طبقے

میں مزاح لکھنا چاہتا ہوں، مگر سمجھ نہیں آرہی کہ کیا لکھوں؟
اچھا انسان دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو کنوارے ہوتے ہیں، دوسرے جو شادی شدہ ہوتے ہیں، کنوارے شادی شدہ کو انسان سمجھتے ہیں، اور شادی شدہ صرف کنواروں کو انسان سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں تین طبقے ہیں، ایک غریب طبقہ جو تعداد میں بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے امیر الیکشن جیتتے ہیں، دوسرا متوسط طبقہ جو آہستہ آہستہ اپنے غریب مسلمان بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے جذبے کے تحت ان میں شامل ہورہا ہے،اور سب سے آخر میں امیر طبقہ ، امیر طبقہ نایاب ہے، یہ سب سے جدا ہیں، ان کی سوچ ، ان کی باتیں، ان کا رہنے سہنے کا طریقہ، ان کی تعداد صرف دو فیصد کے قریب ہے اس لیے، انھیں حکومت کرنے کے لیے چنا جاتا ہے، اب دیکھیں، سارے غریب اگر مل کر حکومت بنانے کا سوچیں تو یہ دو فیصد امیروں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
یہ بات اہم ہے کہ یہ امیر لوگ غریبوں کا احساس کرتے ہیں۔ ٹی وی کے ٹالک شو میں بیٹھ کر ایسی غریبوں کی مشکلات بیان کرتے ہیں، کہ غریبوں کی آنکھوں سے آنسو آجاتے ہیں، ان کا بس نہیں چلتا کہ گھر سے روٹی لا کر انھیں دے دیں، جو اس طرح بھوک کے دکھ کو بیان کرتے ہیں جیسے خود تین دن سے بھوکے ہوں۔
اسی طرح مذہبی طور پر بھی تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو مذہب کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ جمعہ کے دن ان کے پاءوں مسجد کی طرف اٹھتے ہیں، دوسرے وہ جو پکے دین دار ہیں، یہ درمیانہ طبقہ ہے، درمیانہ طبقہ کم ہے، اور آخری تیسرا طبقہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیسرے طبقے میں سے دو طبقے مزید نکلتے ہیں۔ ایک وہ جو خود کو کٹر مسلمان کہتے ہیں، اتنے کٹر مسلمان کہ ہر غیر مسلم کو گٹر میں گرانا چاہتے ہیں، دوسرے وہ آزاد خیال جو مذہب کو تاریخ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں طبقے آپس میں گتھم گھتا رہتے ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ تم لادین ہو، دوسرا کہتا ہے کہ تم انتہا پسند اور دہشت گرد ہو۔ یہ جنگ صدیوں سے چل رہی ہے، اور چلتی رہے گی، ان دونوں کی جنگ میں بیچارے کم مذہبی اور امن پسند مذہبی لوگ پستے ہیں۔
انسانوں میں بھی دو صنفیں ہیں، ایک وہ صنف جس کو صنف نازک کہتے ہیں، دوسری وہ صنف جس کو مردانہ صنف کہتے ہیں۔ صنف نازک ، صنف مردوں میں بہت مشہور ہے، خاص کر شاعر حضرات کے لیے، وہ ان پر غزلیں لکھتے ہیں۔ مردانہ صنف عورت کے لیے شوہر کے روپ میں خاص دلچسپی کا باعث ہے، وہ اسے مجازی خدا بھی کہتی ہے، کیونکہ وہ اس کی خدمت کرتا ہے، باہر کے کام کرنے کے ساتھ ساتھ کچن میں بھی ہاتھ بٹاتا ہے، اتنے زیادہ کام عام انسان نہیں کرسکتا، اس لیے اسے مجازی خدا کا رتبہ دیا جاتا ہے۔
یہ سب انسان غریب، متوسط، شوہر ، صنف نازک، امیر ۔۔۔ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئیے۔
۔
عبدالباسط
 

نایاب

لائبریرین
محترم احسان بھائی
بہت خوب لکھا ہے معاشرے کا حال
اور مزاح و طنز کے باریک فرق کو خوب نبھایا ہے ۔
 
Top