علامہ دہشتناک : صفہ 12-13 : تیسرا صفحہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

سیدہ شگفتہ

لائبریرین




تیسرا صفحہ




صفحہ | منتخب کرنے والی ٹیم | تحریر | پہلی پروف ریڈنگ | دوسری پروف ریڈنگ | آخری پروف ریڈنگ | پراگریس

دوسرا : 12 - 13 | ٹیم 1 | م ۔ م ۔ مغل | ماوراء | جویریہ | ---- | 80%







 

الف عین

لائبریرین
جوجو مجھے بھیجنا بھول گئی تھی شاید۔۔۔ یہاں سے کاپی کر کے کر دی ہے ابھی ابھی۔ شکریہ ابو کاشان ادھر متوجہ کرنے کا
 

الف عین

لائبریرین
بار آخر:

”دوسری بات۔! کچا مکان تباہ ہو گیا ۔۔۔ حویلی فنا ہو گئی لیکن وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے جنہوں نے حویلی والوں کو عدالت میں پیش ہونے سے بچا لیا تھا۔ لہٰذا اس ذہین بچے کو بھی ہمیشہ زندہ رہنا چاہئے۔ “
”علامہ دہشت !“ ایک پر جوش جوان نے ہانک لگائی ۔
"زندہ باد" متفقہ نعرہ تھا۔
علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ”جرائم کی پردہ پوشی کرنے والے قانون کے محافظ اس وقت سے موجود ہیں جب قانون نے جنم لیا تھا اور اب جب تک قانون موجود ہے وہ بھی زندہ رہیں گے۔ لہٰذا انہیں بھی زندہ رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ جس دن یہ بھی ختم ہوئے تم بھی ختم ہو جاؤ گے۔ جرائم کا اصل سبب یہی ہے کہ لوگ قانون کے محافظوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔“
وہ خاموش ہو کر ان کی شکلیں دیکھنے لگا تھا۔
دفعتاً ایک لڑکی کی طرف انگلی اٹھا کر بولا ۔ ” کیا تمہیں اس میں شبہ ہے ۔!“
” نن ۔۔۔۔ نہیں جناب ۔۔۔ لیکن ۔۔۔؟ “
” میں نے یہ “لیکن“ تمہارے چہرے پر پڑھ لیا تھا ۔!“
”میری دانست میں جرائم کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے۔“
”میں سمجھ گیا تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔“ علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔ ” وہی گھسی پھٹی بات کہ کسی قسم کی اقتصادی بد حالی جرائم کو جنم دیتی ہے۔!“
” جج ۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ !“
” غلط ہے ! یہ صرف جذبۂ انتقام کی کار فرمائی ہے۔ اگر کوئی ایک روٹی چراتا ہے تو یہ معاشرے کی اس مصلحت کوشی کے خلاف انتقامی کاروائی ہے جس نے اسے بھوکا رہنے پر مجبور کر دیا ۔“
”معاشرے کی مصلحت کوشی سمجھ نہیں آئی جناب۔!“
” یہ مصلحت کوشی ان چند افراد کی ہوس ہے جو وسائلِ حیات کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اصل مجرم وہی ہیں لیکن صدیوں سے ان کی ذہانت ا ن کے اس بنیادی جرم کی پردہ پوشی کرتی آ رہی ہے۔۔۔۔!“
” وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟“
” دوسروں کو اپنے سامنے جھکائے رکھنے کے لیے ۔ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے۔ ان کی ذہانت ان کے اس بنیادی جرم کو صدیوں سے خدا کا قانون قرار دیتی چلی آ رہی ہے۔“
” میں سمجھ گئی جناب۔۔۔۔!“
” لیکن مطمئن نہیں ہوئیں۔ میں تمہاری آنکھوں میں اب بھی شبہات کی جھلکیاں دیکھ رہا ہوں۔“ لڑکی کچھ نہ بولی۔ علامہ اسے گھورتا رہا ۔
” میں دراصل ۔۔۔ یہ کہنا چاہتی تھی جناب کہ مذہب۔!“
” بس ۔۔۔۔! “ علامہ بات کاٹ کر بولا۔ ”تم پر میری محنت ضائع ہوئی ہے۔!“
لڑکی سختی سے ہونٹ بھینچ کر رہ گئی اور وہ کہتا رہا۔” تمہاری ذہانت مشتبہ ہے۔۔۔۔!“
”شش شاید۔۔۔ مم۔۔۔ میں ۔“
”بات آگے نہ بڑھاؤ۔ اس مسئلے پر کئی بار روشنی ڈال چکا ہوں اور تم سب بھی سن لو کہ حویلی والے بڑے مذہبی لوگ تھے۔۔۔۔ اور کچے مکان کا وہ فرد بھی بڑا مذہبی تھا جو اپنے متعلقین سمیت جل کر بھسم ہو گیا تھا۔“
کوئی کچھ نہ بولا ۔ وہ لڑکی بھی خاموش ہو گئی تھی۔ علامہ نے اس طرح ہونٹ سکوڑ رکھے تھے جیسے کوئی کڑوی کسیلی چیز حلق سے اتار گیا ہو۔
”واپسی۔۔۔!“ دفعتاً اس نے کہا اوروہ ایک بار پھر قطار میں دوڑتے نظر آئے لیکن ترتیب پہلی سی نہیں تھی۔ علامہ سب سے پیچھے تھا۔۔۔۔ اور پھر وہ ایک نوجوان سمیت دوسروں سے بہت دور رہ گیا ۔ اس نے اپنے آگے والے نوجوان کو پہلے ہی ہدایت کردی تھی کہ وہ اپنی رفتار معمول سے کم رکھے۔ اب وہ دونوں برابر سے دوڑ رہے تھے اور دوسروں سے بہت پیچھے تھے۔
”پیٹر۔!“ علامہ نے نوجوان کا نام لے کر مخاطب کیا ۔
”یس سر۔۔!“ پیٹر بولا اور دوڑ برابر جاری رہی۔
”یاسمین کے خیالات سنے تم نے؟"
”یس سر۔!“
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top