عشق میں اب جو حال ہے میرا

زوجہ اظہر

محفلین
محترم اساتذہ الف عین ، ظہیراحمدظہیر محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن ، یاسر شاہ ، سید عاطف علی
السلام علیکم،
آپ سب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے ۔ آپ سے اصلاح کی درخواست ہے۔

عشق میں اب جو حال ہے میرا
زندہ رہنا محال ہے میرا

دل کہ غم سے نڈھال ہے میرا
عشق روبہ زوال ہے میرا

جو بھی ہے آپ کی عنایت ہے
یہ دگرگوں جو حال ہے میرا

میری رسوائیاں ہیں ساتھ مرے
یہ ہی جی کا وبال ہے میرا

ڈوب جانا مرا زوال سہی
پھر ابھرنا کمال ہے میرا

مجھ سے سب پوچھتے ہیں " کیا غم ہے؟"
یہ ہی خود سے سوال ہے میرا

چشمِ حیراں مری ہوئی پرنم
آئنہ جو نڈھال ہے میرا

گر کے پاتال میں جو زندہ ہوں
منتہائے کمال ہے میرا
صابرہ امین سلامت رہیں
مزیدار ۔۔۔ اس لئے کہ اس غزل کو بارہا کئی طرح سے الٹ پلٹ کر پڑھا ہے جیسے " میرا کو تیرا"
 

صابرہ امین

لائبریرین
آخری تدوین:

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین

صابرہ امین

لائبریرین
Top