عشق میں ترے مرنا عمرِ جاودانی ہے - الکزینڈر ہیڈرلی ، تخلص آزاد

کاشفی

محفلین
غزل​
عشق میں ترے مرنا عمرِ جاودانی ہے​
یہ جو زندگانی ہے خاک زندگانی ہے​
​
ان کے سننے کے قابل کب مری کہانی ہے​
وہ کبھی جو سنتے ہیں اپنی خوش بیانی ہے​
​
آہ کی شرر ریزی آج آزمانی ہے​
آگ گھر میں دشمن کے، شب مجھے لگانی ہے​
​
جو کریں وہ بدوضعی ان کے وضعداری ہے​
گر کریں وہ بے مہری عین مہربانی ہے​
​
مجھ پہ گو مصیبت ہے یاد تو ہوں میں ان کو​
وہ ستم جو کرتے ہیں ان کی مہربانی ہے​
​
اک اُمید رہتی ہے ہم کو نااُمیدی میں​
موت کی توقع پر اپنی زندگانی ہے​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top