سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو نامعلوم افراد نے اسلام آباد سے اٹھا لیا، بیوی کی تصدیق

جاسم محمد

محفلین
نیا دور جولائی 21, 2020

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی بیوی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے شوہر کو نامعلوم افراد نے اٹھا لیا ہے، اور وہ مسنگ ہیں۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے صحافی اعزاز سید نے بتایا ہے کہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان مسنگ ہیں، نامعلوم افراد نے انہیں اٹھا لیا ہے، اور ان کی بیوی نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

ایک اور صحافی اسد ملک نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان جو کہ پی ٹی آئی حکومت، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقدوں میں شمار ہوتے ہیں انہیں جی سکس تھری سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ ان کی اہلیہ نے مطیع اللہ جان کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کردی اور ون فائیو کو بھی مطلع کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیئر صحافی و اینکر پرسن مطیع اللہ جان کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف ’توہین آمیز‘ الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں نوٹس بھی جاری کیا تھا۔
 

جاسم محمد

محفلین
ایسی حرکتیں انقلاب کا باعث بن سکتی ہیں جو کہ یہاں تقریباً ناممکن ہے۔
اپوزیشن، لبرلز، لفافے ہر حکومت کو ایجنسیوں سے لڑوا کر ان کو گھر بھیجنے کا راستہ ہموار کر دیا کرتے تھے۔ زرداری حکومت میں میمو گیٹ جبکہ نواز شریف حکومت میں ڈان لیکس سکینڈل کے ذریعہ سیاسی شہید بننے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اب عمران خان حکومت پر بھی اسی طرح دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ چونکہ آپ ایجنسیوں کے خلاف کر کچھ نہیں سکتے تو ان سے لڑ جائیں یا استعفی دے کر گھر چلے جائیں۔ کیوں بھئی؟ اگر ایجنسیوں سے لڑنے کا اتنا ہی شوق ہے تو خود محنت کر کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی کیوں نہیں بناتے جس کاایک نکاتی ایجنڈا ایجسنیوں کو سول حکومت کے ماتحت کرنا ہو۔ پھر دیکھتے ہیں عوام کیسے ان کو الیکشن میں سپورٹ کرتی ہے۔ بجائے دیگر جماعتوں پر تکیہ کرنے کے اس ضمن میں خود کام کریں۔
 

جا ن

محفلین
تحریک انصاف ایجنسیوں سے لڑنے کا مینڈیٹ لے کر اقتدار میں نہیں آئی۔ اس لئے مستعفی ہونے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
حکومت کا کام ہر شہری کی جان کی حفاظت، بنیادی حقوق کے حصول اور آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ اگر تحریک انصاف حکومت میں ہے تو یہ اسی کا کام ہے اور حکومت اپنے کام کیے بغیر بھی حکومت میں رہنا چاہتی ہے تو بلاشبہ ماضی کی حکومتوں سے کئی گنا زیادہ نالائق حکومت ہے جس میں رزسٹنس تو دور کی بات اپنے سارے اختیارات پلیٹ میں ڈال کر طاقتور طبقہ کو دینے کی بہترین قابلیت موجود ہے! الحمداللہ!
تحریک انصاف کا بیانیہ ہمیشہ کرپشن پہ رہا ہے اور میرے نزدیک سب سے بڑی کرپشن ہمیشہ اختیارات کی کرپشن ہوتی ہے، اگر حکومت وقت اپنے اختیارات کا مینڈیٹ ہی نہیں سنبھال سکتی، سنبھالنا تو دور کی بات، خود پلیٹ میں ڈال ڈال کے طاقتوروں طبقوں کو پیش کیے جاتی ہے تو یہ شرم کی بات ہے نہ کہ جواز پہ جواز پیش کر کے تالیاں پیٹنے کی!
 

جاسم محمد

محفلین
حکومت کا کام ہر شہری کی جان کی حفاظت، بنیادی حقوق کے حصول اور آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ اگر تحریک انصاف حکومت میں ہے تو یہ اسی کا کام ہے اور حکومت اپنے کام کیے بغیر بھی حکومت میں رہنا چاہتی ہے تو بلاشبہ ماضی کی حکومتوں سے کئی گنا زیادہ نالائق حکومت ہے جس میں رزسٹنس تو دور کی بات اپنے سارے اختیارات پلیٹ میں ڈال کر طاقتور طبقہ کو دینے کی بہترین قابلیت موجود ہے! الحمداللہ!
تحریک انصاف کا بیانیہ ہمیشہ کرپشن پہ رہا ہے اور میرے نزدیک سب سے بڑی کرپشن ہمیشہ اختیارات کی کرپشن ہوتی ہے، اگر حکومت وقت اپنے اختیارات کا مینڈیٹ ہی نہیں سنبھال سکتی، سنبھالنا تو دور کی بات، خود پلیٹ میں ڈال ڈال کے طاقتوروں طبقوں کو پیش کیے جاتی ہے تو یہ شرم کی بات ہے نہ کہ جواز پہ جواز پیش کر کے تالیاں پیٹنے کی!
یہ معاملہ ایجنسیوں اور سپریم کورٹ کے درمیان ہے۔ کل مطیع اللہ جان کی سپریم کورٹ میں ججوں کی توہین پر پیشی تھی۔ اور آج اسے ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں۔ اس سارے معاملہ میں حکومت کہاں سے استعفی دے؟
کل جب عدالت لگے گی تو سپریم کورٹ کے ججز خود متعلقہ اداروں کو بلوا کر مطیع اللہ جان کو طلب کر لیں گے۔ حکومت کو اس معاملہ میں گھسیٹ کر محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے۔
 
یہ معاملہ ایجنسیوں اور سپریم کورٹ کے درمیان ہے۔ کل مطیع اللہ جان کی سپریم کورٹ میں ججوں کی توہین پر پیشی تھی۔ اور آج اسے ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں۔ اس سارے معاملہ میں حکومت کہاں سے استعفی دے؟
کل جب عدالت لگے گی تو سپریم کورٹ کے ججز خود متعلقہ اداروں کو بلوا کر مطیع اللہ جان کو طلب کر لیں گے۔ حکومت کو اس معاملہ میں گھسیٹ کر محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے۔
یعنی سانوں کجھ نا کہوو۔ اسی تے بھولے آں۔
 

جاسم محمد

محفلین
یعنی سانوں کجھ نا کہوو۔ اسی تے بھولے آں۔
آپ کے نواز شریف نے ایجنسیوں کے خلاف ڈان لیکس کیا تھا۔ ان کو کوئی فرق پڑا؟ خود نواز شریف سزا یافتہ مجرم بن کر اب لندن مفرور ہے۔
زرداری نے ان کے خلاف میمو گیٹ کیا تھا۔ ان کو کوئی فرق پڑا؟ خود زرداری آج بیمار بن کر نیب کی پیشیاں بھگت رہا ہے۔
اب آپ چاہتے ہیں عمران خان بھی ان ایجنسیوں کو پڑ جائے اور نواز شریف و زرداری جیسے انجام کو پہنچے۔ وہ اتنا بیوقوف نہیں۔
 
Top