عمران سیریز نمبر 6

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

قیصرانی

لائبریرین
"ہاں یہ دونوں میرے بھتیجے ہیں! یہ بھانجی اور یہ بیٹی!"

"اور۔۔۔ وہ صاحب جو چلے گئے!"

"وہ بھی میرا بھتیجا ہے!"

"ایک بار پھر بڑی خوشی ہوئی!" عمران نے پھر جاوید مرزا سے بڑی گرمجوشی سے مصافحہ کیا!

"مگر آپ کی کار کا کیا ہوگا!" جاوید مرزا نے تشویش آمیز لہجے میں کہا۔ "ایک بار پھر یاد کیجئے کہ آپ نے اسے کہاں چھوڑا تھا!"

"پتہ نہیں میں نے اسے چھوڑا تھا یا اس نے مجھے چھوڑا تھا۔۔۔ مجھے سب سے پہلے اس پر غور کرنا چاہئے!"

اچانک نواب جاوید مرزا نے ناک سکوڑ کر برا سا منہ بنایا!

"سچ مچ!۔۔ میں اس شوکت کو یہاں سے نکال دوں گا!" اس نے کہا۔

"نہیں میں خود ہی جا رہا ہوں!" عمران نے اٹھتے ہوئے کہا!

"ارے ہائیں۔۔۔ آپ کے لئے نہیں کہا گیا!" جاوید مرزا اسے شانوں سے پکڑ کر بٹھاتا ہوا بولا "وہ تو میں شوکت کو کہہ رہا تھا! کیا آپ کسی قسم کی بو نہیں محسو کر رہے!"

"کر رہا ہوں!۔۔۔ واقعی یہ کیا بلا ہے!" عمران اپنے نتھنے بند کرکے منمنایا۔

"اسے سائنٹسٹ کہلائے جانے کا خبط ہے!۔۔۔ اس وقت غالبا اپنی تجربہ گاہ میں ہے اور یہ بدبو کسی گیس کی ہے خدا کی پناہ۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بھنگیوں کی فوج کہیں قریب ہی مارچ کر رہی ہو!"

"کم از کم شاہی خاندان کے افراد کے لئے تو یہ مناسب نہیں ہے!" عمران نے ہونٹ سکوڑ کر کہا۔

"آپ کے خیالات بہت اچھے ہیں۔۔۔ بہت اچھے۔۔۔" جاوید مرزا اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔ پھر پروین کی طرف مڑ کر کہا۔

"دیکھا!۔۔۔ میں نہ کہتا تھا! آج بھی شاہی خاندانوں میں ایسے نوجوان افراد موجود ہیں۔ جنہیں عمومیت سے نفرت ہے!۔۔۔ یہ سائنٹسٹ وائنٹسٹ ہونا ہمارے بچوں کے لئے مناسب نہیں ہے ڈاکٹر عشرت! تم جا سکتے ہو!"

جاوید مرزا نے آخری جملہ ڈاکٹر کی طرف دیکھے بغیر کہا تھا! ڈاکٹر رخصت ہوگیا!
 

قیصرانی

لائبریرین
۶​

اسی شام کو روشی بھی عمران کی ٹوسیٹر کار سمیت سردار گڈھ پہنچ گئی! عمران نے صبح ہی اسے اس کے لئے تار دے دیا تھا اور اسے توقع تھی کہ روشی دن ڈوبتے ڈوبتے سردار گڈھ پہنچ جائے گی! اسے محکمہ سراغراسانی کا ایک آدمی جمیل کی کوٹھی تک پہنچا گیا تھا۔۔۔!

عمران اپنا طریقہ کار متعین کر چکا تھا۔۔۔ اور اسکیم کے تحت اسے رائل ہوٹل میں قیام کرنا تھا۔ وہاں کمرے حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی اور یہ حقیقت ہے کہ اس نے وہاں کے رجسٹر میں اپنا نام شہزادہ سطوت جاہ ہی لکھوایا۔۔۔ اور روشی بدستور روشی رہی! اسے شہزادے صاحب کی پرائیویٹ سیکریٹری کی حیثیت حاصل تھی!

رات کا کھانا انہوں نے ڈائننگ ہال ہی میں کھایا۔۔۔ اور پھر عمران روشی کو یہاں کے حالات سے آگاہ کرنے لگا۔۔۔ اچانک اس کی نظر شوکت اور عرفان پر پڑی جو ان سے کافی فاصلے پر بیٹھے ان دونوں کو گھور رہے تھے!

عمران نے دریافت حال کے سے انداز میں اپنے سر کو جنبش دی اور عرفان اپنی میز سے اٹھ کر تیر کی طرح ان کی طرف آیا! لیکن شوکت نے منہ پھیر لیا۔۔۔!

"تشریف رکھیئے۔۔۔ مسٹر پروان!" عمران نے پرمسرت لہجے میں بولا۔

"عرفان۔۔۔!" اس نے بیٹھتے ہوئے تصحیح کی۔۔۔!

"آپ کچھ خیال نہ کیجئے گا!" عمران نے شرمندگی ظاہر کی "مجھے نام عموماً غلط ہی یاد آتے ہیں!"

"آپ نے عرفان اور پروین کو گڈ مڈ کر دیا!" عرفان ہنسنے لگا "اکثر ایسا بھی ہوتا ہے! کہئے آپ کی گاڑی ملی۔۔۔!"

"لاحول ولا قوۃ! کیا کہوں!" عمران اور زیادہ شرمندہ نظر آنے لگا!

"کیوں کیا ہوا۔"

"وہ کمبخت تو یہاں گیراج میں بند پڑی تھی اور مجھے یاد آ رہا تھا کہ میں گاڑی پر ہی تھا!"

"خوب!" عرفان اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگا! لیکن وہ بار بار نظر چرا کر روشی کی طرف بھی دیکھتا جا رہا تھا! جو سچ مچ ایسے ہی مودبانہ انداز میں بیٹھی تھی جیسے کسی شہزادے کی پرائیویٹ سیکریٹری ہو۔

"سیکریٹری"! اچانک عمران اس کی طرف مڑ کر انگریزی میں بولا "میں ابھی کیا یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔"

"آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ میرا خیال ہے۔۔۔ اس آدمی۔۔۔ ہاں آدمی ہی کا نام یاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔"

"وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ آدمی۔۔۔ جس نے ایک ایکڑ زمین میں۔۔۔ ڈیڑھ من شلجم اگائے تھے!"

"آہا۔۔۔ آہا۔۔۔ یاد آگیا!" عمران اچھل کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ پھر فورا ہی بیٹھ کر بولا "مگر نہیں۔۔۔ وہ تو دوسرا آدمی تھا۔۔۔ جس نے۔۔۔ کیا کیا تھا۔۔۔ لاحول ولا قوۃ۔۔۔ یہ بھی بھول گیا۔۔۔ کیا بتاؤں۔ عمران صاحب!"

"عمران نہیں عرفان!" عرفان نے پھر ٹوکا!

"عرفان صاحب! ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا!"
 

قیصرانی

لائبریرین
عرفان بور ہو کر اٹھ گیا! حالانکہ وہ روشی کی وجہ سے بیٹھنا چاہتا تھا! مگر اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ روشی اس احمق کی موجودگی میں اس میں دلچسپی نہیں لے سکتی! کیونکہ اس نے اس دوران میں ایک بار بھی عرفان کی طرف نہیں دیکھا تھا!

عرفان پھر شوکت کے پاس جا بیٹھا۔۔۔!

عمران اور روشی بھی اٹھ کر اپنے کمروں میں چلے آئے!

"وہ دوسرا آدمی تمہیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہا تھا!" روشی نے کہا!

"تب وہ تمہیں دیکھ رہا ہوگا!"

"شٹ اپ!"

"آرڈر۔۔ آرڈر۔۔۔ تم میری سیکرٹری ہو اور میں پرنس سطوت جاہ!"

"لیکن اس رول میں تو اپنی حماقتوں سے باز آ جاؤ!" روشی نے کہا۔

مگر عمران نے اس بات کو ٹال کر دوسری شروع کردی!

"کل تم جیل خانے میں جاؤ گی!۔۔۔ اررر۔۔۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہاں ایک قیدی ہے! میں نے آج بہتیری معلومات فراہم کرلی ہیں!۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ قیدی۔۔۔ اس کا نام سلیم ہے۔۔۔ اسے شوکت نے جیل بھجوایا تھا! کل صبح تمہیں اسے ملنے کے لئے اجازت نامہ مل جائے گا!۔۔۔" عمران خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا!

"لیکن۔۔۔ مجھے اس سے کیوں ملنا ہوگا!"

"یہ معلوم کرنے کے لئے کہ اس پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کہاں تک حقیقت ہے!"

"کیا الزامات لگائے گئے ہیں؟"

"اسی سے پوچھنا!"

"لیکن وہ ہے کون اور اس واقعہ سے اس کا کیا تعلق ہے!"

"تم اس کی پروا مت کرو! اس سے جو کچھ گفتگو ہو مجھے اس سے مطلع کر دینا!"

"خیر مت بتاؤ!۔۔۔ مگر۔۔۔ ظاہر ہے کہ میں ایک ملاقاتی کی حیثیت سے وہاں جاؤں گی۔۔۔ وہ اس ملاقات کی وجہ ضرور پوچھے گا!۔۔۔ وہ سوچے گا۔۔۔!"

"اونہہ اونہہ!" عمران ہاتھ اٹھا کر بولا "تم اسکی پروا نہ کرو! اس سے کہہ دینا کہ تم ایک غیر مقامی اخبار کی رپورٹر ہو!"

"تب تو مجھے اس کے تھوڑے بہت حالات سے پہلے ہی واقف ہونا چاہئے!"

"ٹھیک ہے!" عمران پسندیدگی کے اظہار میں سرہلا کر بولا "تم اب کافی چل نکلی ہو! اچھا تو سنو!

سلیم، شوکت کا لیبارٹری اسسٹنٹ تھا! شوکت۔۔۔ وہ آدمی۔۔۔ جو تمہاری دانست میں اس وقت مجھے اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ پروین کا چچا زاد بھائی ہے۔۔۔ غالباً تم سمجھ ہی گئی ہوگی!"

"یعنی۔۔۔! وہ خود بھی پروین کے امیدواروں میں سے ہو سکتا ہے!"
 

قیصرانی

لائبریرین
"واقعی چل نکلی ہو!۔۔۔ بہت اچھے!۔۔۔ ہاں یہی بات ہے اور شوکت کو سائنٹیفک تجربات کا خبط ہے!

وہ ایک باقاعدہ قسم کی لیبارٹری بھی رکھتا ہے!۔۔۔"

"اور۔۔۔ وہ کیا نام اس کا۔۔۔ سلیم اس کا لیبارٹری اسسٹنٹ تھا۔۔۔ اور شوکت ہی نے اسے جیل بھجوا دیا۔۔۔ آخر کیوں؟۔۔۔ وجہ کیا تھی؟"

"وجہ بظاہر ایسی نہیں جس سے اس کیس کے سلسلے میں ہمیں کوئی دلچسپی ہو سکے۔۔۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وجہ وہ نہ ہو جو ظاہر کی گئی ہو!"

"کیا ظاہر کی گئی ہے۔ میں وہی تو پوچھ رہی ہوں!"

"ایک معمولی سی رقم خرد برد کر دینے کا الزام!"

"یعنی اسی الزام کے تحت وہ جیل میں ہے!" روشی نے پوچھا!

"یقیناً!"

"تب پھر ظاہر ہے کہ حقیقت بھی یہی ہوگی! ورنہ وہ اس جرم کے تحت جیل میں کیوں ہوتا!"

"کیوں کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اصل جرم عائد کردہ الزام سے بھی زیادہ سنگین ہو! جسے نہ شوکت ہی ظاہر کرنا پسند کرتا ہو اور نہ سلیم!"

"اگر یہ بات ہے تو پھر وہ مجھے حقیقت بتانے ہی کیوں لگا!"

"روشی! روشی!۔۔۔ اتنی ذہین نہ بنو! ورنہ میں بور ہو جاؤں گا۔۔۔ مر جاؤں گا! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرو!"

"تب پھر کوئی تیسری بات ہوگی جسے تم ظاہر نہیں کرنا چاہتے!" روشی نے لاپرواہی سے کہا "خیر میں جاؤں گی!"

"ہاں شاباش! میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم کسی طرح اس سے مل لو!"
 

قیصرانی

لائبریرین
۷​

قیدی سلاخوں کی دوسری طرف موجود تھا! روشی نے اسے غور سے دیکھا اور وہ اسے نیچے سے اوپر تک ایک شریف آدمی معلوم ہوا۔ اس کی عمر تیس اور چالیس کے درمیان ہی رہی ہوگی!

آنکھوں میں ایسی نرمی تھی جو صرف ایماندار آدمیوں ہی کی آنکھوں میں نظر آسکتی ہے!

روشی کو دیکھ کر وہ سلاخوں کے قریب آگیا!

"میں آپ کو نہیں جانتا!" وہ روشی کو گھورتا ہوا آہستہ سے بولا۔

روشی نے ایک قہقہہ لگایا جس کا انداز چڑانے کا سا تھا! روشی نے اس وقت اپنے ذہن کو بالکل آزاد کر دیا تھا! وہ اپنے طور پر اس سے گفتگو کرنا چاہتی تھی! عمران کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں تھا!۔۔۔ عمران کی باتوں سے اس نے اندازہ کر لیا تھا کہ وہ صرف اس ملاقات کا رد عمل معلوم کرنا چاہتا ہے! اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں!

"آپ کون ہیں؟" قیدی نے پھر پوچھا!

"میں ہاہا۔۔۔!" روشی نے پھر قہقہہ لگایا اور بری عورتوں کی طرح بے ڈھنگے پن سے لچکنے لگی!

"میں سمجھ گیا!" قیدی آہستہ سے بڑبڑایا۔ "لیکن تم مجھے غصہ نہیں دلا سکتیں! قطعی نہیں! کبھی نہیں!"

بات بڑی عجیب تھی اور ان جملوں کی نوعیت پر غور کرتے کرتے روشی کی اداکاری رخصت ہوگئی اور وہ ایک سیدھی سادی عورت نظر آنے لگی! قیدی اسے توجہ اور دلچسپی سے دیکھتا رہا! پھرا س نے آہستہ سے پوچھا!

"تمہیں یہاں کس نے بھیجا ہے!"

اچانک روشی کی ذہانت پھر جاگ اٹھی اس نے مایوسانہ انداز میں سرہلا کر کہا "نہیں تم وہ آدمی نہیں معلوم ہوتے!"

"کون آدمی!"

"کیا تمہارا نام سلیم ہے!"

"میرا یہی نام ہے!"

"اور تم نواب زادہ شوکت کے لیبارٹری اسسٹنٹ تھے!"

"ہاں یہ بھی ٹھیک ہے!"

"پھر تم وہی آدمی ہو!"

قیدی کے چہرے پر تفکر کے آثار پیدا ہوگئے لیکن ان میں سراسیمگی کو دخل نہیں تھا!۔۔۔ وہ خالی الذہنی کے انداز میں چند لمحے روشی کے چہرے پر نظر جمائے رہا پھر وہ دو تین قدم ہٹ کر بولا "تم جاسکتی ہو!"

"لیکن۔۔۔ اگر۔۔۔ تم سلیم۔۔۔!"

"میں کچھ نہیں سننا چاہتا! یہاں سے چلی جاؤ!"

"مگر۔۔۔ وہ!"

"جاؤ!" وہ حلق پھاڑ کر چیخا اور دو سنتری تیزی سے چلتے ہوئے سلاخوں کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ قبل اس کے کہ قیدی کچھ کہتا روشی بول پڑی! "تم فکر نہ کرو سلیم میں تمہارے گھر والوں کی اچھی طرح خبرگیری کروں گی!"

اور پھر وہ جواب کا انتظار کئے بغیر باہر نکل گئی!
 

قیصرانی

لائبریرین
۸​

عمران نے روشی کا بیان بہت غور سے سنا اور چند لمحے خاموش رہ کر بولا!

"تم واقعی چل نکلی ہو! اس سے زیادہ میں بھی نہ کرسکتا۔۔۔!"

"اور تم میری کاروائی سے مطمئن ہو!" روشی نے پوچھا!

"اتنا مطمئن ۔۔۔ کہ۔۔۔!"

عمران جملہ پورا نہ کرسکا! کیونکہ کسی نے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی۔

"ہاں۔۔۔ آں۔۔۔ کم ان!" عمران نے دروازے کو گھورتے ہوئے کہا!

ایک لڑکی دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ عمران نے اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔۔۔

"میں سعیدہ ہوں!" لڑکی نے کہا! "آپ نے مجھے دیکھا تو ہوگا!"

"نہیں ابھی نہیں دیکھ سکا! سیکرٹری میری عینک!"

لڑکی کچھ جھنجھلا سی گئی۔

"میں سجاد صاحب کی لڑکی ہوں!"

"لاحول ولا قوۃ۔ میں لڑکا سمجھا تھا۔۔۔ تشریف رکھئے! سیکرٹری! ڈائری میں دیکھو۔۔۔ یہ اسجاد صاحب کون ہیں!"

"سجاد صاحب!" لڑکی غصیلی آواز میں بولی! "آخر آپ میرا مذاق کیوں اڑا رہے ہیں!"

"میں نے آج تک پتنگ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں اڑائی! آپ یقین کیجئے۔۔۔ یوں تو اڑانے کو میرے خلاف بے پر کی بھی اڑائی جاسکتی ہے!"

"میں یہ کہنے آئی تھی کہ جمیل بھائی آپ سے ملنا چاہتے ہیں!" سعیدہ جھلا کر کھڑی ہوگئی۔

"سیکرٹری۔۔۔ ذرا ڈائری۔۔۔!"

عمران کا جملہ پورا ہونے سے قبل ہی سعیدہ کمرے سے نکل گئی!

"اس لڑکی کو میں نے کہیں دیکھا ہے!" روشی بولی "تم نے کیا کہہ دیا وہ غصہ میں معلوم ہوتی تھی!" عمران خاموش رہا! اتنے میں فون کی گھنٹی بول اٹھی! عمران نے بڑھ کر ریسیور اٹھا لیا!

"ہیلو۔۔۔! ہاں۔۔۔! ہاں! ہم ہی بول رہے ہیں! سطوت جاہ! اوہ۔۔۔ اچھا۔۔۔ اچھا! ضرور۔۔۔ ہم ضرور آئیں گے۔۔۔!"

عمران نے ریسیور رکھ کر انگڑائی لی اور خوامخواہ مسکرانے لگا!

"مجھے اس آدمی۔۔۔ سلیم کے متعلق بتاؤ۔۔۔" روشی نے کہا۔

"کیا وہ بہت خوبصورت تھا!" عمران نے پوچھا!

"بکواس مت کرو! بتاؤ مجھے۔۔۔ وہ عجیب تھا اور اس کا وہ جملہ۔۔۔ تم مجھے غصہ نہیں دلا سکتیں۔۔۔ اور اس نے پوچھا تھا کہ تمہیں کس نے بھیجا ہے!"

"روشی!۔۔۔ تم نے اس کے بارے میں کیا سوچا ہے!" عمران نے پوچھا!
 

قیصرانی

لائبریرین
"میں نے! میں نے کچھ نہیں سوچا! ویسے وہ چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے! ہے نا!"

"یہی خاص نکتہ ہے۔۔۔!" عمران کچھ سوچتا ہوا بولا "لیکن اس نے جو گفتگو تم سے کی تھی۔۔۔ وہ عجیب تھی۔۔۔ تھی یا نہیں۔۔۔! اب تم خود اندازہ کر سکتی ہو!"

"یعنی اس سلسلے میں حقیقت وہ نہیں ہے جو ظاہر کی گئی ہے!"

"باس۔۔۔ بالکل ٹھیک ہے! اس سے زیادہ میں بھی نہیں جانتا!"

تھوڑی دیر تک خاموشی رہی پھر روشی بڑبڑانے لگی "اور وہ نیلا پرندہ!۔۔۔ بالکل کہانیوں کی باتیں۔۔۔!"

"نیلا پرندہ!" عمران ایک طویل سانس لے کر اپنی ٹھوڑی کھجانے لگا! "میرا خیال ہے کہ اسے جمیل کے علاوہ اور کسی نے نہیں دیکھا! پیر یٰسین نائٹ کلب کے مینجر کا یہی بیان ہے! آج میں ان چند لوگوں سے بھی ملوں گا جن کے نام مجھے معلوم ہوئے ہیں۔۔۔!"

"کن لوگوں سے!"

"وہ لوگ جو اس شام کلب کے ڈائننگ ہال میں موجود تھے!"

لیکن اسی دن چند گھنٹوں کے بعد اس سلسلے میں عمران نے روشی کو جو کچھ بھی بتایا وہ امید افزا نہیں تھا! وہ ان لوگوں سے ملا تھا جو واردات کی شام کلب میں موجود تھے! لیکن انہیں وہاں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا تھا! البتہ انہوں نے جمیل کو بوکھلائے ہوئے انداز میں اچھلتے ضرور دیکھا تھا!

"پھر اب کیا خیال ہے!" روشی نے کہا۔۔۔!

"فی الحال ۔۔۔ کچھ بھی نہیں!" عمران نے کہا اور جیب سے چیونگم کا پیکٹ تلاش کرنے لگا!۔۔۔ روشی میز پر پڑے ہوئے قلم تراش سے کھیلنے لگی! اس کے ذہن میں بیک وقت کئی سوال تھے! عمران تھوڑی دیر تک خاموش رہا پھر بولا "فیاض نے کہا تھا کہ نائٹ کلب میں وہ پرندہ کئی آدمیوں کو نظر آیا تھا!۔۔۔ لیکن دوسروں کے بیانات اس کے برعکس ہیں!"

"ہوسکتا ہے کہ کیپٹن فیاض کو غلط اطلاعات ملی ہوں!" روشی نے کہا۔

"اسے یہ ساری اطلاعات سجاد سے ملی تھیں! اور سجاد جمیل کا چچا ہے!"

"اچھا۔۔۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا خود جمیل ہی ان اطلاعات کا ذمہ دار ہے!"

"ہاں۔۔۔ فی الحال یہی سمجھا جا سکتا ہے!" عمران کچھ سوچتا ہوا بولا!

"اچھا پھر میں چلا۔۔۔ جمیل مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔!"
 

قیصرانی

لائبریرین
۱۰​

نواب جاوید مرزا کے یہاں رات کے کھانے کی میز پر عمران بھی تھا! شوکت کے علاوہ خاندان کے وہ سارے افراد موجود تھے جنہیں عمران پہلے بھی یہاں دیکھ چکا تھا! وہ کافی دیر سے سوچ رہا تھا کہ آخر شوکت کیوں غائب ہے! کھانے کے دوران میں جاوید مرزا کو اچانک اپنے والد مرحوم یاد آگئے اور عمران خوامخواہ بور ہو تا رہا لیکن اس نے کسی مصرع پر گرہ نہیں لگائی ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی بات بڑھانا نہ چاہتا رہا ہو!

خدا خدا کر کے والد صاحب کی داستان ختم ہوئی۔۔۔ پھر دادا صاحب کا بیان بھی چھڑنے والا ہی تھا کہ عمران بول پڑا "وہ صاحب! کیا نام ہے یعنی کہ سائنسدان صاحب نظر نہیں آتے۔۔۔!.

"شوکت!" جاوید مرزا بے دلی سے بڑبڑایا "وہ لیبارٹری میں جھک مار رہا ہو گا!"

"لاحول ولا قوۃ!" عمران نے اس طرح ہونٹ سکیڑے جیسے لیبارٹری میں ہونا اس کے نزدیک بڑی ذلیل بات ہو!۔۔۔

اس پر عرفان نے سائنسدانوں اور فلسفیوں کی بوکھلاہٹ کے لطیفے چھیڑ دیئے!۔۔۔ عمران اب بھی بوریت محسوس کرتا رہا! آج وہ کچھ کرنا چاہتا تھا! جیسے ہی عرفان کے لطیفوں کا اسٹاک ختم ہوا عمران بول پڑا۔ "آپ کی کوٹھی بہت شاندار ہے۔۔۔ پہاڑی علاقوں میں ایسی عظیم عمارتیں بنوانا آسان کام نہیں ہے۔۔۔!"

"میرا خیال ہے کہ آپ نے پوری کوٹھی نہیں دیکھی!" جاوید مرزا چہک کر بولا!

"جی نہیں!۔۔۔ ابھی تک نہیں!"

"اگر آپ کے پاس وقت ہو۔۔۔ تو۔۔۔!"

"ضرور۔۔۔ ضرور۔۔۔ میں ضرور د یکھوں گا!۔۔۔" عمران نے کہا۔ کھانے کے بعد انہوں نے لائبریری میں کافی پی۔۔۔ اور پھر جاوید مرزا عمران کو عمارت کے مختلف حصے دکھانے لگا!۔۔۔ اس تقریب میں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی شریک نہیں تھا! جاوید مرزا پر ایک بار پھر عظمت رفتہ کی بکواس کا دورہ پڑا۔ لیکن عمران نے اسے زیادہ نہیں بہکنے دیا!

"یہ آپ کے شوکت صاحب۔۔۔ کیا کسی ایجاد کی فکر میں ہیں!"

"ایجاد!" جاوید مرزا بڑبڑایا "ایجاد وہ کیا کرے گا! بس وقت اور پیسوں کی بربادی ہے! لیکن آخر آپ اس میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں!"

"وجہ ہے!۔۔۔"

"وجہ!" دفعتاً جاوید مرزا رک کر عمران کو گھورنے لگا!

"یقیناً آپ کو گراں گزرے گا!" عمران جلدی سے بولا "کیوں کہ آپ پرانے وقتوں کے لوگ ہیں! لیکن ہمارے طبقے پر جو برا وقت پڑا ہے اس سے آپ نا واقف نہ ہوں گے! اب ہم میں سے ہر ایک کو پرانی عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا!"

"یعنی کیا کرنا پڑے گا۔۔۔!"

"میں نے ایک پروگرام بنایا ہے۔۔۔ شوکت صاحب سے کہئے کہ لیبارٹری میں محدود ہو کر سر کھپانا محض ذہنی عیاشی ہے!۔۔۔ باہر نکلیں اور اپنے طبقے کی عظمت برقرار رکھنے کے لئے کچھ کام کریں!"

"وہ کیا کرے گا!"

"مثلاً ایک ہزار ایکڑ زمین میں۔۔۔!"
 

قیصرانی

لائبریرین
"کاشت کاری!" جاوید مرزا جلدی سے بولا۔۔۔ "بکواس ہے؟"

"افسوس یہی تو آپ نہیں سمجھے! خیر میں خود ہی شوکت صاحب سے گفتگو کروں گا!۔۔۔ان کی لیبارٹری کہاں ہے!"

"آپ خوامخواہ اپنا وقت برباد کریں گے!" جاوید مرزا نے بے دلی سے کہا!۔۔۔ وہ شاید ابھی کچھ دیر اور عمران کو بور کرنا چاہتا تھا!

"نہیں جناب میں اسے ضروری سمجھتا ہوں۔ لیکن اگر وہ میری مدد کرسکیں۔۔۔ "جاوید مرزا نے کسی ملازم کو آواز دی اور عمران کا جملہ ادھورا رہ گیا۔۔۔!

پھر چند ہی لمحات کے بعد وہ اس ملازم کے ساتھ لیبارٹری کی طرف جا رہا تھا۔

لیبارٹری اصل عمارت سے تقریباً ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر ایک چھوٹی سی عمارت میں تھی۔ اس میں تین کمرے تھے! شوکت یہیں رہتا بھی تھا! عمران نے نوکر کو عمارت کے باہر ہی سے رخصت کردیا۔۔۔!

ظاہر ہے کہ وہ کس کام کے لئے یہاں آیا تھا! دروازے بند تھے اور وہ سب نیچے سے اوپر تک ٹھوس لکڑی کے تھے! ان میں شیشے نہیں تھے! کھڑکیاں تھیں۔۔۔ لیکن ان میں باہر کی طرف سلاخیں لگی ہوئی تھیں!۔۔۔ البتہ ان میں شیشے تھے اور وہ سب روشن نظر آرہی تھیں جس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی اندر موجود ہے!۔۔۔ اس نے ایک کھڑکی کے شیشوں پر پل بھر کے لئے ایک سایہ سا دیکھا! ممکن ہے کہ وہ کسی کی متحرک پرچھائیں رہی ہو۔۔۔!

عمران اس کھڑکی کی طرف بڑھا۔۔۔

دوسرے ہی لمحے وہ عمارت کے اندر کے ایک کمرے کا حال بخوبی دیکھ سکتا تھا!۔۔۔ حقیقتاً وہ لیبارٹری ہی میں جھانک رہا تھا!۔۔۔ یہاں مختلف قسم کے آلات تھے! شوکت لوہے کی ایک انگیٹھی پر جھکا ہوا تھا! اس میں کوئلے دہک رہے تھے اور ان کا عکس شوکت کے چہرے پر پڑ رہا تھا!۔۔۔

عمران کو انگیٹھی سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا تھا!۔۔۔۔ اور وہ شاید گوشت ہی کے جلنے کی بو تھی جو لیبارٹری کی حدود سے نکل کر باہر بھی پھیل گئی تھی۔۔۔!

شوکت چند لمحے انگیٹھی پر جھکا رہا پھر سیدھا کھڑا ہوگیا!

اب وہ قریب ہی کی میز پر رکھے ہوئے دفتی کے ایک ڈبے کی طرف دیکھ رہا تھا!

پھر اس نے اسی میں ہاتھ ڈال کر جو چیز نکالی وہ کم از کم عمران کے خواب و خیال میں بھی نہ رہی ہوگی!۔۔۔ ظاہر ہے کہ وہ کسی فوری کامیابی کی توقع لے کر تو یہاں آیا نہیں تھا!۔۔۔

شوکت کے ہاتھ میں ایک ننھا سا نیلے رنگ کا پرندہ تھا۔۔۔ اور شاید وہ زندہ نہیں تھا۔۔۔ وہ چند لمحے اس کی ایک ٹانگ پکڑ کر لٹکائے اسے بغور دیکھتا رہا پھر عمران نے اسے دہکتے ہوئے انگاروں پر گرتے دیکھا۔!۔۔۔ ایک بار پھر انگیٹھی سے گہرا دھواں اٹھ کر خلا میں بل کھانے لگا۔۔۔ شوکت نے مزید دو پرندے اس ڈبے سے نکالے اور انہیں بھی انگیٹھی میں جھونک کر سگریٹ سلگانے لگا!

عمران بے حس و حرکت کھڑا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے کیا کرنا چاہئے! ویسے وہ اب بھی قانونی طور پر اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرسکتا تھا!۔۔۔

عمران سوچنے لگا! کاش کہ ان میں سے ایک ہی پرندہ اس کے ہاتھ لگ سکتا! مگر اب وہاں کیا تھا!۔۔۔ ایک بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی! مردہ پرندے! ان کے جلائے جانے کا مقصد تو یہی ہوسکتا تھا کہ وہ انہیں اس شکل میں بھی کسی دوسرے کے قبضے میں نہیں جانے دینا چاہتا! یعنی ان مردہ پرندوں سے بھی جمیل والے واقعے پر روشنی پڑ سکتی تھی!
 

قیصرانی

لائبریرین
عمران لیبارٹری کی تلاشی لینے کے لئے بے چین تھا!۔۔۔ لیکن! وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو اس پر ذرہ برابر بھی شک ہوسکے کیونکہ یہ ایک ایسا کیس تھا جس میں مجرم کے خلاف ثبوت بہم پہنچانے کے سلسلے میں کافی کد و کش کی ضرورت تھی۔۔۔ اور مجرم کا ہوشیار ہو جانا یقیناً دشواریوں کا باعث بن سکتا تھا!۔۔۔

شوکت انگیٹھی کے پاس سے ہٹ کر ایک میز کی دراز کھول رہا تھا! دراز مقفل تھی! اس نے اس میں سے ایک ریوالور نکال کر اس کے چیمبر بھرے اور جیب میں ڈال لیا! انداز سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کہیں باہر جانے کی تیاری کر رہا ہے! پھر وہ اس کمرے سے چلا گیا!

عمران کھڑکی کے پاس سے ہٹ کر ایک درخت کے تنے کی اوٹ میں ہوگیا! جلد ہی اس نے کسی دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنی۔ پھر سناٹے میں قدموں کی آہٹیں گونجنے لگیں۔ آہستہ آہستہ یہ آوازیں بھی دور ہوتی گئیں اور پھر سناٹا چھا گیا!

عمران تنے کی اوٹ سے نکل کر سیدھا صدر دروازے کی طرف آیا! اسے توقع تھی کہ وہ مقفل ہوگا!۔۔۔ لیکن ایسا نہیں تھا! ہاتھ لگاتے ہی دونوں پٹ پیچھے کی طرف کھسک گئے۔۔۔!

عمران ایک لحظہ کے لئے رکا!۔۔۔ دروازہ غیر مقفل ہونے کا مطلب یہ تھا کہ شوکت زیادہ دور نہیں گیا! ہوسکتا تھا کہ وہ رات کے کھانے کے لئے صرف کوٹھی ہی تک گیا ہو! مگر وہ ریوالور۔۔۔ آخر صرف کوٹھی تک جانے کے لئے ریوالور ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی! عمران نے اپنے سر کو خفیف سی جنبش دی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو اس وقت اس چھوٹی سی عمارت کی تلاشی ضرور لی جائے گی!

اس نے جیب سے ایک سیاہ نقاب نکال کر اپنے چہرے پر چڑھا لیا! ایسے مواقع پر وہ عموماً یہی کیا کرتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ کسی سے مڈھ بھیڑ ہو جانے کے باوجود بھی وہ نہ پہچانا جاسکے۔

یہاں سے آتے وقت اس نے جاوید مرزا کے نوکر سے شوکت کے عادات و اطوار کے متعلق بہت کچھ معلوم کر لیا تھا۔۔۔ شوکت یہاں تنہا رہتا تھا۔۔۔ اور اس کی لیبارٹری اسسٹنٹ کیے علاوہ بغیر اجازت کوئی وہاں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ خواہ وہ خاندان ہی کا کوئی فرد کیوں نہ!۔۔۔ فی الحال اس کا لیبارٹری اسسٹنٹ جیل میں تھا! لہٰذا شوکت کے علاوہ وہاں کسی اور کی موجودگی ناممکنات میں سے تھی۔ لیکن عمران نے اس کے باوجود بھی احتیاطا نقاب استعمال کیا تھا وہ اندر داخل ہوا۔۔۔ عمارت میں چاروں طرف گہری تاریکی تھی!۔۔۔ لیکن عمران سے روشنی کرنے کی حماقت سرزد نہیں ہوئی۔۔۔و ہ دیکھ بھال کے لئے ننھی سی ٹارچ استعمال کر رہا تھا۔ جس کی روشنی محدود تھی!

دس منٹ گذر گئے! لیکن کوئی ایسی چیز ہاتھ نہ لگی جسے شوکت کے خلاف بطور ثبوت استعمال کیا جاسکتا!

دو کمروں کی تلاشی لینے کے بعد وہ لیبارٹری میں داخل ہوا یہاں بھی اندھیرا تھا! لیکن انگیٹھی میں اب بھی کوئلے دہک رہے تھے۔۔۔

عمران نے سب سے پہلے دفتی کے اس ڈبے کا جائزہ لیا جس میں سے مردہ پرندے نکال نکال کر انگیٹھی میں ڈالے گئے تھے! مگر ڈبہ اب خالی تھا!

عمران دوسری طرف متوجہ ہوا۔

"خبردار!" اچانک اس نے اندھیرے میں شوکت کی آواز سنی! "تم جو کوئی بھی ہو اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لو۔۔۔"

مگر اس کا جملہ پورا ہونے سے قبل ہی عمران کی ٹارچ بجھ چکی تھی! وہ جھپٹ کر ایک الماری کے پچھے ہوگیا!۔۔۔

"خبردار۔ خبردار۔۔۔" شوکت کہہ رہا تھا" ریوالور کا رخ دروازے کی طرف ہے۔ تم بھاگ نہیں سکتے!"

عمران نے اندازہ کر لیا کہ شوکت آہستہ آہستہ سوئچ بورڈ کی طرف جا رہا ہے۔۔۔ اگر اس نے روشنی کردی تو؟۔۔۔ اس خیال نے عمران کے جسم میں برق کی سی سرعت بھر دی اور وہ تیزی سے بے آواز چلتا ہوا دروازے کے قریب پہنچ گیا! اسے شوکت کی حماقت پر ہنسی بھی آرہی تھی۔ اول تو اتنا اندھیرا تھا کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا تھا! دوم اسی کمرے میں اکیلا ایک وہی دروازہ نہیں تھا۔۔۔ لیکن عمران نے اسی دروازے کو راہ فرار بنایا جس کی طرف شوکت نے اشارہ کیا تھا! وہ نہایت آسانمی سے عمارت سے باہر نکل آیا اور پھر تیزی سے کوٹھی کی طرف جاتے وقت اس نے مڑ کر دیکھا تو لیبارٹری والی عمارت کی ساری کھڑکیاں روشن ہو چکی تھیں!
 

قیصرانی

لائبریرین
۱۱​

روشی نے تحیر آمیز انداز میں عمران کی طرف دیکھا۔

"ہاں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں!" عمران نے سر ہلا کر کہا "پچھلی رات شوکت نے مجھے دھوکہ دیا تھا۔۔۔ شاید اسے کسی طرح علم ہو گیا تھا کہ میں کھڑکی سے جھانک رہا ہوں!۔۔۔"

"ریوالور تھا اس کے پاس!"

"ہاں! لیکن اس کی کوئی اہمیت نہیں! ہو سکتا ہے کہ وہ اس کا لائسنس بھی رکھتا ہو!"

"اور وہ پرندے نیلے ہی تھے!"

"سو فیصدی!" عمران نے کہا! کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا "تم پچھلی رات کہاں غائب رہیں!"

"میں اسی آدمی سلیم کے چکر میں رہی تھی!"

"ہائیں روشی! تم سچ مچ سراغرساں ہوتی جا رہی ہو!۔۔۔ بہت خوب!۔۔۔ ہاں تو پھر۔۔۔ تم نے غالباً۔۔۔"

"ٹھہرو! بتاتی ہوں!۔۔۔ میں نے اس کے متعلق بہتری معلومات حاصل کی ہیں!"

"شروع ہو جاؤ!"

"اس کے بعض اعزہ نے اس کی ضمانت لینی چاہی تھی! لیکن اس نے اسے منظور نہیں کیا تھا! اس پر خود پولیس کو حیرت ہے!"

"اس سے اس کی وجہ ضرور پوچھی گئی ہوگی!"

"ہاں! ہاں۔ لیکن اس کا جواب کچھ ایسا ہے جو کسی فلم یا اخلاقی قسم کے ناول کا موضوع بن کر زیادہ دلچسپ ثابت ہو سکتا ہے!"

"یعنی۔۔۔!"

"وہ کہتا ہے کہ میں اپنا مکروہ چہرہ کسی کو نہیں دکھانا چاہتا! میں نے ایک ایسے مالک کو دھوکا دیا ہے جو انتہائی نیک، شریف اور مہربان تھا! میں نہیں چاہتا کہ اب کبھی اس کا سامنا ہو۔ میں جیل کی کوٹھڑی میں مر جانا پسند کروں گا!"

"اچھا!" عمران احمقوں کی طرح آنکھیں پھاڑ کر رہ گیا۔!

"میں نہیں سمجھ سکتی کہ بیسویں صدی میں بھی اتنے حساس آدمی پائے جاتے ہوں گے! ظاہر ہے جو اتنا حساس ہو گا وہ چوری ہی کیوں کرنے لگا۔۔۔! ویسے اس کے جاننے والوں میں یہ خیال عام ہے کہ وہ ایک بہت اچھا آدمی ہے اور اس سے چوری جیسا فعل سرزد ہونا ناممکنات میں سے نہیں۔۔۔! مگر دوسری طرف وہ خود ہی اعتراف جرم کرتا ہے!"

"تو پھر اس کے جاننے والوں میں کئی طرح کے خیالات پائے جاتے ہوں گے!"

"ہاں میں نے بھی یہی محسوس کیا ہے!" روشی سر ہلا کر بولی "کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ محض کسی قسم کا ڈرامہ ہے۔"

"لیکن کس قسم کا! اس کے مقصد پر بھی کسی نے روشنی ڈالی یا نہیں!"

"نہیں اس کے بارے میں کسی نے کچھ نہیں کہا!"

عمران کچھ سوچنے لگا!۔ پھر اس نے کہا "معاملات کافی پیچیدہ ہیں!"
 

قیصرانی

لائبریرین
"پیچیدہ نہیں بلکہ مضحکہ خیز کہو!" روشی مسکرا کر بولی "سلیم شوکت کا ملازم تھا! اگر شوکت کو اصل مجرم سمجھ لیا جائے تو سلیم کے جیل جانے کا واقعہ قطعی بے مقصد ہوا جاتا ہے!"

"کسی حد تک تمہارا خیال بالکل درست ہے!"

"کسی حد تک کیا! بالکل درست ہے!" روشی بولی!

"نہیں اس پر بالکل کی چھاپ لگانا ٹھیک نہیں!" عمران کچھ سوچتا ہوا بولا!

"اچھا پھر تم ہی بتاؤ کہ اسے جیل کیوں بھجوایا گیا۔۔۔!"

"ہوسکتا ہے کہ اس نے سچ مچ چوری کی ہو!"

"اوہو! کیا تمہیں وہ گفتگو یاد نہیں جو جیل میں میرے اور اس کے درمیان ہوئی تھی!"

"مجھے اچھی طرح یاد ہے!"

"پھر!"

"پھر کچھ بھی نہیں! مجھے سوچنے دو! ہاں ٹھیک ہے اسے یوں ہی سمجھو! فرض کرو کہ سلیم شوکت کے جرم سے واقف ہے اسی لئے وہ اس پر چوری کا الزام لگا کر اسے جیل بھجوا دیتا ہے!"

"اگر یہی بات ہے!" روشی جلدی سے بولی "تو وہ نہایت آسانی سے شوکت کے جرم کا راز فاش کرسکتا تھا! عدالت کو بتا سکتا تھا کہ اسے کس لئے جیل بھجوایا گیا ہے!"

"واہ۔۔۔ ہا!" عمران ہاتھ نچا کر بولا "تم بالکل بدھو ہو!۔۔۔ عدالت میں شوکت بھی یہی کہہ سکتا تھا کہ وہ اپنی گردن بچانے کے لئے اس پر جھوٹا الزام عائد کر رہا ہے۔۔۔ آخر اس نے گرفتار ہونے سے قبل ہی اس کے جرم سے پولیس کو کیوں نہیں مطلع کیا۔۔۔ واضح رہے کہ سلیم کی گرفتاری جمیل والے واقعے کے تین بعد عمل میں آئی تھی!"

"چلو میں اسے مانے لیتی ہوں!" روشی نے کہا "سلیم نے مجھ سے یہ کیوں کہا تھا کہ تم مجھ کو غصہ نہیں دلا سکتیں!"

"تم خاموشی سے میری بات سنتی جاؤ!" عمران جھنجھلا کر بولا "بات ختم ہونے سے پہلے نہ ٹوکا کرو۔۔۔ میں تمہیں سلیم کے ان الفاظ کا مطلب بھی سمجھا دوں گا اور اسی روشنی میں کہ شوکت ہی مجرم ہے ویسے میری گفتگو کا ماحصل ہو گا کہ سلیم شوکت سے بھی زیادہ گھاگ ہے! فرض کرو، سلیم نے سوچا ہو کہ وہ جیل ہی میں زیادہ محفوظ رہ سکے گا! ورنہ ہو سکتا ہے کہ شوکت اپنا جرم چھپانے کے لئے اسے قتل ہی کرا دے! شوکت نے اسے اس توقع پر ہی چوری کے الزام میں جیل بھجوا دیا ہو گا کہ وہ اس کا راز ضرور اگل دے گا! لیکن خود بھی ماخوذ ہونے کی بنا پر عدالت کو اس کا یقین دلانے میں کامیاب نہ ہو گا! شوکت کے پاس اس صورت میں سب سے بڑا عذر یا اعتراض یہی ہو گا کہ اس نے گرفتار ہونے سے تین دن قبل پولیس کو اس سے مطلع کیوں نہیں کیا!"

"میں سمجھ گئی۔۔۔ لیکن سلیم کے وہ جملے۔۔۔!" روشی نے پھر ٹوکا!

"ارے خدا تمہیں غارت کرے۔۔۔ سلیم کے جملوں کی ایسی کی تیسی۔۔۔ میں خود پھانسی پر چڑھ جاؤں گا! تمہارا گلا گھونٹ کر۔۔۔! ہاں۔۔۔ مجھے بات پوری کرنے دو۔ روشی کی بچی!"

روشی ہنس پڑی! عمران نے کچھ اسی قسم کے مضحکہ خیز انداز میں جھلاہٹ ظاہر کی تھی۔۔۔!

"ارے اس بندوق کے پٹھے نے بالکل خاموشی اختیار کر لی۔۔۔ یعنی شوکت کے جرم کا معاملہ بالکل ہی گھونٹ کر اپنے جرم کا اعتراف کر لیا!۔۔۔ اب تم خود سوچو شیطان کی خالہ کہ شوکت پر
 

قیصرانی

لائبریرین
اس کا کیا رد عمل ہوا ہو گا!۔۔۔ ظاہر ہے اس نے یہ ضرور چاہا ہو گا کہ شوکت پر اس کا کیا رد عمل ہوا ہو گا!۔۔۔ ظاہر ہے کہ اس نے یہ ضرور چاہا ہو گا کہ وہ سلیم کے اس روئیے کی وجہ معلوم کرے۔۔۔ اور دوسری طرف سلیم نے بھی یہی سوچا ہو گا کہ شوکت اس کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔۔۔ پھر تم وہیں جا پہنچیں! سلیم سمجھا کہ شوکت ہی کی طرف سے اس کی ٹوہ میں آئی ہو! لہٰذا اس نے تمہیں اڑن گھائیاں بتائیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ تم اسے غصہ دلا کر بھی اصلیت نہیں اگلوا سکتیں۔۔۔! ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنی دانست میں شوکت کو اور زیادہ خوفزدہ کرنے کے لئے تم اس سے قسم کی گفتگو کی ہو!"

"مگر!"

"مگر کی بچی! اب اگر تم نے کوئی نکتہ نکالا تو میں ایک بوتل کوکا کولا پی کر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جاؤں گا۔"

"تمہارا نظریہ غلط بھی ہوسکتا ہے!" روشی نے سنجیدگی سے کہا!

"نائیں۔۔۔ میں شرلاک ہومز ہوں!" عمران حلق پھاڑ کر چیخا۔ "مجھ سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوسکتی!۔۔۔ میں جوتے کا چمڑا دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ کبوتر کی کھال ہے یا مینڈک کی کھال کا ہے۔۔۔! ابھی مجھے ڈاکٹر واٹسن جیسا کوئی چغد نہیں ملا یہی وجہ ہے کہ میں تیزی سے ترقی نہیں کرسکتا!۔۔۔"

"اچھا فرض کرو اگر پیر یٰسین نائٹ کلب کے مینجر ہی کی بات سچ ہو تو!"

"مجھے بڑی خوشی ہو گی! خدا ہر ایک کو سچ بولنے کی توفیق عطا کرے!"

"مجھ سے بے تکی باتیں نہ کیا کرو!" روشی جھلا گئی!

"اے۔۔۔ روشی تم اپنا لہجہ ٹھیک کرو! میں تمہارا شوہر نہیں ہوں۔۔۔ ہاں!"

"تمہیں شوہر بنانے والی کسی گدھی ہی کے پیٹ سے پیدا ہو گی!"

"خبردار اگر تم نے گدھی کی شان میں کوئی نازیبا کلمہ منہ سے نکالا!" عمران گرج کر بولا اور روشی برا سا منہ بنائے ہوئے کمرے سے نکل گئی!
 

قیصرانی

لائبریرین
۱۲​

عمران کا ایک ایک لمحہ مصروفیت میں گزر رہا تھا! اس کی دانست میں مجرم اس کے سامنے موجود تھا۔ بس اب اس کے خلاف ایسے ثبوت مہیا کرنا باقی رہ گیا تھا جنہیں عدالت میں پیش کیا جاسکے۔

اس نے شوکت کے پاس مردہ پرندے دیکھے تھے! جنہیں وہ آگ میں جلا رہا تھا۔۔۔ بعض اوقات مختلف حالات کی ظاہری یکسانیت دھوکا بھی دے جاتی ہے! لہٰذا عمران نے شوکت کے حق میں بھی بہتیرے نظریات قائم کئے! لیکن خود بخود ان کی تردید ہوتی چلی گئی۔

پروین شوکت کی چچا زاد بہن تھی اور نواب جاوید مرزا کی اکلوتی بیٹی! ظاہر ہے کہ اس کی جائیداد کی مالک وہی ہوتی! شوکت بھی کبھی صاحب جائیداد تھا لیکن اس کی جائیداد سائنٹفک تجربات کی نذر ہو گئی تھی۔۔۔

لہٰذا وہ دوبارہ اپنی مالی حالت درست کرنے کے لئے پروین سے شادی کے خواب دیکھ سکتا تھا۔ عمران نے اپنا یہ خیال کیپٹن فیاض پر ظاہر کیا جسے اس نے تار دے کر خاص طور پر سے سردار گڈھ بلایا تھا!

"مگر! عمران!" فیاض نے کہا "یہ ضروری تو نہیں کہ پروین کی شادی اس واقعے کے بعد شوکت ہی سے ہو جائے! اگر جاوید مرزا کو اس کی شادی اپنے بھتیجوں کے ہی میں سے کسی کے ساتھ کرنی ہوتی تو بات جمیل تک کیسے پہنچتی!"

"اعتراض ٹھیک ہے!" عمران بولا "لیکن اس صورت میں میرے قائم کردہ نظرئیے کو دوسرے دلائل سے بھی تقویت پہنچ سکتی ہے۔ نظریہ بدستور وہی رہے گا لیکن دلائل۔۔۔"

"اچھا مجھ بتاؤ۔۔۔ اب تم کیا دلیل رکھتے ہو!"

"انسانی فطرت کی روشنی میں اسے دیکھنے کی کوشش کرو! ہم سب ذاتی آسودگی چاہتے ہیں۔ ہر معاملے میں! لیکن حالات کے ساتھ ہی آسودگی حاصل کرنے کا طریق کار بھی بدلتا رہتا ہے۔۔۔! شوکت کو پروین سے شادی کرلینے پر بھی آسودگی حاصل ہو سکتی ہے اور شادی نہ ہونے کی صورت میں اپنے انتقامی جذبے کو بے لگام چھوڑ دینے سے بھی اسی قسم کی آسودگی حاصل ہو سکتی ہے! یعنی اگر وہ انتقاما پروین کے ہر منگیتر کا چہرہ بگاڑتا رہے۔ تب بھی اسے اتنا ہی سکون ملے گا جتنا پروین سے شادی ہو جانے پر حاصل ہو سکتا ہے!"

فیاض چند لمحے سوچتا رہا پھر آہستہ سے بولا "تم ٹھیک کہتے ہو!"

"میں جھک مار رہا ہوں۔۔۔۔ اور تم بالکل گدھے ہو!" دفعتاً عمران کا موڈ بگڑ گیا!

"کیا؟" فیاض اسے متحیرانہ انداز میں گھورنے لگا!

"کچھ نہیں میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اس محکمے کے لئے مناسب نہیں ہو! استعفٰی دے کر میری فرم میں ملازمت کرو! فی طلاق کے حساب سے کمیشن الگ۔۔۔ یعنی اس سے اور تنخواہ سے کوئی مطلب نہ ہوگا!"

"عمران پیارے کام کی بات کرو!" فیاض بڑی لجاجت سے بولا "میں چاہتا ہوں کہ تم اس معاملے کو جلد سے جلد نپٹا کر واپس چلو۔۔۔ وہاں بھی کئی مصیبتیں تمہاری منتظر ہیں!"

"ہائیں! کہیں میری شادی تو نہیں طے کردی۔۔۔!"

"ختم کرو!" فیاض ہاتھ اٹھا کر بولا "شوکت والے نظرئیے کے علاوہ کسی اور کا بھی امکان ہے یا نہیں۔۔۔!"

"ہے کیوں نہیں! یہ حرکت جمیل کے چچا یا ماموں کی بھی ہو سکتی ہے!"
 

قیصرانی

لائبریرین
"ہاں! ہو سکتا ہے! مگر میں اس پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں!"

"محض اس لئے کہ سجاد سے تمہارے دوستانہ تعلقات ہیں! کیوں؟"

"نہیں! یہ بات نہیں! ان میں سے ہر ایک میرے لئے ایک کھلی ہوئی کتاب ہے! ان میں کوئی بھی اتنا ذہین نہیں ہے۔۔۔"

"خیر مجھے اس سے بحث نہیں ہے۔۔۔! میں نے جس کام کے لئے بلایا ہے اسے سنو!" عمران نے کہا اور پھر خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا!

تھوڑی دیر بعد پھر بولا "سلیم کا قصہ سن ہی چکے ہو! میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح اسے جیل سے باہر لایا جائے!"

"بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔!"

"کوئی صورت نکالو۔۔۔!"

"آخر اس سے کیا ہوگا!"

"بچہ ہوگا اور تمہیں ماموں کہے گا!" عمران جھلا کر بولا!

"ناممکن ہے۔۔۔۔ یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا!"

"بچہ!" عمران نے پوچھا!

"بکو مت! میں سلیم کی رہائی کے متعلق کہہ رہا ہوں! وہ چوری کے جرم میں ماخوذ ہے! اسے قانون کے سپرد کرنے والا شوکت ہے! جب تک کہ وہ خود کو عدالت سے اس کی رہائی کی درخواست نہ کرے ایسا نہیں ہوسکتا!"

"میں بھی اتنا جانتا ہوں!"

"اس کے باوجود بھی اس قسم کے احمقانہ خیالات رکھتے ہو!"

"اگر وہ رہا نہیں ہوسکتا تو پھر اصل مجرم کا ہاتھ آنا محال ہے!"

"آخر شوکت کے خلاف ثبوت کیوں نہیں مہیا کرتے۔۔۔!"

"مجھے یہ سب بنڈل معلوم ہوتا ہے!۔۔۔ خصوصاً پرندوں کی کہانی!"

"پھر شوکت ان مردہ پرندوں کو آگ میں کیوں جلا رہا تھا!" فیاض نے کہا!

"وہ جھک مار رہا تھا! اسے جہنم میں ڈالو! لیکن کیا تم کسی ایسے پرندے کے وجود پر یقین رکھتے ہو جس کے چونچ مارنے سے آدمی مبروص ہو جائے؟ اور اس کے جسم میں ایسے جراثیم پائے جائیں جو ساری دنیا کے لئے بالکل نئے ہوں! ظاہر ہے کہ سفید داغوں کی وجہ وہی جراثیم ہیں!"

"ممکن ہے کسی سائنٹفک طریقہ سے ان پرندوں میں اس قسم کے اثرات پیدا کئے گئے ہوں!"

"اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ یعنی تم بھی یہی سمجھتے ہو! اس کا یہ مطلب ہو اکہ ہر آدمی کسی ایسے سائنٹفک طریقوں کے متعلق سوچ سکتا ہے! تو گویا شوکت بالکل بدھو ہے اس نے دیدہ دانستہ اپنی گردن پھنسوائی ہے! سارا سردار گڈھ اس بات سے واقف ہے کہ شوکت ایک ذہین سائنسدان ہے اور جراثیم اس کا خاص موضوع ہیں!"

"پھر وہ مردہ پرندے۔۔۔!"

"میں کہتا ہوں کہ اس بات کو ختم ہی کردو تو اچھا ہے! سلیم کی رہائی کے متعلق سوچو!"

"وہ ایسا ہے جیسے مچھر کے بطن سے ہاتھی کی پیدائش کے متعلق سوچنا!"

"تب پھر اصل مجرم کا ہاتھ آنا بھی مشکل ہے۔۔۔۔ اور میں اپنا بستر گول کرتا ہوں!"

"تم خود ہی کوئی تدبیر کیوں نہیں سوچتے!" فیاض جھنجھلا کر بولا۔

"میں سوچ چکا ہوں!"

"تو پھر کیوں جھک مار رہے ہو! مجھے بتاؤ کیا سوچا ہے!"

"اس کے کسی عزیز کو ضمانت کے لئے تیار کراؤ!"

"مگر وہ ضمانت پر رہا ہونے سے انکار کرتا ہے!"

"اس کے انکار سے کیا ہوتا ہے۔۔۔! مٰں اسے عدالت میں جھکی ثابت کرا دوں گا اور پھر اسے اس بات کی اطلاع دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ اس کی ضمانت ہونے والی ہے اتنا تو تم کر ہی سکو گے کہ جیل سے عدالت لانے سے قبل اس پر یہ ظاہر کیا جائے کہ مقدمے کی پیشی کے سلسلے میں اسے لے جایا جا رہا ہے!"

"ہاں یہ ہو سکتا ہے!"

"ہو نہیں سکتا بلکہ اسے کل تک ہو جانا چاہیئے!" عمران نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا!
 

قیصرانی

لائبریرین
۱۳​

ضمانت ہو جانے کے بعد بھی سلیم عدالت سے نہیں ٹلا! اس کے چہرے پر سراسیمگی کے آثار تھے! وہ عدالت ہی کے ایک برآمدے میں مضطربانہ انداز میں ٹہل رہا تھا اور کبھی کبھی خوف زدہ آنکھوں سے ادھر اُدھر بھی دیکھ لیتا تھا!

عمران اس کے لئے بالکل اجنبی تھا! اس لئے اس سے بہت قریب رہ کر بھی اس کی حالت کا مشاہدہ کر سکتا تھا!

شام ہو گئی اور سلیم وہیں ٹہلتا رہا! جس نے اس کی ضمانت دی تھی وہ ہتھ کڑیاں کھلنے سے پہلے ہی عدالت سے کھسک گیا تھا!

پھر وہ وقت بھی آیا جب سلیم اس برآمدے میں بالکل تنہا رہ گیا! عمران بھی اب وہاں سے ہٹ گیا تھا! لیکن اب وہ ایسی جگہ پر تھا جہاں سے وہ اس کی نگرانی بہ آسانی کر سکتا تھا! سلیکم کو شک کرنے کا موقعہ دئیے بغیر!

عدالت میں سناٹا چھا جانے کے بعد سلیم وہاں سے چل پڑا۔ عمران اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ سلیم نے ٹیکسیوں کے اڈے پر پہنچ کر ایک ٹیکسی کی! عمران کی ٹو سیٹر بھی یہاں سے دور نہیں تھی!

بہرحال تعاقب جاری رہا! لیکن عمران محسوس کر رہا تھا کہ سلیم کی ٹیکسی یونہی بے مقصد شہر کی سڑکوں کے چکر کاٹ رہی ہے! پھر اندھیرا پھیلنے لگا! شاہراہیں بجلی کی روشنی سے دہکنے لگیں۔ عمران نے سلیم کا پیچھا نہیں چھوڑا وہ اپنا پٹرول پھونکتا رہا!

جیسے ہی اندھیرا کچھ اور گہرا ہوا آگلی ٹیکسی جیکسن روڈ پر دوڑنے لگی اور عمران نے جلد ہی اندازہ کرلیا کہ اس کا رخ نواب جاوید مرزا کی حویلی کی طرف ہے!

دونوں کاروں میں تقریباً چالیس گز کا فاصلہ تھا اور یہ فاصلہ اتنا کم تھا کہ سلیم کو تعاقب کا شبہ ضرور ہو سکتا تھا! ہو سکتا ہے کہ سلیم کو پہلے ہی شبہ ہو گیا ہو اور وہ ٹیکسی کو اسی لئے ادھر ادھر چکر کھلاتا رہا ہو!

جاوید مرزا کی حویلی سے تقریباً ایک فرلانگ ادھر ہی رک گئی! عمران نے صرف رفتار کم کر دی۔۔۔ کاری روکی نہیں اب وہ آہستہ آہستہ رینگ رہی تھی!

سڑک سنسان تھی۔ ٹیکسی واپسی کے لئے مڑی! عمران نے اسے راستہ دے دیا!

اپنی کار کی اگلی روشنی میں اس نے دیکھا کہ سلیم نے بے تحاشہ دوڑنا شروع کر دیا ہے! عمران نے رفتار کچھ تیز کر دی۔۔۔ اور ساتھ ہی اس نے جیب سے کوئی چیز نکال کر باہر سڑک پر پھینکی! ایک ہلکا سا دھماکہ ہوا اور سلیم دوڑتے دوڑتے گر پڑا لیکن پھر فورا ہی اٹھکر بھاگنے لگا!۔۔۔ پھر عمران نے اسے جاوید مرزا کے پائیں باغ میں چھلانگ لگاتے دیکھا۔۔۔!

عمران کی کار فراٹے بھرتی ہوئی آگے نکل گئی!۔۔۔ لیکن اب اس کی ساری روشنیاں بچھی ہوئی تھیں!

دو فرلانگ آگے جا کر عمران نے کار روکی اور اسے ایک بڑی چٹان کی اوٹ میں کھڑا کر دیا۔ اب وہ پیدل ہی پائیں باغ کے اس حصے کی طرف جا رہا تھا جہاں لیبارٹری والی عمارت واقع تھی! اچانک اس نے ایک فائر کی آواز سنی جو اسی طرف سے آئی تھی۔ جدھر لیبارٹری تھی! پھر دوسرا فائر ہوا اور ایک چیخ سناٹے کا سینہ چیرتی ہوئی تاریکی میں ڈوب گئی!۔۔۔ عمران نے پہلے تو دوڑنے کا ارادہ ترک کیا پھر رک گیا!۔۔۔ اب اس نے لیبارٹری کی طرف جانے کا ارادہ بھی ترک کر دیا تھا وہ جہاں تھا وہیں رکا رہا۔ جلد ہی اس نے کئی آدمیوں کے دوڑنے کی آوازیں سنیں۔ ان میں ہلکا سا شور بھی شامل تھا!۔۔۔ عمران کار کی طرف پلٹ گیا! اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا!
 

قیصرانی

لائبریرین
لیکن اچانک اس کے ذہن میں ایک نیا خیال پیدا ہوا! کیا وہ تنہائی میں بھی حماقتیں کرنے لگا ہے؟ کیا وہ حماقت نہیں تھی؟ اس نے فائروں کی آوازیں سنیں! اور وہ چیخ بھی کسی زخمی ہی کی چیخ معلوم ہوئی تھی! پھر آخر وہ کار کی طرف کیوں پلٹ آیا تھا۔۔۔ اسے آواز کی طرف بے تحاشہ دوڑنا چاہیئے تھا!۔۔۔

عمران نے اپنی کار سٹارٹ کی اور پھر سٹرک پر واپس آگیا!۔۔۔ کوٹھی کے قریب پہنچ کر اس نے کار پائیں باغ کی روش پر موڑ دی اور اسے سیدھا پورچ میں لیتا چلا گیا!

جاوید مرزا کوٹھی سے نکل کر پورچ میں آ رہا تھا۔ اس کی رفتار تیز تھی چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔۔۔ اور ہاتھ میں رائفل تھی!

"خیریت نواب صاحب!" عمران نے حیرت ظاہر کی!

"اوہ۔۔۔ سطوت جاہ۔۔۔ ادھر۔۔۔!" اس نے لیبارٹری کی سمت اشارہ کرکے کہا "کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔۔۔ دو فائر ہوئے تھے۔۔۔ چیخ۔۔۔ بھی۔۔۔ آؤ۔۔۔ آؤ۔۔۔!"

جاوید مرزا اس کا بازو پکڑ کر اسے بھی لیبارٹری کی طرف گھسیٹنے لگا!۔۔۔

کوٹھی کے سارے نوکر لیبارٹری کے قریب اکٹھا تھے! صفدر عرفان اور شوکت بھی وہاں موجود تھے! شوکت نے جاوید مرزا کو بتایا کہ وہ اندر تھا! اچانک اس نے فائروں کی آوازیں سنیں۔۔۔ پھر چیخ بھی سنائی دی۔۔۔ باہر نکلا تو اندھیرے میں کوئی بھاگتا ہوا دکھائی دیا! لیکن اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی وہ غائب ہو چکا تھا!۔۔۔

"اور۔۔۔ لاش!" جاوید مرزا نے پوچھا!

"ہم ابھی تک کسی کی لاش ہی تلاش کرتے رہے ہیں!" عرفان بولا۔

"لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی!"

"لاش!" عمران آہستہ سے بڑبڑا کر چاروں طرف دیکھنے لگا!

"تم اب یہاں تنہا نہیں رہو گے! سمجھے!" جاوید مرزا شوکت کے شانے جھنجھوڑ کر چیخا!

شوکت کچھ نہ بولا! وہ عمران کو گھور رہا تھا!

"کوئی آسیبی خلل۔۔۔ میرا دعوٰی ہے۔۔۔! عمران مکا ہلا کر رہ گیا!

"آپ اس وقت یہاں کیسے!" شوکت نے اس سے پوچھا۔۔۔!

"شوکت تمہیں بات کرنے کی تمیز کب آئے گی!" جاوید مرزا نے جھلائے ہوئے لہجہ میں کہا اور عمران ہنسنے لگا۔۔۔ اچانک اس کے داہنے گال پر دو تین گرم گرم بوندیں پھسل کر رہ گئیں اور عمران اوپر کی طرف دیکھنے لگا! پھر گال پر ہاتھ پھیر کر جیب سے ٹارچ نکالی! انگلیاں کسی رقیق چیز سے چپچپانے لگی تھیں۔

ٹارچ کی روشنی میں اسے اپنی انگلیوں پر خون نظر آیا۔۔۔۔ تازہ خون!۔۔۔ سب اپنی اپنی باتوں میں محو تھے! کسی کی توجہ عمران کی طرف نہیں تھی!۔۔۔

عمران نے ایک بار پھر اوپر کی طرف دیکھا! وہ ایک درخت کے نیچے تھا اور درخت کا اوپری حصہ تاریکی میں گم تھا!

"لیکن۔۔۔ ہمیں یہاں کسی کے جوتے ملے ہیں!" صفدر کہہ رہا تھا!

"شاید بھاگنے والا اپنے جوتے چھوڑ گیا ہے۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
اس نے درخت کے تنے کی طرف روشنی ڈالی!۔۔۔ جوتے سچ مچ موجود تھے! عمران آگے بڑھ کر انہیں دیکھنے لگا! لیکن صفدر نے ٹارچ بجھا دی! اور عمران کو اپنی ٹارچ روشن کرنی پڑی!

"ختم کرو! یہ قصہ! چلو یہاں سے!" جاوید مرزا نے کہا۔

"شوکت میں تم سے خاص طور پر کہہ رہا ہوں کہ تم اب یہاں نہیں رہو گے!"

"میرے لے کوئی خطرہ نہیں ہے!" شوکت بولا!

"ہے کیوں نہیں!" عمران بول پڑا۔ "میں بھی آپ کو یہی مشورہ دوں گا!"

"میں نے آپ سے مشورہ نہیں طلب کیا!"

"اس کی پروا نہ کیجئے! میں بلا معاوضہ مشورہ دیتا ہوں!" عمران نے کہا اور پھر بلند آواز میں بولا "میں اسے بھی مشورہ دیتا ہوں جو درخت پر موجود ہے۔۔۔ اسے چاہیے کہ وہ نیچے اتر آئے۔۔۔ وہ زخمی ہے۔۔۔ آؤ۔۔۔ آجاؤ نیچے۔۔۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم مسلح نہیں ہو۔۔۔۔ اور یہاں سب تمہارے دوست۔۔۔ ہیں۔۔۔ آجاؤ نیچے!"

"ارے، ارے، تمہیں کیا ہو گیا ہے سطوت جاہ!" جاوید مرزا نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔

اچانک عمران نے اپنی ٹارچ کا رخ اوپر کی طرف کر دیا۔

"میں سلیم ہوں!" اوپر سے ایک بھرائی ہوئی سی آواز آئی۔

"حکیم ہو یا ڈاکٹر! اس کی پروا نہ کرو! بس نیچے آ جاؤ!" سناٹے میں صرف عمران کی آواز گونجی بقیہ لوگوں کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا!

درخت پر بیک وقت کئی ٹارچوں کی روشنیاں پڑ رہی تھیں!۔۔ لیکن عمران کی نظر شوکت کے چہرے پر تھی! شوکت دفعتاً برسوں کا بیمار نظر آنے لگا!

سلیم شاخوں سے اترتا ہوا تنے کے سرے پر پہنچ چکا تھا! اچانک اس نے کراہ کر کہا۔۔۔ "میں گرا۔۔۔ مجھے بچاؤ۔۔۔۔!"

ایک ہی چھلانگ میں عمران تنے کے قریب پہنچ گیا!

"چلے آؤ۔۔۔ چلے آؤ۔۔۔ خود کو سنبھالو۔۔۔۔ اچھا۔۔۔ میں ہاتھ بڑھاتا ہوں اپنے پیر نیچے لٹکا دو!" عمران نے کہا!

جاوید مرزا وغیرہ اس کی مدد کو پہنچ گئے کسی نہ کسی طرح سلیم کو نیچے اتارا گیا!۔۔۔ اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے! اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا "میرے داہنے بازو پر گولی لگی ہے!"

"مگر تم تو جیل میں تھے۔۔۔!" جاوید مرزا بولا!

"جج۔۔۔ جی ہاں میں تھا!" سلیم آگے پیچھے جھولتا ہوا زمین پر گر گیا۔ وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
۱۴​

وہ لوگ بے ہوش سلیم کو کوٹھی کی طرف لے جا چکے تھے اور اب لیبارٹری کی عمارت کے قریب عمران کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا! وہ بھی ان کے ساتھ تھوڑی دور تک گیا تھا! لیکن پھر ان کی بے خبری میں لیبارٹری کی طرف پلٹ آیا تھا! ان سب کے ذہن الجھے ہوئے تھے اور کسی کو اس کا ہوش نہیں تھا کہ کون کہاں رہ گیا!۔۔۔ البتہ نواب جاوید مرزا شوکت کو وہاں سے کھینچتا ہوا لے گیا تھا!

لیبارٹری والی عمارت کا دروازہ کھلا ہوا تھا!۔۔۔ عمران اندر گھس گیا!۔۔۔ اس کی ٹارچ روشن تھی! اندر گھستے ہی جس چیز پر سب سے پہلے اس کی نظر پڑی وہ ایک ریوالور تھا۔ اس کا دستہ ہاتھی دانت کا تھا اور یہ سو فیصدی وہی ریوالور تھا جو عمران نے پچھلی رات شوکت کے ہاتھ میں دیکھا تھا۔ عمران نے جیب سے رومال نکالا اور اس سے اپنی انگلیاں ڈھکتے ہوئے ریوالور کو نال سے پکڑ کر اٹھا لیا۔۔۔ اور پھر وہ اسے اپنی ناک تک لے گیا! نال سے بارود کی بو آرہی تھی! صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اس سے کچھ ہی دیر قبل فائر کیا گیا ہے!۔۔۔ پھر عمران نے میگزین پر نظر ڈالی۔۔۔ دو چیمبر خالی تھے! اس نے اپنے سر کو خفیف سی جنبش دی۔۔۔۔ اور ریوالور کو بہت احتیاط سے رومال میں لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا پھر وہ وہیں سے لوٹ آیا۔۔۔ آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی! اتنا ہی کافی تھا بلکہ کافی سے بھی زیادہ!۔۔۔۔

عمران کوٹھی کی طرف چل پڑا۔ اس کا ذہن خیالات میں الجھا ہوا تھا۔۔۔ یک بیک وہ رک گیا او ر پھر تیزی سے لیبارٹری کی عمارت کی طرف مڑ کر دوڑنے لگا!

"کون ہے! ٹھہرو!" اس نے پشت پر شوکت کی آواز سنی!۔۔۔ لیکن عمران رکا نہیں۔ برابر دوڑتا رہا۔۔۔ شوکت بھی غالباً اس کے پیچھے دوڑتا رہا تھا!

"ٹھہر جاؤ۔۔۔ ٹھہرو۔۔۔ ورنہ گولی مار دوں گا" شوکت پھر چیخا۔۔۔

عمران لیبارٹری کی عمارت کے گرد ایک چکر لگا کر جھاڑیوں میں گھس گیا اور شوکت کی سمجھ میں نہ آسکا کہ وہ کہاں غائب ہو گیا!

شوکت نے اب ٹارچ روشن کر لی تھی اور چاروں طرف اس کی روشنی ڈال رہا تھا۔

شوکت نے اب ٹارچ روشن کرلی تھی اور چاروں طرف اس کی روشنی ڈال رہا تھا!۔۔۔ لیکن اس نے جھاڑیوں میں گھسنے کی ہمت نہیں کی!

پھر عمران نے اسے عمارت کے اندر جاتے دیکھا! عمران ٹھیک عمارت کے دروازے کے سامنے والی جھاڑیوں میں تھا۔ اس نے شوکت کو دروازہ کھول کر ٹارچ کی روشنی میں کچھ تلاش کرتے دیکھا!۔۔۔

اب عمران شوکت کو وہیں چھوڑ کر خراماں خراماں کوٹھی کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے ایک بار مڑ کر لیبارٹری کی عمارت پر نظر ڈالی۔۔۔ اب اس کی ساری کھڑکیوں میں روشنی نظر آرہی تھی!
 

قیصرانی

لائبریرین
۱۵​

اس واقعہ کو تین دن گزر گئے! فیاض سردار گڈھ ہی میں مقیم تھا! عمران اس سے برابر کام لیتا رہا۔۔۔ لیکن اسے کچھ بتایا نہیں!۔۔۔ فیاض اس پر جھنجھلاتا رہا۔ اور اس وقت تو اسے اور زیادہ تاؤ آیا۔ جب عمران نے لیبارٹری کی راہداری میں پائے جانے والے ریوالور کے دستے پر انگلیوں کے نشانات کی اسٹڈی کا کام اس کے سپرد کیا!۔۔۔ عمران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسٹڈی کے نتائج معلوم کرکے اسے سب کچھ بتا دے گا۔۔۔! مگر وہ اپنے وعدے پر قائم نہ رہا! ظاہر ہے کہ یہ غصہ دلانے والی بات ہی تھی!۔۔۔

فیاض واپس جانا چاہتا تھا مگر عمران نے اسے روکے رکھا مجبوراً فیاض کو ایک ہفتے کی چھٹیاں لینی پڑی۔ کیوں کہ وہ سرکاری طور پر اس کیس پر نہیں تھا!۔۔۔

آج کل عمران سچ مچ پاگل نظر آرہا تھا!۔۔۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔۔۔ اور اپنے ساتھ فیاض کو بھی گھسیٹے پھرتا تھا۔۔۔!

ایک رات تو فیاض کے بھی ہاتھ پیر پھول گئے۔۔۔ ایک یا ڈیڑھ بجے ہوں گے! چاروں طرف سناٹے اور اندھیرے کی حکمرانی تھی۔۔۔ اور یہ دونوں پیدل سڑکیں ناپتے پھر رہے تھے۔۔۔! عمران کیا کرنا چاہتا تھا؟ یہ فیاض کو بھی معلوم نہیں تھا!۔۔۔

عمران ایک جگہ رک کر بولا!۔۔۔ "جمیل کی کوٹھی میں گھسنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے!"

"کیا مطلب!"

"مطلب یہ کہ چوروں کی طرح۔۔۔!"

"اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔۔۔!"

"کل رات! نواب جاوید مرزا کی کوٹھی میں میں نے ہی نقب لگائی تھی!۔۔۔ تم نے آج شام اخبارات میں اس کے متعلق پڑھا ہوگا!"

"تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا!"

"پہلے چلا تھا۔۔۔ درمیان میں رک گیا تھا! اب پھر چلنے لگا ہے۔۔۔ ہاں میں نے نقب لگائی تھی اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا!"

"کیوں لگائی تھی! بہت جلد معلوم ہو جائے گا! پروا نہ کرو، ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ جمیل کی کوٹھی!"

"بکواس مت کرو!" فیاض نے برا سا منہ بنا کر کہا "میں اس وقت بھی کوٹھی کھلوا سکتا ہوں! تم وہاں کیا دیکھنا چاہتے ہو!"

"وہ لڑکی۔۔۔ سعیدہ ہے ناا۔۔۔ میں بس اس کا روئے زیبا دیکھ کر واپس آجاؤں گا۔ تم فکر نہ کرو۔ اس کی آنکھ بھی نہ کھلنے پائے گی۔۔۔۔ اور میں۔۔۔!"

"کیا بک رہے ہو!"

"میں چاہتا ہوں کہ جب وہ صبح سو کر اٹھے تو اسے اپنے چہرے پر اسی قسم کے سیاہ دھبے نظر آئیں میں اس سے شرط لگا چکا ہوں!"

"کیا بات ہوئی!"

"کچھ بھی نہیں بس میں اسے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جمیل کے چہرے پر وہ سفید داغ محض بناوٹی ہیں۔۔۔ یعنی میک اپ!"
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top