ضیاء الحق قاسمی

رضوان نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 10, 2006

  1. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    معشوق جو ٹھگنا ہے تو عاشق بھي ہے ناٹا
    اس کا کوئي نقصان نہ اس کو کوئي گھاٹا

    تيري تو نوازش ہے کہ تو آگيا ليکن
    اے دوست مرے گھر ميں نہ چاول ہے نہ آٹا

    لڈن تو ہني مون منانے گئے لندن
    چل ہم بھي کلفٹن پر کريں سير سپاٹا

    تم نے تو کہا تھا کہ چلو ڈوب مريں ہم
    اب ساحل دريا پہ کھڑے کرتے ہو ٹاٹا

    عشاق رہ عشق ميں محتاط رہيں گے
    سيکھا ہے حسينوں نے بھي اب جوڈو کراٹا

    کالا نہ سہي لال سہي تل تو بنا ہے
    اچھا ہوا مچھر نے تيرے گال پہ کاٹا

    اس زور سے چھيڑا تو نہيں تھا اسے ميں نے
    جس زور سے ظالم نے جمايا ہے چماٹا

    جب اس نے بلايا تو ضياء چل ديئے گھر سے
    بستر کو رکھا سر پہ لپيٹا نہ لپاٹا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر