طوفاں بپا ہے اشکوں کا اور درد میں ڈوبے نالے ہیں! - صامت شامی

کاشفی

محفلین
غزل​
(صامت شامی)​
​
طوفاں بپا ہے اشکوں کا اور درد میں ڈوبے نالے ہیں!​
وہ یاد آئے پھر ٹھیس لگی، پھر اپنی جان کے لالے ہیں​
​
معلوم نہیں کیا بات ہے یہ، کیا بھید ہے یہ، کیا راز ہے یہ​
اکثر وہی دیکھے وقفِ الم، جو سو نازوں کے پالے ہیں​
​
اُمیدِ وفا و یادِ جفا، بے تابیء حسرتِ نظاّرہ​
اک دل بیمارِ محبت ہے اور لاکھ ستانے والے ہیں!​
​
کیوں صامت محوِ تفکّر ہے، ناداں تجھے معلوم نہیں!​
ہر کالی رات کے پردے میں مستور سحر کے اُجالے ہیں!​
 

فرحت کیانی

لائبریرین
کیوں صامت محوِ تفکّر ہے، ناداں تجھے معلوم نہیں!​
ہر کالی رات کے پردے میں مستور سحر کے اُجالے ہیں!​
بہت خوب۔​
بہت شکریہ کاشفی :)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top