شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

اِتفاقاتِ محبّت نے یہ ثابت کردِیا !
وہ بھی پیشانی میں ہے شاید، جو پیش آنی نہیں

سیماب اکبرآبادی


* یہاں خیال بہت خوب ہے، مگرعلامہ سیماب سے شاید چوک ہو گئی کہ
ثابت ہونے کے بعد شاید (شبہہ ) کا جواز نہیں رہتا
 

طارق شاہ

محفلین

بہہ چُکا ہے خُون پانی کی طرح اِنسان کا
معتدل پھر بھی، مزاجِ عالَمِ فانی نہیں

سیماب اکبر آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

بے کار مئے رنگیں، بے سُود ہیں پیمانے
ساقی کی نِگاہوں میں میخانے ہیں میخانے

کنور مہندر سنگھ بیدی سحر
 

طارق شاہ

محفلین


بانٹے پہ خود کو اوروں کی خوشیوں میں اِس طرح
دھوکہ ہو غم کو، میرا مقدّر نہیں رہا

شفیق خلش
 
آخری تدوین:
Top