شارجہ کی کچھ ادبی محافل

اظہرالحق نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 3, 2008

  1. اظہرالحق

    اظہرالحق محفلین

    مراسلے:
    639
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    پچھلے کچھ دنوں سے شارجہ کی کچھ ادبی محافل میں جانے کا موقع ملا اور ایک محفل اپنے گھر پر بھی ہوئی ، تو سوچا کہ آپ کے ساتھ اپنا یہ تجربہ بھی شئیر کیا جائے -

    پچھلے جمعے کو میرے گھر پر ایک محفل ہوئی ، جس میں مہمان خصوصی بھارت سے آئے ہوئے اردو اکیڈیمی کے جنرل سیکریٹری جناب اقبال مسعود تھے ، اقبال مسعود ایک اچھے لہجے کے شاعر ہیں اور تنقید و تالیف میں بھی مصروف ہیں ، اسکے علاوہ جواہر لال یونیورسٹی سے بھی انکا تعلق ہے ۔
    ان کے علاوہ شارجہ کے نامی شعراء جن میں جناب اختر شاہ ہاشمی ، محترم پیر محمد کیلاش ، سردار جہانگیر خان ، ڈاکٹر واصف ، نعت گو شاعر مقصود تبسم اور بھارت کے کیمونسٹ شاعر جناب سکھدیو بھی شامل تھے ۔ انکے علاوہ جناب سرفراز صاحب بھی اس محفل میں جلوہ فگن تھے ، جنکا قرآن کا سہل ترجمہ “کتاب نور“ کے نام سے چھپا ہے اور انکا مجموعہ کلام “منسوب“ کے نام سے قبولیت کی سند حاصل کر چکا ہے

    نظامت کے فرائض ڈاکٹر واصف نے انجام دئیے ، مقصود تبسم صاحب کی نعت کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا ، تمام شعراء نے اپنا کلام پیش کیا اور داد پائی ، مہمان خصوصی نے اپنی نظم میں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت بیان کی ، اور اسکے بعد ایک بحث کا دور چلا جس میں مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا گیا ۔ ۔

    ممتاز شاعر جناب سرشار صدیقی کے ساتھ ایک شام جناب مصدق لاکھانی کے گھر میں منعقد کی گئی جس میں شارجہ اور العین اور دبئی کے معروف شعراء نے شرکت کی ۔
    انہیں محافل سے کچھ اقتباس پیش خدمت ہے

    جناب مقصود تبسم
    -----------------------
    حفظ کرنے ہیں مجھے وسعت رخ کے انوار
    میری خواہش ہے تجھے اور پڑھوں اور پڑھوں
    حسرت دید میں اک عمر گزاری میں نے
    میری آنکھوں کے تجسس کو مل جائے سکوں

    جناب مصدق لاکھانی
    ---------------------
    شب کا خاموش درد جگر تک پہنچ گیا
    پھر لمحہ سکوت سحر تک پہنچ گیا
    ان وسعتوں میں چار قدم بھی نہ چل سکا
    ہاں یہ ہوا کہ میں سطح قمر تک پہنچ گیا


    جناب سرفراز نے اپنی غزل میں ایک نیا رنگ پیدا کیا ہے ، انکی اس غزل کو بہت پسند کیا گیا
    \----------------------
    دریا کو صحرا بُرد کیا جائے
    پھر پیاس اورپیاسا کانٹا حاضر ہوں

    قاضی صاحب باہر آئے ہیں
    اچھا آپ آئے ہیں ، اچھا ، حاضر ہوں

    بانسری کو ابھی روکا جائے
    پہلے فن اور بانس کا پودا حاضر ہوں

    دشت کو پانی چھوڑ کہ غرق کیا جائے
    اور پھر ریت کا ذرہ، ذرہ حاضر ہوں

    دریا کو باعزت بری کیا جائے
    آنکھ کنارہ ، جلتا قطرہ حاضر ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ اظہر صاحب اس پوسٹ کیلیئے، بہت خوشی ہوئی یہ سب پڑھ کر۔ سرفراز صاحب کی غزل واقعی بہت اچھی ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر