ضیا ء النبی شریف

حسن نظامی

لائبریرین
السلام علیکم مہوش بہن میں نے حسب وعدہ اپنے طور پر یہ کام شروع کر دیا ہے مجھے نہیں معلوم میں اسے مکمل کر سکوں گا یا نہیں اگر اللہ تعالی نے توفیق دی تو ضرور مکمل کر لوں گا انشا ء اللہ ۔
آپ نے اپنے حساب سے جو طریقہ کار اختیار کرنا ہے وہ کریں اگر گروپ بنا کر یہ کام کرنا ہے بھی درست ہے القلم برادری میں اگر آپ یہ کام کرنا چاہیں تو بھی آپ کی رضا ﴿آمنا و صدقنا ﴾ ہم نے آپ کو امام مان کر آپ کے کہنے پر کام شروع کر دیا ۔۔
قیصرانی بھائی اگر شامل ہو جائیں تو بہت اچھا ہے اور راجہ صاحب ﴿بیدم صاحب ﴾ کو میں نے ذپ کر دیا تھا دیکھیں وہ کیا فرماتے ہیں
آپ نے کہا تھا کہ فلاں لنک پر آپ کو ایسے لوگ مل جائیں گے جو رضاکارانہ طور پر یہ کام کریں آپی میرا خیال ہے اگر یہ کام آپ کریں تو درست ہو گا ۔
ہاں میری ایک تجویز ہے کہ ضیا ء النبی کی 7 جلدیں ہیں ایک آدمی یا دو آدمی مل کر ایک جلد کی ذمہ داری اٹھا لیں سب سے بڑی جلد چوتھی ہے باقی تقریبا مختصر ہی ہیں اگر ہم پہلی پانچ جلدیں بھی کرنے میں کامیاب ہو گئے تو بہت سارا کام ہو جائے گا ۔۔
ویسے اردو محفل کا طریقہ کار تو سکین کر کے پیجز بانٹ دینے کا ہے یہ سب سے درست طریقہ ہے
آپی اگر آپ سکیننگ کا عمل سرانجام دے سکیں تو بہت اچھی بات ہو گی اس کے بعد تو میرا خیال ہے کوئی مسئلہ نہیں
جب تک سکیننگ نہیں ہوتی ایسے حضرات جن کے پاس ضیاء النبی شریف موجود ہو اس کام میں شریک ہو سکتے ہیں
راجہ صاحب کے پاس یقینا ہو گی آپ کے پاس بھی ہونی چاہئے آپی میرا مسئلہ وہی ہے میں آج کے دن سکین کرنے کی کوشش کرتا مگر اس سکینر کو معلوم نہیں کچھ ہو گیا ہے ابھی فیضان نے بتایا ہے کہ خراب ہے
اور ٹائپ تو میں نے کر دیا ہے ۔
آگے آپ کا جو دل کر ے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس کام میں اپنی بساط بھر حاضر ہوں اور قیصرانی بھائی سے بھی گذارش کریں کہ وہ تھوڑی سی مدد کریں بے شک عمران سیریز بھی ٹائپ کرتے رہیں
والسلام











ضیاء النبی




از جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری









































گر نہ خورشیدے جمال یار گشتے راہ نموں
از شبے تاریک غفلت کس نبردے راہ ب۔۔روں


























بسم اللہ الرحمن الرحیم
داعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا

جس کا مداح اور ثنا خواں خود پروردگار ہے ۔
قرآن کریم کے صفحات جس کی عظمت اور بزرگی کے ذکر سے جگمگا رہے ہیں ۔
سارے جہانوں کا خداوند ذوالجلال والاکرام جس پر صلوۃ و سلام کے بیش بہا موتیوں کی بارش برسا رہا ہے ۔ ملا اعلی کے نوری فرشتے جس پر ہر لحظہ درود و تحیات کے مہکتے پھول نچھاور کر رہے ہیں ۔
جس کے خلق کو اس کے خالق نے عظیم کہا ۔
جس کے اسوہ کو اس کے رب نے حسین فرمایا ۔
زبان قدرت نے جس کو رحمت للعالمین فرما کر اپنی ساری مخلوق سے روشناس کرایا ۔
جو بلا امتیاز سب کا تھا اور تا ابد سب کا رہے گا ۔
لیکن بیماروں اور رنجوروں، ناداروں اور بیکسوں ، خستہ حالوں اور شکستہ دلوں ، خطا کاروں اور عصیاں شعاروں پر اس کا سحاب لطف و کرم جب برستا ہے تو اس کی ادا ہی نرالی ہوتی ہے ۔
مطلع رشدو ہدایت پر جس کا آفتاب رسالت ، نور افشانی کر رہا ہے اور تا ابد کرتا رہے گا ۔ جس کے بحر جودو سخا کی خند اور شیریں موجیں، تشنگان ہر دوعالم کو سیراب کر رہی ہیں اور تا ابد سیراب کرتی رہیں گی ۔
جس کے در رحمت پر صدا لگانے والا فقیر نہ کبھی خالی لوٹا ہے اور نہ قیامت تک کوئی خالی لوٹے گا ۔
اے سلطان حسینان جہاں !
اے سرور اورنگ نشینان عالم !
ایک مفلس و کنگال منگتا ، خالی جھولی لے کر تیرے حسن جمال کی خیرات لینے کے لئے حاضر ہے اور ایک ادنی سا ارمغان عقیدت و محبت پیش کرنے کا آرزو مند ہے ۔
اے میرے ذرہ پرور آقا !ازراہ بندہ نوازی اسے قبول فرمایئے اور اپنے اس حقیر سے غلام کے دامن تہی کو اپنے سچے عشق اور پکی غلامی کی نعمت عظمی اور دولت سرمدی سے بھر دیجئے ۔

وصلی علیک یا خیر خلقہ
ویا خیر مامول و یا خیر واھب
ویا خیر من یرجی لکشف رزیۃ
ومن جودہ قد فاق جود السحائب
واجود خلق اللہ صدرا و نائلا
وابسطھم کفا علی کل طالب
﴿ماخوذ از اطیب النغم مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ﴾

غبار راہ طیبہ
مسکین : محمد کرم شاہ
شب دو شنبہ 25 جمادی الثانی 1413ھ
21/دسمبر 1992ء





﴿آگے فہرست ہے وہ میرا خیال ہے بعد میں ایڈیٹ کی جائے تو بہتر رہے گا﴾

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابتدائیہ
یسبح ما فی السموت وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم کانوا من قبل لفی ضلل مبین وآخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم
قال اللہ تعالی :
ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی یاایھا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما ۔ لبیک اللھم ربی و سعدیک صلوات اللہ البر الرحیم والملئکۃ المقربین والنبین والصدیقین والشھداء والصالحین وما سبح لک من شیء یارب العالمین علی سیدنا ومولانا وحبیبنا و شفیعنا محمد بحر انوارک و معدن اسرارک و لسان حجتک و عروس مملکتک وامام حضرتک و خاتم انبیاءک وعلی آلہ الطہرین المطھرین وازواجہ الذکیات الطھرات امھات المومنین واصحابہ الغر المحجلین ومن احبہ واتبعہ الی یوم الدین صلوۃ و سلاما وتحیۃ تدوم بدوامک وتبقی ببقاءک ترضیک و ترضیہ وترضی بھا عنا یا ارحم الرحمین ۔
اما بعد
حضرت عیسی نبینا وعلیہ الصلو ت والسلام کے رفع آسمانی کے بعد پانچ صد اکہتر سال گذر چکے تھے اس قلیل مدت میں آپ پر نازل شدہ کتاب انجیل مقدس کو بنی اسرائیل کے علماء سوء نے اپنی تحریفات سے مسخ کر کے رکھ دیا تھا ۔ آپ کی امت بے شمار فرقوں میں بٹ چکےتھے اور ان میں باہمی منافرت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو ملحد اور کافر کہتا تھا اور صرف اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ السلام کے دین حق کا اجارہ دار سمجھتا تھا ۔ وحی الہی کا نور تاباں دھندلا گیا تھا ۔ انسان کی فریب خوردہ عقل ، اوہام اور خود ساختہ عقائد کی دلدل میں پھنس چکی تھی تنگی کے چند خوش نصیب افراد کے علاوہ آپ کی ساری امت آپ کے بتائے ہوئے راستہ سے بھٹک گئی تھی غضب یہ ہوا کہ انہوں نے اس مسیح کو ابن اللہ ﴿خدا کا بیٹا ﴾ کہنا شروع کر دیا جس نے اپنی پیدائش کے چند روز بعد اپنے پنگھوڑے میں جھولتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا ۔

انی عبداللہ اتنی الکتاب و جعلنی نبیا
"یعنی میں خدا نہیں ،خدا کا بیٹا نہیں بلکہ میں تو اس کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے منصب نبوت پر فائز کیا ہے "
﴿مریم : 30﴾

اپنے اس معجزہ سے انہوں نے اپنی عفت مآب والدہ کی پاکدامنی کی گواہی بھی دے دی اور اس حقیقت کو بھی واشگاف کر دیا کہ میں اللہ تعالی کا بندہ ہوں اور اس کا نبی ہوں لیکن آپ کے ماننے والوں نے آپ کی اس ناقابل تردید شہادت کو مسترد کر دیا آپ کو عبداللہ کہنے کی بجائے آپ پر ابن اللہ ﴿اللہ کا بیٹا ﴾ کی سنگین اور گستاخانہ تہمت لگا کر توحید کے عقیدہ کی نفی کر دی اس طرح انہوںنے نہ صرف حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو بلکہ تمام انبیاء کرام کی آمد کے مقصد عظیم کو ٹھکرا کر رکھ دیا ۔
وہ نفوس ذکیہ جو محض اپنے خالق و مالک کی وحدانیت کا پرچم لہرانے کے لئے اور چار دانگ عالم میں اس کی توحید کا ذنکا بجانے کے لئے تشریف لائے تھے جب انہیں کو خدا کی الوہیت میں شریک ٹھہرا لیا گیا تو لو گ توحید کا سبق سیکھتے تو کس سے ، اپنے پروردگار کی وحدانیت کے عقیدہ کا چراغ روشن کرتے تو کیونکر ۔ اس دور میں سب سے قریبی وحی کی جب یہ حالت ہو گئی تھی تو وحی کے وہ سرچشمے ن کا تعلق ماضی بعید سے تھا اور وہ آسمانی صحیفے جو قدیم زمانہ میں انبیاء کرام پر نازل کئے گئے تھے ان میں شرک و الحاد کی آلائشیں کہاں تک در نہ آئی ہوں گی اور کسی حق کے متلاشی کے لئے کیونکر ممکن رہا ہو گا کہ وہ ان کتب آسمانی سے حق کے نور کا اکتساب کر سکے ۔
چھٹی صدی عیسوی ، ایک ایسا دور تھا جبکہ کائنات ارضی کے گوشہ گوشہ میں شرک اور بت پرستی کی بیماری ایک وبا کی صورت اختیار کر چکی تھی اور جب اللہ تعالی کے بندوں کا رشتہ ہی اپنے رب سے ٹوٹ چکا تھا ۔ تو ان کی اخلاقی ، معاشرتی ، معاشی اور سیاسی زندگی میں جو تباہ کن فسادات رونما ہو چکے ہوں گے ان کا تصور کر کے ہی سعید روحوں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہو گا ۔
ساری انسانیت کے ہادی و راہبر ، قیامت تک آنے والے تمام عصور و دہور کے نیر اعظم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ﹺ حضرت آدم کی اولاد جس کو خلافت ارضی کی خلعت زیبا پہنائی گئی تھی ۔ جس کے سر پر اشرف المخلوقات ہونے کا تاج سجایا گیا تھا ، جس کے علم کے سمندر کی بیکرانیوں کے سامنے نوری ملائکہ کو اعتراف عجز کرنا پڑا تھا ۔ اور انہیں پیکر خاکی کے سامنے سجدہ تعظیم بجا لانے کا حکم دیا گیا تھا ۔ اس آدم کی اولاد صرف خدا فراموش ہی نہیں بلکہ خدا فراموشی کے باعث خود فراموش بھی بن چکی تھی ، انہیں قطعا یاد نہ رہا تھا کہ وہ خلاق جہاں کی شان تخلیق کا شاہکار ہیں ، وہ چشم کائنات کی پتلی ہیں ، مہرو ماہ بحرو بر ،فضائیں اور خلائیں ان کے زیر نگیں ہیں ہر چیز ان کی خدمت بجا لانے کے لئے پیدا کی گئی ہے اور ان کی تخلیق کا مقصد صرف ہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو پہچانیں ۔ دل کی گہرائیوں سے اس سے محبت کریں ۔ عظمت و محبت کے جذبات سے سرشار ہو کر اس کی بارگاہ عظمت و کمال میں بے خودی سے اپنا سر نیاز جھکا دیں ان کی زبان ہی نہیں ان کا دل بھی سبحان ربی الاعلی کے روح پرور کلمات سے اپنی بندگی،بے چارگی ،بیکسی اور بے بسی کا اظہار کر رہا ہو ۔ اس کے بجائے انہوں نے ہر چیز کو اپنا خدا ۔ معبود اور اپنا حاجت روا بنا لیا تھا ۔ بے جان پتھروں کے سامنے وہ سجدہ ریز تھے ۔درختوں کے ارد گرد وہ طواف کناں نظر آتے تھے ۔ کبھی کسی پہاڑ کی اونچی چوٹی سے مرعوب ہو کر اس کے سامنے بچھے جاتے تھے ۔ کبھی مہر ومہ کی تابندگیوں کے لئے سراپا عقیدت بن جاتے تھے ، کبھی کسی حیوان کے گوبر اور پیشاب میں پاکی کو تلاش کرتے دکھائی دیتے تھے الغرض انہوں نے عزت و کرامت کی اس خلعت کو تار تار کر دیا تھا ۔ اور اپنی بے نظیر اور بے مثال ظاہری اور باطنی خوبیوں کا جنازہ نکال دیا تھا جو ان کے پیدا کرنے والے نے بڑی فیاضی سے انہیں مرحمت فرمائی تھیں ۔ وہ تمام مظاہر فطرت سے ڈرتے بھی تھے اور ان کے سامنے جھکتے بھی تھے لیکن اگر کسی ہستی کی طرف سے انہوں نے آنکھیں بند کر لی تھیں اور مہ پھیر لیاتھا تو وہ ان کا کریم اور رحیم پروردگار تھا ۔ جس نے ان کو اپنے انگنت احسانات و کرامات سے نوازا تھا ۔
ان حالات کو قرآن حکیم نے " وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین "کے جامع الفاظ سے بیان فرمایا ہے " یعنی اس نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امد سے پہلے وہ سب کھلی گمراہی میں بھٹک رہے تھے "
اس سے بیشتر کہ اپنے کریم پروردگار کی توفیق سے اس آفتاب عالم تاب کی تابانیوں کا ذکر کروں جس نے بلندیوں اور پستیوں کو بقعہ نور بنا دیا جس کی روشن کرنوں سے زمین کا گوشہ گوشہ جگمگا اٹھا ۔ میں مناسب بلکہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اس "ضلل مبین " سے بھی اپنے قارئین کو روشناس کراوں جس میں صرف کوئی فرد ، کوئی قبیلہ ، یا کوئی قوم نہیں بھٹک رہی تھی بلکہ سارا عالم انسانیت اس کی شدید گرفت میں تھا اور کراہ رہا تھا ۔ اور انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں رہا تھا ۔ جسے فساد و عناد کی آندھیوں نے تباہ و برباد نہ کر دیا ہو یہ تو میرے لئے ممکن نہیں کہ میں کرہ زمین کے مختلف بر اعظموں میں پھیلی ہوئی انسانی آبادیوں کے حالات کا مکمل نقشہ آپ کے سامنے پیش کر سکوں البتہ بتوفیق الہی یہ کوشش ضرور کروں گا کہ اس وقت کی متمدن قوموں کے مذہبی ،سیاسی ، اخلاقی ، معاشرتی اور معاشی حالات کی ایک ایک جھلک آپ کو دکھا دوں تاکہ آپ عرب کے اس ماہ چہار دہم کے فیوض و برکات کا صحیح اندازہ لگا سکیں ۔ جن سے اس نے بدمست ، مدہوش اور اپنی خوبیوں اور کمالات سے بے خبر اور بے بصر انسان کو بہرہ ور کیا ۔ تبھی آپ اندانہ لگا سکیں گے کہ انسان کن پستیوں میں گر چکا تھا ۔ اور اس عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمومنین روف رحیم ﴿1﴾
﴿حاشیہ : 1: گراں گزرتا ہے اس پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت ہی خواہش مند ہے تمہاری بھلائی کا مومنوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے ﴿سورہ التوبہ 128﴾
کی شان والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کہاں سے اٹھایا اور کن بلندیوں تک پہنچایا ۔
دنیا کے نقشہ پر اگر آپ نظر ڈالیں تو آپ کو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو گی کہ مکہ کا شہر اس وقت کی معلوم دنیا کے نقشہ پر اس جگہ نظر آئے گا جیسے دل ، انسان کے جسم میں ہوتا ہے ۔ تمدن ، حضارت، ثقافت اور شائستگی کی جو قندیلیں اس وقت ٹمٹما رہی تھیں وہ ان ممالک میں ہی تھیں جو اس مرکز انسانیت کے قرب و جوار میں آباد تھے مشرق میں ایران ہے جس کے طویل و عریض خطہ پر کئی ہزار سال تک مختلف خاندانوں کی شہنشاہیت کا پرچم لہراتا رہا تھا ۔ اس سے آگے مشرق کی طرف جائیں تو ہند کا برصغیر ہمیں نظر آتا ہے جہاں حکمت و فلسلفہ کی درسگاہیں لوگوں میں علم و شعو کی دولت تقسیم کر رہی تھیں پھر اگر ایران و ہند کے شمال کی طرف نگاہ اٹھائیں تو ہمیں چین کا وہ عظیم ملک نظر آتا ہے جس کے رقبہ کی وسعت آبادی کی کثرت ،علوم و فنون کی صنعت و حرفت کی ترقی اس وقت بھی قابل صر رشک تھی اگر ہم جزیرہ عرب کے مغرب کی طرف دیکھیں تو ہمیں بیزنطینی شہنشاہیت کے قیصر اپنی عظمت و برتری کا نقارہ بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کی وسیع و عریض سلطنت صدیوں سے دور دراز ممالک کو بھی اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھی جہاں بڑے بڑے علماء و فضلاء کی درسگاہیں جو در حقیقت علم و حکمت کی یونیورسٹیاں تھیں اپنی برتری کا سکہ جمائے ہوئے تھیں اور جزیرہ عرب کے جنوب میں افریقہ کا براعظم تھا ۔ اس کابیشتر حصہ اس وقت بھی جہالت ، بربریت اور وحشت کے اتھا ہ اندھیروں میں غرق تھا لیکن اس براعظم کا ایک ملک جسے مصر کہتے ہیں انسانی تاریخ کے تمام محققین کے نزدیک تہذیب و تمدن کا اولین مر کز تھا چھٹی صدی عیسوی میں اگرچہ اس کی آزادی چھن چکی تھی اور وہ رومی سلطنت کا ایک مفتوحہ صوبہ تھا ۔ لیکن علم و فضل اور فسلسفہ و حکمت میں اب بھی وہ کسی کو اپنا ہمسر نہیں سمجھتا تھا ۔ اس وقت کی دنیا کے یہ چند ایسے ممالک تھے جن کو متمدن ، مہذب اور علم و دانش کا گہوارہ ہونے کا غرور تھا ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے باتدبیر حکمرانوں اور عالی ہمت اور بلند اقبال سپہ سالاروں کے باعث اپنی فتوحات کا دائرہ اتنا وسیع کر لیا تھا ۔ کہ جن کی وسعت کو دیکھ کر آج بھی حیرت ہوتی ہے اس لئے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ بڑے اختصار و ایجاز کے ساتھ ان ممالک میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوں کی ایک ایک جھلک قارئین کو دکھا دوں تاکہ یہ حقیقت آشکارا ہو جائے کہ علم و حکمت کے ان مدعیوں نے انسانیت کو ذلت کے کس گڑھے میں دھکیل دیا تھا فتوحات کی بے مثال وسعتوں کے باوجود وہاں کے باشندے کس قسم کی محرومیوں اور مایوسیوں میں جکڑے ہوئے اور گھرے ہوئے زندگیے بسر کر رہے تھے ۔
ان حالات کے بیان کرنے سے میرا مقصد قطعا یہ نہیں کہ میں کسی کی تضحیک یا تذلیل کرنا چاہتا ہوں فقط اپنے قارئین کو حقیقت حال سے آگاہ کرنا مقصود ہےتاکہ وہ اس سراپا یمن و برکت ہستی کے قسم رنجہ فرمانے سے انسانیت کے خزاں زدہ اور اجڑے ہوئے گلشن میں جو بہار آئی اس کا کچھ نہ کچھ تو اندازہ کر سکیں ۔
غبار راہ طیبہ
محمد کرم شاہ
 

مہوش علی

لائبریرین
وکی کے ڈومین نام میں تھوڑی سی پرابلم ہو رہی ہے۔ یہ مسئلہ حل ہوتے ہی ہم دوبارہ وکی پر کام شروع کر دیں گے انشاء اللہ۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
بہنا میں نے ماہ وش آپی ایک نظر عنایت ادھر بھی کے نام سے ایک زمرہ میں جلد اول کی
فہرست پوسٹ کی ہے مزید کام بھی میں کر چکا ہوں کچھ دنوں تک پوسٹ کردوں گا ابھی چند دن مصروفیت کے ہیں یہ زمرہ یہاں ہے

بہنا ساتھ ہی ایک گزارش یہ ہے کہ ضیاء النبی شریف کے حوالے سے معلوم نہیں کتنے ہی زمرے بن چکے ہیں کچھ تو میں ہی بناتا رہا ہوں ان کو یکجا کر دیا جائے تو بہت بہتر ہو گا مزید یہ کہ فالتو پوسٹس کو ختم کر دیا جائے

اور ایک ہی زمرہ میں ضم کر دیا جائے
 
Top