عام انتخابات ۲۰۱۸ میں خالصتا امریکی اور یہودی ایجنڈے پر عمل کیا گیا، مولانا فضل الرحمان

جاسم محمد

محفلین
عام انتخابات ۲۰۱۸ میں خالصتا امریکی اور یہودی ایجنڈے پر عمل کیا گیا، مولانا فضل الرحمان
ویب ڈیسک اتوار 20 جون 2021

2192439-fazalx-1624183623-484-640x480.jpg

انتخابی مراحل کے اندر جاسوسی اداروں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، مولانا فضل الرحمان۔ فوٹو: فائل


پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ 29 جولائی کو کراچی میں بڑا اجتماع ہوگا۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ایسا ادارہ کہلاتا تھا بالادستی کا ادارہ تھا، لیکن بجٹ اجلاس میں اس کی توہین اور تضحیک کی گئی، ایک بھونڈے انداذ سے بجٹ پیش کیا گیا، اور جھوٹ کو چھپانے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن پر جوتے پھینکے گئے، اس قسم کے کردار اور گرے ہوئے رویے کے بعد کیسے پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بات کی جائے گی۔ بجٹ جھوٹ کا پلندہ تھا اور حکومت نے ہلڑ بازی کا سہارا لیا، ایسی تلخی میں پارلیمنٹ نہیں چل سکتی، قومی اسمبلی سے معاملہ بلوچستان تک پہنچا، بلوچستان کی محرومیوں کو نظرانداز کیا گیا اور اپوزیشن کے حقوق سلب کیے گئے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اپنے موقف پر قائم ہے حکومت کے خلاف عوامی قوت کے ساتھ تحریک کا عمل جاری ہے، کسی مسافر کے اترنے سے سفر نہیں رکتا، پی ڈی ایم اپنی جگہ پرقائم ہے، شہبازشریف نے انتخابی اصلاحات کے لئے اے پی سی کی تجویز دی ہے، جس کی ہم تائید کرتے ہیں، سوات میں 4 جولائی کو تاریخ کا بڑا اجتماع ہوگا، ہم ثابت کریں گے کہ حکومت کو عوام پر کیسے مسلط کیا گیا، ایسے لوگ پشتون لوگوں کے نمائندے نہیں بن سکتے، 29 جولائی کو کراچی میں بڑا جلسہ ہوگا، اور ایک بار پھر وہاں عوامی صفحوں کو منظم کیا جائے گا، کسی بھی حال میں حکومت کو رہنے کا کوئی جواز نہیں، ملک کو آئین کی پٹڑی پر واپس لانے کی جدوجہد کریں گے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ 2013 میں بتایا گیا کہ مذہبی قوتوں کی جڑوں کو اکھاڑنے کے لیے عمران خان سے بہتر چوائس نہیں،2018 کے عام انتخابات میں خالصتا امریکی اور یہودی ایجنڈے پر عمل کیا گیا، ایک مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، آج نئے نظام کا تجربہ ناکام نظر آریا ہے، مہنگائی کا نیا پہاڑ گرنے والا ہے، قبائل کے لیے نمائشی بجٹ مختص کیا گیا، دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، ٹارگٹ کلنگ کے لیے نئی تنظیمیں پیدا ہورہی ہیں، ہمیں شبہ ہے اس قسم کے حالات ریاستی اداروں کے ناک کے نیچے پیدا ہوتے ہیں، ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم کہتے ہیں انتخابی مراحل کے اندر جاسوسی اداروں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم ایک پرامن، مستحکم اور اسلامی افغانستان چاہتے ہیں، افغانستان سے متعلق جو پیشرفت ہوئی ہے اس پر عملدر آمد ہونا چاہیے، افغانستان میں پاکستان کا ایک موَثر کردار چاہتے ہیں۔انگریزوں نے کہا ہندوستان کو چھوڑ رہے ہیں تو کیا ہم آزادی کا کریڈٹ انگریزوں کو دیں، کیا افغانستان میں آزادی حاصل کرنے والوں کو کریڈٹ نہیں ملنا چاہیے۔

انتخابی اصلاحات کے حوالے وزیرداخلہ شیخ رشید کی جانب سے مذاکرات کی دعوت پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم کس سے بیٹھ کر بات کریں ، قابل اورباصلاحیت لوگ ہوں تواس سےبات کی جاتی ہے، جس طرح ان کا رویہ زبان ہے کس سے بات کریں، حکومت کو لانے والوں سے اپنی شرائط پر بات ہوسکتی ہے، الیکشن اصلاحات کے حوالے سے اے پی سی میں الیکشن کمیشن کو بھی بلا سکتے ہیں، بیرون ملک پاکستانی ہمارے بھائی ہیں، بعض ممالک میں ووٹ اندراج کا طریقہ کار نہیں، بیرون ممالک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے دھاندلی کا خطرہ ہے، اس حکومت کے ہوتے ہوئے سفارتخانے پولنگ بوتھ ہونگے تو ووٹ کیسے محفوظ ہوگا۔
 

وسیم

محفلین
اور مفتی عزیز تو اسلامی ایجنڈے پہ عملدرآمد کروا رہے تھے نا؟
 
آخری تدوین:
Top