عبدالرحیم خان خاناں

سید شہزاد ناصر نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 10, 2017

  1. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    8,720
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    عبدالرحیم خان خاناں
    حسن بیگ
    اردو زبان کی ضرب المثل ہے ’عبدالرحیم خان خاناں تمہارے کھانے میں بتانہ‘ یہ مثل عبدالرحیم جو دور اکبر و جہانگیر کی مشہور و معروف شخصیت ہے کی سخاوت کی نشاندہی کرتی ہے۔ عبدالرحیم کے دربار میں غریب غربا کے لئے لنگر جاری رہتا تھا، بریانی اس میں عام تھی، بریانی میں سکے شامل کر دیئے جاتے تھے۔ یہ سکے سونے کی اشرفی بھی ہو سکتی تھی یا تانبے کا پیسہ، جو جس کی رکابی میں آجاتا وہ اسی کا ہو جاتا۔ اسی طرح ایک اور ضرب المثل ’ کماویں خان خاناں اور اڑائیں میاں فہیم‘ بھی زباں زد ہے۔ میاں فہیم عبدالرحیم کے لے پالک تھے، ان کے بہت قریب تھے، عبدالرحیم نے ان کو بچپن سے پالا تھا۔ یہ ان کے پاس پل کر ہی جوان ہوئے تھے، عبدالرحیم کے جنگ جدل اور امن میں ان کے ساتھ تھے اور ان کے قریبی ندیم کہلاتے تھے۔ جو دھن دولت عبدالرحیم نے جمع کی، کہتے ہیں میاں فہیم اس پر اپنا برابر حق سمجھ کر خرچ کرتے تھے۔
    اکبر کے دربار میں اہل علم و کمال جمع تھے۔ اس کے درباری امراء میں بہت سے علم و فضل کے لحاظ سے ممتاز مقام رکھتے تھے اور یہ امراء نہ صرف علم و ادب سے دلچسپی رکھتے تھے بلکہ اپنے طور پر صاحبان علم و فن اور اہل ہنر کی قدر دانی اور سرپرستی کرتے اور انہیں گرانقدر انعامات و عطیات سے نوازتے بھی تھے۔ ایسی صفات و خصوصیات کے حامل امراء میں نمایاٰ نام اور منفرد شخصیت عبدالرحیم خان خاناں کی نظر آتی ہے ،جو دربار اکبر کے ’نو رتن‘ کا ایک رکن ہو نے کے علاوہ افواج کے سپہ سالار اور وزیر جنگ بھی تھے۔ خان خاناں ایک نڈر سپاہی، ماہر فن سپہ گری اور سیاستمدار ہی نہیں ، وہ ایک اعلٰی درجہ انشا پرداز، مترجم، ادیب اور شاعر بھی تھے۔ وہ فارسی اورترکی کے علاوہ جو اس کی گھر کی زبانیں تھیں، عربی، ہندی اور سنسکرت کے بھی عالم اور ماہر تھے۔ اس کے علاوہ وہ یورپی زبانوں سے بھی واقف تھے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ یورپی زبان پرتگالی ہو گی۔ کیو نکہ پرتگالیوں کی آمد و رفت مغر بی ہندوستان میں ہو چکی تھی۔ خود اکبر نے خان خاناں سے اہل فرنگ کی زبان سیکھنے کو کہا تھا۔ اس کے علا وہ وہ ملک کے اندر بولی جانے والی اکثر زبانو ں کو جانتے تھے، سنسکرت، کشمیری اور سندھی تک میں شعر کہتے تھے، خان خانا نامہ کے مصنف منشی دیبی پرشاد نے تو ان کا ایک شعر ماڑ واڑی زبان میں بھی درج کیا ہے، جو یہ ہے:
    دہر جڈی انبر جڈا، جڈا چارن جو ئے
    جڈا نام اللہ دا اور نہ جڈا کو ئے
    عبدالرحیم کے نہ صرف اجداد بلکہ ان کی اولاد کا تعلق مغل شہنشاہوں سے عرصہ دراز تک رہا ہے۔ ظہیر الدین بابر نے ان کے جد امجد علی شکر بیگ کا ذکر وقائع بابر میں کیا ہے۔ علی شکر کے صاحب زادے یار علی کی تعریف ان کی تلوار بازی کے سلسلے میں کی۔ سیف علی ان کے پوتے ماثر رحیمی کے مطابق بابر کے لئے حاکم غزنی تھے۔عبدالرحیم کے باپ بیرم خان ہمایوں کے سپہ سالار تھے اور ماچھی واڑہ کی جنگ میں ہندوستان فتح کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ ہمایوں کی ناگہانی موت کے بعداکبر کی ہندوستان میں سلطنت کو قائم کرنے اور اس کو استحکام پہچا نے میں ان کا کردار عظیم ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح عبدالرحیم کی آل اولاد میں اورنگزیب تک چلا گیا ہے۔
    ہندوستان فتح کرنے کے بعد ہمایوں نے جمال خاں میواتی کی بڑی لڑکی سے خود شادی کی اور اس کی چھوٹی بہن کی شادی بیرم خاں سے کردی۔ اس لڑکی کے بطن ہی سے عبدالرحیم بتاریخ ۴ صفر ۹۶۴ ھْ ۔ ۱۶ دسمبر ۱۵۵۶ ء کو لاہور میں پیدا ہو ئے۔ چند سال بعد بیرم خاں کو زوال آگیا اور ان کو قتل کردیا گیا۔ بیرم خان کی خدمات کے زیر اثر اکبر نے عبدالرحیم کو اپنی نگرانی میں لے لیا۔ اکبر نامے کی ایک عمدہ نقاشی میں چار سا لہ عبدالرحیم کو اکبر کے حضور لاتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اکبر نے ان کی پرورش اپنی نگرانی میں کی اور آہستہ آہستہ ان کو مدارج ترقی فراہم کئے، جس کا پورا پورا فائدہ عبدالرحیم نے اپنی قابلیت کے تحت اٹھا یا۔ خطاب مرزا خاں، اتالیقی شہزادہ سلیم، سندھ کی فتح، گجرات کی تسخیر، خطاب خان خاناں اور پھر دکھن کی فوجداری ان کے ذمے آئی۔
    فتح سندھ ( ۱۰۰۱ ھ ۔ ۱۵۹۳ ء) کے بعد ایک مجلس عالی میں خان خاناں نے ملا شکیبی کو ایک مثنوی فتح سندھ کے عوض ایک ہزار اشرفی عنایت کی، مرزا جانی شکست شدہ حاکم ٹھٹہ نے بھی ایک ہزار اشرفی اس ایک شعر کے عیوض عطا کی:
    ہمائے بر چرخ کردے خرام
    گرفتی و آزاد کردے زدام
    اور کہا رحمت خدا کی تو نے مجھے ہما کہا، اگر شغال کہتا تو کون تیری زبان پکڑتا۔ ہما فارسی ادب کا ایک خیالی پرندہ ہے جس کی اڑان اونچی ہوتی ہے اور شغال گیڈر کو کہتے ہیں۔
    دکن میں عبدالرحیم کو ئی ۳۰ سال تک رہے۔ شکست و فتح کے مد و جذر کئی دفعہ آئے اور گزر گئے۔ جہانگیر سے ان کے تعلقات بنتے اور بگڑتے رہے لیکن ان کی علمی خدمات ہر حال میں جاری رہیں۔ گجرات اور دکھن میں ہندوستانی عالموں اور ادیبوں سے میل ملاپ سے ان کی ہندی دوہہ شاعری کو جلا ملی۔ ان کے ہندی دوہے آج بھی معروف ہیں۔
    رحیمن دھاگا پریم کا مت توڑو چٹکا ئے
    ٹو ٹے تو نہ جڑے، جڑے گانٹھ پڑ جا ئے
    رحیمن نج کی وتھا میں ہی رکھو گو ئے
    سن اٹھ لیں ہیں لوگ بانٹ نہ لینی کو ئے
    چاہ گئی چنتا مٹی منوا بے پرواہ
    جن کو کچھ نہ چا ہیے وے ساہن کے ساہ
    آج بھی ہندی کوی جب ہندوستان مین کوی سبمیلن کرتے ہیں تو کبیر کے بعد عبدالرحیم کا نام ہی ان کی زبان پر ہو تا ہے۔ میری نظرمیں رحیم کے دوہوں میں بعد میں اضا فے کئے گئے ہیں۔ یہ ان کا اصل میدان ادب نہیں تھا۔ ان کا معرکتہ الآرا کام وقا ئع بابر کا ترکی زبان سے فارسی میں ترجمہ ہے جو آج بھی وقا ئع کا سب سے درست اور نادر مخطو طہ ہے۔ اکبر اپنے چونتیسویں سال جلوس میں کشمیر کی سیر اور وہاں سے کابل اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرنے کے لئے گیا۔ واپسی پر بگرام میں قیام پر ( ۲۵ محرم ۹۹۸ ھ ۔ ۲۴ نوئمبر ۱۵۸۹ ء) کو عبدالرحیم خان خاناں نے یہ فارسی ترجمہ واقعات بابری کے نام سے اکبر کو پیش کیا ۔ اس پر عبدالرحیم کی بے حد تعریف کی گئی۔ عبدالرحیم کی زباں دانی کا ایک اور واقعہ بھی تاریخوں میں ملتا ہے۔ ایک دفعہ ایک خط عرب سے انتہائی ثقیل عربی میں اکبر کے دربار میں آیا جس کو حاضر عربی داں اور عالم ترجمہ نہ کرسکے لیکن عبدالرحیم نے اسی وقت رواں ترجمہ کرکے اکبر کو سنایا۔ خان خاناں فن کے قدرداں تھے۔ ان کا کتب خاناں ایک ’عجائبات زمانہ‘ تھا۔اس کتب خانے میں ایک سو محقق روزآنہ آیا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ کتب خانہ احمد آباد ، گجرات میں قائم کیا تھا۔ اس کتب خانے میں شاعر، مصنف، خطاط، وراق، صحاف و جلد ساز ملازم تھے۔ ہر شخص اپنے فن کا استاد تھا۔ اس ادارے کے بہت سے کارکن تربیت پا کر بادشاہ وقت کے ملازم ہو جایا کرتے تھے۔ چنانچہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ خان خاناں کا یہ ادارہ ایک تربیتی مرکز تھا، جس کے آگے صرف بادشاہی مدرسے اور کتب خانے ہی تھے۔ اکبر شاہی شاعر تو تقریباً سب ہی دیوان خان خاناں سے آئے تھے۔
    خان خاناں نے اپنی زندگی میں کئی عمارات اور باغات تعمیر کئے، جس میں سے ایک کٹڑہ خان خاناں آج بھی آگرہ میں موجود ہے۔ ایک حمام کا نقشہ بھی ملتا ہے جو انہوں نے برہان پور گجرات میں بنوایا تھا۔ اس کے علاوہ ایک باغ کا ذکر تاریخوں میں آتا ہے جو انہوں نے فتح گجرات کے بعد تعمیر کروایا تھا۔ اس باغ کی تعریف جہانگیر نے اپنی تزک میں کی ہے۔خان خاناں نے اس باغ ہی میں جہانگیر کی پذیرائی کی تھی، خان خاناں کی بیٹی خیرالنساء نے خزاں کے موسم میں یہاں مصنو ئی پھول اور پودے لگاکر جہانگیر کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ان کی اب یادگار ان کا مقبرہ ہے جو اسُ وقت کے مغلیہ دور کے طرز تعمیر کا ایک نمو نہ ہے۔ دہلی میں ہمایوں اور خان خاناں کے مقبرے آس پاس اور اسی طرز پر تعمیر ہوئے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہندوستان کی سیکیولر حکومت نے ان کے مقبرے کی درستگی اور مرمت کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔ اسُ کو نگہداشت کی اور مرمت کی انتہائی ضرورت ہے۔ ان کے احاطے کے برابر میں نو تعمیر بنگلے والوں نے کچھ احاطے پر قبضہ کر لیا ہے۔ خان خاناٰ کی دوسری عظیم یادگار ان پر لکھی ہوئی کتاب ماثر رحیمی ہے جو چار ہزار بڑے صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مصنف عبدالباقی نہاوندی ہیں۔ اس کے قلمی نسخے ایشیاٹک سوسا ئٹی کلکتہ اور کیمرج میں موجود ہیں۔ یہ ایشیاٹک سوسائٹی بنگال نے ۱۹۲۴ سے ۱۹۳۱ء تک محمد حسین کی ادارت میں قسط وار شائع کی تھی۔
    خان خانان کی سخاوت اور دریادلی کے قصے کتابوں میں بکھرے پڑے ہیں۔
    ملا نظیری نے کہا کہ لاکھ کا ڈھیر کتنا ہو تا ہے میں نے نہیں دیکھا، خانخاناں نے کہا خزانے سے لائیں۔ جب ملا نے اس کو دیکھا تو کہا خدا کا شکر ہے میں نے نواب کی بدولت لاکھ کا ڈھیر دیکھ لیا۔ فرمایا سب ملا کو دے دو کہ خدا کا شکر ادا کرے۔
    تاریخ چغتہ ہندی میں لکھا ہے کہ ایک دن ایک مفلس برہمن نے خان خاناں کی ڈیوڑی پر آکر کہا کہ میری عرض نواب سے کرو کہ تمہارا ساڑھو آیا ہے، نواب نے اس کو بلا کر بہت تعظیم اور عزت سے بٹھا یا، کسی نے پوچھا یہ مفلس آپ کا ساڑھو کہاں سے ہو گیا؟ نواب نے کہا سنپت اور بپت یعٰنی آسودگی اور خواری دو بہنیں ہیں، ایک ہمارے گھر میں ہے اور ایک اس کے گھر میں، اس رشتے سے یہ ہمارہ ساڑھو ہوا۔
    تذکرۃ حسینی میں ذکر ہے کہ کسی نے ایک شخص کو مضطر اور شوریدہ سر دیکھ کر حال پوچھا ،تو اس نے کہا کہ میں ایک عورت پر عاشق ہوں اور وہ ایک لاکھ روپیہ بغیر بات نہیں کرتی، اس مرض کا علاج بتاؤ، اس نے کہا بہت سہل ہے ، اگر تجھ میں قابلیت ہو تو اپنا احوال ایک قطعہ یا رباعی میں موزوں کرکے خان خاناں کو پیش کر۔ وہ یہ قطعہ تضمین کر کے لے گیا:
    ای چشمہ فیض خان خاناں
    دارم صنمے کہ مہ جبیں است
    گر جاں طلبد مضایقہ نیست
    زر مے طلبد سخن دریں است
    خان خانان نے پوچھا کتنا روپیہ مانگتی ہے، عرض کی ایک لاکھ، خان خاناں نے ایک لاکھ چھ ہزار روپیہ اس کو دے کر فرمایا کہ ایک لاکھ تو اس کی فرمائش اور چھ ہزار تیرے واسطے کہ عیش و آرام کر۔
    عبدالرحیم خان خاناں کی کتب دنیا بھر کی لا ئیبریریوں میں بکھری پڑی ہیں۔ حال ہی میں جون سیلر نے چند کتابوں پر ایک تحقیقی مقالہ سوئزر لینڈ سے شائع کیا ہے۔

    ربط
    Abdul-Rahim Khan-i-Khanan – History
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر