شرط۔

رشید حسرت نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 17, 2020

  1. رشید حسرت

    رشید حسرت محفلین

    مراسلے:
    103
    جھنڈا:
    Pakistan
    شرط۔



    یہ کیا کہا کہ تُجھے جان سے بھی پیارا ھُوں
    امیرِ شہر کی بیٹی! میں غم کا مارا ھُوں

    یہ آج کس نے تُجھے میری سمت اُکسایا
    کفیل بچوں کا، بِیوی کے سر کا ھُوں سایہ

    اگر میں چاہُوں بھی تو تُجھ کو پا نہیں سکتا
    بڑھی جو بات تو میں تاب لا نہیں سکتا

    تُوجانتی ھے کہ روٹی کو ھم ترستے ہیں
    بڑی غریب سی بستی ھے جس میں بستے ہیں

    پڑی ھُوئی تُجھے عادت ہے عیش و عِشرت کی
    مِری اندھیری سی کُٹیا میں ھوگی وحشت سی

    غریبی باپ کو تیرے ذرا نہ بھاتی ھے
    میں جاؤں سامنے ان کے تو گِھن سی آتی ھے

    نگر میں اور بھی مُجھ سےحسِیں جواں ھونگے
    مُحبّتوں کے امِیں ھوں گے، رازداں ھوں گے

    اکیلا میں تو نہیں تیرا دل لُبھانے کو
    بہت سے لوگ ہیں قِسمت کے آزمانے کو

    بتا تو مُجھ میں بھلا ایسا کیا نظر آیا
    ہمیشہ سر پہ میرے مُفلسی کا ھے سایہ

    تُو جانتی ھے مسائل ہیں مُجھ کو گھیرے ھُوئے
    جہاں بھی جاؤں میرے چار سُو اندھیرے ھُوئے

    یقین رکھتا ھوں مِحنت پہ اپنی اے مادام
    قبُول ھو گی نہ بخشِش کبھی بھی اے مادام

    بضِد ھے پھر بھی اگر تُو تو شرط یہ ھے مِری
    میں جانتا ھوں تیرا باپ مانتا ھے تِری

    مِرے کِسان کو دو وقت کی میسّر ھو
    مِرے پِسے ھُوئے طبقے کا حال بہتر ھو

    یہ بُھوک، مُفلسی، وحشت سی اور یہ بارُود
    حقِیر کِیڑے سے بھی کمتر ھے آدمی کا وجُود

    بِلکتے بچوں کو روٹی بھی ھو دوا بھی مِلے
    کہ عرق ریز کو مِحنت کا یُوں صِلہ بھی ملے

    مواقع سب کو ملے ایک سے مُعاشی جب
    سنبھل سکے گی بِگڑتی سی ان کی حالت تب

    رِدائیں سر سے نہ بہنوں کےکھینچی جاتی ھوں
    امن ھو ایسا کہ حُوریں اُترنے آتی ھوں

    قبول شرط اگر ھو تو میں ھُوں آمادہ
    نِبھا دیا ھے میں سمجُھوں گا دیس سے وعدہ۔



    رشید حسرتؔ، کوئٹہ
     

اس صفحے کی تشہیر