1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $450
    $368.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ سیزدہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں
  3. دو ملین پیغامات کا کاؤنٹ ڈاؤن

    اردو محفل فورم پر دو ملین پیغامات مکمل ہونے میں صرف 1500 پیغامات باقی رہ گئے ہیں۔ مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔

    اعلان ختم کریں

شیعہ صفوی قلمرَو میں 'تبرّا' سُننے پر سُنّی عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کے احساسات

حسان خان نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 11, 2018

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    13,697
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے 'سِیاحت‌نامہ' کی جلدِ دوم میں صفوی قلمرَو میں واقع آذربائجانی قریے 'کہریز' کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    "بین خانه‌لی تبریز خانې مُنشی‌سی کندی ایمیش. آلتې جامِعی و اۆچ حمّامې و ایکی مهمان‌سرایې واردېر. و باغې و باغچه‌سی حددن افزون معمور کنددیر. خدایِ قهّار خراب ایده. زیرا جُمله خلقې شیعی و تبرّایی اۏلماغېلا دیارِ عجم‌ده ابتدا (سبِّ) حضرتِ عُمره حاشا ثُمَّ حاشا سب ائتدیکلرین بوندا ایشیدۆپ عقلېم گیتدی. امّا نه چاره هنوز داخی ضعف‌دن بی‌تاب و بی‌مجال ایدیم. یۏخسا بیر حال ایله اۏل سبّابِ لعینی قتل ائتمک امرِ سهل ایدی. زیرا دیارِ عجم‌ده ائلچی‌لر رُوم طرفېندان گلدیکلرینده سربست‌لردیر. چاریارِ گُزین عشقېنا دؤرد قېزېل‌باشِ سبّاب قتل ائتسه مُعاف‌دېر. آنا اصلا جواب اۏلمازدېر. هر نه حال ایسه صبر ائدۆپ..."

    ترجمہ:
    "یہ ہزار گھروں کا ایک قریہ ہے، جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ حاکمِ تبریز کے مُنشی کی مِلکیت میں ہے۔ اِس میں چھ مسجدیں، تین حمّام اور دو مہمان سرائے ہیں۔ اور یہ حد سے زیادہ باغوں اور باغیچوں والا ایک معمور قریہ ہے۔ خدائے قہّار اِس کو ویران کرے! کیونکہ اُس کے تمام مردُم شیعی اور تبرّائی ہیں۔ اور دیارِ عجم میں مَیں نے اُن کو حضرتِ عمر (رض) پر - حاشا ثُمَّ حاشا - سبّ و شِتم کرتے یہاں اوّلین بار سُنا تھا، اور [غضب سے] میں دیوانہ ہو گیا تھا۔ لیکن کیا کِیا جائے کہ میں اپنی ناتوانی و بے بسی کے باعث ہنوز بے طاقت و بے مجال تھا۔ ورنہ اُس سبّابِ لعین کو کسی طرح قتل کرنا کارِ سہل تھا۔ کیونکہ دیارِ عجم میں جب رُوم (عُثمانی سلطنت) کی طرف سے سفیران آتے ہیں تو چار یارِ گُزیں کی خاطر چار قِزلباشِ سبّاب کو قتل کرنے کی آزادی و اختیار رکھتے ہیں، اُن سے ہرگز بازپُرس نہیں ہوتی۔ بہر حال، میں نے صبر کیا۔۔۔"

    لاطینی رسم الخط میں:
    Bin hâneli Tebrîz hânı münşîsi kendi imiş. Altı câmi'i ve üç hammâmı ve iki mihmân sarâyı vardır. Ve bâğı ve bâğçesi hadden efzûn ma'mûr kenddir. Hudâ-yı Kahhâr harâb ide. Zîrâ cümle halkı Şi'î ve Teberrâ'î olmağıla diyâr-ı Acemde ibtidâ (sebb-i) Hazret-i Ömer'e hâşâ sümme hâşâ seb etdiklerin bunda işidüp aklım gitdi. Ammâ ne çâre henüz dahi za'afdan bî-tâb u bî-mecâl idim. Yohsa bir hâl ile ol sebbâb-ı la'îni katl etmek emr-i sehl idi. Zîrâ diyâr-ı Acem'de elçiler Rûm tarafından geldiklerinde serbestlerdir. Çâr-yâr-ı güzîn aşkına dörd kızılbaş-ı sebbâb katl etse mu'âfdır. Anâ aslâ cevâb olmazdır. Her ne hâl ise sabr edüp..

    × قِزِلباش = صفویوں کے مُرید اور غالی و متعصب شیعہ تُرک جنگجوؤں کو اُن کی سُرخ کُلاہ کے باعث قِزِلباش (قِزِل = سُرخ، باش = سر) کہا جاتا تھا۔ صفوی دور کے ماوراءالنہری و عُثمانی ادبیات میں عموماً یہ لفظ مُطلقاً 'شیعہ' کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 11, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر