ظہیر بھائی کی نثری نظم کا منظوم ترجمہ

محمد خلیل الرحمٰن نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 9, 2021

  1. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,629
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ظہیر بھائی لیجیے آپ کی نثری نظم کا منظوم ترجمہ حاضر ہے۔ بس اصلاح فرمادیجیے۔




    دو بجے تھے دن کے اور یه دوددھ جیسی سرمئی ایک شام ہی تھی
    جب یکایک شام اپنے اختتامی وقت کو پہنچی تو سورج
    دور دھندلے پانیوں میں
    کائیں کائیں کررہا تھا اور نہاتا پھر رہا تھا
    روشنی کے، رنگ کے اِک نوری بھُتنے کی طرح جب
    چاند نے ساحل پہ آکر قوتِ گویائی پاکر یه کہا کہ
    "اے مرے سورج بتا کیا تم بھی اب کوؤں کی صورت
    کائیں کائیں کر رہے ہو ؟"
    یه جواب آیا کہ میرے اے دلارے چاند سن لو
    یه حقیقت ہے شمالی دوریوں میں تو سمندر بھی نہیں ہیں!
    چاند بھی تب پوچھ بیٹھا اختتامی وقت کیا ہے ؟
    وہ یه بولا درمیان و درمیان و درمیان!

     
    آخری تدوین: ‏جنوری 9, 2021
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • زبردست زبردست × 1
  2. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    خلیل بھائی زندہ باد!!!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  3. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    12,718
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بھیا سچ میں آپ کی تعریف کے لئیے ہمارے پاس الفاظ ہی کم ہیں پر بہت ساری دعائیں ہیں اپنے قابل بھیا کے لئیے۔۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر