ضیاء الحق قاسمی

رضوان

محفلین
معشوق جو ٹھگنا ہے تو عاشق بھي ہے ناٹا
اس کا کوئي نقصان نہ اس کو کوئي گھاٹا

تيري تو نوازش ہے کہ تو آگيا ليکن
اے دوست مرے گھر ميں نہ چاول ہے نہ آٹا

لڈن تو ہني مون منانے گئے لندن
چل ہم بھي کلفٹن پر کريں سير سپاٹا

تم نے تو کہا تھا کہ چلو ڈوب مريں ہم
اب ساحل دريا پہ کھڑے کرتے ہو ٹاٹا

عشاق رہ عشق ميں محتاط رہيں گے
سيکھا ہے حسينوں نے بھي اب جوڈو کراٹا

کالا نہ سہي لال سہي تل تو بنا ہے
اچھا ہوا مچھر نے تيرے گال پہ کاٹا

اس زور سے چھيڑا تو نہيں تھا اسے ميں نے
جس زور سے ظالم نے جمايا ہے چماٹا

جب اس نے بلايا تو ضياء چل ديئے گھر سے
بستر کو رکھا سر پہ لپيٹا نہ لپاٹا
 
Top