سیاسی چٹکلے اور لطائف

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

عباس اعوان

محفلین

خبر ہے کہ
"جسٹس شوکت عزیز صدیقی"
"را" "موساد" اور CIA کا مشترکہ ایجنٹ ہے
ایک وکیل اور جج ہونے کے ناتے الزامات کے ثبوت کی اہمیت ان سے بہتر کون جانتاہو گا۔ مجھے ان تمام الزامات کے ثبوت کا انتظار ہے۔
اگر کوئی ثبوت نہیں آتا تو جان لیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔
 

عباس اعوان

محفلین
جس دن تاریخ 2 اگست سے 21 جولائی کی گئی تو فیصلہ اسی روز سنایا جا چکا تھا۔
بنیادی طور پر ووٹر کا مورال ڈاؤن کرنے کی کوشش ہے۔
مجھے کہیں پر بھی، کوئی بھی پوسٹ نظر نہیں آئی جس میں کہا گیا ہو کہ عباسی بے گناہ ہے۔ اس کے جرم پر کسی کو نظر نہیں، فیصلے کے وقت پر سب کو تکلیف ہے۔
 

عباس اعوان

محفلین
Dioq_Zj_PW0_AUs5_Bd.jpg

شیر دل جوان لائین آف کنٹرول پر احکامات کے منتظر۔
چوہدری صاحب، پڑھے لکھے ہو کر ایسی باتیں نہ کیا کریں۔
یہ اینٹی نارکاٹکس فورس کے بندے ہیں، جو حنیف عباسی کیس میں پراسیکیوٹر ہیں۔ پولیس ، ہائی وے پٹرول، کسٹمز وغیرہ کی طرح ان کی بھی وردی ہوتی ہے، اور ان سب کی طرح یہ بھی سویلین فورس ہے۔
نون لیگ کی سپورٹ میں اپنا سٹینڈرڈ تو نہ گرائیں۔
:)
 

ربیع م

محفلین
ایک وکیل اور جج ہونے کے ناتے الزامات کے ثبوت کی اہمیت ان سے بہتر کون جانتاہو گا۔ مجھے ان تمام الزامات کے ثبوت کا انتظار ہے۔
اگر کوئی ثبوت نہیں آتا تو جان لیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔
جہاں تک اداروں کی عدلیہ میں مداخلت کی بات ہے تو اس پر مجھے اتنا ہی یقین ہے جتنا عین دوپہر کے وقت سورج کی موجودگی پر .
اور جہاں تک دلائل و شواہد کی بات ہے اس بارے میں کچھ ذاتی مشاہدات بھی ہیں اور بھی بہت کچھ...
اور ایسا اس لئے نہیں ہے کہ میں کوئی بہت پہنچ والی ہستی ہوں یا کوئی انتہائی باخبر شخص.
تقریبا ہر معمولی سا حالات حاضرہ سے(اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر سوشل یا الیکٹرانک میڈیا کی بنیاد پر نہیں ) واقفیت رکھنے والا شخص اس بات کی گواہی دے گا
لیکن یہاں اوپن فورم پر دینے سے قاصر ہوں.
لہذا آپ اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں کہ عدلیہ بالکل آزاد ہے اور ادارے بالکل بھی کسی چیز میں مداخلت نہیں کر رہے.
دوسرا یہ محض لطائف کی لڑی ہے اسے زیادہ سنجیدہ مت لیجیے مقتبس مراسلہ بھی محض سوشل میڈیا پر گردش کرتے لطیفہ کا ایک نمونہ تھا.
آپ اپنی رائے قائم رکھنے میں بالکل آزاد ہیں.
نیز
لطائف کی لڑی میں اتنا سنجیدہ ہونے پر میری جانب سے معذرت قبول فرمائیں.
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
لطائف کے زمرے میں سیاسی گفتگو ہونے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ گفتگو کو سست کر دینے والی موڈریشن سے بچا جا سکتا ہے۔ :)
 
مجھے کہیں پر بھی، کوئی بھی پوسٹ نظر نہیں آئی جس میں کہا گیا ہو کہ عباسی بے گناہ ہے۔ اس کے جرم پر کسی کو نظر نہیں، فیصلے کے وقت پر سب کو تکلیف ہے۔

جب بھی کچھ ایکسٹرا آرڈینری ہو رہا ہوگا اسی کو زیر بحث لایا جائے گا۔
سات سال سے چلتا کیس جس میں استغاثہ دو اڑھائی سال کیس کی پیروی کرنے ہی نا آتا رہا ہو۔۔۔ اور۔۔۔۔ پھر اچانک ایک تاریخ (2 اگست) جو طے ہو چکی تھی کو بدل کر عین انتخابات سے 5 دن پہلے فیصلہ سنانے کا حکم آ جائے تو زیر بحث وقت ہی آئے گا، کیس، جرم یا سزا نہیں۔
فیصلہ تو تاریخ بدلنے پر ہی سنایا جا چکا تھا۔
 
چوہدری صاحب، پڑھے لکھے ہو کر ایسی باتیں نہ کیا کریں۔
یہ اینٹی نارکاٹکس فورس کے بندے ہیں، جو حنیف عباسی کیس میں پراسیکیوٹر ہیں۔ پولیس ، ہائی وے پٹرول، کسٹمز وغیرہ کی طرح ان کی بھی وردی ہوتی ہے، اور ان سب کی طرح یہ بھی سویلین فورس ہے۔

ملک صاحب، میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ آپ پڑھے لکھے ہو کر ایسی باتیں نہ کیا کریں۔ لیکن یہ ضرور چاہوں گا کہ اب اے این ایف کے بارے میں مزید ایسا کوئی مراسلہ کرنے سے پہلے مطالعہ کر لیں۔
 

عباس اعوان

محفلین

محمداحمد

لائبریرین
ویسے میں کافی بے مزہ ہوا اس بار:

  • اسکرپٹ رائٹنگ میں بے تحاشا جھول نظر آئے۔
  • زیادہ تر کردار ایسے چنے گئے جو' کردار ' سے واقف ہی نہیں تھے
  • عدل و انصاف کا ایسا بول بالا ہوا کہ اچھے فیصلوں کو بھی سراہا نہیں جا سکا۔
  • کہانی میں ٹوئسٹ آیا لیکن کہانی کی اصل میں کوئی ٹوئسٹ نہیں آیا۔
  • جنہیں پہلے ہیرو کہہ کر ہیرو بنایا جاتا تھا اب کی بار اُنہیں ولن بنا کر ہیرو بنا دیا گیا۔
  • پسندیدہ سیاسی جماعتیں وہی رہیں جو آج سے 25 سال قبل تھیں۔
  • بدعنوانی اور غنڈہ گردی کی بیخ کنی جماعتی بنیاد پر کی گئی۔
  • اور پھر لا تعلقی کا اظہار بھی ایسے کیا گیا کہ جیسے نواز شریف ن لیگ سے لاتعلقی کا اظہار کردے۔

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
 

عباس اعوان

محفلین
جب بھی کچھ ایکسٹرا آرڈینری ہو رہا ہوگا اسی کو زیر بحث لایا جائے گا۔
سات سال سے چلتا کیس جس میں استغاثہ دو اڑھائی سال کیس کی پیروی کرنے ہی نا آتا رہا ہو۔۔۔ اور۔۔۔۔ پھر اچانک ایک تاریخ (2 اگست) جو طے ہو چکی تھی کو بدل کر عین انتخابات سے 5 دن پہلے فیصلہ سنانے کا حکم آ جائے تو زیر بحث وقت ہی آئے گا، کیس، جرم یا سزا نہیں۔
فیصلہ تو تاریخ بدلنے پر ہی سنایا جا چکا تھا۔
یہی تو ہم کہتے ہیں کہ ن لیگ اور پی پی نے ادارے تباہ کر دیے۔ شریف حکومت کے دباؤ میں اس کیس پر پیش رفت نہ ہوئی، اور نہ ہی نیب نے حدیبیہ کیس میں اپیل دائر کی، جس کی وجہ سے شریف خاندان کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا۔ سویلین ادارے سیاستدانوں ہی نے تباہ کیے ہیں، ریسکیو 1122 اور نادرا کا حال آپ کے سامنے ہے۔
جہاں تک عباسی کیس کا تعلق ہے تو اس کے لیے لاہور ہائیکورٹ کا حکم تھا کہ فیصلہ 21 جولائی تک سنا دیا جائے۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ فری لانس صحافی شاہد اورکزئی کی درخواست پر سنایا گیا تھا۔
آپ نے یہ تو بتا دیا کہ فیصلہ الیکشن سے 5 دن پہلے سنانے کا حکم دی گیا لیکن، یہ نہیں بتایا کہ یہ حکم کس نے دیا ؟؟؟
اور ہاں، یہ بھی بتا دیں کہ عباسی صاحب کون سے بھٹو ہیں جو ناقابل شکست تھے اور ان کی نااہلی سے نفع عوامی مسلم لیگ کو ہوا ہے۔
موصوف پچھلا الیکشن بھی ہار چکے ہیں۔
 
آپ کو شاید یہ صفحہ نہیں مل پایا۔

fdg.jpg

ان میں کوئی سویلین بیوروکریٹ، کوئی سیاسی لیڈر یا پھر ریٹائرڈ فوجی افسر بھی ملا تو بتائیے گا۔

یہ جن جوانوں کی تصویر آپ نے دیکھی اور اسے سویلین فورس کہا یہ سب حاضر سروس فوجی ہیں جو فوج کے مختلف صیغوں سے ڈیپوٹیشن پر اے این ایف میں آئے ہوئے۔ اے این ایف کا مکمل کنٹرول فوج کے پاس ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اگر سندھ میں خلائی مخلوق کی جانبدارنہ کاروائی کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ایم کیو ایم کو ہوا۔ اور سب سے زیادہ فائدہ پی پی پی کو ہوا۔

ایم کیو ایم پر صرف مائنس ون فارمولا ہی لاگو نہیں کیا گیا بلکہ ایم کیو ایم کو بطور ایک جماعت مسخ ہی کر دیا گیا۔ اگر الطاف حسین کے ساتھ مسائل تھے تو پھر مائنس ون کے بعد بات ختم ہو جانی چاہیے تھی ۔ لیکن ایم کیو ایم کو ٹکڑوں میں بانٹا گیا اور اُنہیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ انتخابات سر پر آگئے اور یہ دھڑے آپس میں متحد بھی نہیں ہو سکے۔ 'ایم کیو ایم حقیقی' کے مردے میں پھر سے جان ڈالی گئی ۔ غرض یہ کہ ایم کیو ایم کا ووٹ تقسیم کرنے کے لئیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔

پپلز پارٹی ان کی منظورِ نظر جماعت رہی۔ اُن کی کرپشن اور اُن کی غنڈہ گردی جائز قرار دی گئی اور ہنوز نظرِ التفات اُنہی کی طرف ہے۔ عدلیہ کو پپلز پارٹی کا کوئی کیس نظر نہیں آیا ۔ عُزیر بلوچ کو آج تک منظرِ عام پر نہیں لایا گیا اور نہ ہی اُس سے باقیوں کے معاملات کی باز پرس کی گئی۔ ۔ایم کیو ایم جو کہ سندھ کی ایک بڑی جماعت اور کراچی کی اکثریتی جماعت تھی ، اب اُس کا ووٹ بنک بری طرح تقسیم ہو گیا اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ بد عنوان ترین سابق صدر آصف زرداری اور اُن کی جماعت کو ہوگا۔

اگر یہی انصاف ہے تو ایسے انصاف پر تین حرف ہماری طرف سے۔

میں کبھی بھی ایم کیو ایم کا حامی نہیں رہا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حق بات سے بھی آنکھیں چرا لی جائیں۔
 
آپ نے یہ تو بتا دیا کہ فیصلہ الیکشن سے 5 دن پہلے سنانے کا حکم دی گیا لیکن، یہ نہیں بتایا کہ یہ حکم کس نے دیا ؟؟؟
جسٹس شوکت صدیقی نے کیونکہ آپ کی دل لگتی نہیں کہی تھی اس لیے اس کا حوالہ تو میں نہیں دوں گا۔ البتہ اگر ایک اور لڑی میں میرا یہ مراسلہ قابل قبول ہو تو آپ کےسوال (یہ حکم کس نے دیا) کا کسی حد تک جواب دے سکتا ہے۔ لیکن آپ کو کیونکہ ثبوت وغیرہ چاہیے ہوتے ہیں تو اس لیے آپ بے شک تسلیم نا کیجیے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ خلائی مخلوق ہمیشہ سے ہی عدلیہ کے کندھوں پر بندوق رکھ کر فائر مارتی رہی ہے اس لیے آپ کو ہائیکورٹ تو نظر آئے گی لیکن بندوق والا نہیں۔
 

عباس اعوان

محفلین
آپ کو شاید یہ صفحہ نہیں مل پایا۔

fdg.jpg

ان میں کوئی سویلین بیوروکریٹ، کوئی سیاسی لیڈر یا پھر ریٹائرڈ فوجی افسر بھی ملا تو بتائیے گا۔

یہ جن جوانوں کی تصویر آپ نے دیکھی اور اسے سویلین فورس کہا یہ سب حاضر سروس فوجی ہیں جو فوج کے مختلف صیغوں سے ڈیپوٹیشن پر اے این ایف میں آئے ہوئے۔ اے این ایف کا مکمل کنٹرول فوج کے پاس ہے۔
یہ ذیل میں چیک کریں کہ کنٹرول کس کے پاس ہے۔
Organization_zps5yac7pq5.png

History_zpsk9ic3k3p.png

MNC_zpspzffppkp.png


وفاقی وزارت برائے انسداد منشیات خود کہہ رہی ہے کہ اے این ایف ان کی ہے۔ اے این ایف والے خود کہہ رہے ہیں کہ وہ متعلقہ وزارت کے ماتحت ہیں، لیکن آپ ان کو کہیں اور کا بتا رہے ہیں۔ :)
جہاں تک ڈی جی کا تعلق ہے تو حکومت کو چاہیے کہ ڈیپوٹیشن والے ڈی جی کو واپس بھیج دے اور ڈی جی بھی سویلین لگائے۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top