سکول کیسا ہو؟

فلک شیر نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 9, 2015

  1. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ثانوی مراحل میں ذریعہ تعلیم اردو ہونا ۔۔۔کیا زمینی حقائق اس نظریہ کے ساتھ ہیں؟
    بصد ادب۔
     
  2. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    میری خواہش ہے، کہ آپ ان نظریاتی سوالات کے جوابات کھول کر عنایت فرمائیں ۔ میں آپ کی سوچی سمجھی رائے جاننے کا خواہشمند ہوں ۔۔
     
  3. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    عموماََ سرکار نصاب سے متعلق رہتی ہے، زبان کا انتخاب آپ کا اپنا ہے ۔۔
    رجسٹر کروائے بغیر معاملات چلانا مشکل ہو جاتاہے نا سر۔۔
     
  4. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    وسائل ہوں ، تو بالیقین ایسا ہی ہونا چاہیے ۔۔
     
  5. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ہے تو یہ الگ راستہ اور مشکل بھی ہے ۔
    لیکن سچ جانیے، تو میں راہنمائی چاہتا ہوں، کہ پہلا قدم اٹھانے سے پہلے کیا کیا جانا چاہیے اور اس کے بعد کن چیزوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔۔۔
    وسائل کو کتنی اہمیت دی جائے اور نظریات کو کتنی؟
    مارکیٹ میں موجود مختلف ماڈلز میں کون سا کس قدر قریب ترین ہے مطلوبہ مثالیہ کے؟
     
  6. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    اس سکول کے حوالے سے کچھ مزید تفصیل عنایت کیجیے ۔
     
  7. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    آپ کے بچے زیر تعلیم ہیں ، ان کے حوالہ سے بتائیے، کہ ایک سکول کو کیسا دیکھنا چاہتی ہیں آپ؟
     
  8. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
  9. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اس حوالے سے میں نے ابھی گزشتہ دنوں ہی ایک لڑی میں ایک تبصرہ کیا تھا جسے میں یہاں نقل کرنا مناسب سمجھ رہا ہوں۔

    چند مزید نکات خصوصاً پاکستان کے حوالے سے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ تاہم یہاں مذہبی یا غیر مذہبی نصاب کی بحث چھوڑ کر صرف کُلّیات پر بات کروں گا۔
    • پانچویں یعنی پرائمری اسکولوں میں رائج موجودہ نصاب میں کسی خاص ترمیم کی میں ضرورت نہیں سمجھتا۔
    • ابتدائی جماعتوں میں استاد کا آزمودہ کار ہونا انتہائی ضروری ہے۔ خصوصاً انگریزی اور اردو کی بدیہی طور پر لیکن جامع تربیت کا ایک لائحہ عمل طے کیا جانا چاہیے۔ اور ساتھ ہی ابتدائی جماعتوں سے مطالعے کی مشق ہونی چاہیے۔ تفہیم پر مہارت زیادہ سے زیادہ پانچویں جماعت تک حاصل ہوجانی چاہیے۔
    • ہمارے درمیانہ طبقے میں اسکولوں کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہاں اساتذہ نا اہل ہیں۔ اور یہ نا اہلی چاہے کتنی ہی خلوص کی آمیزش سے پر ہو، رہتی ہمیشہ بانجھ ہی ہے۔ استادی کا منصب اس کا متحمل نہیں ہے۔ اگر یہ اوسط درجے کے سکول والے میٹرک اور نوی جماعت میں فیل ہوئی لڑکیوں کو پندرہ سو روپے تنخواہ پر رکھ کر ان سے استانی کا کام لینا چھوڑ دیں تو ہماری آگے کی نسلیں کافی زرخیز ہوسکتی ہیں۔
    • چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعتوں میں طلباء کے لیے بین المدارس امتحان کا ایک سلسلہ ہونا چاہیے جس میں ششماہی اور سالانہ امتحانات اپنے سکول کی بجائے یا تو دوسرے سکول میں ہوں یا پھر وہاں سے اساتذہ بطور ممتحن کے آئیں۔ یا پھر حکومتی سطح پر اسی طرح امتحانات ہوں جیسے نوی اور دسویں، گیارھویں اور بارھویں کے بورڈ کے ہوتے ہیں۔
    • چھٹی سے آٹھوی جماعت تک کے لیے نصاب کا اجمالی طور پر اقتباس میں تذکرہ کیا ہے۔ جس میں خصوصاً ریاضی اور جنرل سائنس پر توجہ ہونی چاہیے۔
    • لٹریچر اور آرٹس کے مضامین کی تعلیم کو بدیہی طور پر طلبا میں اجاگر کیا جانا چاہیے، اور اس کے لیے مختلف مواقع پر ایسی تقاریب کا انعقاد ہونا چاہیے جہاں مقابلوں میں شرکت کرکے طلبا آپس میں اپنی قابلیت کا موازنہ کر سکیں۔
    اس کے علاوہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کا تعلق اسکولوں سے تو براہِ راست نہیں ہے البتہ عوامی نفسیات سے ہے۔ ہمارے یہاں آج کل کاروباری طبقوں میں یہ مرض بڑھتا جا رہا ہے کہ بچے کو مہنگے سے مہنگے سکول میں داخل کروایا جائے۔ چونکہ میں خود کاروباری خاندان کا حصہ ہوں اس لیے بہت قریب سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو بے تحاشہ فضول خرچ اپنے بچے کے سکول پر کرتے ہیں اور اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ ان کے بچے کو پڑھایا کیا جارہا ہے۔ اب چونکے ماں باپ کا کوئی تعلیمی بیک گراؤنڈ نہیں اور سکول والے مخلص نہیں۔ پھر یہی ہوتا ہے کہ بچہ چھ آٹھ سال کی عمر تک گڈ مارننگ اور سویٹ ڈریمز کہنا سیکھ لیتا ہے۔ اور باقی سب کچھ ویسا کا ویسا ہی رہتا ہے۔ کاروباری طبقہ تعلیم صرف انگریزی بولنے کو سمجھتا ہے اس لیے وہ بے چارے کبھی سکول جا کر خبر لینے کی کوشش نہیں کرتے۔
    میرے خیال میں انفرادی طور پر والدین کی ذہن سازی کی بھی ضرورت ہے کہ وہ سمجھ سکیں کہ اصل تعلیم اپنی ماہیت میں کیا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 1
  10. Mystic Enigma

    Mystic Enigma محفلین

    مراسلے:
    141
    موڈ:
    Where
    سکول وہ مکتب ہو جہاں خوش رہنے کی تربیت ری جاتی ہو نہ کہ دولت۔ کمانے کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    جناب عالیہ! ہم یہاں اسکول کی بات کر رہے ہیں، کسی نفسیاتی تھیریپی سینٹر کی نہیں :)
     
  12. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,733
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    ایک زبان کو لازم قرار دیں اور بچوں اور ان کے والدین کو منتخب کرنے دیں کہ وہ کونسی زبان سیکھنا چاہتے ہیں۔ جو زبان وہ سیکھنا چاہیں وہ تین چار سال تک وہی سیکھیں۔ اس کے بعد چاہیں تو اسی زبان کو اعلی سطح پر سیکھتے رہیں یا نئی زبان اگلے مرحلے میں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  13. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جی ۔۔ مرحلہ وار! پنجاب کی بات کریں تو پنجابی ابتدا میں ذریعہ (میڈیم) ہو، دوسری جماعت سے اردو زبان کی حیثیت سے، پھر مرحلہ وار چلتے رہیں۔
    مسئلہ تعداد کا نہیں بنیادی اہمیت کا ہے۔ مگر جیسا آپ نے بعد میں ایک جگہ لکھا ہے کہ نصاب سرکار کا چلے گا تو پھر ان ساری تجاویز کا کیا حاصل!
     
    • متفق متفق × 2
  14. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آپ کے ذہن میں کیا ہے، بات تو اس کے حوالے سے ہو گی، موافق یا مختلف۔
     
  15. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ذریعہء تعلیم کا تعین نصاب کا ایک جزو ہے۔ آپ تو خود تعلیم سے وابستہ ہیں۔ جب سرکار نصاب دے گی تو زبان (میڈیم) بھی اس کے مطابق ہو گی۔
     
  16. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اسلام نظریہ سے کہیں آگے ایمان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر مسلمان پیدا کرنے ہیں تو نظریہ بنیاد ہو گا۔ وسائل نہیں ہوں گے تو سکول، مدرسہ، اکادمی؛ آپ جو بھی نام دیں؛ چلائیں گے کیسے؟ راستہ الگ ہے، مشکل ہے؛ سرکار کی چھترچھاؤں سے نکلنا ہو گا۔ پھر وہی مسئلہ رجسٹریشن کا۔ یونیورسٹی کسی حد تک خود مختار ہوتی ہے، اس سے کم تر سطح کا ہر ادارہ سرکاری احکام اور پالیسی کا پابند ہوتا ہے۔ تعلیمی بورڈ ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ تعلیمی پالیسی (جو بھی ہو) اس کو نافذ کریں۔
    اب میں کیا عرض کروں؟!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اب تو خالص دینی تعلیم کے لئے بھی وفاق المدارس کے تابع رہنا ہوتا ہے۔ وہ جس کو دین قرار دے وہ دین ہے، نہیں تو "نہیں ہے"!
     
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  18. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بقیہ سارے معاملات پلاننگ کے ہیں (نظریے کے نہیں) اور اس میں جو بھی راستہ اختیار کر لیں، سب کا حاصل موجود سانچے میں ڈھلا ہوا ایک "ماڈریٹ مسلم" ہے
    جو تصور ہی غلط ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  19. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    موافق ہے بالیقین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    سو فیصد متفق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر