عمران خان کا سیلانی عزم...نجم سیٹھی

arifkarim

معطل
ہاہاہاہاہ۔۔۔ جی بلکل وہاں تحقیقات نہ کریں۔ تحریک انصاف کا امیدوار جو پہلے مسلم لیگ، پھر پیپلز پارٹی، پھر آزاد امیدوار اور بعد میں ق لیگ میں شامل رہا، میرا کبھی بھی فیورٹ نہیں رہا۔ تادم تحریر تحریک انصاف میں ہے اور اسے کبھی ووٹ نہیں دیا۔۔ ویسے بھی ہمارے ووٹ گاؤں میں ہیں وہیں پوسٹ ہوتے رہتے ہیں، ہم ہوں یا نا ہوں
تحریک انصاف یہی لوٹوں کی سیاست کرنے کی وجہ سے پچھلے الیکشن میں بری طرح ہاری تھی اور الزام سارا دھاندلی یعنی ریٹرننگ آفیسرز اور الیکشن کمیشن پر تھوپ دیا :)

یہ مسئلہ بہت آسانی سے سلجھ سکتا تھا اگر ہر دو کھلاڑی اسے قومی اسمبلی کے اندر رکھتے۔ لیکن سڑکوں پر آنے کے فیصلے اور شہرت حاصل کرنے کے چکر نے یہ حال کر دیا
میں پہلے بھی آپکے لئے پارلیمان کی اندرونی کاروائی پوسٹ کر چکا ہوں۔ عمران خان کے بار بار مطالبہ کے باوجود حکومت وقت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ 4 حلقوں کا مطالبہ کوئی اتنا پیچیدہ نہیں تھا کہ اسکو چند ماہ میں حل نہ کیا جا سکتا۔ اسوقت نون لیگی وزراء یہی کہتے تھے کہ چار حلقوں کا محض بہانہ ہے۔ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ جبکہ اصل کہانی انہوں نے یہ 4 حلقے نہ کھلوا کر خود شروع کی :)
 
تحریک انصاف یہی لوٹوں کی سیاست کرنے کی وجہ سے پچھلے الیکشن میں بری طرح ہاری تھی اور الزام سارا دھاندلی یعنی ریٹرننگ آفیسرز اور الیکشن کمیشن پر تھوپ دیا :)
جناب عمران خان صاحب نے جیو پر حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا "میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں پاکستان کا وزیراعظم بن گیا ہوں اور آپ یہ بات لکھ کر رکھ لیں"
جب اتنی شدید خوائش کا اظہار کر دیا گیا ہو تو اس کے بعد شکست جو بظاہر سیاسی سمجھ بوجھ کی کمی، ٹکٹوں کی غلط تقسیم، وفاداریاں بدلنے والوں کی اکثریت، انتخابی جدوجہد کو مخصوص شہری علاقے تک محدود رکھنے جیسی موٹی موٹی 'وجوہات کی وجہ' سے ہوئی ہو، کو ہضم کرنا مشکل اور منظم دھاندلی کا الزام لگا کر احتجاجی سیاست کرنا آسان ہے۔
کچھ نظر انتخابی نتائج پر ڈالتے ہیں۔۔ صورتحال کچھ نہ کچھ واضح ہو جائے گی۔
قومی اسمبلی کی 40 نشستوں پر تحریک انصاف کا کوئی امیدوار ہی نہیں تھا (کے پی کے سے 1، پنجاب سے 10، سندھ سے 24، بلوچستان سے 5)
۔۔
قومی اسمبلی کی 93 نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدوران کی ضمانت ضبط ہوئی۔ (جو امیدواران ڈالے گئے مستند ووٹوں کا 1/8 یا 12.5 فیصد بھی نہ حاصل کر پائیں ان کا زر ضمانت ضبط ہو جاتا ہے) اس طرح تکنیکی طور پر قومی اسمبلی کی 133 نشستوں پر تحریک انصاف تھی ہی نہیں۔
باقی بچ جانے والی 229 نشستوں پر تحریک انصاف 202 نشستوں سے انتخابات ہار گئی۔
۔۔
ان 202 نشستوں میں سے صرف 31 امیدواران نے الیکشن ٹریبونل میں انتخابی عذرداریاں داخل کروائیں، یعنی 172 امیدواروں نے اپنی انتخابی شکست کو تسلیم کر لیا۔
ان 31 میں سے 20 کا فیصلہ ہو چکا اور ان 20 میں سے صرف 2 نے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، باقی اٹھارہ نے ٹریبونل کے فیصلے کو مان لیا۔
۔۔
باقی بچ جانے والی 11 عذرداریوں پر ایک نشست جماعت اسلامی، ایک اے این پی، ایک آزاد امیدواراور 8 مسلم لیگ ن کے خلاف ہیں۔
اگر جناب عمران خان کے مینڈیٹ چرانے کے رونے چلانے کو دیکھ کر ان مندرجہ بالا اعداد کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا بجا ہو گا، کہ عمران خان اور ان کی جماعت غلط بیانی کر رہی ہے اور مخالفین کا نعرہ 'رو عمران رو' سچا ہے۔ :):):)
عمران خان کے بار بار مطالبہ کے باوجود حکومت وقت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ 4 حلقوں کا مطالبہ کوئی اتنا پیچیدہ نہیں تھا کہ اسکو چند ماہ میں حل نہ کیا جا سکتا۔ اسوقت نون لیگی وزراء یہی کہتے تھے کہ چار حلقوں کا محض بہانہ ہے۔ اصل کہانی کچھ اور ہے۔
جناب عمران خان پارلیمانی نظام میں 'مل جل' کر قانون سازی کرنے کے نظام کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ سیاست کچھ لو اور کچھ دو پر چلتی ہے، خاص طور پر جب انتخابات ہو چکے ہوں۔ اگر جناب خان صاحب کی آواز لیگی وزراء نہیں سن یا سمجھ رہے تھے تو خان صاحب کو وزیر اعظم سے براہ راست رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ بلکل ایسے ہی جیسے وزیر اعظم صاحب نے وزیرستان آپریشن پر عمران خان صاحب کو بلانے کی بجائے ان کے پاس جا کر انھیں اعتماد میں لیا۔
 

arifkarim

معطل
اگر جناب عمران خان کے مینڈیٹ چرانے کے رونے چلانے کو دیکھ کر ان مندرجہ بالا اعداد کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا بجا ہو گا، کہ عمران خان اور ان کی جماعت غلط بیانی کر رہی ہے اور مخالفین کا نعرہ 'رو عمران رو' سچا ہے۔
آپکے تمام حقائق اگر بالکل درست ہیں اور نون لیگ کو اکثریتی مینڈیٹ حاصل ہے تو 4 متنازع حلقے ٹریبونلز میں کھلوانے کی بجائے 20 ماہ سے کیوں مسلسل اسٹے آرڈر لئے جا رہے ہیں؟ سارے پھڈے اور فساد کی جڑ ہی یہ انتخابی حلقے نہ کھلوانا ہے اور حکومت کی طرف سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ہے۔ 4 حلقے کھلوا لینے کے بعد کونسا پورا الیکشن منتازع ہو جانا تھا۔ اس عمل میں ٹانگ اڑا کر حکومت خود ہی عمران خان کے مؤقف کو ہوا دئے ہوئے ہے۔ یاد رہے کہ عمران نے یہ 4 حلقے کھلوانے کا مطالبہ ہسپتال سے کیا تھا جب وہ ابھی صحتیاب بھی نہیں ہوا تھا! :)


جناب عمران خان پارلیمانی نظام میں 'مل جل' کر قانون سازی کرنے کے نظام کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ سیاست کچھ لو اور کچھ دو پر چلتی ہے، خاص طور پر جب انتخابات ہو چکے ہوں۔ اگر جناب خان صاحب کی آواز لیگی وزراء نہیں سن یا سمجھ رہے تھے تو خان صاحب کو وزیر اعظم سے براہ راست رابطہ کرنا چاہیے تھا۔
یا سننا نہیں چاہتے۔ مجھے یاد ہے کہ جب جناب نورا شریف صاحب خود عمران خان سے ملنے انکے گھر گئے تھے۔ تب انہیں معلوم نہیں تھا کہ کچھ عرصہ بعد انکے خلاف اوئے نورے اور اوئے لٹیرے ہو جانا ہے۔ کاش یہ 4 حلقے کھلوا دیتے تو عمران کے غبارے سے ہوا نکل جاتی۔ اب یہ بات ان 4 سے بہت آگے چلی گئی ہے۔ اب تو پورے الیکشن کا احتساب ہوگا اور لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ عمران یقیناً انتخابی اصلاحات کا بل پارلیمان کے ذریعہ پاس کرواتا اگر اسکے 4 متنازع حلقے صاف اور شفاف طریقے سے کھول دئے جاتے۔ وگرنہ اسکو کنٹینر کی سیاست کرنے کیلئے 18 ماہ تک انتظار نہ کرنا پڑتا۔ 12 مئی 2013 کو ہی کنٹینر سج جاتا :)

بلکل ایسے ہی جیسے وزیر اعظم صاحب نے وزیرستان آپریشن پر عمران خان صاحب کو بلانے کی بجائے ان کے پاس جا کر انھیں اعتماد میں لیا۔
عمران خان کو معلوم تھا کہ نون لیگی وزراء کے مزاج کیسے ہیں۔ پارلیمان میں انکی عمران خان کیخلاف بیان بازی کے بعد مزید اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہے، یہ لٹیروں حکمران نہیں کہ انکو اعتماد میں لیا جائے:
 
Top