شکل اک یاد آتی رہی رات بھر ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے

السلام علیکم
استاد محترم جناب الف عین سر اور احباب محفل، ایک غزل کے چند اشعار اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں۔
بحر متدارک مثمن سالم
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
شکل اک یاد آتی رہی رات بھر
اک شکایت ستاتی رہی رات بھر

پھر صبا نے کہی اک کتھا رقص میں،
گیت برہا کے گاتی رہی رات بھر

کیا وہ جگنو چمکتا پھرا صحن میں
یا کرن منہ چھپاتی رہی رات بھر

سائے دیوار سے باتیں کرتے رہے
خامشی گنگناتی رہی رات بھر

اک چکوری تڑپتی رہی چاند کو
چاندنی مسکراتی رہی رات بھر

پیڑ خاموش شکوے میں ڈوبے رہے
اور اداسی مناتی رہی رات بھر
سیّد کاشف

 

الف عین

لائبریرین
بہت اچھے۔ اچھی درست غزل ہے۔ بس آخری شعر میں ہی کچھ ہلکی سی خامی محسوس کی

واضح نہیں۔ پیڑ کس کا شکوہ کر ہے تھے۔ اداسی کیا مناتی رہی، دیوالی؟
شکریہ استاد محترم !
آخری شعر پر نظر ثانی ضرور کرونگا۔ انشا اللہ
نوازش!
 
عمدہ کاوش ہے۔ ما شااللہ :)

ایسی ہی ایک غزل احمد جہانزیب نے گائی ہے۔
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
 

فہد اشرف

محفلین
مخدوم کی یاد میں
از فیض احمد فیض۔

"آپ کی یاد آتی رہی رات بھر"
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی، گاہ بجھتی ہوئی
شمعِ غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر
پھر صبا سایہء شاخِ گُل کے تلے
کوئی قِصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیرِ در
ہر صدا پربلاتی رہی رات بھر
ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
 
استادِمحترم کیا اس زمین میں ان کی غزل مل سکتی ہے ؟
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر

رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر

بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر

یاد کے چاند دل میں اُترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر

کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر

مخدوم محی الدین
 
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر

رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر

بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر

یاد کے چاند دل میں اُترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر

کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر

مخدوم محی الدین
شکریہ، جزاک اللہ :)
 
Top