شبِ تاریک چپ تھی در و دیوار چپ تھے .... سرور ارمان

شبِ تاریک چپ تھی در و دیوار چپ تھے​
نمودِ صبحِ نو کے سبھی آثار چپ تھے​
​
تماشا دیکھتے تھے ہمارے ضبطِ غم کا​
مسلط ایک ڈر تھا لبِ اظہار چپ تھے​
​
ہوائیں چیختی تھیں فضائیں گونجتی تھیں​
قبیلہ بٹ رہا تھا مگر سردار چپ تھے​
​
گراتا کون بڑھ کر بھلا دیوارِ ظلمت​
اجالوں کے پیمبر پسِ دیوار چپ تھے​
​
متاعِ آبرو کو بچا سکتے تھے لیکن​
محافظ سرنگوں تھے تو پہرے دار چپ تھے​
​
نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی توہین فن کی​
خریدے جا رہے تھے مگر فنکار چپ تھے​
​
زمانہ چاہتا تھا کہانی کا تسلسل​
مگر پردے کے پیچھے سبھی کردار چپ تھے​
​
سرور ارمان​
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہ
بہت خوب شراکت

ہوائیں چیختی تھیں فضائیں گونجتی تھیں
​
قبیلہ بٹ رہا تھا مگر سردار چپ تھے​
 

محمداحمد

لائبریرین
​
ہوائیں چیختی تھیں فضائیں گونجتی تھیں​
قبیلہ بٹ رہا تھا مگر سردار چپ تھے​
​

​
متاعِ آبرو کو بچا سکتے تھے لیکن​
محافظ سرنگوں تھے تو پہرے دار چپ تھے​
​
​
نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی توہین فن کی​
خریدے جا رہے تھے مگر فنکار چپ تھے​
​
​
زمانہ چاہتا تھا کہانی کا تسلسل​
مگر پردے کے پیچھے سبھی کردار چپ تھے​
​
سرور ارمان​

کیا بات ہے عمران بھائی۔۔۔۔!

خوبصورت انتخاب ہے۔
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top