1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

صورت جینے کی نہیں رہتی

سعید احمد سجاد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 15, 2019

  1. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    297
    سر الف عین
    عظیم
    فلسفی
    اور دیگر احباب سے اصلاح کی درخواست ہے

    جتنے بھی ملے خونخوار ملے
    کوئی تو یہاں غمخوار ملے

    اس شہر میں سب سپنے ٹوٹے
    دکھوں کے یہاں انبار ملے

    کیسے منزل تک پہنچوں مَیں
    رستے ہی ناہموار ملے

    صورت جینے کی نہیں رہتی
    اپنوں سے جب انکار ملے

    بے ساختہ لپٹے پھولوں سے
    آغوش میں لے کر خار ملے

    اک تیرے در کی غلامی میں
    کتنے مجھکو کردار ملے

    جس کے سائے میں رونق ہو
    ایسی کوئی دیوار ملے

    بیتے ماضی کے کچھ وعدے
    اُن راہوں میں خوار ملے
     
  2. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,447
    اس غزل کے افاعیل کیا ہیں؟ مکمل غزل کسی ایک بحر میں نہیں لگ رہی
     
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,206
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    دکھوں کو تشدید کے ساتھ باندھا گیا جو درست نہیں

    دوسرے مصرع کو وزن میں لانے کے لیے خوار کو بھی تشدید کے ساتھ پڑھنا پڑے گا۔

    قوافی کے بارے میں استادِ محترم یا عظیم بھائی بتائیں۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 16, 2019
  4. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    297
    فعلن فعلن فعلن فعلن ہیں عظیم بھائی افاعیل
     
  5. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,447
    مجھے لگتا ہے کہ اس غزل پر بہت محنت درکار ہو گی۔ اور شاید ناممکن ہے کہ اس کا وزن درست کر لیا جائے۔
    مطلع میں ایطا بھی ہے 'خونخوار اور غمخوار میں 'خوار' مشترک ہونے کی وجہ سے۔ دوسرا یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ خونخوار کون؟ ظاہر ہے کہ لوگوں سے مراد ہے مگر یہ بات واضح نہیں ہے
    میرا یہ مشورہ ہے کہ اس غزل کو یہیں چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    297
    شکریہ
     

اس صفحے کی تشہیر