شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

جی ڈھونڈتا ہے بزمِ طرب میں اُنھیں، مگر
وہ آئے انجمن میں ، تو پِھر انجمن کہاں

الطاف حُسین حالؔی
 

طارق شاہ

محفلین

مُدّت سے تھی دُعا ، کہ ہوں بدنام شہر شہر
بارے ہُوئی قبُول بہت اِلتجا کے بعد


الطاف حُسین حالؔی
 

طارق شاہ

محفلین

فقط احساسِ آزادی سےآزادی عبارت ہے
وہی دیوار گھر کی ہے، وہی دیوارزنداں کی

سیماؔب اکبر آبادی


تمام ہم وطن احباب کو یوم آزادی مبارک ہُو
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

داستانوں میں مِلے تھے، داستاں رہ جائیں گے
عمر بوڑھی ہو تو ہو، ہم نوجواں رہ جائیں گے

شام ہوتے ہی گھروں کو لَوٹ جانا ہے ہمیں
ساحلوں پر صرف قدموں کے نِشاں رہ جائیں گے

ہم کسی کے دِل میں رہنا چاہتے تھے اِس طرح
جس طرح اب گفتگو کے درمیاں رہ جائیں گے

فاضل جمیلی
 

طارق شاہ

محفلین

آہ کھینچے نہ کوئی سینہ فگار آج کے دن
زخمِ دل بھی نہ کرے کوئی شمُار آج کے دن

آج پھر کرتے ہیں تجدیدِ تمنائے بہار !
کہتے ہیں آئی تھی گلشن میں بہار آج کے دن

عنایت علی خاں
 

طارق شاہ

محفلین

وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
کسی کسی کو خُدا یہ کمال دیتا ہے

برائے نام بھی جس کو وفا نہیں آتی!
وہ سب کو اپنی وفا کی مثال دیتا ہے

اعجاز رحمانی
 

طارق شاہ

محفلین

رَہِ اُلفت وہ کُوچہ ہے قضا بھی جس سے ڈرتی ہے
قدم رکھتا ہے دِل اُس میں، نثارِ ہمّتِ دِل ہُوں

اکؔبر الٰہ آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

توقّع رہتی ہے دَم یہ ، کہ دم لینے کی مُہلت ہے !
معاذ اللہ! مَیں اپنی موت سے کِس درجہ غافِل ہُوں

اکؔبر الٰہ آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

زمینِ شعر جس سے آسماں بن جائے، اے اکؔبر!
غلوئے طبع سے ، ایسی غزل پڑھنے پہ مائِل ہُوں

اکؔبر الٰہ آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

اب اپنے آپ سے بھی چُھپ گئی ہے
وہ اِک لڑکی، جو سب کو جانتی تھی

سحر آغاز، شب اِتمامِ حُجّت
عجب زہرؔا کی وضعِ زندگی تھی


زہؔرا -نِگاہ
 

طارق شاہ

محفلین

بھاگ کر جائیں کہاں اِس دیس سے اب، اے مُنؔیر
دِل بندھا ہے، پریم کی سُندر سجیلی ڈور سے

مُنؔیر نیازی
 

طارق شاہ

محفلین

تُندخُو ہے کب سُنے وہ دِل کی بات !
اور بھی، برہم کو برہم کیا کریں

کہتے ہیں اہلِ سفارش تجھ سے، داؔغ !
تیری قسمت ہے بُری، ہم کیا کریں

داؔغ دہلوی
 

طارق شاہ

محفلین

ہر شے میں دیکھتا ہُوں مَیں رنگِ بہار اب !
آئی جہان بھر کی یہ چاہت تمہی سے ہے

لو آج تم سے کہتا ہُوں دِل میں چُھپائی بات !
جو خود سے بڑھ کے ہے، وہ محبّت تمہی سے ہے

شفیق خلؔش
 
Top