عمران سیریز نمبر 3

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

قیصرانی

لائبریرین
"میں کب کہتا ہوں کہ اسی عورت کے لئے دو قتل ہو گئے ہوں گے!" ساجد نے کہا۔ "ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی اور عورت ہو۔۔۔ اور میں اس کے متعلق بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا!۔۔۔ دیکھئے یہ میرا ذاتی خیال تھا۔۔۔ ورنہ محض مشابہت اسے چچا جان کی اولاد نہیں ثابت کرسکتی!"

"تو آپ کو تو اس لڑکی سے خاص طور پر بڑی دلچسپی ہوگی!"

"بس اسی حد تک کہ اسے دیکھنے کو دل چاہتا ہے! لیکن نہ تو میں نے آج تک اس سے گفتگو کی اور نہ وہ مجھے جانتی ہے لیکن میں آپ کو اس کے گھر کا پتہ بتا سکتا ہوں!"

"بہرحال!" عمران مسکرا کر بولا! "آپ اس کا تعاقب کرتے رہتے ہیں"

"میں کیابتاؤں جناب! اسے دیکھ کر دل بے اختیار اس کی طرف کھینچتا ہے۔"

"اگر واقعی دل کھنچتا ہے تو مجھے اس کا پتہ ضرور بتایئے!۔۔۔"

"عالمگیری سرائے میں ادھورے مینار کے قریب زرد رنگ کا ایک چھوٹا سا مکان ہے۔۔۔!"

عمران نے چائے کی پیالی رکھ دی! اس کے چہرے پر تحیر کے آثار تھے! کیونکہ یہ وہی پتہ تھا جو اسے کچھ دیر قبل موڈی نے بتایا تھا!۔۔۔

"آپ کو یقین ہے کہ وہ لڑکی اسی مکان میں رہتی ہے!" اس نے ساجد سے پوچھا۔

"اوہ میں نے سینکڑوں بار اسے وہاں جاتے دیکھا ہے!" ساجد بولا۔

"اچھا مسٹر! میں کوشش کروں گا کہ۔۔۔" عمران جملہ ادھوراہی چھوڑ کر اٹھ گیا اس دوران میں اس نے چائے کا بل ادا کردیا تھا!

"اگر کبھی میں آپ سے ملنا چاہوں تو کہاں مل سکتا ہوں؟" ساجد نے پوچھا۔

"میرے کارڈ پر میرا پتہ اور ٹیلیفون نمبر موجود ہیں!" عمران نے کہا اور ریسٹوران سے باہر نکل گیا!۔۔۔ لیکن اب اس کا رخ اپنی کارکی بجائے ایک دوا فروش کی دکان کی طرف تھا۔ وہاں اس نے کالرا مکسچر کی ایک بوتل خریدی۔۔۔ دوا فروش شاید اس کا شناسا ہی نہیں بلکہ اسے اچھی طرح جانتا تھا! کیونکہ عمران نے اس سے انجکشن لگانے کی سرنج عاریتا مانگی تو اس نے انکار نہیں کیا!۔۔۔

پھر اس نے کسی دوا کے دو ایمپل بھی خریدے!
 

قیصرانی

لائبریرین
(۵)​

تھوڑی دیر بعد عمران کی کار عالمگیری سرائے کی طرف جا رہی تھی۔ ادھورے مینار کے قریب پہنچ کر عمران رک گیا!۔۔۔ یہاں چاروں طرف زیادہ تر کھنڈر نظر آرہے تھے۔ لہٰذا ایک چھوٹے سے پیلے رنگ کے مکان کی تلاش میں دشواری نہیں ہوئی!۔۔۔ قرب و جوار میں قریب قریب سب ہی بہت پرانی عمارتیں تھیں!۔۔۔ جو ویران بھی تھیں اور آباد بھی تھیں! جو حصے منہدم ہو گئے تھے بیکار پڑے تھے اور جن کی چھتیں اور دیواریں قائم تھیں ان میں لوگ رہتے تھے!۔

عمران پیلے رنگ کی عمارت کے سامنے رک گیا! کار اس نے وہاں سے کافی فاصلے پر چھوڑ دی تھی! دروازے پر دستک دینے کے بعد اسے تھوڑی دیر تک انتظار کرنا پڑا۔۔۔ دروازہ کھلا اور اسے ایک حسین سا چہرہ دکھائی دیا۔ یہ ایک نوجوان لڑکی تھی جس کی آنکھوں سے نہ صرف خوف جھانک رہا تھا بلکہ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ کچھ دیر قبل روتی رہی ہو۔!

"میں ڈاکٹر ہوں" عمران نے آہستہ سے کہا۔ "ہیضے کا ٹیکہ لگاؤں گا۔"

لڑکی پورا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔

"آپ میونسپلٹی کے ڈاکٹر ہیں!" اس نے پوچھا لیکن عمران اس کے لہجے میں ہلکی سی لہر محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا!۔۔۔

"جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھیں!" عمران بولا۔۔۔ وہ کچھ دیر پہلے اس آدمی کو دیکھ چکا تھا جسے نواب ہاشم ہونے کا دعوٰی تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ حقیقتا دونوں میں تھوڑی بہت مشابہت ضرور ہے!

"میں نہیں سمجھ سکی!" لڑکی نے آہستہ سے کہا۔ "میں بیس سال سے اس مکان میں ہوں! لیکن میں نے بچپن سے لے کر شاید ہی کسی سرکاری ڈاکٹر کی۔۔۔ آمد کے متعلق سنا ہو!"

"آنا تو چاہئے ڈاکٹروں کو۔۔۔"عمران مسکرا کر بولا۔۔۔ "اب اگر کوئی نہ آئے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ میں ابھی دراصل حال ہی میں یہاں آیا ہوں۔"

"کیا آپ تھوڑی دیر تشریف رکھیں گے؟" لڑکی بولی!

"کیوں؟"

"بات یہ ہے کہ میں اپنے عزیز کو بھی ٹیکہ لگوانا چاہتی ہوں!"

"اوہ! آپ فکر نہ کیجئے! میں ایک ہفتہ کے اندر اندر یہاں سب کے ٹیکہ لگا دوں گا!"

"نہیں اگر آج ہی لگا دیں تو بڑی عنایت ہوگی! وہ بڑے وہمی آدمی ہیں۔ آج کل ہیضے کی فصل بھی ہے، بہت پریشان رہتے ہیں!"

"تو آپ مجھے ان کا پتہ بتا دیجئے!"

"یہیں لاتی ہوں!" لڑکی نے کہا اور تیزی سے ایک گلی میں گھس گئی۔ عمران احمقوں کی طرح کھڑا رہ گیا! پانچ منٹ گزر گئے لیکن لڑکی نہ آئی عمران نے پھر دروازے کی کنڈی کھٹکھٹائی، اسے توقع تھی کہ گھر کے اندر لڑکی کے علاوہ بھی کوئی اور ہوگا۔ لیکن بار بار دستک دینے کے باوجود بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔۔۔ پانچ منٹ اور گزر گئے اور اب عمران کو یہ سوچنا پڑا کہ کہیں لڑکی جل دے کر تو نہیں نکل گئی! موڈی کے بتائے ہوئے حلیے پر وہ سو فیصدی پوری تھی!۔۔۔ عمران نے سوچا کہ اگر واقعی وہ جل دے گئی ہے تو اس سے زیادہ شاطر لڑکی شاید ہی کوئی ہو! اچانک اسے بھاری قدموں کی آوازیں سنائی دیں جو رفتہ رفتہ قریب آرہی تھیں! پھر ایک گلی سے تین باوردی پولیس والے برآمد ہوئے۔ جن میں ایک سب انسپکٹر تھا اور دو کانسٹیبل! لڑکی ان کے ساتھ تھی۔۔۔!

وہ قریب آگئے اور لڑکی نے عمران کی طرف دیکھ کر کہا! "ذرا ان سے پوچھئے۔ یہ کہاں سے آئے ہیں؟"
 

قیصرانی

لائبریرین
سب انسپکٹر نے عمران کو تیز نظروں سے دیکھا! شاید اسے نہیں پہچانتا تھا!"

"آپ کہاں کے ڈاکٹر ہیں؟" اس نے عمران سے پوچھا!

"ڈاکٹر؟" عمران نے حیرت سے کہا۔ "کون کہتا ہے کہ میں ڈاکٹر ہوں؟"

"دیکھا آپ نے!" لڑکی نے سب انسپکٹر کو مخاطب کیا! اس کے لہجے میں مسرت آمیز کپکپاہٹ تھی!

"تو آپ نے خود کو ڈاکٹر کیوں ظاہر کیا تھا؟" سب انسپکٹر گرم ہوگیا۔

"کبھی نہیں!" عمران لڑکی کی طرف اشارہ کرکے بولا۔ "میں نے تو ان سے صدرالدین اللہ والے کا پتہ پوچھا تھا انہوں نے کہا کہ ٹھہریئے میں بلائے لاتی ہوں! مگر آپ میاں صدرالدین اللہ والے تو نہیں معلوم ہوتے!"

"یہ جھوٹ ہے سراسر جھوٹ ہے!" لڑکی جھلا کر چیخ اٹھی!

"ارے توبہ ہے!" عمران اپنا منہ پیٹنے لگا۔"آپ مجھے جھوٹا کہتی ہیں!"

"نہیں مسٹر! اس سے کام نہیں چلے گا!" سب انسپکٹر بھنویں چڑھا کر بولا!

"تو پھر جس طرح آپ کہیے کام چلایا جائے!" عمران نے بے بسی کے اظہار کے لئے اپنے سر کو خفیف سی جنبشی دی!۔

"آپ کو میرے ساتھ تھانے تک چلنا پڑے گا!" سب انسپکٹر پوری طرح غصے میں بھر گیا تھا!

"ذرا ایک منٹ کے لئے ادھر آیئے!" عمران نے کہا۔ پھر وہ اسے گلی کے سرے تک لایا جہاں سے لڑکی اور کانسٹیبل کافی فاصلے پر تھے لیکن طرفین ایک دوسرے کو بآسانی دیکھ سکتے تھے۔ عمران نے جیب سے اپنا کارڈ نکال کر سب انسپکٹر کی طرف بڑھا دیا۔ کارڈ پر نظر پڑتے ہی پہلے تو اس نے عمران کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ پھر یک بیک تین قدم پیچھے ہٹ کر اسے سلیوٹ کیا! لڑکی اور دونوں کانسٹیبلوں نے اس کی اس حرکت کو بڑی حیرت سے دیکھا! ادھر سب انسپکٹر ہکلا رہا تھا۔ "معاف۔۔۔ کیجئے گا! میں آپ کو پہچانتا نہیں تھا مگر حضور والا یہ لڑکی بہت پریشان ہے!"

"کیوں؟"

"کہتی ہے کہ کسی نے گھر سے اس کے پچیس ہزار روپے اڑا لئے ہیں اور یہ بھی کہتی ہے کہ کچھ نامعلوم آدمی عرصے سے اس کا تعاقب کرتے رہے ہیں!"

"ہوں!۔۔۔ گھر میں اور کون ہے؟"

"کوئی نہیں تنہا رہتی ہے! ایک ماہ گزرا اس کے باپ کا انتقال ہوگیا!"

"آپ نے پوچھا نہیں کہ روپے کہاں سے آئے تھے! بظاہر حالت ایسی معلوم نہیں ہوتی کہ گھر میں نقد پچیس ہزار روپے رکھنےکی بساط ہو!"

"جی ہاں! میں سمجھتا ہوں! لیکن لڑکی شریف معلوم ہوتی ہے!"

"شریف معلوم ہوتی ہے!" عمران نے حیرت سے دہرایا۔ پھر ذرا تلخ لہجے میں بولا "براہ کرم! محکمے کو بنئے کی دکان نہ بنائیے۔۔۔ شرافت وغیرہ بھی وہاں دیکھی جاتی ہے جہاں ادھار کا لین دین ہوتا ہے! بس اب تشریف لےجائیے! مگر نہیں ٹھہرئیے!"

"کیا آپ نے باقاعدہ طور پر چوری کی رپورٹ درج کردی ہے؟"
 

قیصرانی

لائبریرین
سب انسپکٹر بغلیں جھانکنے لگا۔

"جی بات دراصل یہ ہے کہ۔۔۔!"

"لڑکی حسین بھی ہے۔۔۔ اور جوان بھی۔" عمران نے جملہ پورا کردیا!"جب رپورٹ نہیں درج کی ہے تو اس کے ساتھ بھاگے آنے کی کیا ضرورت تھی!"

"جی دراصل۔۔۔"

"چلے جاؤ!" عمران نے گرج کر کہا۔

سب انسپکٹر تھوک نگل کر رہ گیا۔ عمران کی گرج لڑکی اور کانسٹیبلوں نے بھی سنی تھی۔ سب انسپکٹر چپ چاپ گلی میں داخل ہوگیا! کانسٹیبلوں نے دیکھا تو وہ بھی کھسک گئے۔ لڑکی جہاں تھی وہیں کھڑی رہی! عمران اس کے قریب پہنچا۔!

"تمہارا نام دردانہ ہے؟"

"جی ہاں!"

"تم نے مسٹر والٹر موڈی کے ہاتھ کوئی سنگار دان فروخت کیا تھا؟"

"جی ہاں!" لڑکی نے کہا! اس کے انداز میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہیں تھی!

"وہ تمہارا ہی تھا؟"

"میں آخر یہ سب کیوں بتاؤں؟"

"اس لئے کہ محکمہ سراغرسانی کا ایک آفیسر تم سے سوالات کر رہا ہے۔"

لڑکی چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر بولی!"جی ہاں وہ میرا ہی تھا۔ والدہ کو ورثے میں ملا تھا۔ چند پراسرار آدمی اسے میرے پاس سے نکال لے جانا چاہتے تھے! اس لئے میں نے مسٹر موڈی کے ہاتھ فروخت کردیا!"

"پچیس ہزار میں؟"

"جی ہاں!۔۔۔ اور پھر میں نے وہ پچیس ہزار بھی کھو دیئے!" لڑکی کے لہجے میں بڑا درد تھا۔

"کس طرح۔"

"چور لے گئے! میرا خیال ہے کہ وہی لوگ ہوں گے جو عرصہ تک اس سنگار دان کے چکر میں رہے ہیں! انہوں نے مسٹر موڈی کا بھی پیچھا کیا تھا مگر وہاں دال نہیں گلی!"

"اب اچھی طرح گل گئی ہے!" عمران سر ہلا کر بولا!

"میں نہیں سمجھی!"

"حوالات ایسی جگہ ہے جہاں کھٹمل اور مچھر سب کچھ سمجھا دیتے ہیں!"

"لیکن حوالات سے مجھے کیا غرض؟"

"دیکھو لڑکی! بننے سے کام نہیں چلے گا۔ چپ چاپ اپنے ساتھیوں کے پتے بتادو! تمہیں تو خیر یہ کہہ کر بھی بچایا جا سکتا ہے کہ تم محض آلہ کار تھیں۔ معاملے کی اہمیت سے واقف نہیں تھیں!"

"میں کچھ نہیں سمجھی جناب!"
 

قیصرانی

لائبریرین
"تم نے جس سنگار دان کے پچیس ہزار وصول کئے ہیں! وہ ڈیڑھ سو میں بھی مہنگا ہے!"

"آپ کو دھوکہ ہوا ہوگا!" لڑکی نے مسکرا کر کہا! "اس میں ہزاروں روپے کے جواہرات جڑے ہوئے ہیں!"

"نقل۔۔۔ امیٹیشن!"

"ناممکن! میں نہیں مان سکتی۔"

عمران چند لمحے اسے غور سے دیکھتا رہا۔ پھر بولا!"نواب ہاشم کو جانتی ہو؟"

"میں نہیں جانتی!"

"نواب ساجد کو۔"

"آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟ بھلا نوابوں کو کیوں جاننے لگی! کیا آپ مجھے آوارہ سمجھتے ہیں؟"

"نہیں کوئی بات نہیں!۔۔۔ ہاں ہم اس سنگار دان کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔"

"آخر آپ کو یہ شبہ کیسے ہوا کہ وہ جواہرات نقلی ہیں؟"

"بیکار باتوں میں نہ الجھو! ساتھیوں کے نام بتادو!"

"میرے خدا!" لڑکی دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر دیوار کا سہارا لیتی ہوئی بولی۔

"کس مصیبت میں پھنس گئی!"

"میں سچ کہتا ہوں کہ وہ کم از کم تمہارے لئے مصیبت نہ ہوگی! ہاں شاباش بتا دو ساتھیوں کے نام!"

"خدا کی قسم میرا کوئی ساتھی نہیں! میں بالکل بے سہارا ہوں!"

"اچھا لڑکی!" عمران طویل سانس لے کر بولا!"تم کسی شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہو!"

"میں نہیں جانتی!۔۔۔ بہرحال مجھ سے یہی۔۔۔!"

"یہی کہا گیا تھا۔۔۔ ہے نا شاباش!" عمران جلدی سے بولا۔ "کس نے کہا تھا؟"

"میرے ایک ہمدرد نے!"

"آہا۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ میں اسی ہمدرد کا پتہ چاہتا ہوں۔"

"پتہ مجھے نہیں معلوم!"

"لڑکی میرا وقت برباد نہ کرو!"

"خدا کی قسم! میں ان کا پتہ نہیں جانتی! والد صاحب کے انتقال کے بعد انہوں نے میری بہت مدد کی ہے! غالبا وہ والد صاحب کے گہرے دوستوں میں سے ہیں!"

"اور تم ان کا پتہ نہیں جانتیں! تعجب ہے!"

"نہیں تعجب نہ کیجئے! والد صاحب کے انتقال کے بعد مجھے علم ہوا کہ وہ ان کے دوست تھے!"
 

قیصرانی

لائبریرین
"والد کا انتقال کب ہوا!"

"ایک مہینہ پہلے کی بات ہے۔ میں یہاں موجود بھی نہیں تھی! ایک ضروری کام کے سلسلے میں باہر گئی ہوئی تھی۔ والد صاحب اسی دوران میں سخت بیمار پڑ گئے! ہوسکتا ہے کہ انہوں نے خود ہی اپنے دوست کو تیمارداری کے لئے بلایا ہو! بہرحال جب میں واپس آئی تو وہ دو دن قبل ہی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور پھر میں نے ان کی قبر دیکھی۔۔۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ ان کی تجہیز و تکفین بڑی شان سے ہوئی تھی! سنگار دان کے وجود سے میں پہلے بھی واقف تھی اور اسے بہت زیادہ قیمتی سمجھتی تھی! کیونکہ والد صاحب کی زندگی میں ہی بعض پراسرار آدمیوں نے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی!۔۔۔"

"تمہارے والد کے دوست نے تمہیں کیا مشورہ دیا تھا!"

"یہی کہ میں اس سنگار دان کو کسی محفوظ جگہ پر پہنچا دوں!" میں نے کہا کہ آپ ہی اپنے پاس رکھ لیجئے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں بھی خطرے میں پڑ جاؤں گا۔ ہاں اگر کوئی غیرملکی۔۔۔ یعنی انگریز یا امریکن تمہاری مدد کرسکے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔ انہوں نے مجھے موڈی صاحب کو دکھایا جو اکثر ادھر سے گزرتے رہتے ہیں!"

"موڈی ادھر سے گزرتا رہتا ہے!"

"جی ہاں! اکثر۔۔۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے! ہاں تو ایک شام والد صاحب کے دوست بھی یہاں موجود تھے! اتفاقا موڈی صاحب کی کار ادھر سے گزری اور انہوں نےمجھ سے کہا کہ میں سنگار دان کو ساتھ لے کر ان کی کار میں بیٹھ جاؤں۔ کار کی رفتار دھیمی تھی! میں بیٹھ گئی اور جو کچھ مجھے کرنا تھا وہ انہوں نے مجھے پہلے ہی سمجھا دیا تھا!"

"یہی کہ میں شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور وہ سب کچھ جو آپ کو موڈی صاحب سے معلوم ہوا ہے، میں کہاں تک بتاؤں! میرا سر چکرا رہا ہے۔۔۔!"

"تو تم شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتیں!"

"مجھے علم نہیں ہے کہ میں کس خاندان سے تعلق رکھتی ہوں! والد صاحب نے مجھے کبھی نہیں بتایا!۔۔۔ وہ ایک بہت بڑے عالم تھے۔ ہمارے یہاں کتابوں کے ڈھیر کے ڈھیر آپ کو ملیں گے۔"

"اچھا وہ کرتے کیا تھے؟"

"تصویروں کے بلاک بنایا کرتے تھے! اس سے خاصی آمدنی ہو جاتی تھی! لیکن پچھلے چھ سال سے جب وہ چار سال کی روپوشی کے بعد واپس آئے تو کچھ بھی نہیں کرتے تھے!"

"میں سمجھا نہیں!"

"آپ بڑی دیر سے کھڑے ہیں۔ اندر تشریف لے چلئے!" لڑکی نے کہا! "اگر واقعی سنگار دان کے جواہرات نقلی ہیں تب تو مجھے خودکشی ہی کرنی پڑے گے! کیونکہ موڈی صاحب کے روپے بھی چوری ہو گئے۔"

وہ دونوں اندر آئے جس کمرے میں لڑکی اسے لائی، اس میں چاروں طرف کتابوں سے بھری الماریاں رکھی ہوئی تھیں!

"یہ ایک بڑی لمبی داستان ہے جناب!"۔۔۔ لڑکی نے بات شروع ہی کی تھی کہ کسی نے باہر سے دروازے پر دستک دی!

"ذرا ایک منٹ ٹھہریئے گا!" لڑکی نے کہا اور اٹھ کر چلی گئی! عمران گہری نظروں سے کمرے کا جائزہ لینے لگا!۔۔۔ اچانک اسے ایک آواز سنائی دی اور وہ بے اختیار چونک پڑا۔ کیونکہ وہ موڈی کی آواز تھی اور پھر دوسرے ہی لمحے میں وہ لڑکی موڈی کو ساتھ لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔

"عمران!" موڈی دروازے پر ہی ٹھٹھک کر رہ گیا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
"آؤ۔۔ آؤ۔۔۔" عمران مسکرا کرو بولا!

"یہ تم نے کیا کیا۔۔۔ تم نے شہزادی صاحبہ کو کچھ بتایا تو نہیں؟"

"شٹ اپ ادھر آؤ اور خاموش بیٹھو۔"

"نہیں! میں اسے پسند نہیں کرتا!۔۔۔ مجھے اپنے رپوں کی پروا نہیں۔۔۔ تم یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔ شہزادی صاحبہ نے جو کچھ بھی کیا اچھا کیا! مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔"

"شہزادے کے بچے! اگر بکواس کرو گے تو تمہیں بھی بند کرادوں گا!" عمران نے کہا اور وہ یک بیک ناک سکوڑ کر رہ گیا۔۔۔

"کہیں کپڑے جل رہے ہیں کیا؟"۔۔۔ اس نے لڑکی کی طرف دیکھ کر رکہا!

"میں بھی کچھ اسی قسم کی بو محسوس کر رہی ہوں۔"موڈی نے پھر بوکاس شروع کردی۔

عمران اس کی طرف دھیان دیئے بغیر کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔ اچانک ہوا کے جھونکے کے ساتھ کثیف دھوئیں کا ایک بڑا سا مرغولہ کمرے میں گھس آیا۔۔۔ اور تینوں بوکھلا کراٹھ کھڑے ہوگئے! عمران کھڑکی کی طرف جھپٹا!۔۔۔ ایک کمرے میں دھوئیں کے بادل امنڈ رہے تھے۔

"آگ!" لڑکی بے تحاشا چیخی اور پھر باہر نکل کر اس کمرے کی طرف دوڑی! عمران اور موڈی۔۔۔ ہاں ہاں کرتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑے! لیکن وہ کمرے میں پہنچ چکی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں بھی بے تحاشا اندر گھسے!۔۔۔ کمرے کے وسط میں کپڑوں اور کاغذات کا ایک بہت بڑا ڈھیر جل رہ اتھا! ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ ساری چیزیں ایک جگہ اکٹھا کرکے ان میں دیدہ دانستہ آگ لگائی گئی ہو!

لڑکی اس طرح سینے پر دونوں ہاتھ باندھے کھڑی تھی جیسے قدیم آتش کدوں کی کوئی پجارن ہو!۔۔۔ اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں اور ہونٹ کپکپا رہے تھے! یکا یک وہ چکرا کر گری اور بیہوش ہوگئی۔
 

قیصرانی

لائبریرین
(۶)​

عمران کمرے میں ٹہل رہا تھا اور کیپٹن فیاض اسے اس طرح گھور رہا تھا جیسے کچا ہی چبا جائے گا۔

"دیکھو فیاض!" عمران ٹہلتے ٹہلتے رک کر بولا!"یہ کیس بہت زیادہ الجھا ہوا ہے۔ نواب ہاشم کی موت خواہ قتل سے ہوئی ہو یا خودکشی دونوں ہی صورتیں مضحکہ خیز ہیں! آخر قاتل نے چہرے پر کیوں فائر کیا۔ اس کے لئے تو سینہ یا پیشانی ہی زیادہ مناسب ہوتی ہیں!موت قریب قریب فورا ہی واقع ہو جاتی ہے۔۔۔ میں نے فائل کا اچھی طرح مطالعہ کیا ہے! مقتول کے چہرے کے علاوہ جسم کے کسی دوسرے حصے پر خراش تک نہیں ملی تھی اور لاش کہاں تھی؟ بستر پر!۔۔۔ مرنے والا چت پڑا ہوا تھا۔۔۔ فیاض میں کہتا ہوں کہ تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ بستر پر پھیلا ہوا خون مرنے والے کا ہی تھا!"

"میرے دماغ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ تمہاری بکواس سن سکوں! ابھی تم ایک ایسی لڑکی کی کہانی سنا رہے تھے جس نے موڈی کے ہاتھ سنگاردان فروخت کیا تھا!۔۔۔ اب نواب ہاشم کے قتل پر آکودے!"

"تم میری بات کا جواب دو!"

"بستر پر پھیلا ہوا خون مرنے والے کا نہیں تھا!" فیاض ہنس پڑا پھر اس نے سنجیدگی سے کہا!"اب تم ایک ذمہ دار آدمی ہو۔ لونڈا پن ترک کردو۔"

"فیاض صاحب! میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ موت اس کمرے میں واقع ہی نہیں ہوئی تھی! میرا خیال ہے کہ اسے کسی دوسری جگہ پر گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔ پھر چہرے پر فائر کرکے شکل بگاڑ دی گئی۔"

"مجرم چونکہ فائر ہی کو موت کی وجہ قرار دینا چاہتا تھا اس لئے اس نے لاش کو بستر پر دال دیا اور بستر کو کسی چیز کے خون سے ترکردینے کے بعد اپنی راہ لی۔۔۔ اگر یہ بات نہیں تو پھر تم ہی بتاؤ کہ کمرے میں کسی قسم کے جدوجہد کے آثار کیوں نہیں پائے گئے تھے!"

"جدوجہد! کمال کرتے ہو!۔۔۔ ارے برخوردار سوتے میں اس پر گولی چلائی گئی تھی!"

"تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج سے دس سال پہلے تمہارا محکمہ کسی یتیم خانےکا دفتر تھا!"

"کیوں؟"

"اس لئے کپتان صاحب! کہ فائل میں لگی ہوئی رپورٹ قطعی نامکمل ہے!"

"کیوں نامکمل ہے؟"

"یار تم بھی کسی یتیم خانے کے متولی یا مینیجر ہو!۔۔۔ میرا خیال ہے کہ تمہاری کرسی پر تمہارا چپراسی تم سے زیادہ اچھا معلوم ہو!"

"کچھ بکو گے بھی؟" فیاض جھلا گیا۔

"یہ تم بھی مانتے ہو کہ فائر ہت قریب سے کیا گیا تھا! یعنی بہت ممکن ہے کہ نال سے چہرے کا فاصلہ ایک بالشت سے بھی کم رہا ہو!"

"گھسی ہوئی بات ہے۔"

"اچھا تو فیاض صاحب بستر میں کوئی چھرہ وغیرہ کیوں نہیں پیوست ہوا تھا؟ یا بستر پر بھی بارود کے اثرات کیوں نہیں ملے؟"
 

قیصرانی

لائبریرین
"ضرور ملے ہوں گے۔"

"مگر میرے سرکار! رپورٹ میں اس کا تذکرہ نہیں ہے!۔۔۔ یہ واقعہ صرف دس سال پہلے کا ہے۔ سو برس پہلے کا نہیں جسے تم آدمی کی کم علمی ثابت کرکے ٹال جاؤ۔۔۔ میرا دعوٰی ہے کہ تفتیش کرنے والے کو چہرے کے آس پاس بارود کے نشانات ملے ہی نہ ہوں گے ورنہ وہ ضرور تذکرہ کرتا۔۔۔ اور پھر لاؤ مجھے وہ فائیل دو جس میں خون کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ ہو!"

"اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی تھی کہ خون کی ٹائپ کا پتہ لگایا جاتا! وہ مرنے والے ہی کا خون تھا! ہم سب اس پر متفق ہو گئے تھے۔"

"جب لوگوں کی ہمت جواب دینے لگتی ہے تو وہ اسی طرح متفق ہو جاتے ہیں! تم لوگ ہمیشہ پیچدگیوں سے گھبراتے ہو! پیچیدہ معاملات کو بھی اس طرح کھینچ تان کر سیدھا کر لیتے ہو کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے! پوسٹ مارٹم کی رپورٹ صاف کہہ رہی ہے کہ موت اچانک قلب کی حرکت بند ہوجانے کی وجہ سے واقع ہوئی ہے اور تم لوگ فائر کی لکیر پیٹتے ہو۔۔۔"

"ہاں قطعی درست ہے!" فیاض سرہلا کر بولا۔"وہ سو رہا تھا کہ اچانک کان کے قریب ایک دھماکہ ہوا اور اس کا ہارٹ فیل ہوگیا۔ یہی وجہ تھی کہ اسے تڑپنے کی بھی مہلت نہیں ملی اس لئے بستر بھی شکن آلود نہیں تھا۔۔۔ وہ جیسے لیٹا ہوا تھا ویسے ہی ٹھنڈا ہوگیا!"

"میرا اعتراض اب بھی باقی ہے! آخر بستر پر چھرے کیوں نہیں لگے۔۔۔ کیا ہوگئے؟۔۔۔ کیا اس وقت بندوق کا بھی ہارٹ فیل ہو گیا تھا؟"

"جہنم میں جائے!" فیاض اکتائے ہوئے انداز میں بولا۔ "کیس تمہارے پاس ہے۔۔۔ جا کر جھک مارو!۔۔۔ مگر ہاں تم اس لڑکی کا تذکرہ کر رہے تھے، وہ کیس واقعی دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔۔۔ اچھا پھر جب وہ بیہوش ہو گئی تو تم نے کیا کیا؟"

"صبر کیااور کافی دیر تک سر پیٹتا رہا۔" عمران جیب میں ہاتھ ڈال کر چیونگم کا پیکٹ تلاش کرنے لگا!

"آگ کیسے لگی تھی؟"

"یقینا دیا سلائی یا سگار لائیٹر سے ہی لگی ہوگی!"

"تم عجیب آدمی ہو!" فیاض نے جھلا کر کہا۔ عمران کچھ نہ بولا! چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا "لڑکی میرے لئے ایک نئی الجھن پیدا کر رہی ہے!"

"اوہ تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ واقعی معصوم ہے؟"

"ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہا بھی پورے واقعات بھی نہیں معلوم ہو سکے اور لڑکی ہسپتال میں ہے۔۔۔ میں اسی وقت وہیں جا رہا ہوں!"
 

قیصرانی

لائبریرین
(۷)​

موڈی نے سنٹرل ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں ایک کمرہ حاصل کر لیا تھا!۔۔۔ لڑکی وہیں تھی اور پچھلی رات موڈی بھی وہیں رہا تھا اور اس کے خواب بدستور اس پر مسلط رہے تھے! لڑکی نے اسے یقین دلانا چاہا تھا کہ اس نے سنگار دان کے جواہرات کو اصلی ہی سمجھ کر اس کے ہاتھ فروخت کیا تھا! لیکن موڈی نے اسے یہ کہہ کر گفتگو کرنے سے روک دیا تھا کہ زیادہ بولنے سے اس کے اعصاب پر برا اثر پڑے گا!

اس وقت بھی وہ اس کے پلنگ کے قریب مؤدب بیٹھا فرش کی طرف دیکھ رہا تھا!

"موڈی صاحب! اب میں بالکل ٹھیک ہوں!" لڑکی نے کہا!۔

"میں آسمانوں کا مشکور ہوں! ان اونچے پہاڑوں۔۔۔ اور ہزار سال سے بہنے والے دریاؤں کا مشکور ہوں! جنہوں نے قدیم شہنشاہوں کی عظمت و شان دیکھی ہے! شہزادی صاحبہ! صحت مبارک ہو۔"

"میرا مضحکہ نہ اڑایئے! میں بہت شرمندہ ہوں۔ اگر وہ جواہرات نقلی ہیں تو جس طرح بھی ممکن ہوگا میں آپ کے روپے واپس کرنے کی کوشش کروں گی۔ میں والد صاحب کا کتب خانہ فروخت کردوں گی۔۔۔ وہ پچیس ہزار کی مالیت کا ضرور ہوگا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار ایک صاحب نے ایک قلمی نسخہ ڈھائی ہزار میں خریدنے کی پیش کش کی تھی لیکن والد صاحب نے انکار کر دیا تھا۔۔۔ اور آپ براہ کرم مجھے شہزادی صاحبہ نہ کہا کریں۔ میں شہزادی نہیں ہوں۔ آپ کو بتا چکی ہوں کہ میں نے ایک شخص کے کہنے پر خود کو شاہی خاندان سے ظاہر کیا تھا!"

"آپ شہزادی ہیں! میرے اعتماد کا خون نہ کیجئے۔۔۔ یہی کہتی رہیں کہ آپ شہزادی ہیں۔ مجھے حکم دیجئے کہ میں ایسے لاکھوں پچیس ہزار روپے آپ کے قدموں میں ڈال دوں! مجھے اپنے سینکڑوں سال پرانے اپنے آباؤ اجداد کے غلاموں ہی میں سمجھئے جنہوں نے ان کے لئے اپنا خون بہایا تھا۔"

لڑکی حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی! کیونکہ موڈی کے لہجے میں بڑا خلوص تھا!

"کیا عمران صاحب آپ کے دوست ہیں؟"

"جی ہاں!۔۔۔ وہ میرا دوست ہے۔ آپ بالکل فکر مت کریں! میں آپ کے گرد رپوں کی دیوار کھڑی کردوں گا اور پھر مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں پولیس آپ کا کچھ نہ کرسکے گی!"

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔۔۔ اور دوسرے ہی لمحے میں عمران کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ اس وقت بھی حسب دستور اس کے چہرے پر حماقت برس رہی تھی اور انداز ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے وہ کسی غلط جگہ پر آگیا ہو اور معافی مانگ کر الٹے پاؤں واپس جائے گا!

"کیا آپ کی طبیعت اب ٹھیک ہے؟"

"جی ہاں! اب میں اچھی ہوں!"

"مگر تم کوئی الجھن پیدا کرنے والی بات نہیں کرو گے! سمجھے۔" موڈی نے عمران سے کہا۔

"سمجھ گیا!" عمران نے جلدی جلدی پلکیں جھپکائیں اور لڑکی سے بولا! "ذرا اپنے والد کے دوست کا حلیہ تو بتایئے!"

"حلیہ! سوائے اس کے اور کچھ نہیں بتا سکتی کہ ان کے چہرے پر گھنی داڑھی ہے اور آنکھوں میں کسی قسم کی تکلیف کی وجہ سے سیاہ شیشوں کی عینک کا استعمال کرتے ہیں۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
"ہام" عمران نے اپنے شانوں کو جنبش دی۔ لیکن اس کے انداز سے یہ معلوم کرنا دشوار تھا کہ لڑکی کے الفاظ سے اس پر کیا اثر پڑا ہے! اس نے دوسرے ہی لمحے میں پوچھا! "جب آپ کے والد کا انتقال ہوا تو آپ کہاں تھیں۔۔۔؟"

"میں یہاں موجود نہیں تھی! واپسی پر مجھے یہ خبر ملی تو میں اپنے اوسان بجا نہ رکھ سکی! تجہیز و تکفین اسی آدمی نے کی تھی جو اب تک خود کو ان کا دوست ظاہر کرتا رہا ہے۔"

"ٹھیک ہے!۔۔۔ لیکن کیا آپ کے پڑوسیوں نے اس سلسلے میں آپ کو کوئی عجیب بات نہیں بتائی؟"

"عجیب بات! میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی!"

"غسل کہاں دیا گیا تھا میت کو؟"

"اوہ۔۔۔ ہاں!۔۔۔ والد صاحب کے چند احباب جنازہ گھر سے لے گئے تھے اور غالبا کسی دوست ہی کے یہاں غسل اور تکفین کا انتظام ہوا تھا!"

"بہرحال کوئی پڑوسی مرنے والے کی شکل بھی نہیں دیکھ سکا تھا!"

"آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟" لڑکی سنبھل کر بیٹھ گئی۔ گفتگو اردو میں ہو رہی تھی!۔۔۔ موڈی نے کچھ بولنا چاہا۔ لیکن عمران نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔

"اچھا ہاں!"۔۔۔ عمران نے لڑکی کے سوال کا جواب دیئے بغیر پوچھا۔

"آپ نے دس سال قبل کے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا تھا!"

"کیا والد صاحب کی گمشدگی کا؟" لڑکی نے انگریزی میں کہا۔۔۔ شاید وہ موڈی کو بھی اپنے حالات سے آگاہ کردینا چاہتی تھی! عمران نے اثبات میں سرہلایا لڑکی چند لمحے خاموش رہ کر بولی!" ڈیڈی بڑے پراسرار آدمی تھے میں آج تک یہ نہ سمجھ سکی کہ وہ کون تھے اور کیا تھے؟ جب میں دس سال کی تھی تو وہ اچانک غائب ہوگئے۔۔۔ میں تنہا رہ گئی۔ والدہ اسی وقت انتقال کرگئی تھیں جب میں پیدا ہوئی تھی!۔۔۔ آپ خود سوچئے! میری کیا کیفیت ہوئی ہوگی۔۔۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ والد صاحب کا کوئی عزیز بھی ہے یا نہیں کہ میں اسی سے رجوع کرتی۔ انہوں نے کبھی اپنے کسی عزیز کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ بہرحال بڑی پریشانی تھی!۔۔۔ پڑوس میں عیسائیوں کا ایک غریب خاندان آباد تھا۔ اس نے میری بہت مدد کی! مجھے ایک مشن سکول میں داخل کرادیا اور ہر طرح میری دیکھ بھال کرتا رہا! میں مسز ہارڈی کو کبھی نہیں بھولوں گی! وہ عظیم عورت! جن نے میری خبرگیری ماؤں کی طرح کی۔ میرے اخراجات بھی اٹھائے اور مجھے کبھی اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ میں عیسائی مذہب اختیار کرلوں!"۔۔۔ وہ تھوڑی دیر خاموش رہی پھر بولی! "چار سال تک والد صاحب کی کوئی خبر نہ ملی۔ پھر اچانک ایک دن وہ آگئے۔ ہفتوں روتے رہے۔۔۔ لیکن مجھے کچھ نہیں بتایا کہ وہ اتنے دنوں تک کہاں رہے؟۔۔۔ لیکن اتنا ضرور کہا کہ اب وہ کہیں نہیں جائیں گے۔"

"وہ پھر کہیں نہیں گئے؟" عمران نے پوچھا!

"نہیں! پھر وہ گھر سے باہر بھی شاذونادر ہی نکلتے تھے۔ گمشدگی سے پہلے وہ تصویروں کے بلاک بنانے کا کام کرتے تھے۔ واپسی پر یہ کام بھی ترک کردیا تھا! لیکن مجھے آج تک نہ معلوم ہوسکا کہ بسر اوقات کا ذریعہ کیا تھا؟ بظاہر وہ کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ لیکن کبھی تنگدستی نہیں ہوئی۔

"اور غالبا وہ سنگاردان بھی وہ اپنے ساتھ ہی لائے ہوں گے؟" عمران نے پوچھا۔

"نہیں! میں بچپن سے ہی اسے دیکھتی آئی ہوں!۔۔"

"اچھا! تو پھر وہ پراسرار آدمی اس کی تاک میں کب سے لگے تھے؟"

"والد صاحب کے انتقال کے بعد ہی سے! اس سے پہلے کسی نے ادھر کا رخ بھی نہیں کیا تھا۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
عمران چند لمحے کچھ سوچتا رہا۔ پھر پوچھا! "پچھلے چھ برس کے عرصے میں ان سے کون کون ملتا رہا ہے؟"

"کوئی نہیں! حتٰی کہ پاس پڑوس والے بھی ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔"

"آخر کیوں؟ کیا وہ بہت چڑچڑے تھے؟"

"ہرگز نہیں! بہت ہی بااخلاق اور ملنسار تھے۔ انہوں نے کبھی کسی سے تیز لہجے میں گفتگو نہیں کی۔ میرا خیال ہے کہ لوگ انہیں محض اس لئے برا کہتے ہیں کہ وہ مجھے تنہا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔"

"لیکن ان کے مرتے ہی اتنے بہت سے دوست کہاں سے پیدا ہو گئے۔" عمران نے پوچھا!۔

"مجھے خود بھی حیرت ہے! پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ وہ پانچ تھے! لیکن ان میں سے ایک ہی آدمی اب تک میرے سامنے آیا ہے۔۔۔ وہی جس نے سنگاردان کے متعلق مشورہ دیا تھا!"

"اور پھر اس کے بعد سے نہیں دکھائی دیا؟"

"نہیں وہ اس کے بعد بھی ملتا رہا ہے۔ اس وقت تک جب تک کہ میں نے سنگار دان فروخت نہیں کردیا!"

"تمہارے والد نے کبھی اپنے دوست کا تذکرہ بھی نہیں کیا؟"

"صرف ایک دوست کا!۔۔۔ وہی جس کے پاس میں ان کی موت سے چند روز قبل گئی تھی!"

"اس کا نام اور پتہ؟" عمران جیب سے ڈائری نکالتا ہوا بولا۔

"حکیم معین الدین۔۔۔ 48 فرید آباد۔۔۔ دلاور پور۔"

"آپ ان کے پاس کیوں گئی تھیں؟"

"والد صاحب نے بھیجا تھا!" لڑکی نے کہا۔ "والد صاحب عرصہ سے درد گردہ کے مریض تھے۔ اس دوران میں تکلیف کچھ زیادہ بڑھ گئی۔ علاج ہوتا رہا لیکن فائدہ نہ ہوا۔ آخر کار انہوں نے مجھے معین الدین صاحب کا پتہ بتا کر کہا کہ میں ان کے پاس جاؤں۔۔۔ شاید ان کے پاس اس مرض کا کوئی مجرب نسخہ تھا! میں دلاور پور گئی! لیکن دوا تیار نہیں تھی! اس لئے وہاں مجھے چار دن تک قیام کرنا پڑا۔۔۔ میں نے والد صاحب کو بذریعہ تار مطلع کردیا تھا جس کے جواب میں انہوں نے بھی بذریعہ تار ہی مجھے مطلع کیا کہ میں دوا لئے بغیر واپس نہ آؤں۔ خواہ دس دن لگ جائیں!"

"کیا وہ حکیم صاحب اب بھی وہاں مل سکیں گے؟" عمران نے پوچھا!

"کیوں نہیں! یقینا ملیں گے۔"

"لیکن اگر نہ ملے تب؟"

"بھلا میں اس کے متعلق کیا کہہ سکتی ہوں!" لڑکی مضطربانہ انداز میں اپنی پیشانی رگڑتی ہوئی بولی۔ "میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔"

"بس عمران ختم کرو!" موڈی ہاتھ اٹھا کر بولا۔ "میں معاملات کی تہہ کو پہنچ گیا ہوں۔"

"کیا سمجھے ہیں آپ؟" لڑکی نے چونک کر پوچھا!

"آپ کے والد زندہ ہیں!" موڈی ٹھہرٹھہر کر بولا۔ "میں سمجھ گیا۔"

"شٹ اپ!" عمران اسے گھور کر بولا۔ "شاید تمہارا نشہ اکھڑ رہ اہے۔ جاؤ ایک آدھ پگ مار آؤ۔۔۔!"

"نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔"موڈی نے جمائی لے کر رکہا! عمران نے لڑکی سے کہا۔"کیا آپ مجھے اپنے والد کی کوئی تصویردے سکیں گی؟"

"افسوس! کہ نہیں! جن چیزوں میں پراسرار طریقے سے آگ لگ گئی تھی! ان میں غالبا ان کے البم بھی تھے۔ یا ممکن ہے البم نہ رہے ہوں! مجھے توکچھ ہوش نہیں!۔۔۔ ہو سکتا ہے تلاش کرنے پر کوئی تصویر ہی مل جائے!۔۔۔ مگر یہ تو بتایئے کہ مجھے یہاں کب تک رہنا ہوگا! میں اب بالکل اچھی طرح ہوں!۔۔۔"

"یہاں آپ زیادہ محفوظ ہیں!"عمران سرہلا کر بولا۔ "جب تک کہ میں نہ کہوں آپ یہاں سے نہیں جائیں گی۔۔۔ میں نے اس کا انتظام کرلیا ہے کہ آپ یہاں طویل مدت تک قیام کرسکیں!۔۔۔"

"آخر کیوں؟"

"ضرور نہیں کہ آپ کو بھی بتایا جائے!"

"عمران میں تمہاری گردن اڑادوں گا!"موڈی اسے گھونسہ دکھا کر بولا۔ "تم شہزادی صاحبہ کی توہین کر رہے ہو!"

"اور تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اٹھو! اور میرے ساتھ چلو!"

"میں یہیں رہوں گا۔"

"شٹ اپ۔۔۔ کھڑے ہو جاؤ!۔۔۔ اٹھو!"
 

قیصرانی

لائبریرین
(۸)​

عمران کے ساتھ موڈی اپنے بنگلے پر واپس آگیا اور آتے ہی اس بری طرح شراب پر گرا کہ خدا کی پناہ!۔۔۔ اس نے پچھلی رات سے ایک قطرہ بھی نہیں پیا تھا۔ دو تین پیکگ متواتر پی لینے کے بعد وہ عمران کی طرف مڑا!۔۔۔

"تم کیا سمجھتے ہو مجھے! میں جانتا ہوں۔۔۔ معاملات کی تہہ میں پہنچ چکا ہوں اس کا باپ زندہ ہے اور وہ انتہائی پراسرار آدمی معلوم ہوتا ہے!"

"بکواس بند کرو، جو میں کہہ رہا ہوں اسے سنو!"

"میں کچھ نہیں سنوں گا! میری ایک تھیوری ہے!" عمران خاموش ہوگیا! موڈی بڑبڑاتا رہا۔"میں شرلاک ہومز ہوں!۔۔۔"

"او۔۔۔ موڈی۔۔۔ شرلاک ہومز کے بچے!" عمران اسے گھورتا ہوا بولا۔

"نہیں ڈاکٹر واٹسن تم ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتے!" موڈی بڑبڑاتا ہوا اٹھ کر ٹہلنے لگا! اتنے میں نوکر پائپ لے آیا!۔۔۔ معران صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر سوچنے لگا تھا۔ موڈی پائپ سلگا کر اپنی گردن اکڑاتا ہوا اس کی طرف مڑا۔۔۔

"وہ کسی شاہی خزانے کے وجود سے واقف ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کے پاس نقشہ بھی موجود ہے!"

عمران بدستور آنکھیں بند کئے پڑا رہا! موڈی چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا "آج سے دس سال قبل یقینا چند خطرناک آدمیوں نے اس کا پیچھا کیا ہوگا۔۔۔ بس وہ غائب ہو گیا!۔۔۔ چار سال بعد پھر واپس آیا! چھ سال تک سکون سے رہا اور اس کے بعد پھر! وہ یا کچھ دوسرے لوگ اس کے پیچھے پڑ گئے!۔۔۔ اس بار اس نے اپنی موت کا ڈرامہ کھیلا!۔۔۔ کیا سمجھے!۔۔۔ ہاہا!۔۔۔ کچھ نہیں سمجھے!۔۔۔ تم لوگ دماغ کی بجائے معدہ استعمال کرتے ہو اور اب اس سنگاردان کی داستان سنو!۔۔۔ وہ غالبا اسی شاہی خزانے سے تعلق رکھتاہے، خود اس کے باپ نے دشمنوں پر یہ ظاہر کرنے کے لئے۔۔۔ اوہ کیا ظاہر کرنے کے لئے۔۔۔ ہائیں۔۔۔ کیا ظاہر کرنے کے لئے!"

موڈی نے اپنی پیشانی پر گھونسہ مار لیا۔۔۔ چند لمحے خاموش رہا۔۔۔ پھر عمران کو جھنجھوڑ کر بولا۔ "میں ابھی کیا کہہ رہا تھا۔" عمران نے چونک کر آنکھیں کھول دیں!۔۔۔"کیا ہے؟" اس نے جھلائے ہوئے لہجے میں پوچھا!

"میں کیا کہہ رہا تھا؟" موڈی نے پھر اپنے سر پر دو چار گھونسے جمائے!

"تم!" عمران کھڑا ہو کر اسے چند لمحے گھورتا رہا پھر گریبان پکڑ کر ایک صوفے میں دھکیلتا ہوا بولا "جہنم میں جاؤ!" دوسرے ہی لمحے وہ باہرجاچکا تھا۔!
 

قیصرانی

لائبریرین
(۹)​

نواب ہاشم کو دوبارہ منظر عام پر آئے ہوئے تقریبا ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔۔۔ اور اس حیرت انگیز واپسی کی شہرت نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک میں ہوچکی تھی!۔۔۔ وہ اپنی نوعیت کا ایک ہی ہنگامہ تھا!۔۔۔ محکمہ سراغرسانی والوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس سلسلے میں کیا کریں! فی الحال ان کے سامنے صرف ایک ہی سوال تھا وہ یہ کہ اگر نواب ہاشم یہی شخص ہے تو پھر وہ آدمی کون تھا جس کی لاش دس سال قبل نواب ہاشم کی خواب گاہ سے برآمد ہوئی تھی! کیپٹن فیاض عمران کو آج کل بہت زیادہ مصروف دیکھ رہا تھا۔ لیکن عمران سے کسی بات کا اگلوا لینا آسان کام نہیں تھا۔ وہ ہر سوال کا جواب ضرور دیتا تھا۔ لیکن وہ جوابات کچھ اس قسم کے ہوتے تھے کہ سوال کرنے والا اپنا سرپیٹ لینے کا ارادہ توکرتا تھا۔ مگر اسے عملی جامہ پہنا کر مسخرہ نہیں کہلانا چاہتا تھا۔!

فیاض نے لاکھ کوشش کی لیکن عمران سے کچھ نہ معلوم کرسکا۔ البتہ اسے ایسے اشعار ضرور سننے پڑے جن کے پہلے مصرعے عموما مرزا غالب کے ہوتے تھے اور دوسرے ڈاکٹر اقبال رح کے! مثلا۔۔۔

"ہے دل شوریدہ غالب طلسم پیچ و تاب
وہ صبا رفتار شاہی اصطبل کی آبرو!"

عمران اس طرح کے جوڑ پیوند لگانے کا ماہر تھا۔۔۔ بہرحال فیاض اس سے کچھ معلوم نہ کرسکا!۔۔۔ آج اس نے نواب ہاشم اور اس کے بھتیجے نواب ساجد کو اپنے آفس میں طلب کیا تھا!۔۔۔ دونوں آئے تھے! لیکن ان کے چہروں پر ایک دوسرے کے خلاف بیزاری کے آثآر تھے!۔

"دیکھئے جناب!"فیاض نے نواب ہاشم کو مخاطب کیا۔"اب ایک ہی صورت رہ گئی ہے!"

"وہ کیا؟۔۔۔ دیکھئے جناب! جو بھی صورت ہو! میں جلد سے جلد اس کا تصفیہ چاہتا ہوں!" نواب ہاشم نے کہا۔

"صورت یہ ہے کہ میں آپ کو جیل بھجوا دوں!۔۔۔"

"اچھا!"۔۔۔ نواب ہاشم کی بھنویں تن گئیں!۔۔۔ اتنے میں عمران کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ اس کے بال پریشان تھے اور لباس ملگجا سا!۔۔۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ کسی لمبے سفر کے بعد یہاں پہنچا ہو!۔۔۔

وہ ان دونوں چچا بھتیجے کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور فیاض کو آنکھ مار کر سرکھجانے لگا!۔۔۔

"مجھے جیل بھجوانا اتنا آسان کام نہ ہوگا مسٹر فیاض! آخر آپ مجھے کس بنا پر جیل بھجوائیں گے؟" نواب ہاشم نے کہا اور بدستور فیاض کی آنکھوں میں دیکھتا رہا!۔

"دو وجوہات ہیں! ان میں سے جو بھی آپ پسند کریں!" فیاض نے کہا!"اگر مرنے والا واقعی نواب ہاشم تھا تو آپ دھوکے باز ہیں اور اگر نواب ہاشم نہیں تو آپ اس کے قاتل ہیں!"

"کیوں؟ میں کیسے قاتل ہوں؟"

"جس رات آپ اپنی روانگی ظاہر کرتے ہیں اسی رات کی صبح کو آپ کی خوابگاہ سے ایک لاش برآمد ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں آپ چھپ کر کیوں گئے تھے؟"

"شاید مجھے اب وہ بات دہرانی پڑے گی!" نواب ہاشم نے جھینپے ہوئے انداز میں مسکرا کر رکہا۔

"دہرایئے جناب!" عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا "آپ کے معاملے نے تو میری عقل دوہری کر دی ہے!"
 

قیصرانی

لائبریرین
نواب ہاشم چونک کر مڑا۔۔۔ شاید اسے عمران کی موجودگی کا علم نہیں ہوا تھا!

"اوہ۔۔۔ آپ۔۔۔ تو کیا آپ یہیں سے تعلق رکھتے ہیں؟"

"آپ کچھ بتانے جا رہے تھے!" فیاض نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔

"جی ہاں!۔۔۔ اب وہ بات بتانی ہی پڑے گی!۔۔۔ آج سوچتا ہوں کہ وہ واقعہ کتنا معمولی تھا! لیکن اس وقت گویا مجھ پر جنون سوار تھا! اگر میں نے وہ چوٹ سہہ لی ہوتی اور لوگوں کے ہنسنے کی پروا نہ کی ہوتی تو آج اس حالت کو نہ پہنچتا! خیر سنیئے جناب!۔۔۔ مگر نہیں پہلے میرے ایک سوال کا جواب دیجئے!"

"دیکھئے بات کو خوامخواہ طوالت مت دیجئے! ہم لوگ بیکار آدمی نہیں!" فیاض نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا!

"نہیں میں اختصار سے کام لوں گا! اچھا صاف صاف سنیئے! مجھے ایک عورت سے عشق تھا۔ بظاہر وہ بھی مجھے چاہتی تھی! اسی شہر کا ایک دوسرا رئیس بھی اس کے چکر میں تھا! لہٰذا ہم دونوں کی کشمکش نے اس واقعے کو پورے شہر میں مشہور کردیا۔ عورت بظاہر میری ہی طرف زیادہ جھک رہی تھی! یہ بات بھی عام طور پر لوگوں کو معلوم تھی! لیکن اسی دوران میں نہ جانے کیا ہوا کہ وہ کم بخت ایک تانگے والے کے ساتھ فرار ہو گئی۔ ذرا سوچئے! اگر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ کی احساسات کیا ہوتے! کیا آپ یہ نہ چاہتے کہ اب شناساوں سے نظریں چار نہ ہوں تو اچھا ہے! شرمندگی سے بچنے کے لئے میں نے کسی کو کچھ بتائے بغیر یہاں سے چلا جاؤں۔ جس رات میں نے یہاں سے چلے جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ اسی شام کو باہر سے میرا دوست آگیا!۔۔۔ وہ میرا جگری دوست تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دن اس کی آمد بھی بہت گراں گزری!" نواب ہاشم نے رک کر سگریٹ سلگائی اور دو تین کش لے کر بولا۔ "اسے واقعات کا علم نہیں تھا!۔۔۔ میں نے تہیہ کرلیا کہ قبل اس کے کہ اسے کچھ معلوم ہو! میں یہاں سے چلا جاؤں! چنانچہ میں نے یہی کیا! اسے سوتا چھوڑ کر میں یہاں سے چلا گیا!"

"تو پھر وہ آپ کے دوست کی لاش تھی؟" فیاض نے آگے کی طرف جھک کر پوچھا!۔

"یقینا اس کی رہی ہوگی!۔۔۔ اب دیکھئے میں آپ کو بتاؤں! ابھی میں نے اپنے جس حریف یا رقیب کا تذکرہ کیا تھا۔ یہ حرکت اس کی بھی ہوسکتی ہے! ظاہر ہے کہ اسے اس واقعہ کے سلسلے میں کافی خفت اٹھانی پڑی ہوگی اور اس نے یہی سوچا ہوگا کہ میں نے اسے زک دینے کے لئے عورت کو تانگے والے کےساتھ نکلوا دیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس نے مجھ سے انتقام کی ٹھانی ہو اور میرے دھوکے میں میرے دوست سجاد کو قتل کردیا ہو! مگر پھر سوچتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوسکتا!"

"آخر آپ کا حریف تھا کون؟ اس کا نام بتایئے؟" فیاض نے کہا!

"مرزا نصیر"

"اوہ وہ پہلی کوٹھی والے؟" عمران نے کہا!۔

"جی ہاں وہی!" نواب ہاشم بولا۔

"بڑا افسوس ہوا سن کر!" عمران نے مغموم آواز میں کہا "وہ تو پچھلے سال مر گئے! اب میں کس کے ہتھکڑیاں لگاؤں۔۔۔ کیا ان کے لڑکے سے کام چل جائے گا؟"

فیاض نے عمران کو گھور کر دیکھا! لیکن عمران نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور سرہلاتا ہوا فرش کی طرف دیکھنے لگا!

"مگر مجھے یقین نہیں کہ مرزانصیر نے ایسا کیا ہو!" نواب ہاشم بولا۔ "اگر وہ ایسا کرتا تو بھلا لاش کو ناقابل شناخت بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر فرض کیجئے اس نے دھوکے میں بھی مارا ہوتا تو شکل کبھی نہ بگاڑتا! اب آپ خود سوچئے! کہ وہ کون ہو سکتا ہے؟"

"بھتیجے کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے چچا!" عمران بڑبڑایا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
"کیا مطلب؟" ساجد اچھل کر کھڑا ہوگیا!۔

"واقعی آپ معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے!" نواب ہاشم نے عمران کی طرف دیکھ کر کہا!۔

"پہنچ گیا نا!۔۔۔ ہاہا!" عمران نے احمقانہ انداز میں قہقہہ لگایا!۔

"بہت ہوچکا!" ساجد نواب ہاشم کو گھونسہ دکھا کر بولا "تمہاری چار سو بیسی ہرگز نہیں چلے گی!"

"گرم نہ ہو بیٹے!" نواب ہاشم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ "دولت بیٹے کے ہاتھوں باپ کو قتل کرا سکتی ہے تم تو بھتیجے ہو اور پھر تمہارے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ تمہارے باپ نے اپنی جائیداد پہلے ہی بیچ کھائی تھی! میں کنوارا تھا۔ ظاہر ہے کہ میرے وارث تم ہی قرار پاتے۔۔۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں!"

"بکواس ہے۔۔۔ سو فیصدی بکواس تم نواب ہاشم نہیں ہو! تمہارے کاغذات جعلی ہیں!"

"اور میری شکل بھی شاید جعلی ہے! اتنی جعلی ہے کہ تم نے مجھے حویلی میں قیام کرنے کی اجازت دے دی!"

"تم مجھ پر کسی کا قتل نہیں ثابت کرسکتے!" ساجد نے میز پر گھونسہ مار کر کہا!

"دیکھئے مسٹر!" فیاض نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔ "یہ آپ کی حویلی نہیں میرا دفتر ہے ذرا ہاتھ پ
یر قابو میں رکھئے۔!"

"اوہ۔۔ معاف کیجئے گا!" ساجد نے کہا۔ پھر نواب ہاشم سے بولا!"میں عدالت میں دیکھوں گا تمہاری چرب زبانی!"

"ہاں تو کپتان صاحب میں یہ کہہ رہا تھا!" نواب ہاشم نے لاپروائی سے کہنا شروع کیا۔ "میرے بھتیجے نے دیکھا۔ موقع اچھا ہے! اگر ہاشم آج کل ہی میں قتل کر دیا جائے تو آئی گئی مرزا نصیر کے سر جائے گی!۔۔۔ یہ اسی رات کو حویلی میں چوروں کی طرح داخل ہوا اور میرے دھوکے میں سجاد کو قتل کردیا! اب مجھے یقین ہے کہ اسے اپنی غلطی کا احساس فورا ہی ہو گیا ہوگا اسی لئے تو اس نے لاش کو ناقابل شناخت بنا دیا تھا!۔۔۔ پہلے اس نے مجھے تلاش کیا ہوگا۔ جب میں نہ ملا ہوں گا تو اس نے مقتول کا چہرہ بگاڑ دیا ہوگا!۔۔۔ اور پھر جناب یہ توبتایئے کہ لاش کی شناخت کس نے کی تھی؟۔۔۔"

"انہی حضرت نے!" فیاض نے ساجد کی طرف دیکھ کر کہا!۔۔۔

"اب آپ خود سوچئے! یہ میرا بھتیجا ہے! لاش کا چہرہ بگڑ چکا تھا!۔ آخر اس نے کس بنا پر اسے میری لاش قرار دیا تھا؟ کیا اس لئے کہ مقتول کے جسم پر میرا لباس تھا۔۔۔؟"

فیاض کچھ نہ بولا۔ اس کی نظریں ساجد۔۔۔ کے چہرے پر جمی ہوئی تھی! لیکن اس کے برخلاف عمران نواب ہاشم کو گھور رہا تھا!۔۔۔

"جواب دیجئے کپتان صاحب!" نواب ہاشم نے پھر فیاض کو مخاطب کیا۔

"کیوں جناب! آپ نے کس بنا پر اسے نواب ہاشم کی لاش قرار دیا تھا؟" فیاض نے ساجد سے پوچھا۔

"ہاتھوں اور پیروں کی بنا پر!" ساجد اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتا ہوا بولا۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار تھے!
 

قیصرانی

لائبریرین
"ہاں ہاں! کیوں نہیں! چہرہ تو پہلے ہی بگاڑ دیا تھا!۔۔۔ اور اسی لئے بگاڑا تھا کہ تمہاری شناخت پولیس کے لئے حرف آخر ہو!۔۔۔ظاہر ہے کہ اس کچی شناخت کے معاملے میں پولیس صرف تمہارے ہی بیان سے مطمئن ہو سکتی تھی۔ کیونکہ تم میرے ہی گھر کے ہی ایک فرد تھے!" ساجد کچھ نہ بولا۔ وہ اس اندازمیں نواب ہاشم کو گھور رہا تھا جیسے موقع ملتے ہی اس کا گلا دبوچ لے گا!

"ہاں مسٹر ساجد! آپ اپنی صفائی میں کیا کہتے ہیں؟" فیاض نے سخت لہجے میں کہا۔

"اب میں ہر بات کا جواب اپنے وکیل کی موجودگی ہی میں دے سکوں گا۔" ساجد بولا۔

"یہی چاہئے برخوردار!" نواب ہاشم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

"میں تم سے گفتگو نہیں کر رہا اور ہاں اب تم میری حویلی میں نہیں آؤ گے! سمجھے! اگر تم نے ادھر کا رخ بھی کیا تو نتیجے کے ذمہ دار تم خود ہوگے!"

"نہیں ایسا نہیں ہوسکتا!" عمران بول پڑا۔۔۔ "آپ دونوں سمجھوتہ کیوں نہیں کر لیتے! چین سے مل جل کر اسی کوٹھی میں رہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ نہ میرے کوئی بھتیجا ہے اور نہ چچا۔۔۔ ورنہ میں دنیا کو دکھا دیتا کہ چچا اور بھتیجا کس طرح ایک جان دو قابل۔۔۔ نہیں باقل۔۔۔ ہائیں۔۔۔ بک رہا ہوں میں سوپر فیاض۔۔۔ کیا محاورہ ہے وہ۔۔۔ ایک جان۔۔۔ دو قابل۔۔۔ چہ چہ چہ۔۔۔ آہاں۔۔۔ قالب قالب ایک جان دو قالب۔۔۔ واہ بھئی۔۔۔ ہینھ!"

"بھلا ان کے آپس کے سمجھوتے سے کیا بنے گا!۔۔۔ وہ لاش تو بہرحال درمیان میں حائل رہے گی!" فیاض بولا!۔

"ارے یار چھوڑو بھی!" عمران نے سنجیدگی سے کہا۔ "یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک مردہ آدمی کے لئے چچا بھتیجوں میں ناچاقی ہو جائے! بھلا وہ لاش ان کے کس کام آئے گی؟"

"اچھا آپ یہاں سے تشریف لے جایئے!" فیاض نے منہ بگاڑ کر انتہائی خشک لہجے میں کہا! لیکن عمران پر اس کا ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا۔ اس نے مسکرا کر رکہا۔۔

"میں یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ اس قتل کا تعلق مرزا نصیر سے تھا!۔۔۔ کیوں فیاض صاحب! جو بات نواب ہاشم اپنے بھتیجے کے متعلق سوچ رہے ہیں۔ کیا وہی مرزا نصیر کے ذہن میں نہ آئی ہوگی؟"

"کون سی بات؟"

"یہی کہ لاش کا چہرہ بگاڑ دینے سے خیال ساجد کی طرف جائے گا!"

"یہ بات کہی ہے آپ نے!" ساجد اچھل پڑا اور پھر فیاض سے بولا۔"اب اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟"

"اوہ! ختم بھی کیجئے!" عمران ہاتھ اٹھا کر بولا۔ "بس جایئے! لیکن آپ دونوں حویلی میں ہی رہیں گے! مقصد اور کچھ نہیں!۔۔۔ بس اتنا ہی کافی ہے کہ میرے آدمیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو!"

"میں سمجھا نہیں!" نواب ہاشم نے کہا۔

"میرے آدمی آپ دونوں کی نگرانی کرتے ہیں! اگر آپ میں سے کوئی کسی دوسری جگہ چلا گیا تو مجھے نگرانی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑے گا۔"

فیاض نے عمران کو گھور کر دیکھوا! غالبا وہ سوچ رہا تھا کہ عمران کو نگرانی کے متعلق کچھ نہ کہنا چاہیئے تھا!۔۔۔ ساجد اور نواب ہاشم حیرت سے منہ کھولے ہوئے عمران کی طرف دیکھ رہے تھے۔

"بس اب آپ لوگ تشریف لے جایئے!" عمران نے ان سے کہا۔"جس نے بھی حویلی کی سکونت ترک کی اس کے ہتھکڑیاں لگ جائیں گی!"
 

قیصرانی

لائبریرین
"آپ نہ جانے کیسی باتیں کر رہے ہیں؟" ساجد بولا۔

"چپڑاسی!" عمران نے میز پر رکھی ہوئی گھنٹی پر ہاتھ مارتے ہوئے صدا لگائی!۔۔۔ انداز بالکل بھیک مانگنے کا سا تھا۔۔۔!

"اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ اچھی بات ہے!" نواب ہاشم اٹھتا ہوا بولا!"میں حویلی سے نہیں ہٹوں گا۔ لیکن میری زندگی کی حفاظت کی ذمہ داری آپ پر ہوگی!"

"فکر نہ کیجئے! قبر تک کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہوں!" عمران نے سنجیدگی سے کہا! وہ دونوں چلے گئے اور فیاض عمران کو گھورتا رہا۔۔۔

"تم بالکل گدھے ہو!" اس نے کہا!

"نہیں! میں دوسری برانچ کا آدمی ہوں!۔۔۔ میرے یہاں سپرنٹنڈنٹ نہیں ہوتے!"

"تم نے انہیں نگرانی کے متعلق کیوں بتایا! اب وہ ہوشیار ہو جائیں گے۔ احمق بننے کے چکر میں بعض اوقات سچ مچ حماقت کربیٹھتے ہو!"

"آہ کپتان فیاض! اسی لئے جوانی دوانی مشہور ہے!" عمران نے کہا!۔۔۔ اور داہنی ایڑی پر گھوم کر کمرے سے نکل گیا!۔۔۔ رات تاریک تھی!۔۔۔ عمران عالمگیری سرائے کے علاقے میں چوروں کی طرح چل رہا تھا۔ اس کے ایک ماتحت نے جس کو لڑکی کے مکان کی نگرانی کے لئے مقرر کیاگیا تھا۔ اطلاع دی تھی کہ آج دن میں کچھ مشتبہ آدمی مکان کے آس پاس دکھائی دیئے تھے!۔۔۔ عمران نے اپنی کار سڑک پر ہی چھوڑ دی تھی اور پیدل ہی پیلے مکان کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ گلی کے موڑ پر اسے ایک تاریک سا انسانی سایہ دکھائی دیا!

عمران رک گیا! اس نے محسوس کیا کہ وہ سایہ چھپنے کی کوشش کر رہا تھا!۔

"ہدہد!" ۔۔۔ عمران نے آہستہ سے کہا!۔۔۔

"جج جناب والا!" دوسری طرف سے آواز آئی!۔۔۔ عمران نے اپنے اس ماتحت کا نام ہدہد رکھا تھا!۔۔۔ یہ گفتگو کرتے وقت تھوڑا سا ہکلاتا تھا اور اس کی شکل دیکھتے ہی نہ جانے کیوں لفظ "ہدہد" کا تصور ذہن میں پیدا ہوتا تھا۔ پہلے پہل جب عمران نے اسے ہدہد کہا۔ تو اس کے چہرے پر ناخوشگوار قسم کے آثار پیدا ہوئے تھے اور اس نے اسے بتایا تھا کہ وہ ایک نجیب الطرفین قسم کا خاندانی آدمی ہے۔۔۔ اور اپنی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔ اس پر عمران نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس محکمہ میں حقیقتا اسی قسم کے نام ہونے چاہئیں۔ بہرحال وہ بڑی مشکل سے اس بات پر راضی ہوا تھا کہ اسے ہدہد پکارا جائے۔۔۔ اس میں ایک خاص بات اور بھی تھی! جو اس کے حلئے کے اعتبار سے ضرورت سے زیادہ مضحکہ خیز تھی۔ بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ دوران گفتگو بہت ہی ادق قسم کے الفاظ استعمال کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس پر سے ہکلاہٹ کی مصیبت! بس ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے اس پر ہسٹیریا کا دورہ پڑ گیا ہو۔

"کیا خبر ہے؟" عمران نے اس سے پوچھا! وہ اس کے قریب آگیا تھا!۔

"ابھی تک تو کچھ بھی ظہور میں نہیں آیا۔"۔۔۔ ہدہد بولا۔

"مگر میں نے ظہور کو کب بلایا تھا؟" عمران نے متحیرانہ لہجے میں پوچھا! پتہ نہیں اس کے سننے میں فرق آیا تھا یا وہ جان بوجھ کر گھس رہا تھا!

"جج۔۔۔ جناب والا۔۔۔ میرا مطلب یہ ہے کہ۔۔۔ جج۔۔۔ جج۔۔۔ حالات میں ککوئی تغیر واقعی نہیں ہوا۔۔۔ یا یوں سمجھئے کہ۔۔۔ تب تا این دددم۔۔۔ جج جوں کا تت توں۔۔۔!"

"میرے ساتھ آؤ"

"بب بسرو چچ چشم!" دونوں آگے بڑھ گئے!۔۔۔ بستی پر سناٹا طاری تھا۔ کبھی کبھی آس پاس کے گھروں سے بچوں کے رونے آوازیں آتیں اور پھر فضا پر سکوت مسلط ہو جاتا! اس بستی کے کتے بھی
 

قیصرانی

لائبریرین
شائد افیونی تھے۔ عمران کو اس بات پر بڑی حیرت تھی کہ ابھی تک کسی طرف سے بھی کتوں کی آوازیں نہیں آئی تھیں۔ پہلے اس کا خیال تھا کہ اس وقت کتوں کی وجہ سے بستی میں قدم رکھنا بھی دشوار ہو جائے گا! وہ تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ اچانک عمران کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گرتے گرتے بچا اور وہ چیز یقینا ایسی تھی جو دباؤ پڑنے پر دب بھی سکتی تھی عمران نے بڑی پھرتی سے زمین پر بیٹھ کر اسے ٹٹولا۔۔۔ وہ کسی کتے کی لاش تھی۔

"کک۔۔۔ کیا۔۔۔ ظہور پذیر ہوا۔ جناب؟" ہدہد نے پوچھا!

"ظہور نہیں پذیر ہوا ہے آگے بڑھو!" مکان کے قریب پہنچ کر وہ دونوں ایک دیوار سے لگ کر کھڑے ہوگئے۔ گہری تاریکی ہونے کی بنا پر انہیں قریب سے بھی دیکھ لئے جانے کا امکان نہیں تھا!۔

"سس، سس!" ہدہد آہستہ سے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ عمران نے اس کا شانہ دبا دیا!۔۔۔ اسے تھوڑے ہی فاصلے پرکوئی متحرک شئے دکھائی دی تھی۔ ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی چوپایہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اسی طرف آرہا ہو۔۔۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔ ان چوپایوں میں اضافہ ہوگیا!۔۔۔ ایک دو تین۔۔۔ چار۔۔۔ پانچ۔۔۔!" عمران کا داہنا ہاتھ کوٹ کی جیب میں تھا۔۔۔ اور مٹھی میں ریوالور کا دستہ جکڑا ہوا تھا!۔۔۔ دیوار کے قریب پہنچتے ہی چوپائے سیدھے کھڑے ہوگئے!۔۔۔ عمران پہلے ہی سمجھ گیا تھا! وہ پانچ آدمی تھے لیکن تاریکی کی وجہ سے پہنچانے نہیں جاسکتے تھے! عمران نے اس خیال سے ہدہد کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا کہ کہیں وہ بوکھلا کر کوئی حماقت نہ کر بیٹھے۔

"ارر۔۔۔ ہش!" ہدہد اس کا ہاتھ جھٹک کر اچھل پڑا پانچواں آدمی بھی بالکل اسی کے انداز میں اچھل کر بھاگا! عمران نے ان پر جست لگائی اور ایک کو جا لیا!

"خبردار! ٹھہرو۔ ورنہ گولی مار دوں گا!" اس نے دوسروں کو للکارا۔ لیکن اس للکار کا کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔ وہ تاریکی میں گم ہو چکے تھے۔ عمران کی گرفت میں آیا ہوا آدمی بھی نکل بھاگنے کے لئے جدوجہد کر رہا تھا!

"او ہدہد کے بچے!" عمران نے ہانک لگائی۔

"دد۔۔۔ دیکھئے جناب!" ہدہد نے کہا، جو قریب ہی کھڑا کانپ رہا تھا۔

"مم۔۔۔ میں۔۔ خخ۔۔۔ خاندانی آدمی ہوں۔۔۔ پہلے ہدہد پھر ہدہد کا بچہ۔۔۔ واہ۔۔۔ جناب۔۔۔ مم ۔۔۔"


"شٹ اپ۔۔۔ ٹارچ جلاؤ۔"

"وہ تو۔۔۔ کک۔۔۔ کہیں۔۔۔ گر گئی!" اس دوران میں عمران نے اپنے شکار کے چہرے پر دو چار گھونسے رسید کئے اور وہ سیدھا ہو گیا!۔۔۔

"چلو!۔۔۔ ادھر۔۔۔!" اس نے پھر ہدہد کو مخاطب کیا!"اس کے گلے سے ٹائی کھول لو۔۔۔!"

ہدہد بوکھلاہٹ میں عمران کی گردن ٹٹولنے لگا۔۔۔

"ابے۔۔۔ یہ میں ہوں!"

"جی۔۔۔! کیا۔ ابے۔۔۔! ببعید از شرافت۔۔۔ میں کوئی کنجڑا قصائی نہیں ہوں!۔۔۔ مم۔۔۔ ممجھے۔۔۔ اسی وقت۔۔۔ مم۔۔۔ ملازمت سے سبکدوش کرادیجئے۔۔۔ جج۔۔۔ جی ہاں!"

"چلو! ورنہ گردن مروڑ دوں گا!"

"حد ہو گئی جناب!۔۔۔"

اتنے میں عمران نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ پیر سست پڑ گئے ہیں! اس پر سچ مچ غشی کی سی کیفیت طاری ہو گئی تھی! عمران نے اس کے گلے سے ٹائی کھول کر اس کے ہاتھ باندھ دیئے! پھر اٹھ کر ہدہد کی گردن دبوچتا ہوا بولا!

"ملازمت سے سبکدوش ہونا چاہتے ہو۔"

"جج جی۔۔۔ ہاں!" ہدہد کے لہجے میں جھلاہٹ تھی لیکن اس نے اپنی گردن چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔

"ٹارچ تلاش کرو!" عمران اسے دھکا دیتے ہوئے بولا اور ٹارچ جلد ہی مل گئی۔ وہ وہیں پڑی ہوئی تھی، جہاں ہدہد اچھلا تھا!۔۔۔

عمران نے بیہوش آدمی کے چہرے پر روشنی ڈالی۔ یہ ایک نوجوان اور توانا آدمی تھا! لیکن چہرے کی بناوٹ کے اعتبار سے اچھے اطوار کا نہیں معلوم ہوتا تھا! اس کے جسم پر سیاہ سوٹ تھا!
 

قیصرانی

لائبریرین
(۱۰)​

تقریبا ایک گھنٹے بعد عمران کوتوالی میں اسی آدمی سے پوچھ گچھ کر رہا تھا!

"تم وہاں کس لئے آئے تھے؟"

"مجھے اس کا علم نہیں!"

"تم نہیں بتاؤ گے؟"

"دیکھئے جناب! میں کچھ نہیں چھپا رہا ہوں! خدا کی قسم مجھے علم نہیں! اور پھر ہم چاروں کو تو باہر کھڑا رہنا تھا!۔۔۔ اکیلا وہی اندر آجاتا!"

"کون"

"صفدر خان"

"یہ کون ہے؟"

"آپ یقین نہ کریں گے کہ ہم اس کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے ویسے وہ خود کو ایک علاقے کا جاگیردار بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم لوگوں کی مدد سے اپنے ایک حریف کے خلاف مقدمہ بنا رہا ہے۔۔۔ آج سے کچھ عرصہ پیشتر ہم اس مکان سے ایک جنازہ لائے تھے اور آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ چادر کے نیچے لاش کی بجائے تین بالٹیاں اور ایک دیگچی تھی!۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ مصنوعی جنازہ۔۔۔!"

"واہ!" عمران بے اختیار ہنس پڑا!

"میں کچھ نہیں چھپاؤں گا جناب!۔۔۔ اس نے ان کاموں کے لئے ہمیں چار ہزار روپے دیئے تھے۔۔۔ اور ہاں یہ تو بھول ہی گیا!۔۔۔ وہ ہمیں ایک امریکن کے بنگلے پر بھیجا کرتا تھا!۔۔۔ وہ بات بھی عجیب تھی!۔۔۔۔ ہمارا کام صرف یہ تھا کہ ہم وہاں تھوڑی سی اچھل کود مچا کر واپس آ جایا کریں! لیکن اس نے آج تک اس کا مقصد نہیں بتایا!۔۔۔"

"صفدر خان کا حلیہ کیا ہے؟۔۔۔"

"چہرے پر گھنی داڑھی!۔۔۔ شلوار قمیض پہنتا ہے! ناک چپٹی سی!۔۔۔ آنکھوں میں کیچڑ"

"سیاہ چشمہ نہیں لگاتا؟" عمران نے پوچھا!۔۔۔

"جی نہیں!۔۔۔ چشمہ لگائے ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔"

"اچھا اپنے بقیہ تین ساتھیوں کے نام اور پتے بتاؤ!"

"میں کسی کے نام اور پتے سے واقف نہیں ہوں! جب وہ ہمیں ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے تب ہی ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں! ورنہ پھر آپس میں کبھی ملنے کا اتفاق نہیں ہوتا!"

"ہوں! وہ تمہیں کس طرح بلاتا ہے؟۔۔۔"

"فون پر!۔۔۔ شاید ہم چاروں کو ہی یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں رہتا ہے!"

"تمہیں ان تینوں آدمیوں کے فون نمبر معلوم ہیں؟"

"جی نہیں!۔۔۔ ہم میں کبھی گفتگو نہیں ہوئی!۔۔۔ ہم چاروں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں! ویسے صورت آشنا ضرور ہیں!" عمران نے لکھتے لکھتے نوٹ بک بند کر دی!۔۔۔ ملزم حوالات میں بھیج دیا گیا!۔۔۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top