شرعی ڈی این اے

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

نایاب

لائبریرین
شرعی ڈی این اے
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/05/130530_shariah_and_dna_zz.shtml
محمد حنیف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اگر معاملہ ریپ کا نہ ہوتا، اگر ریپ قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں نہ ہوا ہوتا، اگر ملزم نہ پکڑے جاتے، اگر مقدمہ چلتے ہوئے پانچ سال نہ ہو گئے ہوتے تو ہم کہتے یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے۔
دُنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ریپ کے مقدمے جیتنا اِنتہائی مشکل ہے اور ہماری پولیس اور عدالت تو ریپ کا شکار ہونے والی کسی بھی خاتون کے کردار کو ہی مشکوک سمجھتے ہیں۔ مختاراں مائی کے کیس کو ہی لے لیں، اُنہیں پوری دُنیا میں شہرت اور عزت تو ملی لیکن اپنے ملک میں انصاف نہ ملا۔
لیکن پانچ سال قبل لودھراں سے اپنے خاندان کے ساتھ کراچی آنے والی اٹھارہ سالہ لڑکی کا ریپ جناح کے مزار کے احاطہ میں ہوا۔ یہ انہی جناح کا مزار ہے جہاں پاکستان کا ہر چھوٹا، بڑا، نگراں یا منتخب حکمران پھولوں کی چادر چڑھاتا ہے جہاں پر فوج کی زیر تربیت افسران حفاظتی ڈیوٹی دینا باعث فخر سمجھتے ہیں۔
ریپ کا شکار ہونے والی اِس لڑکی نے نہ خودکشی کی، نہ اُس کے گھر والوں نے اُسی پر کوئی الزام لگایا۔ پولیس میں رپورٹ درج ہوئی اور شاید جناح کے نام پر پولیس کو بھی غیرت آئی، ایک ملزم پکڑا گیا لڑکی نے اُسے شناخت کیا ، دو اور ملزم ڈی این اے کے ٹیسٹ کے بعد پکڑے گئے ۔ پانچ سال بعد کراچی کی ایک عدالت نے فیصلہ سُنایا کہ چونکہ کسی نے ریپ ہوتے دیکھا نہیں اور ڈی این اے کا ثبوت قابل قبول نہیں ہے اِس لیے ملزمان کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔
اگر ریپ کے مقدموں میں ڈی این اے کی شہادت کے بارے میں ابھی بھی کِسی کو شک تھا تو اِسی ہفتے اسلامی نظریاتی کونسل کے معزز اراکین نے بتا دیا ہے کہ ڈی این اے کی شہادت کو ملزموں کو سزا دینے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ کونسل میں شامل تمام اراکین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اِس ملک کے معروضی حالات سے واقف ہیں، اُمید ہے فقہ اور حدیث کے ساتھ ساتھ ہائی سکول کی سائنس بھی پڑھی ہو گی۔
یہ بھی جانتے ہوں گے کہ آپ شاختی کارڈ جعلی بنوا سکتے ہیں، کسی اور کے پاسپورٹ پر اپنی تصویر لگا سکتے ہیں، پلاسٹک سرجی سے چہرہ بھی تھوڑا بہت بدل سکتے ہیں، لیکن ابھی تک دریافت ہونے والے انسانی جینیاتی شناخت میں ڈی اے این ہی وہ کوڈ ہے جو کِسی دو اِنسانوں میں مشترک نہیں ہوتا۔
لیکن اسلامی نظریاتی کونسل والے بھی کیا کریں وُہ مذہبی بھی ہیں اور نظریاتی بھی اور ہر ایسی سائنسی ایجاد جو اُن کے رُتبے کو چیلنج کرے اُن کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
دور کی بات نہیں ماضی کے کچھ بزرگ علمانے بجلی کو بدعت کہا تھا، ریڈیو کو شیطان کی آواز بتایا تھا، ٹرین جہنم کی سواری تھی اور ٹیلی ویژن اور فلم نے تو ہمارے دین مکمل کو ایسا خطرے میں ڈالا تھا کہ آج تک نہ سنبھل سکا۔
اب ہمارے یہی علما حضرات جاپانی پراڈو پر سفر کرتے ہیں، ان کے محافظوں کے ہاتھوں میں روسی کاشنکوف ہوتی ہے، کان کے ساتھ کوریا کا موبائل فون لگا ہوتا ہے اور ان کے خطبات سننے کے لیے جرمن ٹیکنالوجی سے بنے سپیکر لگائے جاتے ہیں۔ رویت ہلال کمیٹی کے روح رواں مفتی منیب الرحمنٰ چاند تو ننگی آنکھ سے دیکھنے پر مصر ہیں لیکن اس کا اعلان اسی وقت کرتے جب تک سارے چینلوں پر لائیو کوریج شروع ہو جاتی ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کوئی مضائقہ نہیں ہر ٹیکنالوجی کے خلاف مزاحمت ہوتی ہے لیکن پھر چیزیں زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ تو پھر یہ کیسے ہوا کہ ڈی این اے ٹیسٹ جس کے ذریعے ریپ جیسے قبیح جرم کا شکار ہونے والی ایک بچی کو انصاف مل سکتا ہے، ہمارے ملک کے چنیدہ علما اس پر متفق ہیں کہ نہیں ہونے دیں گے۔
اِن سے دست بستہ یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ آپ میں سے کچھ نے دل کا بائی پاس آپریشن کرایا ہوگا اور طبی سائنس کی مدد سے دل کی بند شریانوں کو مغربی ٹیکنالوجی کے ذریعے کھلوایا ہوگا۔ وہی طبی سائنس جس کی بدولت ماشاء اللہ آپ طویل عمریں پاتے ہیں کیا وہی سائنس کِسی مجبور اور لاچار کو اِنصاف نہیں دلا سکتی۔
پاکستان میں جب بھی کِسی دینی مسئلے پر بحث چھڑتی ہے تو اکثر علما حضرات کبھی شفقت سے کبھی غصے سے ہمیں سجھاتے ہیں کہ اگر دین کا عِلم حاصل نہیں کیا اس پر بات مت کرو۔ کاش انہیں کوئی بتائے کہ اگر میڈیکل سائنس نہیں پڑھی تو۔۔۔
 

عسکری

معطل
ملا کون ہیں بھائی جاہلوں کا ایک ٹولہ بس ان پر تو اب لعنت بھیجنا بھی گوارا نہیں مجھے۔ اور عدالتیں ان کو کہو فوجی بوٹ کے تلوے کو زبان تو لگا کر دیکھو زبان بھی مسل دی جائے گی۔ وردی کو ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے
 

نایاب

لائبریرین
کیا واقعی ڈی این اے ٹیسٹ اک ثبوت کے طور استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔؟
انگلیوں کی نشانات ملزم کو مجرم ثابت کر سکتے ہیں ۔ تو ڈی این اے کیوں نہیں ۔ ؟
کیا دو انسانوں میں واقعی ڈی این اے مشترک نہیں ہو سکتا ۔ ؟
یہ کالم پڑھ کر مندرجہ بالا سوالات ابھرے ۔ سو شریک محفل کردیا ۔۔۔۔۔ کہ شاید یہ سوالات جواب پا جائیں ۔
 

اشفاق احمد

محفلین
بات ٹیسٹ کی حقیقت کی نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔۔۔
بات اسلامی سزا کی بنیادی شہادتوں کی ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
اور جنابِ من جہاں سب کچھ جعلی بن سکتا ہے وہاں ڈی این اے رپورٹ بھی جعلی بنائی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
ایک بنیادی نوعیت کے مسئلے کو خواہ مخواہ علمیت اور جہالت کے پلڑوں میں تولنے سے پہلے ذرا اپنے معاشرے کے گریبان میں جھانک لیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کسی ملا یا مولوی کی طرفداری کا کوئی شوق نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ہی ٹیکنالوجی سے کوئی بیر ہے۔۔۔۔۔۔
لیکن جب بات اسلامی شریعت کے بنیادی نوعیت کے مسائل کی ہو تو کسی ایک واقعے کو بنیاد بنانے کی بجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وسیع الذہنی سے اجتہاد کیا جاتا ہے۔۔۔
 
دین مُلا۔۔۔۔ فساد فی سبیل اللہ
ملا ایک ایسا لفظ ہے اور ہمارے علماء سو کا کردار اتنا گھناؤنا ہے کہ مجھے کراہیت آتی ہے میں اس جہلاء کے ٹولے کے بارے میں کچھ لکھنا چاہوں تو مجھے قے آتی ہے ۔۔۔ جاہل اجڈ لوگ
 

یوسف-2

محفلین
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِه ڮ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعَا ١٤٠ (النساء-40)
اور حکم اتار چکا تم پر قرآن میں کہ جب سنو اللہ کی آیتوں پر انکار ہو تے اور ہنسی ہوتے تو نہ بیٹھو ان کے ساتھ یہاں تک کہ مشغول ہوں کسی دوسری بات میں نہیں تو تم بھی انہی جیسے ہوگئے اللہ اکھٹا کرے گا منافقوں کو اور کافروں کو دوزخ میں ایک جگہ
and He has revealed to you in the Book that when you hear the verses of Allah being disbelieved and ridiculed, you should not sit with them unless they enter into some other discourse. You, in that case, would be like them. Surely, Allah is to gather all hypocrites and disbelievers in Jahannam .

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا (النساء-61)
اور جب ان کو کہے کہ آؤ اللہ کے حکم کی طرف جو اس نے اتارا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تو دیکھے تو منافقوں کو کہ ہٹتے ہیں تجھ سے رک کر
When it is said to them, :Come to what Allah has revealed and to the Messenger, you will see the hypocrites turning away from you in aversion.
 
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِه ڮ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعَا ١٤٠ (النساء-40)
اور حکم اتار چکا تم پر قرآن میں کہ جب سنو اللہ کی آیتوں پر انکار ہو تے اور ہنسی ہوتے تو نہ بیٹھو ان کے ساتھ یہاں تک کہ مشغول ہوں کسی دوسری بات میں نہیں تو تم بھی انہی جیسے ہوگئے اللہ اکھٹا کرے گا منافقوں کو اور کافروں کو دوزخ میں ایک جگہ
and He has revealed to you in the Book that when you hear the verses of Allah being disbelieved and ridiculed, you should not sit with them unless they enter into some other discourse. You, in that case, would be like them. Surely, Allah is to gather all hypocrites and disbelievers in Jahannam .

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا (النساء-61)
اور جب ان کو کہے کہ آؤ اللہ کے حکم کی طرف جو اس نے اتارا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تو دیکھے تو منافقوں کو کہ ہٹتے ہیں تجھ سے رک کر
When it is said to them, :Come to what Allah has revealed and to the Messenger, you will see the hypocrites turning away from you in aversion.
آپ حسبِ معمول بحث کو ، موضوع کو سمجھے بغیر، غور کئے بغیر، قرآنِ پاک کی آیات یا احادیث کو چسپاں کر رہے ہیں یہ بتائے بغیر کہ ان ایات سے آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے۔۔۔ذرا ان سوالات پر غور کرنے کی زحمت فرمائیے:
1- کیا زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں کوئی فرق نہیں؟ کیا یہ دو مختلف قسم کے جرائم نہیں ہیں؟ اگر فرق ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ نام نہاد سیاسی مولوی بغیر غور کئے زنا بالرضا کے معاملے کو زنا بالجبر پر منطبق کر رہے ہیں؟
2-مولوی فضل الرحمان کی سیاسی بلیک میلنگ اور اسکو دی جانے والی سیاسی رشوت کے نتیجے میں اسکے نامزدکردہ مولویوں کو اگر اسلامی نظریاتی کونسل کا چئیرمین بنادیا جائے تو کیا یہ لوگ اس درجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ انکے جاہلانہ فیصلوں کو اللہ اور اسکے رسول کی رضا اور قرآن و سنت کا منشاء و مقصود سمجھ لیا جائے؟
حقیقت یہی ہے کہ ان لوگوں نے علماء کو پوری دنیا میں مذاق بنا کے رکھ دیا ہے ۔ سورہ فرقان کے مطابق عباد الرحمان تو وہ ہیں جو :
[ARABIC]و الذين اذا ذكروا بآيات ربهم لم يخروا عليها صما و عميانا (73)[/ARABIC]
(عباد الرحمان وہ ہیں کہ) جب انکے سامنے انکے پروردگار کی آیات(نشانیوں) کا ذکر کیا جائے تو وہ ان پر اندھے اور بہرے لوگوں کی طرح اندھادھند نہیں گرتے (بلکہ غو رو فکر سے کام لیتے ہیں)
 

عسکری

معطل
پاکستان میں جب بھی کِسی دینی مسئلے پر بحث چھڑتی ہے تو اکثر علما حضرات کبھی شفقت سے کبھی غصے سے ہمیں سجھاتے ہیں کہ اگر دین کا عِلم حاصل نہیں کیا اس پر بات مت کرو۔ کاش انہیں کوئی بتائے کہ اگر میڈیکل سائنس نہیں پڑھی تو۔۔۔
 
آپ حسبِ معمول بحث کو ، موضوع کو سمجھے بغیر، غور کئے بغیر، قرآنِ پاک کی آیات یا احادیث کو چسپاں کر رہے ہیں یہ بتائے بغیر کہ ان ایات سے آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے۔۔۔ ذرا ان سوالات پر غور کرنے کی زحمت فرمائیے:
1- کیا زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں کوئی فرق نہیں؟ کیا یہ دو مختلف قسم کے جرائم نہیں ہیں؟ اگر فرق ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ نام نہاد سیاسی مولوی بغیر غور کئے زنا بالرضا کے معاملے کو زنا بالجبر پر منطبق کر رہے ہیں؟
2-مولوی فضل الرحمان کی سیاسی بلیک میلنگ اور اسکو دی جانے والی سیاسی رشوت کے نتیجے میں اسکے نامزدکردہ مولویوں کو اگر اسلامی نظریاتی کونسل کا چئیرمین بنادیا جائے تو کیا یہ لوگ اس درجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ انکے جاہلانہ فیصلوں کو اللہ اور اسکے رسول کی رضا اور قرآن و سنت کا منشاء و مقصود سمجھ لیا جائے؟
حقیقت یہی ہے کہ ان لوگوں نے علماء کو پوری دنیا میں مذاق بنا کے رکھ دیا ہے ۔ سورہ فرقان کے مطابق عباد الرحمان تو وہ ہیں جو :
[ARABIC]و الذين اذا ذكروا بآيات ربهم لم يخروا عليها صما و عميانا (73)[/ARABIC]
(عباد الرحمان وہ ہیں کہ) جب انکے سامنے انکے پروردگار کی آیات(نشانیوں) کا ذکر کیا جائے تو وہ ان پر اندھے اور بہرے لوگوں کی طرح اندھادھند نہیں گرتے (بلکہ غو رو فکر سے کام لیتے ہیں)
موصوف کی عادت ہے آپ نے تو سنا ہی ہوگا کہ عادت بد تا گور نہ رود یعنی دو نمبری عادت قبر تک پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔
 

اشفاق احمد

محفلین
1- کیا زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں کوئی فرق نہیں؟ کیا یہ دو مختلف قسم کے جرائم نہیں ہیں؟ اگر فرق ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ نام نہاد سیاسی مولوی بغیر غور کئے زنا بالرضا کے معاملے کو زنا بالجبر پر منطبق کر رہے ہیں؟


جنابِ من آپ نے خود ہی بات واضح کر دی۔۔۔۔۔۔۔
کیا ڈی این اے ٹیسٹ ثابت کر سکتا ہے کہ جبر ہے یا رضا؟
 
آپ حسبِ معمول بحث کو ، موضوع کو سمجھے بغیر، غور کئے بغیر، قرآنِ پاک کی آیات یا احادیث کو چسپاں کر رہے ہیں یہ بتائے بغیر کہ ان ایات سے آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے۔۔۔ ذرا ان سوالات پر غور کرنے کی زحمت فرمائیے:
1- کیا زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں کوئی فرق نہیں؟ کیا یہ دو مختلف قسم کے جرائم نہیں ہیں؟ اگر فرق ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ نام نہاد سیاسی مولوی بغیر غور کئے زنا بالرضا کے معاملے کو زنا بالجبر پر منطبق کر رہے ہیں؟
2-مولوی فضل الرحمان کی سیاسی بلیک میلنگ اور اسکو دی جانے والی سیاسی رشوت کے نتیجے میں اسکے نامزدکردہ مولویوں کو اگر اسلامی نظریاتی کونسل کا چئیرمین بنادیا جائے تو کیا یہ لوگ اس درجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ انکے جاہلانہ فیصلوں کو اللہ اور اسکے رسول کی رضا اور قرآن و سنت کا منشاء و مقصود سمجھ لیا جائے؟
حقیقت یہی ہے کہ ان لوگوں نے علماء کو پوری دنیا میں مذاق بنا کے رکھ دیا ہے ۔ سورہ فرقان کے مطابق عباد الرحمان تو وہ ہیں جو :
[ARABIC]و الذين اذا ذكروا بآيات ربهم لم يخروا عليها صما و عميانا (73)[/ARABIC]
(عباد الرحمان وہ ہیں کہ) جب انکے سامنے انکے پروردگار کی آیات(نشانیوں) کا ذکر کیا جائے تو وہ ان پر اندھے اور بہرے لوگوں کی طرح اندھادھند نہیں گرتے (بلکہ غو رو فکر سے کام لیتے ہیں)
جتنی عزت سے آپ نے اس کا نام لیا ہے اس کے بعد ایک ہفتہ آپ سے بات چیت بند۔:mad:
 

طالوت

محفلین
جنابِ من آپ نے خود ہی بات واضح کر دی۔۔۔ ۔۔۔ ۔
کیا ڈی این اے ٹیسٹ ثابت کر سکتا ہے کہ جبر ہے یا رضا؟
میں اس معاملے میں الجھا ہوں ، ڈی این ٹیسٹ کو بطور ثبوت اگر استعمال کیا جائے تو میرے خیال میں وہ عینی شاہدین سے بھی زیادہ قابل قبول صورت ہو گی ، مگر رضا اور جبر کا فیصلہ کیسے ہو گا ؟؟ اس پر ذرا محفلین کچھ ارشاد فرمائیں۔
 

سید ذیشان

محفلین
میں اس معاملے میں الجھا ہوں ، ڈی این ٹیسٹ کو بطور ثبوت اگر استعمال کیا جائے تو میرے خیال میں وہ عینی شاہدین سے بھی زیادہ قابل قبول صورت ہو گی ، مگر رضا اور جبر کا فیصلہ کیسے ہو گا ؟؟ اس پر ذرا محفلین کچھ ارشاد فرمائیں۔


ڈی این اے سے ملزم کی شناخت ہو سکتی ہے۔ لیکن الزام کے ثابت کرنے کے لئے اور شہادتوں جیسا کہ وکٹم کے جسم پر زخم وغیرہ کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی واقعاتی شہادتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
شکریہ ، مگر تسلی نہیں ہوئی۔


دیکھیں جناب اگر ایک ناروال کے شریف گھرانے کی خاتون کراچی جاتی ہے اپنی فیملی کیساتھ اور ایک پبلک پارک میں تین غنڈے جن کو وہ جانتی تک نہیں ہے اس کا ریپ کرتے ہیں، اور وہ پولیس میں اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کو داو پر لگا کر رپورٹ لکھواتی ہے تو اس کا کتنے فیصد چانس ہے کہ اس کاروئی میں اس کی اپنی مرضی شامل ہے؟ اسی طرح کی شہادتیں باقی دنیا کی عدالتوں میں پرکھی جاتی ہیں۔
 
شہادت اور گواہی جیسے معاملات خالص مذہبی معاملات ہیں اورمیرے خیال میں اس کے ماخذ قران و سنہ ہیں نہ کی سائنس۔

ڈی این اے کی میچنگ کبھی بھی جبر اور رضامندی میں تفریق نہیں کرسکتی
پھر ڈی این اے کی میچنگ بھی ایک اسٹیٹسکل اندازہ ہے ۔ پہلے دو ڈی این اے لیجیے پھر ان کی ایک پرائمر کی مدد سے ایمپلیفیکشن کریں۔ پھر بیس پییرز کی سیکونس کو میچ کریں۔ نتیجہ شماریاتی اعداد ہوتے ہیں۔

بہرحال جو رائے مانی جائے گی وہ وہی ہوگی جو قران و سنت سے اخذ کردہ ہے نہ کہ محمد حنیف جیسے لوگوں کی۔ جو لوگ سائنس کو اپنا مذہب بنانا چاہتے ہیں وہ آزاد ہیں۔
 
ڈی این اے سے ملزم کی شناخت ہو سکتی ہے۔ لیکن الزام کے ثابت کرنے کے لئے اور شہادتوں جیسا کہ وکٹم کے جسم پر زخم وغیرہ کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی واقعاتی شہادتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
زخم کے علاوہ بھی وکٹم کے باس اتنا کچھ رہ جاتا ہے کہ ڈی این اے کے نمونے مل سکیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
میں نے ایک بار پڑھا تھا کہ ہر دس ہزار میں سے دو افراد کے ڈی این کے نتائج ایک جیسے آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک شماریاتی مثال ہے۔ عام طور پر ڈی این اے کے چند سو مارکرز میچ کئے جاتے ہیں۔ تاہم اگر جڑواں انسان ہوں تو اس صورت میں کئی لاکھ مارکر میچ کرنے ہوں گے جو زیادہ ٹائم کنزیومنگ مسئلہ ہے
 
ملا کون ہیں بھائی جاہلوں کا ایک ٹولہ بس ان پر تو اب لعنت بھیجنا بھی گوارا نہیں مجھے۔ اور عدالتیں ان کو کہو فوجی بوٹ کے تلوے کو زبان تو لگا کر دیکھو زبان بھی مسل دی جائے گی۔ وردی کو ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے
تو آپ اور محمد حنیف کون سے عالم ہیں ۔ جہالت میں کچھ بڑھ کر ہی ہیں ۔ علماء پر آپ لعنت بھیجیں گے تو لازما پلٹ کر آپ پر ہی آئے گی ۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top