کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں جبکہ وہ ہم سے جسمانئ طور پر مضبوط ہیں۔ بہت سے مرد تو ایسے ہیں کہ سوائے عیاشی کے اور کچھ کرتے ہی نہیں کیونکہ ان پر کوئی ذمہ داری نہیں جو کماتے ہیں عیاشی میں آڑا دیتے ہیں ۔ عورتوں کو اپنے حصے کے پیسے خود کمانا پڑتے ہیں اور عورت کے خرچے مردوں سے کہیں زیادہ بھی ہیں۔ میں ہمیشہ سے یہ سوچتی تھی کہ یہ کام عورت کا نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ہماری جانوں پر ظلم ہے۔تو مجھے کسی نے اسلام کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔میں اسلام کو خاصہ نا پسند کرتی تھی مگر پھر بھی میں پڑھنے پر آمادہ ہو گئی۔مگر میں اسلام کو پڑٖھ کر اس قدر حیران ہوئی کہ میں نے یہ سوچا تک نہ تھا کہ اسلام اتنا خوبصورت دین ہوگا۔ جو کچھ میں نے سوچا تھا وہ سب کچھ میں نے اسلام میں پایا تبھی مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ اسلام دین فطرت ہے اور پھر تھوڑا اور مطالعہ کرنے پر مجھے رسول ﷺ کا وہ فرمان بھی مل گیا جس میں انھوں نے فرمایا کہ اسلام دین فطرت ہے۔جس سے میں حق پر اور مضبوط ہوگئی۔میں یہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ اپنی ماں جیسی زندگی گزاروں۔میں نے موقع غنیمت جانا اور بلا تاخیر اسلام قبول کر لیا۔ میں یہ بھی جانتی تھی کہ میرے قبولِ اسلام پر میرے سارے خاندان والے میری جان کے درپے ہوجائیں گے مگر حق مل جانے کے بعد اسکو قبول نہ کروں یہ ممکن نہیں تھا"

    میں نے اُن سے اور پوچھا کہ کیا آپ کو یہ نہیں لگتا کہ اسلام عورت کی آزادی کے خلاف ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔

    "یہ تو سوچ پر منحصر ہے کہ آپ اسکو قید سمجھیں یا آزادی اسلام عورت کو عالمی آزادی کے تصور سے روشناس کرواتا ہے۔ اسلام نے ہمیں نوکرانی سے اٹھا کر ملکہ کے عہدے پر فائز کر دیا ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو ہمیں مختلف لوگوں کی غلامی سے آزادی دلوا کہ اللہ رب العزّت کی بندگی اور اپنے شوہرکی تابعداری میں لگا دیتا ہے۔یہی نہیں اسلام مرد کو اسکی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے کہ عورت مرد کی ذمہ داری ہے۔ عورت کا کام گھر پر آرام کرنااور مرد کا کام انکی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔یہ تو ایک ایسی آزادی ہے جو عورت کو ٹیشو پیپر سے اٹھا کر انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز کرتی ہے۔اب میں اپنے شوہر کے لئے بنتی سنورتی ہوں پہلے میں ہزاروں لوگوں کے لئے تیار ہوتی تھی جو گاہک ،آفس کے ساتھی اور باس کی صورت میں تھے۔تب میں ایک ایسی شیٔ تھی کہ سب مجھے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے تھے اور اب میں ایک ایسی ملکہ ہوں جسکا شوہر اسکے لیےکام کرتا ہے اور میں اپنی خوشی سے اسکے لئے بناؤ سنگار کرتی ہوں اپنی بیٹی کے ساتھ بہت سارا وقت گزارتی ہوں اسکی پرورش کرتی ہوں اور اپنے گھر کی مالکن ہوں۔یہ سب کچھ مجھے اسلام نے ہی عطا کیا ہے۔

    اس گفتگو کو آپ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں بتا سکوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آج کی نام نہاد آزادی کا مکمل تجربہ کر کے دیکھ چکے ہیں۔آخر کیا وجہ ہے کہ انکو وہ آزادی خود کے ساتھ زیادتی نظر آتی ہے اور وہ اسلام کے آزادی کے تصور سے بے انتہا متاثر ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتی۔کونکہ وہ مسلمان اس لئے ہیں کہ انھوں نے اسلام کو پڑھ کر، سمجھ کر قبول کیا ہے اور ہم مسلمان اس لئے ہیں کیونکہ ہمارے ماں باپ مسلمان تھے۔

    اب میں رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث سے عورت کے مقام کو بیان کرتا ہوں جس سے ان شاءاللہ آپ کو عورت کے اصل مقام کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا:

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا، جہاں صفیہ بنت حیی سے خلوت کی اور خود میں نے آپ کے ولیمہ کے لئے لوگوں کو بلایا، اس وقت اس میں روٹی اور گوشت کچھ نہ تھا، آپ نے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا، اس پر کچھ کھجوریں، پنیر اور چربی رکھی گئی، یہی آپ کا ولیمہ تھا، لوگوں نے آپس میں گفتگوکی آیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں شمار ہوگی یا باندیوں میں، انہوں نے سوچا کہ اگر آپ نے صفیہ کے لئے پردہ کا حکم دیا تب ان کو آپ کی زوجہ سمجھنا چاہئے اور اگر صفیہ کے لئے پردہ کا حکم نہ دیا تو اس کو باندی جاننا چاہئے، پھر جب آپ نے کوچ کیا تو صفیہ کے لئے اونٹ پر اپنے پیچھے جگہ کر کے پردہ ڈال دیا۔ (صحیح بخاری)

    سیدنا انسؓ بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے خیبر کا قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صفیہ بنت حیی بن اخطب کا حسن و جمال بیان کیا گیا اس کا شوہر مارا گیا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے لیے چن لیا اور ان کو لے کر ساتھ خلوت کی پھر ایک چھوٹے دسترخوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ارد گردکے لوگوں کو خبر کردو (تاکہ وہ بھی کھالیں) یہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ تھا پھر ہم مدینہ کی طرف چلے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ، کہ حضرت صفیہ کو اپنی عبا سے گھیرے ہوئے ہیں پھر اونٹ کے پاس بیٹھتے اپنا گھٹنا رکھتے اور حضرت صفیہ اپنا پاؤں آپ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتیں۔

    (صحیح بخاری)

    یہ دو احادیث ایک ہی واقعہ سے تعلق رکھتی ہیں ان دو احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے عورت کے مقام کو اپنے عمل سے بھرپور طور پر بیان کر دیا جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں فرمایا:

    ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا 21۝ۭ﴾ (الاحزاب:۲۱)

    ‘‘یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے (۱)، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے’’۔(۲)

    رسول ﷺ کی ان احادیث میں عورت کے مقام پر بہت زور دیا گیا ہے اور لونڈی/نوکرانی/باندی اور آزاد عورت میں فرق بھی بیان کیا گیا ہے۔جیساکہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں اس بات کی جستجو پیدا ہوئی کہ آخر صفیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی بیوی ہیں یا لونڈی تو انھوں نے اس بات کو معیار بنایا کہ اگر پردہ کروایا تو بیوی اور اگر نہیں کروایا تو لونڈی۔جس سے انھوں نے یہ بات واضح کردی کے عزت دار عورتوں کو پردے میں رکھا جاتا ہے، انکی حفاظت کی جاتی ہے۔جیساکہ رسول ﷺ نے کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے یہ بات سمجھ لی کہ وہ ایک آزاد عورت ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی بیوی اور ہماری ماں ہیں۔اسکے بعد امام الانبیا ء علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عورت کو اس مقام پر پہنچایا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی اور تہذیب عورت کو وہ مقام نہ دے سکی۔جب ہماری ماں صفیہ رضی اللہ عنہا کو اونٹ پر بٹھانا ہوتا تو رسولﷺ اپنے گٹھنے پر بیٹھ کر ایک گھٹنہ انکے آگے کر دیتے جس پر وہ اپنا پاؤ رکھ کر اونٹ پر چڑھ جاتیں۔اب آپ اس بات کا اندازہ لگائیں کہ عورت کی کیا عزت ہے کہ جس کےلئے خاتم النبیین، امام الانبیاء،رحمت للعٰلمین ﷺ اپنے گھٹنے پر بیٹھے اور اپنی بیوی اور ہماری ماں کو اونٹ پر بٹھا یا اور پھر انکے رکھوالے خود بنے اور انکو اپنے پیچھے بٹھا یا تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ انکے محافظ کون ہیں ۔ کیا شان تھی ہماری ماؤں کی جن کے محافظ امام الانبیاء تھے۔خاتم النبیینمحمدﷺ کے اس عمل نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ اسلام نے مرد کوعورت کا محافظ بنایا ہے۔چاہے وہ دنیا کے کسی بھی درجے پر فائز ہو لیکن اسکی ذمہ داری ہے کہ اپنی بیویوں کی ضرورتوں کو پورا کرے۔

    میری درخواست ہے اپنی تمام بہنوں سے کہ اپنا مقام پہچانیں اور خود ہی اپنی ذلت کا سامان نہ کریں ۔اللہ رب العزّت نے آپ کو ایک عمدہ مقام دیا ہے۔ وہ مقام خود نہ ٹھکرائیں۔پھر سے اپنی بنیادوں کی طرف لوٹ آئیں اللہ آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کو روشن کر دیگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب سے فرمایا:

    ﴿ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً ۠وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ٢٠٨؁﴾ (البقرہ:۲۰۸)

    ‘‘اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو (١) وہ تمہارا کھلا دشمن ہے’’۔

    محترم قارئین! آخر میں ، میں ناول ‘‘تاثرات’’ کے چند حوالے پیش کرتا ہوں جس میں عورت کے مقام کو اجاگر کیا گیا ہے اور روشن خیالی کے نام پر جس طرح اس کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے اس کی خرابیاں اور تباہ کاریوں کا ذکر کیا ہے۔ ناول ‘‘تاثرات’’ میں مصنفت لکھتا ہے:

    تم آخر چاہتے کیا ہو؟؟؟

    • نامحرم عورتوں سے تعلق کے طریقے سکھاتے ہو۔

    • مخلوط ڈانس پر مبنی فلمیں اور اشتہار چلا کر دونوں طرف جنسی آگ بھڑکاتے ہو۔

    • کبھی عورت یک مشت بِکا کرتی تھی ،اب تم نے اسے قِسطوں میں بیچنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔

    • مسکراہٹ الگ۔۔۔ادائیں علیحدہ۔۔۔آواز الگ اور جسم کو الگ نیلام کرکے پیسے کماتے ہو۔

    • اور جب اسکے نتیجے میں جنسی درندگی کا کوئی واقعہ رونما ہوجائے تومگر مچھ کے آنسو بھی بہاتے ہو۔

    • پھر گلا پھاڑ پھاڑ کر عورت اور عورت کے تحفظ اور تقدس کی دہائیاں دیتے ہو۔

    • پہلے شرم و حیاء اور عفت و عصمت جیسی اقدار کا جنازہ نکالتے ہو۔

    • اور پھر انہی اقدار کا حوالہ دے دے کر عورت کے تقدس کے علم بردار بھی بنتے ہو۔

    تم کرنا کیا چاہتے ہو؟؟

    عورت کا تحفظ یا اسکی دلالی

    (ابن افضل محمدی حفظہ اللہ )
    http://www.islamicmsg.org/index.php/component/content/article/22-slide-show/338-orat-k-azadi
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر