شکر ہے سیاسی ٹڈی دل کے چنگل میں پھنسی نااہل حکومت کو ٹڈی دل یاد آ گیا

زیرک نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 1, 2020

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    شکر ہے سیاسی ٹڈی دل کے چنگل میں پھنسی نااہل حکومت کو ٹڈی دل یاد آ گیا​
    جہاں ایک طرف تبدیلی سرکار اپنی نااہلی و نالائقی کے ساتھ ساتھ اپنے ٹڈی دل مشیروں اور وزیروں کی مفادپرستی کی وجہ سے مشکل میں ہے وہیں ملک کے مختلف علاقوں میں اصل ٹڈی دل کے حملے بھی جاری ہیں۔ ملک کے بہترین زرعی علاقے میں پچھلے 3 ماہ سے ٹڈی دل حملہ آور ہے اور ہزاروں ایکڑ زمینوں پر کھڑی فصلیں اور سبزہ اجاڑ دیا، پھلدار درختوں کا صفا چٹ کر ڈالا، ربیع کی فصلوں جن میں گندم، سرسوں، چاول اور سبز چارے شامل ہیں، ٹدی دل کے حملے کی وجہ سے تباہ ہو گئیں ہیں۔ کئی ماہ سے اطمینان کی نیند سوتی حکومت کی سرخیل المعروف حوروں والے ٹیکے والی سرکار سے اور کیا توقع کی جا سکتی تھی؟ جوں جوں نااہلی و نالائقی کھل کر سامنے آتی جا رہی ہے یہ بات ثابت کرتی ہے کہ انہیں علم ہی نہیں کہ ان کی حکومت کو چلا کون رہا ہے، صرف خبر رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کو ایک کارپوریٹڈ سرمایہ کارانہ مافیا چلا رہا ہے۔ تڈی دل کا مسئلہ آج کا نہیں، کئی ماہ پہلے سندھ حکومت نے کئی بار اس معاملے کو اٹھایا لیکن حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ جیسے ہی ٹڈی دل نے حکومت میں شامل سیاسی ٹڈی دل شوگر مافیا کی زمینوں پر حملہ کیا تو حکومت نے اس کے روک تھام کے لیے قومی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا، ماں صدقے جائے تے پیؤ لعنتاں پائے یعنی اپنے پیٹ پر لات پڑی تو سب جاگے۔ خوشی سے نہیں لیکن دکھی دل کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شکر ہے(اللہ معاف کرے) کہ اس نے پنجاب میں حملہ کر دیا اس لیے اب اسے قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے قومی ایمرجنسی قرار دیا گیا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب بہت دیر کر دی گئی ہے، اس کے تدارک کے لیے کم از کم 3 ماہ پہلے حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہییں تھے۔ بہرحال وزیرِ اعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ "حکومت نے ٹڈی دل کے تدارک کو نیشنل ایمرجنسی ڈیکلیئر کر دیا گیا ہے"۔ ٹڈی دل کے حملے سے متاثرہ علاقوں میں ڈیرہ اسماعیل خان، ڈی جی خان راجن پور، روجھان، بہاولپور، رحیم یار خان، چولستان، تھر، بدین، پاکپتن، ساہیوال شامل ہیں۔ گندم کی فصل تباہ ہونے کے خدشے سے کاشت کار سر پکڑے بیٹھے ہیں کیونکہ میں ٹڈی دل جھاڑیوں اور درختوں پر موجود ہیں اور اس نے ملحقہ علاقوں کا رخ کر لیا تو مزید تباہی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ محکمۂ زراعت اور پیسٹی سائیڈ والوں کے اشتراک سے فصلوں پر فضائی سپرے کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے ٹڈیوں کو تلف کیا جا رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی غذائی مشکلات کا شکار ہے لیکن کیا کیا جائے کہ پاکستان میں ایک مخصوص مافیا ایسے ایمرجنسی حالات کو اپنے لیے مہنگائی کے ہتھیار کے ذریعے فائدے اٹھانے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اب بھی کرے گا کیونکہ یہ طبقہ حکومت میں بیٹھا ہوا ہے اور ہر حکومت کا حصہ ہوتا ہے جہاں بیٹھ کر اپنے مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔ اللہ خیر کرے پہلے سے مہنگائی کے شکار ملک کے لیے آئندہ کا پیش منظر کوئی اچھی تصویر نہیں دکھا رہا، غذائی اجناس کی تباہی، خوراک کی کمی، کاشتکاروں اور زمینداروں کی معاشی تباہی اور ملک میں خوراک کے بحران کے مناظر کو مزید بڑھا چڑھا کر دکھا رہی ہے۔ نتیجہ مہنگائی، بیروزگاری اور مزید مشکل معاشی صورت حال کا منظر نامہ پیش کرتا دکھائی دیتا ہے، اللہ خیر کرے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر