عوام کو بہترسہولیات دینے کیلیے ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے، وزیراعظم

جاسم محمد نے 'معیشت و تجارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 25, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,316
    عوام کو بہترسہولیات دینے کیلیے ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے، وزیراعظم
    ویب ڈیسک ایک گھنٹہ پہلے
    [​IMG]
    حکومت کی کوشش ہےکہ ٹیکس نظام شفاف بنایاجائے، وزیر اعظم۔فوٹو: فائل

    اسلام آباد: وزراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافےسےٹیکس دہندگان پربوجھ کم ہوگا، عوام کوبہترسہولیات دینےکیلیے ٹیکس نیٹ بڑھایاجائے۔

    ایکسپریس نیوزکے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان سے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور چئیرمین نادرا عثمان یوسف مبین نے ملاقات کی، ملاقات میں ملک میں ٹیکس نیٹ میں اضافے کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام الناس کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں حکومتی استعداد کاربڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے، ٹیکس نیٹ میں اضافے سے ٹیکس دہندگان پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ کم ہوگا اور حکومت کی جانب سے ملک کے دور دراز علاقوں میں تعلیم ، صحت اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس کی ادائیگی ایک قومی فریضہ ہے تاہم اس کے لئے ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے، کوشش ہے کہ ٹیکس کے نظام کو شفاف بنایا جائے تاکہ ہر محب وطن شہری ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,316
    متعدد ادارے بند، چھانٹیاں: عمران حکومت نے مزید 30 ہزار پاکستانیوں کو بے روزگار کرنے کا فیصلہ کر لیا
    25/10/2019 نیوز ڈیسک
    [​IMG]

    تحریک انصاف نے انتخابات سے پہلے عوام سے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب حکومت نے پہلے سے برسرروزگار 30 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو بے روزگار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان ٹوڈے کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو مالی عدم توازن اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے 30 ہزار سے زائد لوگوں کو نوکریوں سے نکالنا ہو گا اور کم از کم 10 اہم حکومتی اداروں کی نجکاری کرنی ہو گی۔

    رپورٹ کے مطابق ان 30 ہزار سے زائد لوگوں کو 20 حکومتی اداروں سے فارغ کیا جائے گا تاکہ حکومتی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ 10 کے قریب حکومتی اداروں کی نجکاری کی جائے گی اور یہ دونوں کام آئندہ بجٹ سے پہلے کر لیے جائیں گے۔ وزارت خزانہ نے 10 اداروں کی نجکاری کی تصدیق کر دی ہے تاہم تیس ہزار لوگوں کو نوکریوں سے نکالنے کے معاملے پر انہوں نے موقف دینے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ان ملازمین کی فہرستیں تیار کرنے کا کام کر رہی ہے جنہیں نوکری سے نکالا جائے گا۔ یہ فہرستیں 2019ء کے آخر تک یا 2020ء کے آغاز میں تیار کر لی جائیں گی۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ 4 ہزار ملازمین پی آئی اے سے، 3 ہزار آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ سے، 3 ہزار پاکستان سٹیل ملز سے، 4 ہزار پاکستان ٹیلی ویژن سے، 3 ہزار ریڈیو پاکستان سے، 4 ہزار سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ سے، 3 ہزار سوئی سدرن گیس کمپنی سے، 10 ہزار واپڈا سے، 300 پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے، 6 ہزار 700 پمز، پولی کلینک، این آئی آر ایم ہاسپٹل / ایف جی ایچ چک شہزاد سے اور 150 ملازمین نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سے فارغ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تمام ملازمین کو گھر بھیجا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ادارے ختم یا پرائیویٹائز کیے جا رہے ہیں۔
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,316
    تین اینکر تنقید نہ کریں تو معیشت چلے ، عمران خان
    25/10/2019 رؤف کلاسرا
    وہی ہماری پرانی بیٹھک اور پرانا اڈہ جہاں ہم چند دوست بڑے عرصے سے اکٹھے ہوتے ہیں اور رات گئے تک گپیں لگتی ہیں۔ ارشد شریف ‘ خاور گھمن‘ ضمیر حیدر‘ راجہ عدیل اور علی تو مستقل موجود ہوتے ہیں۔ باقی یار دوست کبھی کبھار وہیں جوائن کرلیتے ہیں ۔ شاہد بھائی کی بھی مہربانی ‘وہاں ویک اینڈ پر محفل جم جاتی ہے۔ان کا دل بڑا اور مہمان نوازی کمال کی ہوتی ہے۔
    ارشد شریف سے میں پوچھنے لگا :کیا ہوا وزیراعظم عمران خان تم سے پھر ناراض ہوگئے ہیں کہ اس دفعہ پھر تمہیں صحافیوں سے ہونے والی ملاقات میں نہیں بلایا گیا ؟ ارشد شریف اکثر ایسے سوالات کو اپنی مخصوص پراسرار مسکراہٹ کے لبادے میں چھپا لیتا ہے‘ کہنے لگا: یار تم تو جانتے ہو کہ جب بھی وزیراعظم نے ماضی میں بلایا تو میں نے تو آپ لوگوں کی طرح کبھی کوئی سوال تک نہیں پوچھا ۔ اب مجھے کیا پتہ وہ پھرکیوں ناراض ہوگئے ہیں ۔ میں نے کہا: آج تمہاری روایت کو میں نے نبھایا اور دو گھنٹے کی طویل ملاقات میں چپ کر کے انہیں سنتا رہا اور کوئی سوال نہیں پوچھا ۔
    ارشد شریف کہنے لگا: تم نے سوالات کیوں نہیں پوچھے؟ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور میڈیا ایڈوائزر یوسف بیگ مرزا کی مہربانی کہ دو تین دفعہ مجھے اشارہ کر کے پو چھا ‘کوئی سوال پوچھنا ہے؟ میں نے آنکھوں آنکھوں میں ان کا شکریہ ادا کیا اور دو گھنٹے وزیراعظم کی صحافیوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو انجوائے کرنے کو ترجیح دی ۔ میں نے کہا: ویسے بھی میری یہ رائے ہے کہ پچھلے ایک سال میں جب بھی وزیراعظم اور ان کی حکومت کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو صحافیوں کو بلا لیا جاتا ہے اور ان سے ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے نام پر مدد مانگ لی جاتی ہے‘ لیکن جونہی وہ مشکل گزر جاتی ہے‘ تو میڈیا کے لیے سخت قوانین اور سزائیں اور لعن طعن شروع ہوجاتی ہے۔
    اس دفعہ یہ بات واضح تھی کہ وزیراعظم کا میڈیا کی طرف صبر اور توازن کم ہورہا ہے۔ وہ میڈیا سے ہرٹ محسوس کرتے ہیں اور ان خبروں کا حوالہ دیتے ہیں جو ان کے خلاف میڈیا میں آتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا: میرے خلاف یہ خبر چلائی گئی کہ چیئرمین سی ڈی اے کو اس لیے ہٹایا گیا کہ وہ ان کے بنی گالہ گھر کو ریگولر کرنے کو تیار نہیں تھے۔ یہ غلط خبر تھی۔ انہوں نے پیمرا کو شکایت کی اور فیصلہ ہوا تو عدالت نے سٹے دے دیا ‘لہٰذا وہ فوری انصاف کے لیے میڈیا ٹریبونل بنانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف صحافی عمران خان سے دور ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جب عمران خان دن رات خود مخالفیں پر تابڑ توڑ حملے کرتے تھے تو یہی میڈیا براہ راست رپورٹ کرتا تھا۔ ایسی کئی باتیں تھیں‘ جو عمران خان خود کرتے رہے اور وہ یہی میڈیا رپورٹ کرتا رہا۔ اب وہی باتیں عمران خان صاحب کو اچھی نہیں لگتیں‘ جب ان کے وزیروں اور حکومت کے بارے میں میڈیا میں آتی ہیں ۔
    دو گھنٹے کی اس طویل ملاقات میں ایک بات طے تھی کہ حکمران کوئی بھی ہو وہ خود کو کبھی غلط نہیں سمجھتا ۔ میں کئی دفعہ ایسی ملاقاتوں میں موجود رہا ہوں جہاں وزیراعظم وہی باتیں کرتے تھے جو اب عمران خان کررہے ہیں۔ عمران خان کو صرف ایک ایڈوانٹیج ہے کہ وہ پہلی دفعہ وزیراعظم بنے ہیں‘ لہٰذا انہیں بہت سا شک کافائدہ مل جاتا ہے۔ پھر وہ باتوں کو ہر اچھے اور سمجھدار سیاستدان اور حکمران کی طرح twist دینا جانتے ہیں۔ انہیں ماضی کا حوالہ دے کر ان کی کوئی بات یاد دلانے کی کوشش کی جائے تو بھی وہ اس کا دفاع کرلیتے ہیں کہ اُن حالات میں وہ بات درست تھی اور موجودہ حالات میں یہ بات درست ہے۔
    وہ خود کو اس وقت بھی ٹھیک سمجھتے تھے‘ جب وہ میڈیا کی آزادی کے قائل تھے اور وہ خود کو اس وقت بھی درست سمجھتے ہیں جب وہ میڈیا پر برس رہے ہیں کہ وہ کیوں ان کی حکومت کی غلطیاں‘ نااہلی یا ان کے وزرا کی کرپشن سامنے لارہا ہے؟ دراصل وہ ساری عمر ایک ہیرو کی طرح رہے ہیں اور عمر بھر مداحین ا ور فین کلب سے اپنی تعریف سنتے آئے ہیں۔ پھر اپوزیشن میں رہے تو بھی وہ دوسروں پر تنقید کرتے رہے‘ ان پر تنقید نہیں ہوتی تھی۔ وہ جو چاہتے تھے کہہ دیتے تھے‘ ان پر کوئی ذمہ داری نہیں تھی ۔ اس لیے جب وہ حکومت میں آئے ہیں تو اس بات پر ابھی تک ذہنی طور پر تیار نہیں کہ اب تنقید کا رخ ان کی طرف ہوگا ۔
    مجھے یاد ہے بہت سے لوگ ہمیں کہتے تھے کہ آپ لوگ عمران خان پر کیوں اس طرح تنقید نہیں کرتے جیسے آپ وزیراعظم نواز شریف یا شاہد خاقان عباسی پر کرتے ہیں۔ تو اس وقت ان دوستوں کو یہی جواب دیتے تھے کہ اس وقت جو بھی فیصلے ہورہے ہیں ان میں عمران خان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ جو اچھا برا ہورہا ہو اس کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ ہمیشہ حکمران کو ملتا ہے۔ تیل کی قیمت اسحاق ڈار بڑھائیں یا قرضہ لے آئیں تو کیسے کوئی صحافی تنقید عمران خان پر کرنے لگ جائے؟ اب اسی صورتحال کا سامنا ہے۔
    عمران خان ابھی تک اپوزیشن لیڈر کے ذہن کے ساتھ چل رہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا ان کے ساتھ بہت فرینڈلی رہا ہے‘ لہٰذا ان بائیس برسوں کی جو انہیں عادت پڑ گئی ہے وہ چاہتے ہیں کہ اسی طرح ان کے ہر کام کو سراہا جائے۔ میڈیا بھی ان کا فین کلب بن کر رہے۔ وہ کوئی بھی ٹی وی چینل دیکھیں‘ وہاں ان کی اس طرح تعریفیں ہورہی ہوں جیسے ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے ہوتی تھیں۔ پھر ان کے نزدیک وہی لوگ ہیں جو پی ٹی آئی سے نہیں ہیں‘ جو ماضی میں حکمرانوں کے طبلچی رہے ہیں اور اب وہ عمران خان کے اردگرد اکٹھے ہیں۔
    یہی لوگ تھے جو جنرل مشرف کو بھڑکاتے تھے اور اس کا انجام مشرف کے اقتدار کی تباہی پر منتج ہوا تھا‘ جب انہیں یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ فوری طور پر ایمرجنسی لگا دیں۔ ایک دفعہ مجھے مرحوم جنرل حامد جاوید‘ جو جنرل مشرف کے چیف آف سٹاف تھے‘ نے بتایا تھا کہ جنرل مشرف کو بھی اس طرح کے ہجوم نے گھیر لیاتھا جو میڈیا اورعدالتوں کے خلاف تھا ا ور انہوں نے جنرل مشرف سے وہ فیصلہ کرایا جو ان کی تباہی کا سبب بنا تھا ۔ بقول جنرل حامد جاوید کے وہ اس فیصلے کے خلاف تھے ‘لہٰذا جنرل مشرف نے انہیں خود سے دور کر لیا تھا اور وہ چھٹی لے کر چلے گئے تھے۔ اس وقت بھی سب شکایتیں وزیراعظم شوکت عزیز کو میڈیا اور عدالتوں سے تھیں اور وہ جنرل مشرف کے کان بھر رہے تھے۔
    اب بھی آپ دیکھیں تو عمران خان کے گرد اکثر وہی لوگ ہیں جو جنرل مشرف کے ساتھ تھے اور دھیرے دھیرے وہ عمران خان کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ سب خرابی میڈیا میں ہے‘ ورنہ وہ تو بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات میں کھل کر یہ بات کہہ دی تھی کہ یہاں موجود اگر تین صحافی محمد مالک ‘ عامر متین اور رؤف کلاسرا ان کی حکومت پر تنقیدی خبریں یا دوسرے لفظوں میں سکینڈلز فائل نہ کریں تو ملک کی معیشت بہتر ہوجائے گی۔ پہلے تو ہم سمجھے وہ بات شاید مذاق میں کررہے ہیں‘ لیکن جب چونک کر ان کی طرف میں نے دیکھا تو وہ واقعی یہ بات سنجیدگی سے کہہ رہے تھے۔
    مجھے ایک پرانا لطیفہ یاد آیا کہ انگریز دور میں جب برما کے محاذ پر برطانوی فوجیں جنگ لڑ رہی تھیں تو فرنگی سرکار نے ہندوستان میں اپنے وفاداروں سے جنگ لڑنے کے لیے بندے مانگ لیے۔ ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے ایک گائوں میں جا کر وہاں کے نمبردار سے ملاقات کی اور اسے سمجھایا کہ اس وقت سلطنت برطانیہ مشکل کا شکار ہے‘ اسے اپنے وفاداروں اور دوستوں کی مدد درکار ہے۔ اسے گائوں سے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو جاپانی فوجوں سے جا کر لڑیں تاکہ ملکہ برطانیہ کی سلطنت کو بچایا جا سکے۔ گائوں کا نمبردار کافی دیر سنتا رہا اور پھر بولا :آپ کا مطلب ہے اس وقت ملکہ برطانیہ‘ جس کی سلطنت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا‘ کی عزت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم چاہیں تو ملکہ صاحبہ کی عزت بچا سکتے ہیں ؟
    ڈپٹی کمشنر بولا: جی بالکل آپ درست سمجھے ہیں ۔ گائوں کے نمبردار نے ہاتھ باندھ کر کہا: سرکار اگر برطانوی ملکہ کی عزت برقرار رکھنے کی بھاری ذمہ داری اب ہمارے گائوں کے نوجوانوں کے کندھوں پر آن پڑی ہے تو پھر بہتر ہے آپ جاپانی فوجوں سے صلح کر لیں ۔
    بشکریہ روزنامہ دنیا
     
  4. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,907
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    پاکستان کا ٹیکس ریوینیوں کتنا ہے اور کتنا ہونا چاہیئے؟
    موجودہ
    2019 کا ٹیکس ریونیو 30 بلین ڈالر

    اور کتنا ہونا چاہئیے؟ ایک نان سائنٹی فک تجزیہ
    پاکستان کی آبادی، 200 ملین سے زیادہ
    ایک وقت کا کھانا ؟ کسی باورچی سے پوچھ لیں ، 2 چھٹانک یعنی 125 گرام ، تین وقت کا کھانا 375 گرام ۔ 200 ملین کا ایک دن کا کھانا ، 75 ملین کلو گرام، ایک کلو گرام کھانے کی قیمت کا اندازہ، گوشت، اناج، تقریباً 2000 روپے یعنی 150 ملین ہزار روپے ، جو کہ بنے 150 بلین روپے روزانہ ، صرف خوراک کی مد میں ہاتھ بدلنے والی رقم

    خوراک اگانے کی قیمت، نصف رکھ لیں ، کیوں؟ 60 پاؤنڈ اگانے کی قیمت ، تقریباً ڈھائی ڈالر، قیمت فروخت تقریباً پانچ ڈالر

    تو پاکستان کے 150 بلین روپے کی صرف خوراک کی مد میں خوراک اگانے اور بیچنے والے کا منافع تقریباً 50 فی صد یعنی 75 بلین روپے روزانہ۔ 20 فی صد اجتماعی ٹیکس بنا 15 بلین روپے روزانہ صرف اور صرف خوراک کی مد میں ٹیکس بنا۔
    15 بلین روپے ضرب 360 دن، مساوی 5400 بلین روپے کا ٹیکس۔

    ۔36 بلین ڈالر صرف اور صرف خوراک کی مد میں سالانہ ٹیکس بنتا ہے۔

    اس میں سیمنٹ شامل نہیں، سروسز شامل نہیں ، بنکاری شامل نہیں ، کپڑا شامل نہیں، مکانوں کی خرید و فروخت شامل نہیں ، کنسٹرکشن شامل نہیں ، تعلیم دینے سے ہونے والی آمدنی شامل نہیں اور تو اور سیلز ٹیکس شامل نہیں ۔ روزانہ استعمال ہونے والی اشیاء، صابن، تیل، کی مینوفیکچرنگ شامل نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ ایف بی آر کب ریکارڈ رکھنا شروع کرے گا کہ کس کو کتنی آمدنی ہوئی ، یہ رپورٹنگ کب شروع ہوگی؟

    اتنی بڑی کوتاہی کا ذمہ دار کون؟
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر