سیہون شریف کے مشہور صوفی بزرگ حضرت مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ

شفاعت شاہ نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 20, 2020

  1. شفاعت شاہ

    شفاعت شاہ محفلین

    مراسلے:
    29
    جھنڈا:
    Pakistan
    سیہون شریف دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے۔ اس شہر کی پہچان ایک ایسی ہستی سے ہے جو تقریبا آٹھ صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی لاکھوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ اس عظیم المرتبت بزرگ اور کامل ولی اللہ کا اصل نام سید عثمان مروندی ہے، لیکن دنیا ان کو حضرت لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔ حضرت لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت سنہ 1177 عیسوی میں افغانستان کے ایک قصبہ میوند میں ہوئی۔ آپ کا وصال سنہ 1274 عیسوی میں سیہون شریف میں ہوا۔ مولانا رومی، بابا فرید گنج شکر، بہاؤ الدین زکریا ملتانی اور جلال الدین بخاری جیسے صوفیائے کرام آپ کے ہم عصر تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا شمار دین اسلام کے ان نمایاں ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے، جن کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ نے لا تعداد لوگوں کے دلوں کو منور کیا، اور یہ سلسلہ تا حال جاری و ساری ہے۔ بصیرت و معرفت کے جو چراغ آپ روشن کر گئے تھے آج بھی ان کی روشنی کم نہیں ہوئی بلکہ مسلسل دیے سے دیا جلتا جا رہا ہے۔ فیضان کے جو چشمے آپ جاری کر گئے تھے، وہ دریا بن کر بہنے لگے۔
    سیہون شریف میں مدفون جن بزرگان دین نے حضرت لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ کا پیغام اور فیض عام بعد میں آنے والی نسلوں تک پہنچایا، ان میں حضرت مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ قلندری سلسلہ طریقت کے یہ مشہور رہنما لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کے لیے رشد و ہدایت کا وسیلہ اور ذریعہ بنے۔ دنیا کے کونے کونے میں ان کے لا تعداد چاہنے والے موجود ہیں۔ کسے خبر تھی کہ سنہ 1897 عیسوی میں صوابی کے نواحی گائوں گندف کے ایک معزز گھرانے سے طلوع ہونے والا آفتاب اس شان سے آسمان ولایت پر جلوہ گر ہوگا کہ دنیائے تصوف کو اپنے نور سے منور کر دے گا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم حضرت غلام شاہ سے حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن سے ہی پاکیزہ اور پسندیدہ عادات سے نوازا تھا اور کم عمری میں ہی آپ سے آثار ولایت ہویدا تھے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے محبت اور مخلوق خدا کے ساتھ بھلائی کے جذبے سے سرشار تھے۔
    تلاش حق کے لیے بے چین یہ مادر زاد ولی اللہ جوانی میں قدم رکھتے ہی اپنے مرشد کی تلاش میں عازم سفر ہوئے۔ اس روحانی سفر میں آپ اس زمانے کے متحدہ ہندوستان کے کئی شہروں میں قیام پذیر ہوئے، جن میں لاہور، سرہند شریف، اجمیر شریف اور کوئٹہ قابل ذکر ہیں۔ آپ نے متعدد اولیاء اللہ کی صحبت میں وقت گزارا اور ان کی توجہ اور تربیت سے فیضیاب ہوئے۔ کوئٹہ میں آپ نے کئی سال قیام کیا اور یادالٰہی میں مصروف رہے۔ یہاں بالآخر آپ کے دل کی مراد بر آئی اور آپ کو خواب میں حضرت لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی جنہوں نے آپ کو سیہون شریف آنے کے ہدایت کی۔
    سیہون شریف میں کافی سخی سرور کے مقام پر قلندری سلسلہ طریقت کے اس وقت کے گدی نشین حضرت دیدار علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو بھی خواب میں آپ کی آمد کی بشارت ہوئی۔ چنانچہ حضرت نادر علی شاہ نے خانقاہ کافی سخی سرور پہنچنے پر اپنے مرشد کو اپنا منتظر پایا۔ مرشد دیدار علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کی روحانی تربیت کر کے آپ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ سنہ 1931 عیسوی میں اپنے مرشد کے وصال کے بعد آپ نے یہ منصب سنبھالا اور ہر طرح کے مساعد و نامساعد حالات میں حق و صداقت اور اخلاص و محبت کا پرچم سر بلند رکھا۔
    جس طرح سورج کی روشنی اور مُشک کی خوشبو کسی تعارف اور اعلان کی محتاج نہیں ہوا کرتی بلکہ روشنی اور خوشبو خود ہی اپنا اعلان اور اظہار ہوا کرتی ہے، اسی طرح جب عجز و انکسار اور محبت و مروت کے اس مجسم پیکر نے شمع الفت کو جلایا تو ہر کوئی کھچا چلا آنے لگا۔ ایک زمانہ آپ کا گرویدہ ہو گیا۔ ہر کوئی مرشد کی دید کا ارمان لیے پھرتا۔ جس کو صحبت نصیب ہو جاتی، وہ اپنا دل ہمیشہ کے لیے چھوڑ آتا۔ سیہون شریف کی اس خانقاہ میں آنے والا ہر فرد قلبی سکون، ذہنی آرام اور روحانی آسودگی کی سوغات لے کر جاتا۔
    مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ پینتالیس برس تک اس روحانی منصب پر فائز رہے۔ آپ روحانیت کے بحر بیکراں تھے۔ آپ لا تعداد لوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا وسیلہ اور ان کی زندگیوں میں فکری اور روحانی انقلاب کا ذریعہ بنے۔ آپ تقویٰ، پرہیز گاری اور شب بیداری میں اپنی مثال آپ تھے۔ مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ مسلسل پچاس برس تک روزے سے رہے۔ مخلوق خدا کی بھلائی اور خدمت آپ کا امتیازی وصف تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے آپ نے دن رات سعی کی۔ آپ نے اپنے ابتدائی دور میں ہی کافی سخی سرور سے متصل خانقاہ میں ایک فی سبیل اللہ لنگر کا آغاز کیا جو گزشتہ 85 برس سے جاری و ساری اور رو بہ ترقی ہے۔ آپ نے دعا فرمائی تھی کہ یہ لنگر عام تا قیامت جاری و ساری رہے۔
    مرشد نادر علی شاہ حکمت کے فن میں بھی کمال مہارت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دست مبارک میں شفا دی تھی، چنانچہ جس مریض کو بھی ہاتھ لگاتے وہ جلد صحتیاب ہو جاتا۔ دور دور سے لوگ آپ کے لیے علاج کی غرض سے آتے۔ لا تعداد مریضوں نے آپ کے دست مبارک سے شفا پائی۔
    مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ جن دیگر مزارات کے گدی نشین و متولی اور نگران تھے، ان میں درگاہ معصوم پاک (المعروف پیر پوتا مزار)، سیہون شریف، جن میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے دو پوتے (حضرت محمد ابن عبد الرزاق اور حضرت احمد ابن عبد الرزاق) مدفون ہیں اور مزار حضرت عبد اللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ، کراچی قابل ذکر ہیں۔ حضرت عبد اللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار اقدس، اس کی سیڑھیاں، جامع مسجد، لنگر خانہ انہی کے زیر نگرانی تعمیر ہوا۔ یہاں پر آپ کا جاری کردہ فی سبیل اللہ لنگر عام آج بھی آپ کے معتقدین کے زیر انتظام جاری و ساری ہے۔
    مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے سالکین کی ایسی روحانی اور فکری تربیت کی کہ وہ مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا فرض اولین سمجھنے لگے۔ آپ نے اپنی تمام تر زندگی عبادت و ریاضت اور مخلوق خدا کی خدمت کرنے میں بسر کی۔ مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ 8 اکتوبر 1974 عیسوی بمطابق 21 رمضان المبارک 1394 ھجری لاکھوں معتقدین کو سوگوار چھوڑ کر اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے اس قافلہ شوق کے موجودہ سالار آپ کے بھتیجے مرشد عارف علی شاہ ہیں، جن کو آپ نے اپنی زندگی میں ہی اپنا جانشین مقرر کر لیا تھا۔ مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار پر انوار سیہون شریف میں مرجع خلائق ہے، جہاں روزانہ لوگ بڑی تعداد میں آ کر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
    مزار سے متصل تاریخی خانقاہ جو خانقاہ حضرت مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے موسوم ہے، ایک روحانی مرکز اور تربیت گاہ کے ساتھ ساتھ ایک موثر فلاحی ادارے کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ یہاں سالکین کی روحانی اور اخلاقی تربیت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس باقاعدہ لنگر کا آغاز حضرت مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے سنہ 1930 کی دہائی میں کیا تھا وہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کے منازل طے کرتا ہوا آج بھی جاری و ساری ہے۔ اس خانقاہ میں سینکڑوں ملنگ و خواہشمند رضا کار اپنے مرشد کے زیر سرپرستی دن رات خدمت خلق میں تن من دھن سے مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خانقاہ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں کہ "بھوکوں کو کھانا کھلانا بہترین عمل ہے" ہزاروں لوگوں کو بلا تفریق رنگ و نسل اور بلا تفریق مذہب و ملت روزانہ دو وقت کا معیاری کھانا، صبح کا ناشتہ اور شام کی چائے فی سبیل اللہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پورے شہر میں صاف اور ٹھنڈا پینے کا پانی مفت فراہم کرتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے شہر میں جگہ جگہ مستقل سبیلیں قائم کی گئی ہیں۔ جن مقامات پر یہ مستقل سبیلیں قائم کی گئی ہیں ان میں درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ، درگاہ حضرت مرشد نادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ، کالج چوک، جہاز چوک اور ریلوے اسٹیشن قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کے درجنوں سکولوں اور مدرسوں کے ہزاروں طلبا کو گرمی کے موسم میں برف اور ٹھنڈا پانی مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ خانقاہ مسافروں کے لیے رہائش بھی فراہم کرتا ہے۔ بے ہنر افراد کو ہنر سکھا کر باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ مریضوں کے لیے مفت مشورے اور ادویات کا انتظام بھی موجود ہے۔ نفسیاتی مریضوں اور نشے کے عادی افراد کے علاج اور ان کی بحالی میں بھی ان کی مدد کی جاتی ہے۔ تصوف کے اس قلندری روحانی سلسلہ سے وابستہ سینکڑوں ملنگ اور مددگار، معتقدین و رضا کار ہمہ وقت خدمت خلق میں دل و جان سے مصروف عمل رہتے ہیں اور مرشد کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے دینی فرائض کے ساتھ ساتھ، مخلوق خدا کی خدمت کو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم اور اپنے لیے ایک عظیم سعادت اور عبادت سمجھتے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 21, 2020
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر