سینائے بام سے جو صدا دی گئی ہمیں ٭ راحیل فاروق

سینائے بام سے جو صدا دی گئی ہمیں
ایک آگ تھی کہ رات دکھا دی گئی ہمیں

وہ چاہتے تو پھول بھی ایسے گراں نہ تھے
کانٹے بچھا کے راہ سجھا دی گئی ہمیں

کیا عشق میں وصال گناہِ کبیرہ ہے
پھر ہجر کی وعید سنا دی گئی ہمیں

واعظ تری بہشت کا نقشہ ہے ہوبہو
شاید تری شراب پلا دی گئی ہمیں

اچھا تو ہر خطا کی سزا آخرت میں ہے
آخر یہ کس خطا کی سزا دی گئی ہمیں

جس چیز کی تھی چاہ تڑپ بن کے رہ گئی
جو شے طلب نہ کی تھی وہ لا دی گئی ہمیں

یہ درد یہ ملال یہ آزردگی یہ حال
قیمت ہمارے دل کی چکا دی گئی ہمیں

پہلے بھی سر طبیب پٹکتے رہے تھے لاکھ
جب دی گئی شفا تو دوا دی گئی ہمیں

راحیلؔ شکریہ بھی نہیں شکر چاہیے
نیکی وہ کیا تھی جو نہ جتا دی گئی ہمیں

راحیل فاروق​
 
محمد تابش صدیقی بھائی آپ سے گذارش ہے کہ زمرہ پسندیدہ کلام میں راحیل فاروق بھائی کے نام کا سابقہ بھی شامل فرما دیں کیونکہ محفل پر راحیل بھائی کا کافی کلام موجود ہے اور محفلین کی جانب سے راحیل بھائی کا تازہ کلام محفل میں شیئر ہوتا رہتا ہے ۔
 

لاریب مرزا

محفلین
محمد تابش صدیقی بھائی آپ سے گذارش ہے کہ زمرہ پسندیدہ کلام میں راحیل فاروق بھائی کے نام کا سابقہ بھی شامل فرما دیں کیونکہ محفل پر راحیل بھائی کا کافی کلام موجود ہے اور محفلین کی جانب سے راحیل بھائی کا تازہ کلام محفل میں شیئر ہوتا رہتا ہے ۔
راحیل بھائی ہیں کہاں؟؟ وہ اردو محفل میں تو آتے نہیں ہیں۔
 
راحیل بھائی ہیں کہاں؟؟ وہ اردو محفل میں تو آتے نہیں ہیں۔
راحیل بھائی اللہ کریم کے فضل کرم سے بخیر و عافیت سے ہیں ۔ وہ اپنے بلاگ پر اپنا تازہ کلام شائع کرتے ہیں ۔محفل پر نہ آنے کی کیا وجوہات ہیں وہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔
 
Top