عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 17, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی
    ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے

    عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کی بریت اور بھارت کے حوالے کرنے سے متعلق بھارتی درخواست مسترد کردی۔

    ہالینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے صدر اور جج عبدالقوی احمد یوسف بھارتی اپیل پر فیصلہ پڑھ کر سنا رہے ہیں جب کہ اس کارروائی میں عالمی عدالت کا 15 رکنی فل بینچ بھی موجود ہے، بینچ میں پاکستان کا ایک ایڈ ہاک جج اور بھارت کا ایک مستقل جج بھی شامل ہے، اٹارنی جنرل انور منصور خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم فیصلہ سننے کے لیے دی ہیگ میں موجود ہے۔

    جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے رکن ہیں اور دونوں ممالک پورے کیس میں ایک بات پر متفق رہے کہ کلبھوشن بھارتی شہری ہے، بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی مانگی جب کہ پاکستان نے بھارتی مطالبے پر 3ا عتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ جاسوسی اور دہشتگردی گردی کے مقدمے میں قونصلر رسائی نہیں دی جاتی اس لیے ویانا کنونشن کا اطلاق کلبھوشن کیس پر نہیں ہوتا۔

    عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کی بریت اور رہا کرکے بھارت کے حوالے کرنے سے متعلق بھارتی درخواست کو مسترد کردیا، کلبھوشن یادیو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔

    عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی آخری سماعت 18 فروری سے 21 فروری تک جاری رہی تھی، بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے جب کہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصورخان نے کی تھی۔ سماعت کے دوران بھارت کی طرف سے ہریش سالوے نے دلائل پیش کیے جبکہ پاکستان کی طرف سے خاور قریشی نے بھرپور کیس لڑا تھا۔ 18 فروری کو بھارت نے کلبھوشن کیس پر دلائل کا آغاز کیا اور 19 فروری کو پاکستان نے اپنے دلائل پیش کیے۔ 20 فروری کو بھارتی وکلا نے پاکستانی دلائل پر بحث کی اور 21 فروری کو پاکستانی وکلا نے بھارتی وکلا کے دلائل پر جواب دیئے جب کہ سماعت مکمل ہونے کے بعد عالمی عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    اس سے قبل ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کی جانب سے کیس سے متعلق کہا گیا تھا کہ ہم نے تیاری اچھی کی اوراچھا کیس لڑا، ہمارا گمان اورکوشش اچھی ہے اور17 جولائی کو ہی اس کیس پر تبصرہ کریں گے۔

    کیس کا پس منظر

    بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیوکومارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتارکیا گیا تھا۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پرفوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔

    10 مئی 2017 میں بھارت نے کلبھوشن یادیوکے حوالے سے عالمی عدالت سے رجوع کیا اورکلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عمدرآمد رکوانے کے لیے درخواست دائرکردی تھی۔ 15 مئی کو عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کی سماعت ہوئی، دونوں ممالک کا موقف سننے کے بعد عدالت نے 18 مئی کو فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن یادیوکوپھانسی نہ دی جائے۔
     
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,131
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں، بات ان کی بھی غلط نہیں ہے:
    عالمی عدالتِ انصاف
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    پاکستان نے کلبھوشن کو کونسلر تک رسائی دیے بغیر سزا سنا کر وینا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی کی تھی۔ اس لئے کلبھوشن کو یہ سزا نہیں دی جا سکتی جب تک کیس میں بھارتی وکلاء کو رسائی حاصل نہیں ہوتی۔
    بھارت نے پاکستانی ریاستی اداروں پر سیاسی الزامات (نواز شریف کا ممبئی حملوں والا بیان) لگا کر کلبھوشن کی رہائی اور ملک واپسی مانگی تھی جو اسے نہیں ملی۔
    یوں دونوں ممالک کی اخلاقی فتح ہوئی :)
     
  4. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,131
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بنیادی طور پر فیصلہ انڈیا کے حق میں ہے۔
     
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    کلبھوشن کو صرف جاسوسی مقدمہ میں کونسلر تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ باقی کا سارا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہے۔
     
  6. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,074
    ایک نکتہ ابھی واضح نہیں ہے۔ کیا اب کلبھوشن کا مقدمہ پاکستان کی عام عدالت میں چلے گا، یا ملٹری کورٹ کی دی گئی سزا برقرار رہے گی؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,482
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کلبھوشن 2004ءاور 2005ءمیں کراچی بھی آیا اور یہاں بھی اس نے اپنے رابطے استوار کئے‘ یہ ترقی کرتا کرتا پاکستان آپریشن کا سربراہ بن گیا‘ بھارت نے اسے چار سو ملین ڈالر (یہ رقم پاکستانی روپوں میں 41ارب روپے بنتی ہے) دیئے . کلبھوشن نے یہ رقم بلوچ علیحدگی پسندوں اور کراچی میں بدامنی پھیلانے والے گروپوں میں تقسیم کی،یہ حربیار مری، براہمداغ بگٹی اور عزیر بلوچ جیسے لوگوں سے بھی رابطے میں تھا اور یہ ایم کیو ایم (پرانی) کے لوگوں کو بھی فنڈز دیتا تھا

    پاکستان کے خفیہ ادارے بلوچستان اور کراچی آپریشن کے دوران حسین مبارک پٹیل تک پہنچےاس سے پاکستان کو پتہ چلا کہ بلوچستان کے علیحدگی پسند ہوں، کراچی کے مافیاز ہوں یا پھر ملک میں خودکش حملہ آوروں کے ماسٹر مائینڈ ہوں یہ تمام لوگ آخر میں چاہ بہار سے آپریٹ ہوتے ہیں . کلبھوشن کی بھارتی لوکیشن بھی ہمارے اداروں کے نوٹس میں آتی رہی یوں یہ شخص آہستہ آہستہ پاکستانی ایجنسیوں کے سامنے کھلتا چلا گیا یہاں تک کہ جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان نے اسے پکڑنے کا فیصلہ کر لیا . یہ ایک مشکل ٹاسک تھا، کلبھوشن عام جاسوس نہیں تھا، یہ پاکستان آپریشن کا سربراہ تھا، یہ ”فیلڈ آپریٹر“ تھا اور دنیا میں آج تک کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے اتنے بڑے انٹیلی جنس آفیسر کو نہیں پکڑ سکا لیکن ہمارے اداروں نے یہ تاریخ بدل دی، آئی ایس آئی کے لوگوں کو کلبھوشن یادیو کو پاکستان لانے میں ڈیڑھ سال لگ گیا، ادارے نے اس عرصے میں بلوچ علیحدگی پسندوں میں اپنے لوگ ڈویلپ کئے، یہ لوگ آہستہ آہستہ حسین مبارک سے براہ راست رابطے میں آئے اور آخر میں ان لوگوں نے اسے پاکستان کی ایک انتہائی اہم شخصیت کے اغواءاور قتل کا ایک ”فول پروف“ منصوبہ پیش کر دیا، یہ منصوبہ اس قدر اعلیٰ تھا کہ حسین مبارک پٹیل پاکستان آنے پر مجبور ہو گیا، حالانکہ اس وقت اجیت دوول نے کلبھوشن کو پاکستان جانے سے روکا لیکن وہ نہ رک سکا اور تین مارچ 2016ءکو ایران سرحد کراس کر کے پاکستان آ گیا، یہ بلوچستان کے ضلع خاران کی تحصیل ماشکیل آیا اور گرفتار ہو گیا، کلبھوشن کے پاس گرفتاری کے بعد دو آپشن تھے، یہ حسین مبارک پٹیل کی شناخت پر ڈٹا رہتا، ٹارچر سہتا اور اس دوران دنیا سے گزر جاتا یا پھر یہ خود کو فوج کا حاضر سروس آفیسر ڈکلیئر کرتا اور قانون کے مطابق مراعات حاصل کرتا، کلبھوشن سمجھ دار تھا، اس نے دوسرا آپشن لے لیا، اس نے اپنی شناخت کھول دی یوں پاکستان اسے جنگی مجرم کا سٹیٹس دینے اور اسے حاضر سروس آفیسر کی تمام مراعات دینے پر مجبور ہوگیا، کلبھوشن یادیو نے اچھا بچہ بن کر اپنے سارے رابطے پاکستان کے حوالے کر دیئے، اس کی اطلاعات پر ملک کے مختلف حصوں سے چار سو لوگ گرفتار ہوئے، اسلحے کی بھاری کھیپ بھی برآمد ہوئی اور ایم کیو ایم اور پیپلز امن کمیٹی میں چھپے ملک دشمن عناصر بھی سامنے آ گئے،کلبھوشن را کے 13 اہم لوگوں سے بھی رابطے میں تھا، یہ ان سے براہ راست احکامات لیتا تھا، یہ لوگ بھی سامنے آ گئے، تفتیش کے دوران کلبھوشن سے ان لوگوں کو فون بھی کرائے گئے اور ان کی گفتگو بھی ریکارڈ کی گئی، پاکستانی مجرموں نے بھی کلبھوشن سے رابطوں، فنڈز، اسلحہ اور مختلف آپریشنز کا اعتراف کرلیا، پاک فوج نے آرمی ایکٹ 1923ءکے تحت کلبھوشن کا فیلڈجنرل کورٹ مارشل کیا اور اسے 10 اپریل کو سزائے موت سنا دی گئی . کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور سزائے موت کے بعد بھارت خوفناک مسائل میں الجھ گیا،

    اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار داد 1373 کے تحت کسی دوسرے ملک میں ریاستی دہشت گردی خوفناک جرم ہے، پاکستان کلبھوشن کے اعترافات اور ثبوت سیکورٹی کونسل میں لے جائے گا جس کے بعد بھارت کےلئے جواب دینا مشکل ہو جائے گا، کلبھوشن کی کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے پاکستانی شہریوں کے لواحقین بھی بھارت کے خلاف عالمی عدالت میں جا سکتے ہیں . . .
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    فیصلے کے مطابق پاکستان کی مرضی ہے :)
     
  9. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,074
    اس حساب سے تو یہ فیصلہ پاکستان کے حق میں ہی معلوم ہوتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    جمہوری انقلابی نواز شریف نے اس کیس میں بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن الحمدللّٰہ عالمی عدالت انصاف نے ان کے سیاسی بیانات پر کان نہیں دھرے
    کلبھوشن کیس میں بھارت کی طرف سے بیان پیش کیے جانے کے بعد نوازشریف نئی مشکل میں پھنس گئے
     
  11. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,131
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    پاکستانی صحافیوں کی ٹویٹس سے فیصلہ پاکستان کے حق میں اور انڈین صحافیوں کی ٹویٹس سے فیصلہ انڈیا کے حق میں لگتا ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    بھارتی صحافی کیا اپنے پراپگنڈا میں عدالتی فیصلے کا حوالہ اٹیچ کر رہے ہیں ؟ :)
     
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    مستند بھارتی میڈیا پاکستانی موقف کی تائید کر رہا ہے۔
    [​IMG]
     
  14. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,074
    فیصلہ انڈیا کے حق میں تب ہوتا اگرعالمی عدالت انصاف کلبھوشن کو جاسوس قرار دینے سے انکار کر دیتی۔ قونصلر تک رسائی اور مقدمے پر پاکستان کی جانب سے ایک اور ریویو، محض رسمی کاروائیاں ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  15. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,074
    الفاظ کا استعمال ملاحظہ فرمائیے؛ اس پر داد تو بنتی ہے۔یہاں تو زہر بھی چینی بنا کر فروخت کیا جا رہا ہے۔ اللہ ہی حافظ ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    پاکستانی صحافی ایسے ہی تو نہیں بھوکے مر رہے :)
    https://amp.dw.com/ur/پاکستانی-میڈیا-کا-بحران-صحافی-بھوکے-مر-رہے-ہیں/
    پاکستان میں صحافت کی بجائے لفافت چلتی ہے :)
     
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,220
    اس پر ہنسنا ہے یا رونا ہے، فیصلہ آپ کو خود ہی کرنا ہے:
    [​IMG]
     
  19. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,802
    موڈ:
    Dead
    چلیں کہیں تو پاکستان کے خلاف سازش نہیں ہوئی۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  20. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,131
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    او بھائی مجھے اس عالمی تھیٹر سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے، جو بات ٹویٹر پر نظر آئی، کہہ دی۔ فیصلہ میں دونوں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور دونوں ممالک کی قوم کو ٹرک کی بتی دکھا دی گئی ہے۔ آپ جاری رکھیے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر