عام پیغام کر رہا ہے مرا !........ غزل اصلاح کے لئے

بھائی، آپ علی العموم ہماری نکتہ سرائیوں کے سزاوار نہیں رہے۔ اچھی غزلیں کہہ رہے ہیں۔ خود بھی مطالعہ اور ذوق رکھتے ہیں۔ اس لیے ہم رسیدیں دینے پر ہی اکتفا کیا کرتے ہیں۔ مگر آج رہا نہیں گیا۔
جی آپ نے درست فرمایا۔ لیکن یہ ابہام جان بوجھ کر چھوڑا ہے یہاں۔ دیکھئے استاد محترم کیا کہتے ہیں۔ قابلِ قبول نہ ہوا توتبدیل کر دونگا۔
اصل میں حسنِ آخر سے ٹوٹتے ستارے کے معمول سے زیادہ چمکدار ہونے کی طرف اشارہ تھا۔ آپ کہتی ہیں تو ایک بار نظر ثانی کئے لیتا ہوں۔
معذرت کے ساتھ، مگر ہر رائے بلا تامل قبول فرماتے رہے تو فائدے کی بجائے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ میں نے ذیل میں کچھ نکات اٹھائے ہیں۔ ان پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے۔
شوق اب نام کر رہا ہے مرا !
عام پیغام کر رہا ہے مرا !
ہماری رائے میں شعر مکمل ہے۔ ہر حوالے سے۔ بالکل بدلنے کی ضرورت نہیں۔ شوق اردو شاعری کا ایک معروف کلمہ ہے۔ اسے کسی تفسیر و تعبیر کی حاجت نہیں۔ جو مفہوم برآمد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ میرا شوق اس درجے کو ترقی کر گیا ہے کہ میں اس کے حوالے سے جانا جانے لگا ہوں۔ پھر چونکہ میرا نام معروف ہوا ہے تو لازم آیا کہ میرا پیغام بھی اس کے ساتھ ساتھ ہر جگہ پہنچا ہے۔ شوق اور پیغام کے الفاظ اس قدر برمحل استعمال ہوئے ہیں کہ مفہوم ایک گونہ وسعت اور گہرائی پیدا ہو گئی ہے۔ شوقِ دیدار سے لے کر شوقِ قتل تک اور پیغامِ محبت سے لے کر پیغامِ اجل تک ہر جگہ یہ کلام صادق آسکتا ہے۔ یہی مشرقی شعریات کا مقصود و منتہا ہے۔
قرین ِقیاس تو یہی ہے کہ شاعری کا شوق آپ کا ما فی الضمیر بیان کرنے میں معاون ہے لیکن شعر میں اس کا اشارہ مبہم ہے . شوق کی نوعیت معلوم نہیں .
اردو شاعری کو تھوڑا پڑھ کر دیکھیے۔ نوعیت معلوم ہو جائے گی۔ ورنہ کل کلاں آپ معروف تلمیحات پر بھی فرمائیں گی کہ اشارہ مبہم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اساتذہ کے کلام پر نام لیے بغیر آپ سے رائے لی جائے تو آپ کی اصلاحیں پڑھنے کے لائق ہوں گی۔ موجودہ شعر کے تناظر میں خدائے سخن کا یہ فرمان عبرت اندوزی کے لیے نقل کر رہا ہوں۔ سوچتی رہیے کہ اس میں شوق کا اشارہ کہاں گیا:
کیا کم تھا شعلہ شوق کا شعلے سے طور کے
پتھر بھی واں کے جل گئے جا کر جہاں گرا​
حسنِ آخر!، اے، ٹوٹتے اختر!
درد کیوں عام کر رہا ہے مرا !
بھائی، یہ ٹوٹتے اختر کیا بلا ہے؟ کون بولتا ہے اس طرح؟ اہلِ زبان؟ پنجابی؟ مارواڑی؟ علما؟ عوام؟ بازاری؟ کوئی بھی نہیں۔
مصرعِ اولیٰ میں اے کی یائے لین ساقط ہو رہی ہے۔ بنیادی سا اصول ہے۔ یائے لین کا اسقاط ، سوائے ہے، ہیں اور میں کے، خواہ کسی لفظ میں ہو، جائز نہیں۔
اس شعر کا مرکزی خیال مجھے ذاتی طور پر بہت پسند آیا ہے . ٹوٹتے تارے سے جو آپ نے درد کی ترسیل کا کام لیا ہے نہایت عمدہ ہے . بس حسن ِ آخر اضافی لگا اس کی بجائے کوئی اور ترکیب لاتے جو اس تخیل کو مزید تقویت بخشتی تو شعر کا حسن دو آتشہ ہو جاتا .
شعر فہمئِ عالمِ بالا معلوم شد!
 
آخری تدوین:
بھائی، آپ علی العموم ہماری نکتہ سرائیوں کے سزاوار نہیں رہے۔ اچھی غزلیں کہہ رہے ہیں۔ خود بھی مطالعہ اور ذوق رکھتے ہیں۔ اس لیے ہم رسیدیں دینے پر ہی اکتفا کیا کرتے ہیں۔ مگر آج رہا نہیں گیا۔
عزت افزائی کا شکریہ راحیل بھائی لیکن آپ مجھے اپنی محبت بھرے تبصروں کا سزاوار ہی رکھیں۔ آپ کے تبصرے کی رسید دل میں جا کر جمع ہوتی ہے اور ذہن میں گونجتی اور پھر کلام میں میں بولتی نظر آتی ہے !:) میں آپ کے تبصروں کو دل اور دماغ دونوں سے قبول کرتا ہوں۔
معذرت کے ساتھ، مگر ہر رائے بلا تامل قبول فرماتے رہے تو فائدے کی بجائے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ میں نے ذیل میں کچھ نکات اٹھائے ہیں۔ ان پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے۔
:) زہے نصیب !
ہماری رائے میں شعر مکمل ہے۔ ہر حوالے سے۔ بالکل بدلنے کی ضرورت نہیں۔ شوق اردو شاعری کا ایک معروف کلمہ ہے۔ اسے کسی تفسیر و تعبیر کی حاجت نہیں۔ جو مفہوم برآمد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ میرا شوق اس درجے کو ترقی کر گیا ہے کہ میں اس کے حوالے سے جانا جانے لگا ہوں۔ پھر چونکہ میرا نام معروف ہوا ہے تو لازم آیا کہ میرا پیغام بھی اس کے ساتھ ساتھ ہر جگہ پہنچا ہے۔ شوق اور پیغام کے الفاظ اس قدر برمحل استعمال ہوئے ہیں کہ مفہوم ایک گونہ وسعت اور گہرائی پیدا ہو گئی ہے۔ شوقِ دیدار سے لے کر شوقِ قتل تک اور پیغامِ محبت سے لے کر پیغامِ اجل تک ہر جگہ یہ کلام صادق آسکتا ہے۔ یہی مشرقی شعریات کا مقصود و منتہا ہے۔
بہت بہتر !
بھائی، یہ ٹوٹتے اختر کیا بلا ہے؟ کون بولتا ہے اس طرح؟ اہلِ زبان؟ پنجابی؟ مارواڑی؟ علما؟ عوام؟ بازاری؟ کوئی بھی نہیں۔
مصرعِ اولیٰ میں اے کی یائے لین ساقط ہو رہی ہے۔ بنیادی سا اصول ہے۔ یائے لین کا اسقاط ، سوائے ہے، ہیں اور میں کے، خواہ کسی لفظ میں ہو، جائز نہیں۔
:p اس پر غور کا وعدہ اور ارادہ دونوں واجب ہوئے !
جزاک اللہ۔
 
Top